اللہ تعالی کے ارادے کے بارے میں مختلف اقوال - ردِ رافضیت |…

اللہ تعالی کے ارادے کے بارے میں مختلف اقوال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

اللہ تعالیٰ کے ارادے کے بارے میں مختلف اقوال

جب یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ایک ارادۂ ازلیہ کے ساتھ ارادہ کرنے والے ہیں جو اس مراد کے ساتھ مقارن اور متصل ہے جس کو عالم کہا جاتا ہے یا اپنی اُس مراد سے متاخر ہے جو حوادث ہیں ۔ تو یہ قول بھی ایسے ہی ہوا اس لیے کہ جب اس کے لیے صرف ارادۂ ازلیہ جو کہ مراد کے متصل ہے وہ ثابت ہے؛ تو یہ ممتنع ہوا کہ اس سے حوادث پیدا ہوں ۔لیکن یہ امرممتنع ہے کہ اس سے حوادث پیدا نہ ہوں ۔ پس یہ ممتنع ہوا کہ اس کے لیے صرف اور صرف ایک ارادہ ازلیہ ہو جو کہ مراد کے متصل ہو ساتھ اس کے کہ ایسے مفعولات کا ارادہ کرنا جو فاعل کے ساتھ لازم ہوں ، یہ غیر معقول امرہے بلکہ فاعل جواپنے ارادے کے ساتھ فاعل ہوتا ہے اس کے حق میں تو یہ امرمعقول ہے کہ وہ ایک شے کو دوسرے کے بعد وجود دے ،اسی وجہ سے کوئی بھی اس امرکا قائل نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور قدرت سے متکلم ہیں اور یہ کہ وہ کلام جو اس کا مقدورِ معین ہے وہ قدیم ہے اور اس کی ذات کیساتھ لازم ہے پس جب اس مقدور میں یہ امرمعقول نہیں جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے تو پھر ایسی چیز کے بارے میں کیسے یہ معقول ہوگا جو اس کی ذات سے مبائن اور منفصل ہے ۔

اگر کہا جائے کہ اس کے لیے ایساارادۂ ازلیہ ثابت ہے جو اس کی مراد کے مقارن ہے اور ایک دوسرا ارادہ بھی ثابت ہے جو حوادث کے ساتھ حادث ہے ؟

تو جواب میں کہا جائے گا کہ اگر اس ارادہ حادثہ کا وجود اُس رادہ ازلیہ کی وجہ سے ہے جس کا مراد کے ساتھ مقارنت اور اتصال ضروری ہے تو یہ امربھی ممتع ہے اس لیے کہ جب ارادۂ ثانیہ تو حادث ہے تو ممتنع ہے کہ وہ اس ارادہ قدیمہ کے مقارن ہو جو اپنی مراد کے متصل ہے اور اگر وہ اس ارادے کے بغیر ہو تو پھر حوادث کا حدوث بغیر ارادے کے لازم آئے گا اور یہ تو اس کے ارداے کے بغیر حوادث کے حدوث اور پیدا ہونے کا تقاضا کرتا ہے پس وہ فاعل مختار نہیں بنے گا کیونکہ ارادہ حادثہ اگر اس کا فعل ہے تو بتحقیق وہ بغیر ارادے کے حادث ہوا ہے اور اگر وہ اس کا فعل نہیں اور پھر بھی وہ پیدا ہوا ہے تو حادث ہے بغیر اس کے فعل کے اور یہ ممتنع ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ اس کے بارے میں تمام لوگوں نے جمہور نے معتزلہ بصرئین اور معتزلہ پر نکیر کی ہے پس ان کے اس قول میں کہ اللہ کا ارادہ حادث ہے بغیر ایک دوسرے ارادے کے اور یہ کہ اللہ کا ارادہ بغیر کسی محل کے قائم ہے ۔

اگر کہا جائے کہ بلکہ ازل سے اس کی ذات کے ساتھ حوادث کو وجود دینے والے ارادے قائم ہیں جس طرح کہ یہ بات وہ لوگ کرتے ہیں جو محدثین میں سے ہیں اور وہ فلاسفہ جو یہ کہتے ہیں کہ وہ ازل سے متکلم ہیں جب چاہیں اور وہ ازل ہی سے ان تمام اشیاء کوپیدا کرنے والے ہیں جن کے وجود کو وہ چاہیں تو کہا جائے گا کہ اس تقدیر پر تو پھرکسی مفعولِ قدیم کے لیے کوئی ایسا ارادہ قدیمہ نہیں پایا گیا اور اگر کہا جائے کہ اس میں یہ بات اور یہ دوسری بات یہ دونوں جمع ہیں تو کہا جائے گا کہ یہ تو ممتنع ہے کیونکہ فاعل کے کسی مفعولِ معین کا بالخصوص فاعل مختار کا اس کے ساتھ ملازم ہونا یہ ممتنع ہے اور مفعول بالارادہ ہونے کی جہت سے تو ضروری ہے کہ وہ ارادہ اس پر مقدم ہو اور یہ کہ وہ ثابت ہو یہاں تک کہ وہ وجود میں آجائے یعنی اس کے مفعول کے وجود تک وہ ارادہ ثابت رہے بلکہ ایسا تو ہر مفعول میں مسلم ہے اور اس جہت سے کہ اس کی ذات کے ساتھ جو یکے بعد دیگر ارادے قائم ہیں تو ان کے مرادات بھی یکے بعد دیگرے وجود میں آنے والے ہیں اور اسی طرح اس کے وہ تمام افعال جو اس کی ذات کیساتھ قائم ہیں اور وہ سارے کے سارے ارادات اس کی ذات کے لوازم میں سے ہیں تو پھر یہ ممکن نہیں کہ وہ ایک ارادہ قدیمہ کے مراد کے لے مرید بنے کیونکہ اگر وہ اپنے مراد کے لیے ملزوم ہیں تو یہ اس کو مستلزم ہے کہ ازل میں کوئی حادث معین پایا جائے اور اس کا مراد اس سے متاخر ہو تو پھران مراد کے حصول میں وہ ارادہ ہی کافی ہے جو متاخر ہے پس وہاں پرکوئی ایسا مقتضی نہیں پایا گیا جو اس کے وجود کو چاہتا ہو پس وہ موجود نہیں ہونگے کیونکہ حادث تو تب موجود ہوتا ہے جب اس کا کوئی مقتضی تام پایاجائے ۔

لہٰذا یہ فرض کر لیا جائے کہ فاعل دھیرے دھیرے ارادہ کرتا ہے اور وہ فعل کو بھی یکے بعد دیگر وجود دیتا ہے تو یہ بات لازم آئی کہ یہ اس کے ذات کے لوازم میں سے ہو پس اس کی ذات ہی شیئاً فشیئاًافعال کے حدوث کا تقاضا کرنے والی ہو پس اس کی مفعولات بھی بطریق اولیٰ دھیرے دھیرے وجود میں آئیں گے اور جب صورتِ حال اس طرح ہے تو اس کی ذات ہی ان تمام افعال اور مفعولات کے حدوث کا تقاضا کرنے والی ٹھہری اور جب اس کی ذات ہی اس کا تقاضا کرنے والی ہے تو اس کو تسلیم کرنے کے ساتھ یہ امرممتنع ہے کہ وہ کسی فعل یا مفعول کے قدم کا تقاضا کرتی ہو باجود یکہ ان دونوں کا ایک ارادہ اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور وہ ان دونوں کو مستلزم بھی ہے اس لیے کہ اس کی ذات تو دو امرین متناقضین کا مقتضی ہوئی کیونکہ فعل اور مفعول کے افراد کے حدوث کا تقاضا کرنا اور اس کی نوع کا قدم کا تقاضا کرنا یہ دونوں مناقض ہیں بوجہ اس کے کہ وہ عین فعل اور مفعول کے قدم کا تقاضا کرتے ہیں ۔

صفحہ 1 از 3