فصل:....تقدیر اور انبیاء کرام کی تصدیق کا مسئلہ اور رافضی…

فصل:....تقدیر اور انبیاء کرام کی تصدیق کا مسئلہ اور رافضی شبہ پر رد ّ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل:....تقدیر اور انبیاء کرام کی تصدیق کا مسئلہ اور رافضی شبہ پر رد ّ

[اشکال ۳]:....شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’اہل سنت کے نظریہ کے مطابق کوئی شخص نبی کی تصدیق نہ کر سکے گا، اس کی وجہ ہے کہ نبی کی تصدیق دو مقدمات پر مبنی ہے: 

۱۔ پہلا مقدمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کے ہاتھوں پر معجزہ کا اظہار اس لیے کیا کہ اس کی تصدیق کی جا سکے۔‘‘

۲۔ دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ جس کی تصدیق کی جاتی ہے وہ صادق ہوتا ہے۔‘‘

اہل سنت کیعقیدہ کے مطابق یہ دونوں مقدمات تشنہ تکمیل ہیں ، اس لئے کہ جب اللہ تعالیٰ کے افعال اغراض کے تابع نہیں ہوتے، تو نبی کی تصدیق کے لیے معجزات کا ظہور پذیر ہونا بھی محال ہوگا،بقول اہل سنت جب اللہ تعالیٰ افعال قبیحہ، معاصی، کذب اور ضلال کا مرتکب ہوسکتا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے نبی کی تصدیق کر دے (نعوذ باللّٰہ من ہذہ الخرافات) بنا بریں معجزات کے ظہور سے کسی نبی یا منذرین [ڈرانے والوں ]کی صداقت؛ یا شریعت و ادیان پر استدلال نہیں کیا جا سکتا۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب] : اس کا جواب کئی وجوہ پر مشتمل ہے :

پہلی وجہ :....اس سے پہلے اس بات کا بیان گزر چکا ہے کہ خلفاء ثلاثہ کی خلافت کے قائلین اکثر حضرات اورتقدیر کا اثبات کرنے والے اکثر اہل سنت کے نزدیک افعال الٰہی حکمت و مصلحت کے آئینہ دار ہوتے ہیں ، لہٰذا یہ قول اور اس کی ضد اہل سنت کے اقوال سے باہر نہیں ۔ہر دو تقدیر کی بنا پر حق اہل سنت والجماعت سے خارج نہیں ہوسکتا۔ بلکہ مذاہب اربعہ میں سے ہر ایک مذہب کے ماننے والوں میں کچھ اصحاب ایسے ہیں جن میں اس اصول میں اختلاف و نزاع پایا جاتا ہے۔ حالانکہ ان سب کا خلفاء ثلاثہ کی خلافت اورتقدیر کے اثبات اور اللہ تعالیٰ کے خالق افعال العباد ہونے پر اتفاق ہے۔ اس اصول میں امام احمد کے اصحاب کے مابین نزاع بڑا ہی معروف ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ کے اصحاب میں سے کئی ایک اور ان کے علاوہ دیگر لوگ بھی جیسے کہ : ابن عقیل؛ قاضی ابوخازم ؛اور دیگر لوگ معجزات کو ثابت مانتے ہیں ۔اس لیے کہ وہ کہتے ہیں : رب تعالیٰ حکیم ہے۔ اور اس کی حکمت میں یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ جھوٹے کے ہاتھوں پر معجزات ظاہر کرے۔ ابو خطاب کا بھی یہی ہے۔ان کے علاوہ امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کے اصحاب اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہکے اکثر اصحاب اللہ تعالیٰ کے افعال میں حکمت کے قائل ہیں ۔

دوسری وجہ : ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ انبیائے کرام اورمرسلین کی صداقت صرف معجزات ہی کے ذریعہ ظاہر کی جا سکتی ہے ۔ بلکہ اس کی صداقت کا اظہارمعجزات کے علاوہ دیگر مختلف طرق ووجوہ سے ممکن ہے ۔جیسا کہ دوسرے مواقع پر ہم تفصیل سے بیان کرچکے ہیں ۔ پس جس شخص کے نزدیک صرف معجزات ہی سے نبی کی صداقت کا اظہار ہوسکتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی دلیل پیش کرے۔اس لیے کہ کسی چیز کا انکار کرنے والے پر بھی ایسے ہی دلیل پیش کرنا لازم ہوتا ہے جیسے کسی چیز کا اثبات کرنے والے پر دلیل پیش کرنا لازم ہے۔مگر شیعہ مصنف نے اس نفی پر کوئی دلیل پیش نہیں کی۔

تیسري وجہ: یہ کہا جائے کہ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ معجزہ کی صدق پر دلالت اس بات پر موقوف ہے کہ یہ جائز نہیں کہ وہ اسے کرے جو ذکر کرے۔اس پر مزید یہ کہ کسی نبی کے صادق ہونے پر معجزات کی دلالت ایک بد یہی امر ہے جو محتاج فکر و نظر نہیں ، اس لیے کہ دعویٰ نبوت کے ساتھ معجزہ کا پایا جانا اس امر کی لازمی اور بدیہی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ معجزہ نبی کی صداقت کے لیے ظاہر کیاہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص جب بادشاہ سے کہے کہ اگر آپ نے مجھے فلاں جانب ایلچی بنا کر بھیجا ہے تو خلاف معمول تین مرتبہ اٹھیے بیٹھئے اور بادشاہ اس کی تعمیل کر دے تو بادشاہ کا یہ فعل اس امر کی دلیل ہوگا کہ قاصد کی تصدیق کے لیے اس نے یہ فعل انجام دیا۔

چوتھي وجہ: قائل کا یہ قول کہ: اگر معجزہ صدق پر دلالت نہ کرے تو باری تعالیٰ کا تصدیقِ رسول سے عاجز آنا لازم آتا ہے اور اللہ میں عجز ممتنع ہے۔ کیونکہ تصدیق کا طریق صرف معجزہ ہے۔ یہ اکثر اصحاب اشعری اور ان کے ہم نواؤں کا طریق ہے، اور یہی قاضی ابو بکر اور قاضی ابو یعلی وغیرہ کا بھی طریق ہے۔

پہلا طریق بھی ان میں سے اکثر کا ہے، اور وہ ابو المعالی اور ان کے پیروکاروں کا طریق ہے، اور یہ دونوں اشعری کے طریق ہیں ، اور اس بناء پر کیا جھوٹے مدعی نبوت پر معجزہ کا اظہار ممکن و مقدور ہوگا یا نہیں ؟ اس بارے دو اقوال ہیں ۔

پانچویں صورت: یہ کہا جائے کہ معجزہ اس بات پر موقوف ہے کہ اللہ نے جس کی بھی تصدیق کر دی وہ صادق ہے۔ یہ قول اس وقت صحیح ہے کہ جب معجزہ بمنزلہ تصدیق بالقول کے ہو۔ اس میں اختلاف ہے۔

بعض کا قول ہے کہ معجزہ بمنزلہ انشاء رسالت کے ہے، اور انشاء میں تصدیق یا تکذیب کا احتمال نہیں ہوتا۔ لہٰذا قائل کو دوسرے کو یہ قول کہ میں نے تجھے بھیجا یا میں نے تجھے وکیل بنایا وغیرہ، یہ انشاء ہے۔ تو جب معجزہ کی انشائے رسالت پر دلالت اس بات پر موقوف نہیں کہ وہ اللہ کسی غرض کے لیے فعل نہیں کرتا، اور نہ اس بات پر موقوف ہے کہ وہ قبائح کا فعل نہیں کرتا تو انشاء بھی امر و نہی جیسا ہوا۔

چھٹي وجہ: یہ کہا جائے کہ چونکہ یہ محال ہے کہ وہ کسی غرض کے لیے فعل کرے تو یہ بھی محال ہوا کہ وہ معجزہ کو تصدیق کے لیے ظاہر کرے۔ اس کی طرف وہ جو اس بات کا قائل ہے کہ وہ اللہ ایک شے کو دوسرے شے کے لیے کرتا ہے، یہ جواب دیتا ہے کہ کبھی وہ دو متلازم باتوں کو بھی کرتا ہے۔ جیسا کہ وہ جملہ دلائل کو ان کے مدلولات کے لیے کرتاہے۔ سو وہ مخلوقات کو کرتا ہے جو اس کے وجود، قدرت، علم اور مشیئت پر دلالت کرتے ہیں ۔ اس نے ان کے پیدا کرنے کا ارادہ کیا اور اور ارادہ کیا ہے کہ یہ مخلوقات اپنے اس مدلول کو مستلزم ہوں جو اس کی ذات پر اس کے لیے دلالت کرتا ہو جو ان مخلوقات میں نگاہِ غور ڈالتا ہو۔

صفحہ 1 از 3