حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود) - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 11

الحمدلله وسلام على عباده الذين اصطفیٰ اما بعد! 

اہلِ سنت اور اثناء عشریوں کے اختلافی مسائل میں ایک واقعہ حضور اکرمﷺ کا اپنے ایامِ علالت میں طلبِ قرطاس (کاغذ مانگنے) کا بھی ہے اس کے لیے یہ الفاظ عام سنے جاتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: 

ایتونى بقرطاس اكتب لكم كتابا لن تضلوا بعده يا هلم اكتب لكم كتابا لن تضلوا بعده۔

پہلی روایت میں لفظ قرطاس ہے جس سے اختلاف کا یہ عنوان سامنے آتا ہے حدیثِ قرطاس اس واقعہ کو سمجھنے کے لیے پہلے اس بات پر بھی غور کر لیا جائے۔

اس وقت قلم کاغذ مانگنے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟

یہ سوال کن لوگوں سے کیا گیا تھا کہ میرے پاس کاغذ قلم لاؤ میں کچھ لکھ دوں کہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو سکو؟ ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جو پہلے 9 ذوالحجہ میدانِ عرفات میں تکمیلِ دین کی یہ بشارت سن چکے تھے کہ آج دین مکمل ہوا اور اللہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اپنی نعمت پوری کر دی اور ان کے لیے ایک دین چن لیا اور وہ دین اسلام ہے۔

اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ (سورۃ المائدہ: آیت 3)

اور اللہ کی کتاب قرآنِ پاک بھی اپنی ابدی حفاظت کا مژدہ پا چکی تھی:

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ (سورۃ الحجر: آیت 9)

ظاہر ہے کہ اس وقت کسی نصیحت کا لکھنا کسی بنیادی بات یا اعتقادی مسئلے کے لیے نہیں ہو سکتا ہے کوئی انتظامی امور کی نصیحتیں ہوں گی کہ یہ حوزہِ اسلام یا سلطنتِ اسلامی پوری طرح قائم رہے اور باہر کے دشمن کسی طرح اس وحدتِ اسلامی کو پارہ پارہ نہ کر سکیں۔

مثلاً یہ نصیحت کہ پورے جزیرہ عرب میں یہود کہیں نہ بستے رہیں بیرونی سیاسی وفود کو اسی طرح اپنے ہاں آنے دیا جائے جس طرح میں انہیں مواقع گفتگو دیتا رہا یا یہ کہ میری قبر کو عبادت گاہ نہ بنا لینا یہ سب انتظامی امور کی باتیں ہیں امت کی اعتقادی حدود اس وقت پوری طرح مستحکم تھی جن میں اب کسی کمی بیشی کو راہ نہ مل سکتی تھی۔

لیکن افسوس کہ شیعہ ذاکرین اس حدیثِ قرطاس کو اس پسِ منظر سے نہیں سوچتے اور نہ ہی دیکھتے ہیں، وہ لوگوں کو یہی مغالطہ دیتے ہیں کہ آپﷺ یہ وصیت خلافت کے بارے میں لکھنا چاہتے تھے، کوئی ان نادانوں سے پوچھے کہ خلافت کا فیصلہ تو آپ لوگوں کے بیان کی رو سے خطبہ حجۃ الوداع کے بعد 18 ذوالحجہ کو غدیرِ خم میں ہو چکا تھا اور آپﷺ نے فرمایا تھا من کنت مولاہ فعلی مولاہ اس کے جواب میں گوجرہ کا اسمٰعیل یہ کہتا رہا کہ وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اعلان زبانی تھا اور اب آپﷺ‏ اسے تحریر میں لانا چاہتے تھے کوئی سمجھدار آدمی اس جواب کو لائق قبول نہ سمجھے گا کہ جو فیصلہ ایک کھلے اجتماع میں ہو وہ ایک تحریر سے کہیں زیادہ وزنی ہوتا ہے اور تحریر کے گواہ تو دو چار سے زیادہ نہیں ہوتے۔

پھر یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ حضورِ اکرمﷺ تو لکھنا نہیں جانتے تھے آپﷺ یہ کیسے کہہ سکتے تھے کہ میں تمہیں کچھ لکھ دوں 

قرآنِ کریم میں ہے: 

وَمَا كُنۡتَ تَتۡلُوۡا مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنۡ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيۡنِكَ‌ اِذًا لَّارۡتَابَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ۞

(سورۃ العنکبوت: آیت 48)

ترجمہ: اور تم اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے، اور نہ کوئی کتاب اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو باطل والے مین میخ نکال سکتے تھے۔

حضرت شیخ الاسلام رحمۃاللہ اس آیت پر لکھے ہیں:

نزولِ قران سے پہلے 40 سال آپﷺ کی عمر کے ان ہی مکہ والوں میں گزرے سب جانتے ہیں کہ اس مدت میں نہ آپﷺ کسی استاد کے پاس بیٹھے نہ کوئی کتاب پڑھی نہ کبھی ہاتھ میں قلم پکڑا ایسا ہوتا تو ان باطل پرستوں کو شبہ نکالنے کی جگہ رہتی۔

اب اس آیت کی روشنی میں کیا حضور اکرمﷺ اپنے ایامِ علالت میں اپنے آخری وقت میں کسی کو کہہ سکتے تھے کہ قلم دوات کاغذ لاؤ میں تمہیں کچھ لکھ دوں جس سے تم آئندہ کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے۔

پھر اس لکھنے کو اگر اس پر محمول کیا جائے کہ آپﷺ اسے اپنے کسی سیکرٹری سے لکھنے کے لیے کہہ دیں گے تو پھر دریافت طلب بات یہ ہے کہ رسول کریمﷺ‏ کا وہ سیکرٹری کون تھا جو آپﷺ کی طرف سے یہ لکھنے کا کام کرتا تھا۔ صلح نامہ حدیبیہ حضور اکرمﷺ کی طرف سے کس نے لکھا تھا؟ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے تو اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ آپﷺ‏ قلم دوات اور کاغذ لانے کا یہ حکم بھی انہی کو دیا ہو گا اور حقیقت یہی ہے آپﷺ نے یہ حکم انہی کو دیا تھا۔ 

امام احمد رحمۃاللہ سیدنا علی المرتضیٰؓ سے روایت کرتے ہیں آپؓ نے فرمایا: 

امرنی النبیﷺ ان اتيه بطبق يكتب فيه مالا تضل امته من بعدہ قال خشیت ان تفوتنی نفسه۔

(مسند امام احمد مبوب: جلد، 2 صفحہ، 84 مصر)

ترجمہ: مجھے نبی پاکﷺ نے حکم دیا کہ میں آپﷺ کے پاس کوئی کاغذ لے آؤں آپﷺ اس میں لکھ دیں جس سے آپﷺ کی امت رسول اکرمﷺ کے بعد گمراہی میں نہ پڑے مگر میں اس کے لیے کاغذ لینے نہ گیا مجھے ڈر تھا کہ حضورﷺ میری غیر حاضری میں نہ چل بسیں۔

اب اگر یہ بات مان لی جائے کہ آپﷺ یہ وصیت خلافت کے بارے میں ہی کرنا چاہتے تھے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آپﷺ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اپنا خلیفہ بلا فصل نہ بتانا چاہتے تھے یہ کسی طرح مناسب نظر نہیں آتا کہ حضرت علیؓ خود ہی اپنی خلافت کا حکم لکھیں تو یہ خلافت کسی دوسرے کی ہی زیرِ نظر تھی کہ خلافت تو اس کی ہو اور قلم سیدنا علی المرتضیٰؓ کا ہو اور حکم ذاتِ رسالتﷺ‏ کا ہو۔

وہ کون سے بزرگ ہیں جن کی خلافت آپﷺ لکھوانا چاہتے تھے؟ ہم اسے صحیح مسلم سے بدیہ قارئین کرتے ہیں صالح بن کیسان ربیع شیخ ابنِ شہاب زہری سے وہ عروہ سے اور وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے حضور اکرمﷺ نے فرمایا: 

قالت قال لی رسول اللہﷺ فی مرضه ادعی لی اباك و اخاك حتىٰ اكتب كتابا فانی اخاف ان یتمنی متمن ویقول انا اولی ویابی اللہ والمؤمنون الا ابابکرؓ۔

(صحیح مسلم: جلد، 4 صفحہ، 273) 

صفحہ 1 از 11