مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 1 از 19

باغِ فَدَک اور شیعیت کی تضاد بیانیاں

بنام حضرت مولانا مفتی شیخ الحدیث والتفسیر عبدالعزیز العزیزی صاحب 

حرفِ آغاز

باغِ فَدَک کے حوالے سے یہ نظریہ عوام میں مشہور ہے کہ یہ حق حضرت فاطمہؓ کا تھا جسے خلفائے راشدین (ابوبکر، عمر، عثمان، علی، حسن) رضوان اللہ تعالیٰ عنہم نے غصب کیا۔

اِس باطل عقیدے اور نظریے کی ترویج روافض (اہل تشیع) کی طرف سے ہوئی اور اِس جھوٹ کو اتنا کہا گیا کہ یہ بات اہل سنت کے ایوانوں میں صداقت سمجھی جانے لگی۔ چنانچہ اِس دروغ گوئی، افتراء اور کِذب کا نتیجہ یہ نکلا کہ کم علم اہل سنت، حضراتِ صحابہؓ سے بدظن ہونے لگے، اور خصوصاً خلفائے راشدین پر عدالتیں قائم کرنے لگے۔

میری اِس تحریر کا مقصد اُس حقیقت کو آشکارا کرنا ہے جو پوشیدہ رکھی گئی اور ایسے زخم کو جسم سے نکال پھینکنا ہے جو ناسور بن کر آہستہ آہستہ جسم کے حِصّے میں پھیلتا جارہا ہے۔

اگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں 

مجھے ہے حُکمِ اذاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ

محل وقوع 

فَدَک کے محل وقوع کے حوالے سے اہل تشیع کے نزدیک دو موقف اور نظریات پائے جاتے ہیں۔ 

فَدَک کا پہلا محل وقوع: 

فَدَک کے پہلے محل وقوع کے حوالہ جات شیعہ کتب سے مندرجہ ذیل ہیں۔ 

1) فَدَک منطقہ حجاز میں مدینہ سے تقریباً 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

(یاقوت حموی 1995)

(معجم البلدان 4/238) 

2) فَدَک کے مقام پر اِس وقت “الحائط” شہر آباد ہے۔

(جعفریان، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، صفحہ 396) 

3) سنہ 1975عیسوی میں یہ شہر 21 دیہات پر مشتمل تھا جبکہ سنہ 2010عیسوی کی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی کل آبادی تقریبا 14000 نفوس ہے۔

فَدَک میں صدر اسلام کے دور میں یہودی آباد تھے

(بلادی جلد 2 صفحہ 206-205)

(معجم معالم الحجاز جلد 8 صفحہ 23) 

4) اِس علاقے کی اسٹرٹیجک محل وقوع کو مد نظر رکھتے ہوئے یہودیوں نے اس علاقے کو فوجی علاقہ قرار دیا ہوا تھا۔

(سبحانی حوادث سال ہفتم ہجرت: سرگزشت فدک 1344 ش، صفحہ 14) 

5) تاریخی منابع کے مطابق اس علاقہ میں عمر ابن خطاب  کے دورِ خلافت تک یہودی آباد تھے لیکن انہوں نے یہودیوں کو یہاں سے جانے پر مجبور کیا۔

(مرجانی، بہجۃ النفوس و الأسرار فی تاریخ‌، 2002م، جلد1، صفحہ 438)

6) ظہورِ اسلام کے وقت فَدَک باغات اور نخلستانوں پر مشتمل تھا۔

(یاقوت حموی جلد 4 صفحہ 238)

(معجم البلدان، جلد 4 صفحہ 238)

(ابن منظور،1410ق لسان العرب جلد 10، صفحہ 436) 

7) شہر کوفہ جو کھجوروں سے منافع لینے کے حوالے سے ایک غنی شہر سمجھا جاتا تھا۔ فَدَک کی آمدنی

یہاں کے نخلستان میں موجود کھجوروں کے درختوں کی آمدنی کے مساوی سمجھی جاتی تھی۔

(ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، 1378ق، جلد 16 صفحہ 246) 

8) جس وقت حضرت عمرؓ نے حجاز سے یہودیوں کو نکالنا چاہا تو فَدَک میں موجود نصف درختوں کے مقابلے میں یہودیوں کو 50 ہزار درہم ادا کیا۔

(جوہری بصری، السقیفۃ و فدک، 14ق، صفحہ 98) 

9) پیغمر اکرم(ص) کے زمانے میں فَدَک کی سالانہ آمدنی کا 24 سے 70 ہزار دینار تک کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

(قطب راوندی، الخرائج و الجرائح، 1409ق، جلد 1، صفحہ 113)

(ابن طاووس، کشف المحجۃ الثمرۃ المہجۃ، 1307ق، صفحہ 124) 

10) موجودہ دور میں فَدَک سعودیہ عربیہ کے

"حائل" نامی صوبے میں واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سنہ 1999 عیسوی کو اس علاقے کا نام

وادی فاطمہ” رکھا گیا اسی طرح اس میں موجود باغ کو باغ فاطمہ مسجد کو مسجد فاطمہ اور چشمہ کو عیون فاطمہ کا نام دیا گیا۔

(مجلسی کوپائی، فَدَک از غصب تا تخریب،248۔250) 

11) اِس علاقے میں موجود عمارتیں اور منارے خراب ہو چکے ہیں اور نخلستان میں موجود اکثر کھجور کے درخت بھی سوکھ چکے ہیں۔

(مجلسی کوپائی، فدک از غصب تا تخریب،1388ش، صفحه 248 و 287۔284) 

خلاصہ: 

فَدَک کا محل وقوع جغرافیہ دان اور مؤرخین نے مدینہ سے 160 کلومیٹر دور بتایا ہے اور اس میں موجود کجھور کے درختوں کی تعداد بھی بتائی گئی ہے یہ بھی بتایا گیا کہ یہ آدھا مسلمانوں کے پاس تھا آدھا حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ حکومت میں 50 ہزار درہم میں خریدا۔

مدینے سے 160 کلومیٹر کا فاصلہ اور حضرت عمرؓ کے دور تک یہاں یہودی آباد تھے اور آدھا باغ فَدَک حضرت عمرؓ نے اپنے دور حکومت میں حکومتی خزانے سے 50 ہزار درہم میں خریدا تو باغ فدک کی یہ حالت ہمیں اس کے ریاستی معاہدہ ہونےکا خبر دیتی ہے

فَدَک کا دوسرا محل وقوع 

فَدَک کے دوسرے محل وقوع کے حوالہ جات شیعہ کتب سے مندرجہ ذیل ہیں۔ 

1) مہدی عباسی (عہد بنو عباس کا حکمران) نے ابوالحسن (کُنیت امام موسیٰ کاظم) سے کہا: اے ابوالحسن اِس کا حُدودِ اربع بتاؤ، آپ کہنے لگے: اِس کی ایک حَد جبل اُحد ہے، ایک حَد عریش مصر ہے، ایک حَد سیف البحر ہے  اور ایک حَد دومۃ الجندل ہے۔ 

(الاصول من الکافی ، باب الفتی والانفال ،جلد 1 ،صفحہ 543)
(انوار النعمانیہ)
(مناقب مفاخرہ) 

شیعہ کتاب اصولِ کافی کی اِسی روایت کو مکمّل تفصیل سے دوسری جگہ لکھا گیا ہے۔ 

2) علی بن اسباط سے مروی ہے کہ جب امام موسیٰ کاظم، مہدی عباسی کے پاس آئے تو خلیفہ لوگوں کے غضب شدہ مال واپس کر رہا تھا حضرت نے فرمایا ہماری غضب شدہ کو بھی واپس کر دو اُس نے کہا وہ کیا ہے؟؟ فرمایا جب اللہ نے اپنے نبی کو فَدَک پر فتح دی اور بغیر جنگ حاصل ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی اے رسول صلعم ذوالقربی کا حق اُسے دے دو جبرئیل سے حضرت نے پوچھا یہ کون ہے؟ جبرئیل نے خدا سے پوچھا خدا نے وحی کی، فَدَک فاطمہ کو دے دو پس حضرت نے اُن کو بلایا اور فرمایا خدا نے مجھے حکم دیا کہ میں باغِ فَدَک تم کو دے دوں۔

انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلعم جو خدا اور رسول صلعم نے عطا کیا میں نے اُسے قبول کیا پس حضرت فاطمہ کے وکلاء حیاتِ رسول تک اُس کی آمدنی وصول کرتے رہے جب ابوبکر خلیفہ ہوئے تو انہوں نے وکلاء فاطمہ کو فَدَک سے باہر نکال دیا

وہ ابوبکر کے پاس آئیں اور واپسی کا سوال کیا تو انہوں نے کہا تم کوئی کالا گورا گواہ لاؤ وہ امیرالمومنین اور اُمِ ایمن کو لے کر گئیں اُنہوں نے گواہی دی ابوبکر نے واگزاشت کے لیے ایک تحریر لکھ دی وہ اِس تحریر کو لے کر نکلیں تو راہ میں عمر ملے انہوں نے کہا یہ کیا ہے ؟؟

صفحہ 1 از 19