شیعہ غور کریں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ غور کریں

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 2

ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسولﷺ کے صحابہؓ کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ اسلام کے معاملے میں کسی اپنے، بیگانہ کا لحاظ نہ کرتے تھے۔ دشمنِ خدا اور رسولﷺ سے اعلانیہ دشمنی کرتے، خواہ باپ، بیٹا یا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن شیعہ اس کے خلاف یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اصحابِ ثلاثہؓ (معاذ اللہ) کافر و منافق تھے۔ لیکن جناب امیرؓ ان سے یارانہ گانٹھے رہے! ہر معاملے میں ان کے مشیرِ کار رہے۔ مالِ غنائم میں حصہ دار بنے رہے، حتیٰ کہ اپنے لختِ جگر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شادی خانہ آبادی کے متعلق بھی حضرت عمرؓ کے رہین منت ہوئے، چنانچہ آنجناب نے یزد جرد شاہِ ایران کی دختر شہربانو (جو غنیمت میں تھی) ان کو بیاہ دی بلکہ کتبِ شیعہ میں یہاں تک تصریح ہے کہ تزویجِ فاطمہؓ کی سلسلہ جنبانی بھی پہلے صدیقؓ و فاروقؓ نے کی تھی 

(جلاء العیون اردو: صفحہ 118، 119) 

حضرت علی رضی اللہ عنہ ان منافقین کے پیچھے نمازیں بھی پڑھتے رہے، ہر بات میں ان سے ہاں میں ہاں ملاتے رہے، کبھی ان سے قتال و جدال نہیں کی۔ مخلص دوستوں کی طرح ہر ایک مرحلہ میں ان سے متحد و متفق رہے۔ پھر شیعہ بتلائیں کہ امیرؓ آیت "لَا تَجِدُ قَوۡمًا" کا مصداق کس طرح ہو سکتے ہیں، کیا کوئی شیعہ اس کا جواب دے سکتا ہے؟

10: اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ هَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ِباَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ‏ يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ بِرَحۡمَةٍ مِّنۡهُ وَرِضۡوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ ۞

(سورۃالتوبہ: آیت 20، 21)

ترجمہ: جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی ہے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ہے، وہ اللہ کے نزدیک درجے میں کہیں زیادہ ہیں اور وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

ان کا پروردگار انہیں اپنی طرف سے رحمت اور خوشنودی کی اور ایسے باغات کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے دائمی نعمتیں ہیں۔

ان آیات سے مہاجرین مومنین کا اعلیٰ رتبہ ہونا اور ان کا فائز الدارین ہونا بیان فرمایا گیا ہے، کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اصحابِ ثلاثہؓ ان آیات کے مصداق نہ تھے؟کون سا وصف اوصاف مذکورہ آیت کریمہ سے مسلوب کر سکتے ہو؟ کیا آنحضرتﷺ کے ساتھ بلا طمع دنیا کے ایمان نہیں لائے تھے؟ یا آپﷺ کے ساتھ ہجرت کا شرف حاصل نہ کیا تھا؟ جہاد فی سبیل اللہ کے فرض کے تارک تھے؟ اگر ان میں یہ سب اوصاف ہیں تو خدا تعالیٰ نے ان کی نسبت شہادت دی ہے کہ ان کا درجہ خدا کے ہاں بہت بلند ہے اور فائز الرام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خوشنودی کا سرٹیفیکیٹ عطا فرما دیا اور بہشت بریں کا وعدہ ان کے لیے ہو چکا ہے۔ پھر جو شخص ان کی شانِ والا میں گستاخی کرے وہ کب مومن ہو سکتا ہے؟ افسوس کہ شیعہ حضرات قرآن پاک میں رسولِ پاکﷺ کے اصحابؓ باصفا کی ایسی تعریف دیکھ کر بھی برا بھلا کہتے ہیں۔ 

11: اِنَّ اللّٰهَ اشۡتَرٰى مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ بِاَنَّ لَهُمُ الۡجَــنَّةَ‌ يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيَقۡتُلُوۡنَ وَ يُقۡتَلُوۡنَ‌ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا فِى التَّوۡرٰٮةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ وَالۡقُرۡاٰنِ‌ وَمَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسۡتَـبۡشِرُوۡا بِبَيۡعِكُمُ الَّذِىۡ بَايَعۡتُمۡ بِهٖ‌ وَذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ۞ اَلتَّاۤئِبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الۡحٰمِدُوۡنَ السّاۤئِحُوۡنَ الرّٰكِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَالنَّاهُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَالۡحٰــفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰهِ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ۞

(سورۃالتوبہ: آیت 111، 112)

ترجمہ: واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات کے بدلے خرید لیے ہیں کہ جنت انہی کی ہے۔ وہ اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ یہ ایک سچا وعدہ ہے جس کی ذمہ داری اللہ نے تورات اور انجیل میں بھی لی ہے اور قرآن میں بھی اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہو؟ لہٰذا اپنے اس سودے پر خوشی مناؤ جو تم نے اللہ سے کر لیا ہے اور یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

(جنہوں نے یہ کامیاب سودا کیا ہے وہ کون ہیں؟) توبہ کرنے والے! اللہ کی بندگی کرنے والے! اس کی حمد کرنے والے! روزے رکھنے والے! رکوع میں جھکنے والے! سجدے گزرنے والے! نیکی کی تلقین کرنے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی قائم کی ہوئی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (اے پیغمبرﷺ) ایسے مومنوں کو خوشخبری دے دو۔

دیکھو، اس موقع پر حق تعالیٰ نے ان سچے مومنوں کو جنہوں نے اس کی راہ میں جانیں اور اموال حاضر کیے مؤکد وعدہ بہشت عطا کرنے کا دے دیا اور فرمایا کہ یہ وعدہ سچے مومنوں کے لیے ہے، نہ صرف قرآن میں بلکہ انجیل و تورات میں بھی درج ہو چکا ہے۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ایفاء وعدہ میں خدا سب سے زیادہ پکا ہے (کیوں نہ ہو وہ کریم ہے اور "الکریم اذا وعد وفیٰ") اس حتمی وعدہ دینے کے بعد پھر ان مومنین مخلصین کے خداوند عالی نے اوصافِ جمیلہ بھی بیان فرما دیے اب شیعہ حضرات سے ہم پوچھتے ہیں کہ کیا خدا سے یہ سودا کرنے والے اصحابِ ثلاثہؓ نہ تھے؟ انہوں نے اپنی جان و مال کو خدا کی راہ میں وقف کر دیا تھا اور اس کے عوض ان کے لیے عطیہ نعیم اخروی کا وعدہ بھی بارگاہ ایزدی سے ہو چکا، پھر ان کی شان والا میں شک کرنے کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟ کیا انہوں نے زر ثمن (مالی وجانی خدمات) خدا سے واپس لے لی تھیں؟ یا خدا نے ان کے ہاتھ سے مال مبیعہ (جنت) واپس لے کر بیع مذکورہ کا اقالا کر لیا ہے؟ حاشا وکلا۔ یہ تو پکی بیع قطعی ہو چکی جو کبھی فسق نہیں ہو سکتی اور یہ اوصاف جو خداوند عالم نے اپنی پاک کلام میں بیان فرمائے ہیں سب سے بڑھ کر انہی حضرات میں پائی جاتی ہیں، بس یہ کتنی بے انصافی ہے کہ حق تعالیٰ تو ان کو مبارکبادی کے ساتھ وعدہ دے اور ان کی تعریف کرے اور شیعہ اس کے خلاف کچھ الٹا ہی راگ گائیں۔

صفحہ 1 از 2