صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم - دفاعِ اہلِ سنت |…

صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم

  مولانا ابوعبيدالرحمن عارف محمود‏،  استاذ جامعه فاروقيہ، كراچی

صفحہ 1 از 5

صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم

حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین ايسی مقدس شخصيات ہيں،جنہوں نے حضرت رسول اللہﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین پر نہ صرف ایمان لایا؛ بلکہ قرآن کو نازل ہوتے ہوئے دیکھا، رسول اللہﷺ کی زندگی کے تمام پہلوں کا عملی طور سے مشاہدہ کیا، آپﷺ سے سب سے پہلے دین کو سیکھا اور پھیلايا۔
یہی وہ مبارک اور پاک باز جماعت ہے جسے اللہ رب العزت نے اپنے آخری نبی حضرت محمدﷺ کی رفاقت اور مصاحبت کے ليے چنا اور منتخب فرمایا؛ چناں چہ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دین کی بنیاد اور معیارِ ایمان ہیں؛ بلکہ حضور اقد ﷺ کی مبارک اور پاکیزہ زندگی کو سمجھنے، اور اس پر عمل کرنے کے ليے اگر کسی کی زندگی معیار ہے تو وہ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مبارک و مقدس جماعت ہے۔
یہی وہ جماعت ہے جس نے براہِ راست مشکوٰۃِ نبوّت سے استفادہ کیا؛ چناں چہ جو فیض انہوں نے پایا اور ایمان کی جو کیفیت و حلاوت ان کو حاصل ہوئی، وہ بعد والوں كو میسر نہ آئی، اسی وجہ سے اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں اگر کسی نبی کے ساتھیوں کی سب کے سب کی تعریف بیان کی ہے تو وہ جنابِ رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت ہے، اللہ رب العزت نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پوری جماعت كو رضامندی كی سند عنايت فرما دی۔
عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم:
قرنِ اوّل سے آج تک امتِ مسلمہ اہلِ سنت والجماعت کا یہ اتفاقی و اجماعی عقیدہ رہا ہے کہ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تمام کے تمام عادل و معتبر ہیں، اور ان کا اجماع امتِ مسلمہ کے لیے حجت ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پاکیزہ اور مبارک جماعت عاداتِ کریمہ، خصائلِ حمیدہ، شمائلِ فاضلہ، اخلاقِ عظیمہ، اور شریعت کے تمام مسائل و دلائل، حقائق و آداب کے بارے میں علماً اور عملاً رسول اللہﷺ کے کمالاتِ نبوت کی آئینہ دار اور مظہرِ اتم ہے، انہی پاک باز نفوس کی اتباع امتِ مسلمہ کو ضلالت و گمراہی سے بچا سکتی ہے۔
مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’یہ ان مردانِ خدا کی تاریخ ہے کہ جب ان کے پاس اسلام کی دعوت پہنچی تو انہوں نے اس کو دل و جان سے قبول کیا اور اس کے تقاضوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ 
رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِىۡ لِلۡاِيۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ فَاٰمَنَّا (سورۃ آل عمران: آیت 193) 
اور اپنا ہاتھ رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں دے دیا چنانچہ ان کے ليے اللہ کے راستے کی مشقتیں معمولی اور جان و مال کی قربانی آسان ہو گئی حتیٰ کہ اس پر ان کا یقین اور پختہ ہو گیا اور بالآخر دل و دماغ پر چھا گیا، غیب پر ایمان، اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت، اہلِ ایمان پر شفقت، کفار پر شدت نیز آخرت کو دنیا پر، ادھار کو نقد پر، غیب کو شہود پر اور ہدایت کو جہالت پر ترجیح اور ہدایتِ عامہ کے بے پناہ شوق کے عجیب و غریب واقعات رونما ہونے لگے۔
اللہ کے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں لانے، مذاہب کے ظُلم و جَور سے اسلام کی عدل گُستری میں پہنچانے، دنیا کی تنگیوں سے آخرت کی وسعتوں میں لے جانے اور دنیوی مال و متاع اور زیب و زینت سے بے پرواہ ہو جانے، اللہ سے ملنے اور جنت میں داخل ہونے کے شوق کے محیر العقول واقعات سامنے آنے لگے، انہوں نے اسلام کی نعمت کو ٹھکانے لگانے، اس کی برکتوں کو اقصائے عالم میں عام کرنے اور چپے چپے کی خاک چھاننے کے بے پایاں جذبات میں بلند ہمتی و دقیقہ رسی کے باعث، اپنے گھر بار کو چھوڑا، راحت و آرام کو خیر باد کہا اور اپنی جان و مال کی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا حتیٰ کہ دین کی بنیادیں قائم ہو گئیں، دل اللہ کی طرف مائل ہو گئے اور ایمان کے ایسے مبارک، جاں فزا اور طاقتور جھونکے چلے جس سے توحید و ایمان اور عبادات و تقویٰ کی سلطنت قائم ہو گئی، جنت کا بازار گرم ہو گیا، دنیا میں ہدایت عام ہو گئی اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے‘‘۔
عظمتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور قرآن:
یہاں بطورِ نمونہ کے چند آیات اور ان کا ترجمہ ذکر کرتے ہیں تاکہ ایک عام مسلمان قاری اس کا اندازہ لگا سکے کہ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کیا فضل و کمال حاصل تھا۔
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ذٰ لِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِوَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا 
(سورۃ الفتح: آیت 29)
ترجمہ: محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہو گئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہو گئی کہ کاشتکار اس سے خوش ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کرلیا ہے۔ 
(آسان ترجمہ قرآن: جلد، 3 صفحہ 1575)
اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ 
(سورۃ الأنفال: آیت 72)
صفحہ 1 از 5