واقعہ ایلاء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واقعہ ایلاء

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 10

واقعہ ایلاء

بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم اٹھالینے کوایلاء کہتے ہیں ،ہجرت مدینہ منورہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داریاں بے انتہا بڑھ گئیں ،ایک طرف منصب رسالت کی ذمہ داریاں تھیں تودوسری طرف سربراہ مملکت کی حیثیت سے مدینہ کے باشندوں کی جان ومال کی حفاظت بھی آپ کی ذمہ داری تھی ،اس پر منافقین کی سازشوں ،کفارمکہ اور ارد گرد کے قبائل کی شورشوں کی وجہ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابتدائی چارسال تک اپنی معاشی ضروریات کاکوئی بندوبست نہ کرسکے، ۴ہجری میں بنی نضیرکی مدینہ سے جلاوطنی کے بعدان کی متروکہ زمینوں کاایک حصہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ کی ضروریات کے لئے مخصوص کردیاگیا مگروہ بھی اتناکم تھاکہ آپ کے کنبے کے لئے ناکافی تھااس لئے ان دنوں میں مالی حیثیت سے آپ انتہائی تنگ حال تھے ،

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ، فَرَأَیْتُهُ مُتَغَیِّرًا، قُلْتُ: بِأَبِی وَأُمِّی، مَا لِی أَرَاكَ مُتَغَیِّرًا؟ قَالَ: مَا دَخَلَ جَوْفِی مَا یَدْخُلُ جَوْفَ ذَاتِ كَبِدٍ مُنْذُ ثَلَاثٍ . قَالَ: فذهبت، فَإِذَا یَهُودِیٌّ یَسْقِی، فَسَقَیْتُ لَهُ عَلَى كُلِّ دلو بتمرفَجَمَعْتُ تَمْرًا فأتیت به النَّبِیَّ  صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فقال من أین لك یا كعب فأخبرته

کعب بن عجرہ بلوی کہتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضرہوامیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انورپرنظرڈالی تواسے(بھوک کی وجہ سے) متغیرپایا،یہ خیال کرکے کہ معلوم نہیں سیدالامم صلی اللہ علیہ وسلم کوکب سے فاقہ ہے بے چین ہوگیا (لیکن خودبھی نادارآدمی تھے گھرمیں کوئی چیزنہ تھی کہ لاکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے لیکن پھربھی انہیں یہ گوارانہ تھاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے رہیں اسی وقت کوئی چیزتلاش کرنے اٹھے)راستے میں ایک یہودی ملاجواپنے اونٹ کوپانی پلاناچاہتا تھا میں نے اسی پیش کش کی کہ میں کنوئیں سے پانی کھینچ دوں اوروہ فی ڈول ایک چھوہارادے دے،اس نے منظورکرلیاچنانچہ میں نے کئی ڈول پانی کے نکالے جب کچھ چھوہارے جمع ہوگئے تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور چھوہارے پیش کیے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایااے کعب رضی اللہ عنہ !یہ چھوہارے کہاں سے آئے؟تومیں نے ساراواقعہ بیان کردیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور چھوہارے کھاکران کے لیے دعائے خیرکی۔

[ تاریخ دمشق لابن عساکر۱۴۶؍۵۰،تاریخ الاسلام بشار۵۳۴؍۲]

اصحاب صفہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی حالت کچھ مختلف نہ تھی ،کئی کئی دن تک گھروں میں فاقہ رہتا تھا اور روشنی کے لئے دیاتک نہیں جلتاتھااس صورت حال میں ازواج مطہرات سخت پریشان تھیں ، آخرایک دن تمام ازواج مطہرات نے جمع ہوکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھرکے خرچہ کامطالبہ کیا،ایک طرف حددرجہ مالی مشکلات تھیں تودوسری طرف کفرواسلام کی کشمکش انتہائی عروج پرتھی،ان حالات میں ازواج مطہرات کے تقاضے کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیااورناراضگی کااظہارکیا،

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ یَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ، لَمْ یُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ، قَالَ: فَأُذِنَ لِأَبِی بَكْرٍ، فَدَخَلَ،ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ، فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ، فَوَجَدَ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ، وَاجِمًا سَاكِتًا، فَقَالَ: لَأَقُولَنَّ شَیْئًا أُضْحِكُ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ رَأَیْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ، سَأَلَتْنِی النَّفَقَةَ، فَقُمْتُ إِلَیْهَا، فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا،فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:هُنَّ حَوْلِی كَمَا تَرَى، یَسْأَلْنَنِی النَّفَقَةَ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ یَجَأُ عُنُقَهَا فَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ یَجَأُ عُنُقَهَا، كِلَاهُمَا یَقُولُ: تَسْأَلْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَا لَیْسَ عِنْدَهُ ، فَقُلْنَ: وَاللهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ شَیْئًا أَبَدًا لَیْسَ عِنْدَهُ ، ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا أَوْ تِسْعًا وَعِشْرِینَ

صفحہ 1 از 10