سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت، نام، لقب اور بچوں کے نام…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت، نام، لقب اور بچوں کے نام رکھنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ کار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ صحیح روایت کے مطابق رمضان 3ھ میں پیدا ہوئے۔ دوسرے قول کے مطابق شعبان میں، اور تیسرے قول کے مطابق اس کے بعد۔

لیث بن سعدؒ کا قول ہے:

’’سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سیدہ حسن رضی اللہ عنہ کی پیدائش رمضان 3ھ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شعبان 4ھ میں ہوئی۔‘‘

(نسب قریش: جلد 1 صفحہ 23، الدوحۃ النبویۃ: صفحہ 71)

احمد بن عبداللہ بن عبدالرحیم برقی کا قول ہے:

’’سیدنا حسنؓ نصف رمضان 3ھ میں پیدا ہوئے۔‘‘

(الذریۃ الظاہرۃ للدولابی: صفحہ 69)

ایسا ہی قول ابن سعد کا طبقات میں ہے۔

(الطبقات: جلد 1 صفحہ 226)

سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا قول ہے:

’’جب حسن پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، فرمایا: مجھے میرے بچے کو دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ ہم نے کہا: حرب، تو سیدنا حسنؓ نے فرمایا: نہیں، بلکہ وہ حسن ہے، جب حسین کی ولادت ہوئی تو میں نے ان کا نام حرب رکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا: مجھے میرے بچے کو دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ ہم نے کہا: حرب۔ آپﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ وہ حسین ہے۔ جب تیسرے بچے کی پیدائش ہوئی تو میں نے اس کا نام رکھا حرب، تو آپﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ وہ محسن ہے، پھر فرمایا: میں نے ان لوگوں کا نام ہارون کے لڑکوں شبر، شبیر، مشبِّر کے ناموں کی طرح رکھا ہے۔‘‘

(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 98، 118 صحیح ابن حبان: جلد 15 صفحہ 410 حدیث کی سند صحیح ہے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نومولود پر بہت خوش تھے اور لوگ بڑھ بڑھ کر والدین کو مبارک باد دے رہے تھے، سلف صالحین نومولود کے گھر والوں تک خوش خبری پہنچانے میں جلدی کرتے تھے۔ حسن بصریؒ سے ایک لطیف تہنیت منقول ہے:

’’بُوْرِکَ فِی الْمَوْہُوْبِ وَشَکجرْتَ اْوَاہِبَ وَرُزِقْتَ بِرَّہُ وَبَلَغَ أَشُدَّہُ۔‘‘

’’عطا کردہ نومولود میں اللہ برکت دے آپ عطا کرنے والے اللہ کا شکر ادا کریں، اللہ تعالیٰ اسے مطیع و فرمانبردار بنائے، اور وہ اپنی جوانی کو پہنچے۔‘‘

یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ قبل از اسلام جنگ و جدال اور خونریزی پر دلالت کرنے والے ناموں سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنہما کا نام رکھا، چنانچہ ان کے لیے بہترین معانی والے ناموں کا انتخاب کیا۔

(الحسن بن علی و دورہ السیاسی: فیتخان کردی:  صفحہ 16)

سیدنا حسنؓ کا وصف ’’سید‘‘ قرار پایا، انھیں یہ لقب ان کے نانا نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کیا، جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے

اِنَّ اِبْنِیْ ہٰذَا سَیِّدٌ ، وَلَعَلَّ اللّٰہُ أَنْ یُّصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔

(صحیح البخاری: جلد 2 صفحہ 306)

’’میرا یہ لاڈلا سردار ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے مابین صلح کرائے گا۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طریقۂ کار سے زندگی کے ایک اہم اصول کا پتہ چلتا ہے وہ یہ کہ اپنے بچوں کے اچھے اور خوبصورت نام رکھنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے، اس میں ماں اور باپ کی رہنمائی ہے کہ وہ عربی زبان اور شرعی نقطۂ نظر سے اچھے لفظ و معنیٰ پر مشتمل نام کو چنیں، تاکہ وہ اچھا ہو، زبان سے ادا کرنے میں اچھا لگے، سننے میں گراں نہ ہو، اچھی صفت اور بہترین معنٰی کا حامل ہو، شریعت کی نظر میں حرام و مکروہ معانی سے خالی ہو۔

اس کے معنیٰ ہیں کہ مسلمان باپ نام رکھنے سے پہلے اس کے لفظ اور معنی کی صحت پر اچھی طرح غور و فکر کرے، کسی صاحب علم و بصیرت سے مشورہ کرے، یہی اچھائی اور حکمت و دانائی کا طریقہ ہے۔

لوگوں کا مشہور قول ہے: ’’والد پر لڑکے کا حق یہ ہے کہ وہ اس کے لیے بہترین ماں کا انتخاب کرے، اس کا اچھا سا نام رکھے، اس کو اچھا ادب سکھائے۔‘‘

علماء نے بیان کیا ہے کہ مشروع ناموں کے درجات و مراتب ہیں، چنانچہ وہ مستحب ہوتے ہیں، جائز ہوتے ہیں ان کی ترتیب درج ذیل ہیں:

1۔ عبداللہ و عبد الرحمٰن جیسا نام رکھنا مستحب ہے، یہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین نام ہیں جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے، ان ناموں کی خصوصیت ہے کہ وہ انسان کے رب کا بندہ ہونے، اس کے محتاج ہونے اور اس کے سامنے اس کی عاجزی و انکساری پر اچھی دلالت کرتے ہیں، چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں وارد ہے:

اِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِکُمْ إِلَی اللّٰہِ عَبْدُ اللّٰہِ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ۔

(صحیح مسلم: رقم 2132)

’’اللہ کے نزدیک محبوب ترین نام عبداللہ و عبد الرحمٰن ہیں۔‘‘

اس لیے کہ یہ دونوں نام عبودیت کے وصف پر دلالت کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دوسرے اسمائے حسنٰی کو چھوڑ کر ’’اللّٰہ‘‘ اور ’’الرحمٰن‘‘ ہی کی طرف عبودیت کی اضافت کی ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے:

وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبۡدُ اللّٰهِ يَدۡعُوۡهُ كَادُوۡا يَكُوۡنُوۡنَ عَلَيۡهِ لِبَدًا ۞

(سورۃ الجن آیت 19)

ترجمہ: اور یہ کہ : جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو ایسا معلوم ہوا جیسے یہ لوگ اس پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔ 

’’اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ بھیڑ کی بھیڑ بن کر اس پر پل پڑیں۔‘‘

اور اس آیت میں ہے:

وَعِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ (سورۃ الفرقان: 63)

’’اور اللہ کے بندے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اکٹھا اپنے اس قول میں ذکر کیا ہے:

قُلِ ادْعُوا اللَّـهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَـٰنَ أَيًّا مَّا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ

(الاسراء آیت 11) 

ترجمہ: ’’کہہ دیجیے کہ اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر ،جس نام سے بھی پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہما کے بیٹے کا نام عبداللہ رکھا، اور صحابہ میں سے تین سو لوگوں کا نام عبداللہ تھا، اور اسی بنا پر ہجرت مدینہ کے بعد مہاجرین کے پہلے مولود کا نام عبداللہ بن زبیر تھا۔

(تسمیۃ المولود: بکر عبداللّٰہ ابو زید: صفحہ 33)

صفحہ 1 از 2