تفسیر آیات رضوان - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیات رضوان

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 9

تفسیر آیات رضوان

 لَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا۞ (سورة الفتح آیت نمبر 18)۔ل

وَّمَغَانِمَ كَثِيۡرَةً يَّاۡخُذُوۡنَهَا ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ۞ (سورة الفتح آیت نمبر 19)۔

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيۡرَةً تَاۡخُذُوۡنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمۡ هٰذِهٖ وَكَفَّ اَيۡدِىَ النَّاسِ عَنۡكُمۡ‌ۚ وَلِتَكُوۡنَ اٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَيَهۡدِيَكُمۡ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًاۙ ۞(سورة الفتح آیت نمبر 20)۔

وَّاُخۡرٰى لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهَا قَدۡ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرًا ۞ (سورة الفتح آیت نمبر 21)۔

وَلَوۡ قَاتَلَـكُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوَلَّوُا الۡاَدۡبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُوۡنَ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ۞(سورة الفتح آیت نمبر 22)۔

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِىۡ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلُ ۖۚ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا ۞ (سورة الفتح آیت نمبر23)۔

ترجمہ: بالتحقیق اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے خوش ہوا جب کہ یہ لوگ آپﷺ سے درخت (شجرۃ) کے نیچے بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا اللّٰہ کو وہ بھی معلوم تھا پس اللہ تعالیٰ نے ان میں اطمینان پیدا کر دیا اور ان کو ایک لگتے ہاتھ فتح دے دی اور (اس فتح میں) بہت سی غنیمتیں بھی (دیں) جن کو یہ لوگ لے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑا حکمت والا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم سے (اور بھی) بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کو تم لو گے سردست تم کو یہ دیدی ہے اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے تاکہ یہ (واقعہ) اہلِ ایمان کے لیے ایک نمونہ ہو جائے اور تاکہ تم کو ایک سیدھی سڑک پر ڈال دے اور ایک فتح اور بھی ہے جو تمہارے قابو میں نہیں آئی خدا تعالیٰ اس کو احاطہ میں لیے ہوئے ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اگر تم سے یہ کافر لڑتے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگتے پھر نہ ان کو کوئی یار ملتا نہ مددگار اللہ تعالیٰ نے (کفار کے لیے) یہی دستور رکھا ہے جو پہلے چلا آ رہا ہے اور آپ خدا کے دستور میں رد و بدل نہ پائیں گے۔

ان آیاتِ کریمہ میں رب العالمین نے رسول اکرمﷺ کے دستِ اقدس پر بیعت کرنے والوں کو چند دینی اور چند دنیاوی انعامات سے نوازا دینی انعامات کا اس پاک کتاب قرآنِ کریم میں اعلان فرمایا اور دنیوی انعامات کا بطورِ پیشنگوئی وعدہ فرمایا۔

 روض الانف جلد 2 صفحہ 235:

 و فی روايت عن جابرؓ كانوا الفا خمس مائة قال سلمه بن الاكوعه بايعنا رسول اللهﷺ على الموت۔ 

ترجمہ: سیدنا جابرؓ سے روایت ہے کہ وہ (حدیبیہ والے) 1500 تھے سیدنا سلمہؓ بن الاکوعہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول کریمﷺ کے ہاتھ پر جان دینے کی بیعت کی۔

ان پندرہ سو بیعت کرنے والے صحابیوں کے ایمان کی شہادت رب العالمین نے دی ہے ایمان تو بیعت سے پہلے بھی تھا ان کے ایمان کا اعلان کیا اور بتایا کہ میں ان کے ایمان کا شاہد ہوں اور قرآنِ کریم میں اعلان کر رہا ہوں کہ قرآنِ کریم قیامت تک ان کے ایمان کی شہادت دیتا چلا جائے گا۔ 

سوچنے کا مقام ہے کہ جس کے ایمان کی شہادت خدا تعالیٰ دے اس سے بڑھ کر کون اور شاہد ہو سکتا ہے؟ کوئی ایماندار جس کا ایمان قرآن پر ہے وہ ہرگز شک نہیں کر سکتا بلکہ قرآنِ کریم کی ان آیاتِ کریمہ کے اعلان کے بعد بھی جو شخص بیعت کرنے والوں کے ایمان میں یا ان کے اسلام میں شک کرتا ہے وہ حقیقتاً ان کے اسلام و ایمان میں شک نہیں کر رہا بلکہ وہ قرآنِ کریم کو مشکوک کہہ رہا ہے جس سے ایمان جاتا رہتا ہے اور وہ وعدہ خداوندی کو جھٹلا رہا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کے ایمان کا اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اعلان کیا ان کا خاتمہ یقیناً بالایمان ہوگا العیاذ باللہ اگر اسی اعلان کے بعد ان کا خاتمہ بالایمان نہ ہو تو پھر باقی مخلوق کے ایمان کی تو خیر ہی کہاں؟۔

2۔ رب العالمین نے ایمانی شہادت کے بعد ان پر اپنی رضامندی کا اعلان بھی کیا گو راضی تو پہلے بھی تھا رضامندی کا اعلان اس بیعت کے بعد فرمایا اور یہ امر ظاہر ہے کہ جس پر خدا تعالیٰ راضی ہو محض راضی نہیں بلکہ رضامندی کا قرآنِ کریم میں اعلان بھی کر دیا ہے ان کا خاتمہ باکمل الایمان ہی ہوگا اور رضامندی بھی بہ حرف تاکید کے جو لقد ہے قد ہی تاکیدیہ اور اس پر لام بھی ابتدائیہ تاکیدیہ داخل کیا پھر رضامندی بھی صیغہ ماضی سے بیان فرمائی کہ یہ بیعت کرنے والے میرے ازلی محبوب ہیں میں ان سے پہلے سے راضی ہوں خدا تعالیٰ کو علم تھا کہ ان کا خاتمہ ایمان پر ہوگا اور میری رضامندی سے ہی دنیا سے جائیں گے خدا تعالیٰ علیم بذات الصدور ہے دلوں کا مالک ہے ہم آج کسی سے راضی ہوتے ہیں اور کل اسی سے ناراض ہو جاتے ہیں کیونکہ ہمیں آئندہ کے واقعات سے واقفیت نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ نے دل بنائے ہیں اور ان کے رازوں سے بھی خوب واقف ہے دیکھیے ابلیس لعین نے کئی ہزار سال عبادت کی مگر رضامندی کا اعلان اس کے متعلق نہیں فرمایا

صد ہزاراں سال ابلیس لعین 

بوداز ابدال امیر المومنین

 یاد رہے خداوندِ قدوس کی رضامندی کا نام ہی جنت ہے جس پر اللہ تعالیٰ راضی ہوا اور جنت محلِ رضا ہے۔

3۔ اپنی رضامندی کے ساتھ بیعت کا ذکر بھی فرمایا حالانکہ رسول اللہﷺ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی متعدد بار بیعت ہوئی مگر قرآنِ کریم میں اس مبارک بیعت کا ایک ہی ذکر فرمایا اس بیعت کی شان اور بیعت کرنے والوں کی شان بیان کرتے ہوئے اس مبارک شجر کا بھی ذکر فرمایا علامہ باذل شیعہ نے حملہ حیدری جلد 1 صفحہ 215 پر خوب فرمایا:

رسول موید بہ نیروے بخت بیاید سوۓ سایہ آں درخت

 بروتکیہ فرمود خیر البشر بہ عزت ز طوبیٰ گزشت آن شجر۔

صفحہ 1 از 9