سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر خوارج کا دوسرا اعتراض
خلیفہ ثالث کا بےدردی سے قتل اور خلافت کا امیدوار حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموش ہو کر خلیفہ بننے کا منتظر
خلیفہ ثالث کا ایک اسلامی بادشاہ نہایت بے دردی اور بےرحمی سے قتل کیا جا رہا ہے اور خلافت کا امیدوار ان کا بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہا ہے۔ دیکھیے کیا اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ حضرت علیؓ کا اس قتل میں ہاتھ تھا۔ اور وہ چاہتے تھے کہ کسی طور پر یہ قتل ہو اور میں تختِ خلافت کو سنبھالوں؟
جوابات اہلسنت
جواب 1: اہلِ تشیع ہوں یا اہلِ سنت دونوں کی کتابوں میں مسطور ہے کہ وفات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جب لوگ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس خلافت کی بیعت کرنے کے لیے آتے ہیں تو آپ انکار کر دیتے ہیں۔ پس آپ کے تخیل میں اگر خلافت کی ہوس ہوتی تو آپ انکار نہ کرتے لہٰذا آپ کے حق میں طمعِ خلافت کا الزام عائد کرنا یقیناً ایک بہت بڑا بہتان ہے۔ اور بحمدالله حضرت علیؓ کی شخصیت اس سے پاک اور مبرّا ہے۔
جواب 2: سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلوائیوں کو روکنے کی جتنی کوشش فرمائی، اس پر تاریخِ اسلام کے اوراق شاہد ہیں۔ پس جب آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ معاملہ حد سے بڑھ رہا ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں صاحبزادوں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر قربانی کے لیے تعینات کر دیا۔ اور فرمایا کہ بیٹے قربان ہو جانا مگر دروازے کے اندر دشمنوں کو داخل نہ ہونے دینا۔ پس اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ذہن میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق عداوت ہوتی تو آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر قربان ہونے کے لیے حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جگر گوشوں کو نہ بھیجتے۔ رہا ان کا خود بخود تشریف نہ لے جانا وہ یقیناً حکمت پر مبنی تھا، کہ یہاں کام لڑنے والے نوجوانوں کا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ سے اللہ سبحانه و تعالیٰ نے تتمۂ خلافتِ راشدہ کا کام لینا تھا۔
جواب 3: مستدرک حاکم میں ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس سیّدنا علی المُرتضٰی رضی اللہ عنہ بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے۔ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے پاس کافی لوگ جمع تھے۔ دورانِ گفتگو میں حضرت زید رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر تھوڑی دیر سر کو نیچا کر لیا۔ پھر فرمایا مجھے اس خُدا کی قسم ہے جس نے دانے کو چیر کر انگوری پیدا کی اور روح کو پیدا کیا ہے نہ تو میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کیا ہے اور نہ میں نے اس کے قتل کا حکم کیا ہے۔
روایت کے الفاظ یہ ہیں: عن حسین الحارثی قال جاء علی ابن طالب إلٰی زید بن ارقم وعندہ قوم فقال عَلِیٌ اسکتوا واسکتوا فواللّٰہ لا تسالونی عن شئ الا اجبتکم فقال زید انشدك اللّٰه انت قتلت عثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ فاطرق علی ساعة ثم قال والذی خلق الجنّة وبرء الستمۃ ھا ما قتلته ولا امرت بقتله۔
(قرۃ العینین صفحہ 279)
ترجمہ: حصین حارثی سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس عیادت کے لیے آئے اور ان کے پاس ان کی قوم تھی۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا خود بھی چپ رہو اور دوسروں کو بھی چپ رہنے کا حکم دو۔ خدا کی قسم جو کچھ تم مجھ سے پوچھو گے میں اس کا جواب دوں گا۔ تو بس زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں سوال کیا اور آپ نے وہی جواب دیا (جو ہم نے اوپر لِکھ دیا ہے۔)
(ف) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اظہارِ حقیقت کرنا اور قوم میں سے کِسی کا تردید نہ کرنا بتاتا ہے کہ واقعی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس الزام سے بری تھے۔
جواب 4: جنگِ جمل کے موقع پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں جو الفاظ آپ کے منہ مبارک سے نکلے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
أللّٰھم انّی ابرء الیك من دم عثمان ولقد طاش عقلی یوم قتل عثمان وانکرت نفسی وجاء والیّ لبیعة فقلت واللّٰه انّی لاستحی من اللّٰه ان ابایع وعثمان قتل علی الارض لم یدفن بعد فلمّا دفن رجع النّاس فسألونی للبقیتة فقلت اللّٰھم انّی مشدق مما اقدم علیہ ثم جاءت عزیمة فبایعت فلقد قالوا یا امیرالمؤمنین فکانما صدع قلبی۔الخ۔(مستدرک حاکم)
ترجمہ: اے میرے اللہ! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اظہارِ برأت کرتا ہوں کہ میں اس قتل کے ارتکاب سے بری ہوں جس دن عثمان رضی اللہ عنہ قتل ہو رہے تھے۔ میری عقل اس وقت اپنی جگہ پر نہ تھا اور میرے ہوش و حواس تحیر کی وجہ سے سالم نہ رہے۔ میں اس وقت اپنے وجود میں ایک مکروہ سا اثر پا رہا تھا۔ لوگ جب میرے پاس بیعت کے لیے آئے تو میں نے یہی جواب دیا مجھے شرم محسوس ہو رہی ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو کر زمین پر پڑا ہو اور میں خلافت کی بیعت شروع کر دوں۔ پس لوگ واپس ہوئے۔ جب ان کو دفن کر دیا تو میں نے مجبوراً بیعت شروع کی تا کہ مملکتِ اسلامیہ کسی نااہل کے ہاتھ نہ چلی جائے۔ جب لوگوں نے مجھے امیر المؤمنین کہنا شروع کیا تو میرا جگر پھٹنے کے قریب آ گیا۔ اور دل مضمحل ہونے لگا۔
(ف) سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے اس بیان پر بے ایمان تو شک کر سکتا ہے، لیکن ایماندار کو انکار کی ذرہ بھر بھی گنجائش نہیں رہتی۔