فتح مکہ کے دن
علی محمد الصلابیرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر احرام کالی پگڑی پہنے مکہ میں داخل ہوئے۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1358)
اللہ نے چونکہ آپﷺ کو فتح سے سرفراز کیا تھا، اس لیے اللہ کے لیے تواضع کا اظہار کرتے ہوئے آپ اپنے سر کو جھکائے ہوئے تھے، یہاں تک کہ آپﷺ کی ٹھوڑی کجاوے کے درمیانی حصے کو چھو رہی تھی، آپ سورۂ فتح کی تلاوت کر تے ہوئے داخل ہوئے۔
(صحیح البخاری: کتاب المغازی: حدیث نمبر 4281)
آپﷺ کو نصرت و تائید، گناہوں کی بخشش اور فتح کی نعمتوں کا احساس ہو رہا تھا۔
(صور و عبر من الجہاد النبوی فی المدینۃ: صفحہ 396)
مکہ میں(جو جزیرۃ العرب کا قلب اور اس کا روحانی و سیاسی مرکز ہے) جب آپ فاتحانہ شان سے داخل ہوئے تو وہاں عدل و مساوات، تواضع و انکساری کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر اپنے پیچھے قریش اور بنوہاشم کے کسی فرد کے بجائے اپنے غلام زید رضی اللہ عنہ کے بیٹے اسامہ رضی اللہ عنہ کو سوار کیا۔ یہ واقعہ جمعہ 20 رمضان 8ھ کا ہے۔
( السیرۃ النبویۃ لأبی الحسن الندوی: 337)
فتح مکہ کے دن جب آپﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ اس بات کے حریص تھے کہ مکہ کے داخلی محاذ کو پرامن رکھا جائے، اس لیے جب سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’اَلْیَوْمُ یَوْمُ اْلَمْلَحَمِۃ، اَلْیَوْمُ تُسْتَحَلُّ الْکَعْبَۃُ‘‘ آج کا دن خونریزی کا دن ہے، آج ہم کعبہ کو حلال سمجھیں گے، اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا:
ہٰذَا یَوْمٌ یُعَظِّمُ اللّٰہُ فِیْہِ الْکَعْبَۃَ وَ یَوْمٌ تُکْسَی فِیْہِ الْکَعْبَۃُ۔
(صحیح البخاری: کتاب المغازی: جلد 5 صفحہ 108، حدیث نمبر 4280)
’’یہ ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ کعبہ کو عظمت عطا کر رہا ہے، اور ایسا دن ہے جس میں کعبہ پر غلاف چڑھایا جائے گا۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علمِ جہاد سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے لے کر ان کے بیٹے قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو تھما دیا، آپﷺ نے اس حکیمانہ تدبیر سے ایک ثانوی لڑائی کو ٹال دیا جس کی ضرورت نہیں تھی، ساتھ ہی ساتھ آپﷺ نے نہ ان کو بھڑکایا نہ ہی انصار کو، آپ نے علمِ جہاد کسی انصاری سے لے کر کسی مہاجر یا کسی دوسرے انصاری کو نہیں دیا، بلکہ ایک انصاری سے لے کر ان کے بیٹے کو دے دیا، اور یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان اپنے لڑکے کو چھوڑ کر کسی کو اپنے سے افضل نہیں دیکھنا چاہتا،
(قیادۃ الرسول السیاسیۃ و العسکریۃ: صفحہ 196)
اس حادثے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمتِ عملی ابھر کر سامنے آتی ہے کہ آپ غلطی کا ازالہ کیسے کرتے تھے، لوگوں کے ساتھ آپ کے تعامل کا کیا اسلوب ہوتا تھا، چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ کی غلطی باقی نہیں رہنے دی، ساتھ ہی ساتھ ان کی نفسیات کا خیال رکھا، سعد رضی اللہ عنہ کی غلطی کا ازالہ کیا، اور علم جہاد ان کے صاحبزادے کو دے دیا۔