نجران کے نصاریٰ کا وفد، آیت مباہلہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا کردار (9ھ )
علی محمد محمد الصلابیاللہ کے رسول اللہﷺ نے نجران کے نصاریٰ کے پاس ایک خط بھیجا، جس میں آپ نے لکھا تھا: حمد وصلاۃ کے بعد: میں تمہیں اللہ کے بندوں کی عبادت سے اللہ کی عبادت کی طرف اور بندوں کی ولایت سے اللہ کی ولایت کی طرف دعوت دیتا ہوں، اگر انکار کرتے ہوئے تو جزیہ دو، ورنہ اعلان جنگ ہے۔ والسلام۔
(البدایۃ النہایۃ: جلد 5 صفحہ 48)
ان کے بڑے پادری کو جب یہ خط ملا تو اس نے لوگوں کو اکٹھا کیا، انھیں خط پڑھ کر سنایا اور اس سلسلہ میں ان سے رائے طلب کی، بالآخر یہ بات طے ہوئی کہ عمائدین پر مشتمل چودہ (14) اور دوسری روایت کے مطابق سولہ (16) لوگوں کا ایک وفد نبی (ﷺ) کے پاس جائے اور ان میں وہ تین اہم شخصیت بھی ہوں جن کا فیصلہ آخری ہوتا ہے، ایک ’’عاقب ‘‘جو کہ ان کا امیر تھا اور جس کی رائے کے بغیر کوئی کام انجام نہ پاتا تھا، دوسرے ’’سید‘‘ جو کہ ان کے اسفار کا ذمہ دار تھا اور تیسرے ’’ابو الحارث‘‘ جو کہ ان کا بڑا پادری، عالم اور مدارس کا ذمہ دار۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 48)۔ السیرۃ النبویۃ: أبی شھبۃ: جلد 2 صفحہ 542)
جب یہ وفد مدینہ میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا، تو یہ لوگ سفر کا لباس اتار کر لمبے لمبے جُبّے گھسیٹتے ہوئے آپﷺ کے پاس پہنچے، سونے کی انگوٹھیاں بھی پہنے ہوئے تھے، یہ لوگ آئے اور رسولﷺ سے سلام کیا۔ آپﷺ نے ان کے سلام کا جواب نہ دیا، یہ لوگ کافی دیر تک آپ سے ہم کلام ہونے کا انتظار کرتے رہے لیکن آپﷺ نے ان سے گفتگو نہ کی، پھر یہ لوگ عثمان بن عفانؓ، اور عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے پاس گئے کیونکہ ان سے پہلے ہی سے جان پہچان تھی، دورِ جاہلیت میں ان دونوں کا قافلہ تجارت نجران جایا کرتا تھا اور وہاں سے گیہوں، پھل، اور مکئی وغیرہ کی یہی لوگ خریداری کراتے تھے، بہرحال ان لوگوں نے دونوں کو انصار کی مجلس میں پایا، ان سے مل کر یہ لوگ کہنے لگے اے عثمان، اے عبدالرحمٰن، تمھارے نبی نے ہمارے نام خط لکھا تھا، ہم نے ان کی بات مان لی، ہم ان کے پاس آئے اور سلام کیا، لیکن انھوں نے ہمارے سلام کا جواب نہ دیا ہم دن بھر منتظر رہے کہ شاید وہ ہم سے مخاطب ہو جائیں لیکن وہ مخاطب نہ ہوئے اور ہم انتظار کرتے کرتے عاجز آ گئے۔ تم دونوں کی کیا رائے ہے کیا ہم لوٹ جائیں؟
دونوں علی بن ابی طالبؓ کی طرف متوجہ ہوئے، حضرت علیؓ بھی انصار کے ساتھ تھے، انھوں نے کہا: اے ابوالحسن! ان لوگوں کے بار ے میں تمھاری کیا رائے ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا : میرا مشورہ ہے کہ یہ اپنے فخریہ جبّے اور سونے کی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی پرانے کپڑے پہن لیں جنہیں سفر میں پہنا تھا، پھر آپﷺ کے پاس جائیں۔ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، اور دوبارہ آپﷺ کے پاس آ کر سلام کیا، آپﷺ نے ان کے سلام کا جواب دیا، پھر ان سے خیریت پوچھی، اور انھوں نے بھی آپﷺ سے خیریت پوچھی اور پھر طویل گفتگو ہوئی۔
(زاد المعاد: جلد 3 صفحہ 629)۔
دورانِ گفتگو انھوں نے اللہ کے رسولﷺ سے کہا! ہم لوگ آپ سے پہلے مسلمان ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا:
یَمْنَعُکُمْ مِنَ الْاِسْلَامِ ثَلَاثٌ عِبَادَتُکُمْ الصَّلِیْبَ، وَأَکْلُکُمُ الْخِنْزِیْرَ، وَزَعْمُکُمْ أَنَّ لِلّٰہِ وَلَداً۔
’’تمھیں مسلمان ہونے کے لیے تین چیزیں مانع ہیں: صلیب کی عبادت، خنزیر کی گوشت خوری اور تمھارا یہ گمان کہ اللہ کی اولاد ہے۔‘‘
پھر اس وفد اور آپﷺ کے درمیان دیر تک مناظرہ اور بحث و مباحثہ ہوتا رہا، آپﷺ انھیں قرآن مجید سے دلیل دیتے، اور ان کے باطل دلائل کو توڑ دیتے، دورانِ مباحثہ انھوں نے آپﷺ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ تم ہمارے آقا کو گالی دیتے ہو، اور کہتے ہو کہ وہ اللہ کے بندے ہیں، آپﷺ نے فرمایا! ہاں وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جسے پاک دامن مریم بتول کی طرف ڈالا تھا۔ وہ لوگ یہ سن کر سخت ناراض ہو گئے، اور کہنے لگے: کیا کبھی تم نے ایسے انسان کو دیکھا ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا ہو، اگر تمھارادعویٰ سچا ہے تو کوئی اس کی مثال دو؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں یہ آیت نازل فرمائی:
اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰى عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ۞اَلۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ۞ (سورۃ آل عمران آیت 59)
ترجمہ: اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے، اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ان سے کہا : ہوجاؤ۔ بس وہ ہوگئے۔ حق وہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے آیا ہے، لہٰذا شک کرنے والوں میں شامل نہ ہوجانا۔
پس یہ آیت کریمہ ایک ایسی منہ توڑ دلیل بن کر نازل ہوئی جس میں ایک انوکھی اور تعجب خیز چیز کو عجیب ترین چیز سے مثال دی گئی۔
(زادلمعاد: جلد 3 صفحہ 633)۔
لیکن جب پُرحکمت مجادلہ اور پُرادب گفت وشنید میں کامیابی نہ ملی تو آپﷺ نے اس فرمان الہٰی پر عمل کرتے ہوئے انھیں مباہلہ (السیرۃ النبویۃ لابن أبی شہبۃ: جلد 2 صفحہ 547) مباہلہ: جب دو فریقوں میں کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف ونزاع ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں بارگاہ الہٰی میں یہ دعا کریں کہ یا اللہ ہم دونوں سے جو جھوٹا ہے اس پر لعنت نازل فرما۔ (مترجم)کی دعوت دی:
فَمَنۡ حَآجَّكَ فِيۡهِ مِنۡ بَعۡدِ مَاجَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَاَبۡنَآءَكُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمۡ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَكُمۡ ثُمَّ نَبۡتَهِلۡ فَنَجۡعَل لَّعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰذِبِيۡنَ۞ (سورۃ آل عمران آیت 61)
ترجمہ: تمہارے پاس (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعے کا) جو صحیح علم آگیا ہے اس کے بعد بھی جو لوگ اس معاملے میں تم سے بحث کریں تو ان سے کہہ دو کہ: “آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو، اور ہم اپنے لوگوں کو اور تم اپنے لوگوں کو، پھر ہم سب مل کر اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں، اور جو جھوٹے ہوں ان پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔
پھر آپﷺ نکلے، آپ کے ساتھ علی، حسن، حسین اور فاطمہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، آپﷺ نے ان سے فرمایا: جب میں دعا کروں تو تم آمین کہو۔
(السیرۃ النبویۃ لابن ابی شہبۃ: جلد 2 صفحہ 547) ۔
لیکن دوسری طرف وفد کے لوگوں نے آپس میں کانا پھوسی شروع کردی، اور اپنی ہلاکت سے خائف ہوئے کیونکہ انھیں اچھی طرح سے معلوم تھا کہ آپ یقیناً نبی ہیں، اور جو قوم بھی نبی سے مباہلہ کرتی ہے وہ ہلاک ہو کر رہتی ہے، اس لیے انھوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کر دیا، اور کہنے لگے! آپﷺ ہمارے لیے جو چاہیں فیصلہ کریں، چنانچہ آپ نے ان سے اس جزیہ پر مصالحت کی کہ وہ دو ہزار حلے مسلمانوں کو دیں گے۔ ایک ہزار رجب کے مہینہ میں اور ایک ہزار صفر کے مہینا میں۔
(السیرۃ النبویۃ: لابن أبی شہبۃ: جلد 2 صفحہ 547) ۔
