فرضی امام مہدی کا خوف قتل، جان بچا کر غائب ہونا اور خیر طلب…

فرضی امام مہدی کا خوف قتل، جان بچا کر غائب ہونا اور خیر طلب کے دلائل کا رد

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 5

فرضی امام مہدی کا خوف قتل، جان بچا کر غائب ہونا اور خیر طلب کے دلائل کا رد

سب سے پہلے رافضی خیرطلب کی پوسٹ پڑھتے ہیں۔

×امام مھدی علیہ السلام کا خوف قتل ہونا×

ناظرین ہم نے جنگ بدر میں بعض صحابہ کا قتال سے خوف نقل کیا تھا اور چونکہ قتال میں خوف اس نوعیت کوہونا کہ وہ جنگ کرنے میں مانع ہو تو اس صورت میں یہ چیز قابل مدح نہیں درحالآنکہ وہ خوف جو جان کی حفاظتکا پیش خیمہ بنے وہ خوف یقینا قابل مدح ہے (بشرط یہ کہ اس سے جان سے بڑھ کر کسی مھم چیز کا ضیاع نہ ہو)۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ

اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔

(بقرہ ١٩٥)

لہذا اپنی جان کو ہلاکت سے بچانا ضروری ہے، اب فخرالزماں صاحب ایک جواب دیتے ہوئے لکھتے ہے:

(فخر: ۳، شیعہ محدث اور مجتھد ابو جعفر طوسی اپنی ’’کتاب الغیبہ‘‘ میں اپنے امام غائب کے بارے میں لکھتا ھےکہ

لا علۃ تمنع من ظہورہ الا خوفہ علی نفسہ من القتل۔

یعنی امام غائب اس لیے ظاہر نہیں ہوتے کہ ان کو اپنے قتل ہونے کاخوف ہے۔

ان پر بھی کوئی شیعہ خصوصا خیر طلب صاحب پوسٹ بنا کر کچھ تنقید کریں تاکہ پتا چلے کہ یہ اسلام کےساتھ کتنے سچے ہیں۔)

  ناظرین دیکھئے کہا میدان جنگ میں خوف ہونا اور کہا میدان جنگ سے باہر اپنی جان کی حفاظت کرنا اور اس کےضیاع کا خوف ہونا۔ ان دونوں کو ملا کر فخرالزماں صاحب نے قیاس باطل سے پورا کام لیا ہے۔

دیکھئے سورہ قصص پڑھئے جس میں حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ موجود ہے اور اس میں حضرت موسی عکے خوف کا بھی ذکر آیا ہے تو کیا یہ پھبکیاں ادھر بھی محترم فخرالزماں صاحب کریں گے۔

قرآن کی آیت ملاحظہ ہو:

فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

(ترجمہ جالندھری): موسٰی وہاں سے ڈرتے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) اور دعا کرنے لگے کہ اےپروردگار مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔

(قصص ٢١)

اس میں واضح طور پر حضرت موسیٰ ع کا خوفزدہ ہونا لکھا ہے۔

مفسر طبری اس کے ذیل میں لکھتے ہے:

يقول تعالى ذكره: فخرج موسى من مدينة فرعون خائفا من قتله النفس أن يقتل به (يَتَرَقَّبُ) يقول: ينتظر الطلب أن يدركه فيأخذه

اللہ تعالی فرماتا ہے: کہ موسیٰ ع فرعون کے شہر سے نکلے درحالآنکہ وہ خوفزدہ تھے کہی انہیں قتل نہ کردیا جائے اس بدلہ جو انہوں نے ایک شخص (قبطی) کو مارا تھا، (آیت کا حصہ یترقب): یعنی وہ اس کے منتظر تھے کہ ان کو ڈھونڈ کر پکڑا جائے اور پھر مواخذہ لیا جائے۔

اب اس ذیل میں مفسر طبری نے کچھ مفسرین کی آراء کو نقل کیا جو پیش خدمت ہے:

حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قَتادة: (فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ) خائفًا من قتله النفس يترقب الطلب (قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ) .

قتادہ اس آیت (فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ) کے بارے میں کہتے ہے کہ جو انہوں نے قتل کیا تھا ایک شخص کا اس کے پکڑے جانے کے خوف میں مبتلا تھے اور پھر موسی ع نے دعا کی رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

اس بات کو پھر سے مفسر طبری نے مفسر قتادہ سے اس سند سے بھی نقل کیا:

حدثنا القاسم، قال: ثنا الحسين، قال: ثني أبو سفيان، عن معمر، عن قَتادة (فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ) قال: خائفا من قتل النفس، يترقب أن يأخذه الطلب.

مفسر طبری پھر ابن اسحاق سے منسوب ایک اثر کو نقل کرتے ہے:

حدثنا ابن حميد، قال: ثنا سلمة، عن ابن إسحاق، قال: ذُكر لي أنه خرج على وجهه خائفا يترقب ما يدري أي وجه يسلك، وهو يقول: (رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ) .

ابن اسحاق کہتے ہے کہ مجھے ذکر کیا گیا کہ جب موسیٰ ع نکلےتو وہ خوفزدہ تھے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) اور وہ نہیں جانتے تھے کہ کون سے راستہ کی طرف جائیں پس انہوں نے دعا کی

(رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ)

مفسر طبری پھر ابن زید کا قول نقل کرتے ہے:

حدثني يونس، قال: أخبرنا ابن وهب، قال: قال ابن زيد، في قوله: (فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ) قال: يترقب مخافة الطلب

ابن زید آیت

(فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ)

کی تفسیر میں کہتے ہے کہ موسیٰ کو ڈرتا تھا کہ کہیں پکڑے نہ جائیں۔

حوالہ:

تفسیر طبری جلد ١٨ ص ٢٠١-٢٠٢ طبع دار الھجر۔

کمنٹ: ناظرین ہم تو امام زمانہ ع کو اس سنت موسوی ص کی پیروی والا بتاتے ہیں۔

اب اس ہی سورہ قصص میں آگے چلیں تو آیت ملاحظہ کیجئے:

قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ

(ترجمہ جالندھری) موسٰی نے کہا اے پروردگار اُن میں کا ایک شخص میرے ہاتھ سے قتل ہوچکا ہے سو مجھے خوفہے کہ وہ (کہیں) مجھ کو مار نہ ڈالیں

(قصص ٣٣)

تبصرہ: ناظرین اس آیت میں تو موسیٰ ع کا قتل کے خوف کا واضح پیغام ہے۔ تو کیا ادھر بھی کوئی کمنٹفخرالزماں صاحب کرنا چاہیں گے۔

علامہ مکی بن ابی طالب مفسر رقم طراز ہے:

قال تعالى ذكره: {قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْساً فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ}، أي إني أخاف إن آتيتهم فلم أين عن نفسي أن يقتلون بالنفس التي قتلت،

قرآن مجید میں آیت {قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْساً فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ} کے معنی یہ کہ موسی کہتے کہ مجھے خوف ہے کہ میں ان کے پاس جاؤں تو کہی میں اس قتل کے بدلہ جو میں نے اس شخص کا کیا تھا فرعون والے مجھے ہی نہ مار دیں

حوالہ:

الهداية الى بلوغ النهاية ص ٥٥٣١ طبع جامعة الشارقة – كلية الدراسات العليا والبحث العلمي

علامہ ابن کثیر لکھتے ہے:

لَمَّا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِالذَّهَابِ إِلَى فِرْعَوْنَ، الَّذِي إِنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيَارِ مِصْرَ فِرَارًا مِنْهُ وَخَوْفًا مِنْ سَطْوَتِهِ، {قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُمِنْهُمْ نَفْسًا} يَعْنِي: ذَلِكَ الْقِبْطِيَّ، {فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُونِ} أَيْ: إِذَا رَأَوْنِي.

صفحہ 1 از 5