واقعہ افک اور اس کے متعلق اہم نکات کی تفاصیل
علی محمد الصلابیپہلا مطلب: واقعہ افک ہے کیا؟
کتب احادیث صحیحہ سے ماخوذ واقعہ افک کا متن درج ذیل ہے:
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص، عبیداللہ بن عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث روایت کی کہ جب بہتان لگانے والوں نے ان کی شان میں جو کہا سو کہا۔ تب اللہ تعالیٰ نے انھیں، لوگوں کے الزامات سے بری کر دیا۔
درج بالا تمام راویوں میں سے ہر ایک نے حدیث کا کچھ متن روایت کیا ہے۔ وہ ایک دوسرے کی بیان کردہ روایات کی تصدیق کرتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کچھ راوی دوسروں کی نسبت زیادہ یاد کرنے والے تھے، جو حدیث عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب روانگی (سفر) کا ارادہ کرتے اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ ان میں سے جس کے نام کا قرعہ نکل آتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنا ہم سفر بنا لیتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے درمیان قرعہ ڈالا۔ میرے نام کا قرعہ نکلا۔ چونکہ میں حکم حجاب نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئی۔ میں اپنی پالکی یعنی کجاوے میں سوار ہوتی اور اس میں پڑاؤ کرتی۔ ہم چل پڑے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ سے فارغ ہوئے تو واپس ہو لیے اور ہم واپسی کے سفر میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے۔ ایک رات سفر شروع کرنے کا اعلان ہو گیا تو میں اعلان سن کر اٹھی اور لشکر گاہ سے باہر آ گئی۔ جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوئی تو لشکر گاہ کی جانب متوجہ ہوئی، تب مجھے پتا چلا کہ یمنی گھونگھوں (جزع ظفار: الجزع یمنی گھونگے۔ ظفار: یمن کا ایک ساحلی شہر ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 269۔) فتح الباری لابن حجر: جلد 1 صفحہ 151) سے بنا ہوا میرا ہار نہیں ہے۔ لہٰذا میں اپنا ہار تلاش کرنے لگی اور اس کی تلاش نے مجھے روک لیا اور وہ گروہ آ گیا جو مجھے سوار کراتے اور اتارتے (یَرْحَلُوْنَ: یعنی جو کجاوہ اور پالان وغیرہ اونٹ پر رکھتے۔ (شرح مسلم للنووی: جلد 17 صفحہ 104۔)
تو انھوں نے میری پالکی اٹھائی اور میرے اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوتی تھی۔ ان کے خیال کے مطابق میں پالکی میں تھی۔ اس وقت عورتیں دبلی پتلی ہوتی تھیں۔ انھیں گوشت وزنی نہ کرتا کیونکہ وہ بقدر ضرورت کھانا (اَلْعُلْقَۃَ: مناسب سا کھانا اور ایک قول کے مطابق جس سے گزارا ہو جائے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 3 صفحہ 290۔ الفائق للزمخشری: جلد 2 صفحہ 262۔) کھاتی تھیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے جب پالکی اٹھائی تو اس کے خفیف ہونے پر انھیں کوئی تعجب نہ ہوا۔ میں اس وقت نوعمر لڑکی تھی۔ انھوں نے اونٹ اٹھایا اور قافلہ چل پڑا۔ لشکر لشکر گاہ سے نکل گیا، اب جب میں پڑاؤ والی جگہ پر آئی تومجھے اپنا ہار مل گیا۔ وہاں نہ کوئی پکارنے والا تھا اور نہ کوئی پکار سننے والا تھا۔ میں نے سوچا کہ جب انھیں میرے نہ ہونے کا پتا چلے گا تو وہ ضرور میرے پاس لوٹ آئیں گے۔ جونہی میں اپنے خیمے والی جگہ بیٹھی مجھ پر نیند کا غلبہ ہو گیا اور میں سو گئی۔ صفوان بن معطل سلمی ذکوانی لشکر کے پیچھے رہ کر خبری گیری کرتے تھے، وہ رات (اَدْلَج: رات کے ابتدائی حصے میں سفر شروع کرنا۔
(النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 129) کی ابتدا میں چلے تو صبح کے قریب میرے خیمے والی جگہ پہنچے، انھیں ایک سوئے ہوئے انسان کا ہیولا نظر آیا۔ وہ میری طرف آئے اور جب مجھے دیکھا تو پہچان لیا۔ چونکہ وہ حکم حجاب کے نزول سے پہلے مجھے دیکھ چکے تھے۔ انھوں نے جب مجھے پہچانا تو اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہا۔ میں اس کے استرجاع کی آواز سن کر بیدار ہو گئی۔ میں نے اپنی چادر کے ساتھ اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور اللہ کی قسم! اس نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے اس کے استرجاع کے علاوہ اس کا کوئی لفظ سنا۔ بالآخر اس نے اپنی سواری بٹھائی اور اس کے اگلے پاؤں پر اس نے اپنا پاؤں رکھا، میں اس پر سوار ہو گئی۔ وہ سواری کی مہار پکڑ کر آگے آگے چل دیا۔ یہاں تک کہ ہم دوپہر کے وقت (نَحْرِ الظہیرۃ: یعنی دوپہر کے وقت۔ جب سورج آسمان کے وسط میں ہوتا ہے۔ مؤغرین اور کہا جاتا ہے اور غر الرجل: یعنی فلاں آدمی اس وقت میں داخل ہوا۔
(النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 5 صفحہ 209۔) لشکر سے آ ملے، جب انھوں نے دوپہر کا پڑاؤ کیا۔)
سو جس نے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہو گیا اور بہتان تراش عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ ہم مدینہ آ گئے۔ جب میں گھر پہنچی تو مجھے ایک مہینے تک سخت بخار ہو گیا اور لوگ بہتان تراشوں کی افواہوں کے متعلق رائے زنی کرتے۔ مجھے اس کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا۔ البتہ مجھے جو چیز کھلتی تھی وہ یہ کہ میں اپنی بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ لطف و کرم نہ دیکھ پاتی، جو میں اس سے پہلے اپنی بیماری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پاتی۔ اب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کرتے پھر فرماتے: ’’تم کیسی ہو؟‘‘ کیف تیکم؟ یہ مونث کے لیے اسم اشارہ ہے۔
(شرح مسلم للنووی: جلد 17 صفحہ 106۔ مقدمۃ فتح الباری لابن حجر: صفحہ 94۔)
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے جاتے۔ اس بات سے مجھے شبہ ہوتا۔ لیکن مجھے شرارت کے متعلق کچھ معلوم نہ تھا۔ ایک دن میں قدرے افاقے کے بعد ام مسطح کے ساتھ مناصع (مناصع: مدینہ کے مضافات میں کھلی جگہ جہاں لوگ قضائے حاجت کے لیے جاتے تھے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 5 صفحہ 65۔) جو ہمارے لیے قضائے حاجت کا میدان تھا، کی طرف گئی، ہم صرف راتوں رات ہی گھر سے باہر نکلتی تھیں اور یہ واقعہ ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلاء بنانے سے پہلے کا ہے اور ہم پہلے عربوں کی طرح قضائے حاجت کے لیے باہر جاتی تھیں۔ ہمیں اپنے گھروں کے پاس بیت الخلاء بنانے سے گھن آتی تھی۔ تو میں ام مسطح کے ساتھ باہر نکلی جو ابو رہم بن عبد مناف کی بیٹی تھی اور اس کی والدہ سیدنا ابوبکر صدیق کی خالہ تھیں جو صخر بن عامر کی بیٹی تھیں اور ان کے بیٹے کا نام مسطح بن اثاثہ تھا۔ میں اور ام مسطح اپنی حاجت سے فارغ ہو کر میرے گھر کی جانب آ رہی تھیں تو ام مسطح کو اس کی چادر سے اڑنچھو لگ گیا۔ اس نے بے ساختہ کہا: مسطح ہلاک ہو جائے۔ میں نے اسے کہا تو نے نامناسب بات کی، کیا تم اس نوجوان کو گالی دیتی ہو جو بدر میں شامل تھا؟ اس نے کہا: اے بھولی بھالی لڑکی! (ہنتاہ: یعنی اے لڑکی۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 5 صفحہ 280۔) کیا تم نے نہیں سنا جو اس نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: اور اس نے کیا کہا؟ تب اس نے مجھے بہتان تراشوں کی بات بتائی۔ نتیجتاً میری بیماری کے ساتھ ایک اور بیماری کا اضافہ ہو گیا۔ جب میں واپس اپنے گھر پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے اور سلام کیا۔ پھر حسب معمول فرمایا تو کیسی ہے؟ میں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیں گے۔
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: میں اس وقت چاہتی تھی کہ اپنے والدین کے پاس جا کر ان دونوں سے اس خبر کا یقین کروں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، میں اپنے ماں باپ کے پاس آ گئی تو میں نے اپنی امی سے کہا: اے امی جان! لوگ کیسی باتیں کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا: اے میری بیٹی! تم اپنے اوپر بوجھ نہ ڈالو۔ کیونکہ اللہ کی قسم! جب کوئی عورت خوبصورت ہو اور اس کا خاوند اس سے محبت بھی کرتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں تو کم ہی ہوتا ہے کہ وہ اس کے متعلق کثرت سے باتیں نہ کریں۔
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا : میں نے کہا: سبحان اللہ! کیا واقعی لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں؟
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا! میں رات بھر روتی رہی جب صبح ہوئی نہ تو میرے آنسو تھمے اور نہ ہی میں نے پلکیں جھپکائیں اور صبح بھی میں نے روتے ہوئے کی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کو بلا بھیجا جب وحی منقطع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے اپنی بیوی کی جدائی کے متعلق مشورہ کرنا چاہتے تھے۔
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: اسامہ بن زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کی برأت کا اشارہ کیا اور ان کے لیے اپنی دلی محبت کا اظہار کیا۔ اس نے کہا: اے رسول اللہ! آپ کی بیوی کے بارے میں ہم بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔ البتہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں ڈالی اور اس کے علاوہ اور عورتیں بہت ہیں۔ اگر آپ خادمہ سے پوچھ لیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچ سچ بتا دے گی۔
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے بریرہ! کیا تو نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جس نے تجھے شک میں ڈالا ہو۔‘‘ بریرہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں نے ان میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جس کی وجہ سے میں ان پر عیب لگاؤں۔
(اغمصہ علیہا: کہ میں اس کے ذریعے اس پر عیب لگاؤں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن اثیر: جلد 3 صفحہ 386۔)
میں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتی ہوں کہ وہ نوعمر لڑکی ہیں، اپنے گھر والوں کے گوندھے ہوئے آٹے سے بے خبر سو جاتی ہے اور بکری آکر وہ کھا جاتی ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی بن سلول کے خلاف مدد طلب کی۔
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: ’’اے مسلمانو! اس آدمی سے کون مجھے راحت پہنچائے گا جس نے میرے اہل بیت کے متعلق مجھے تکلیف پہنچائی؟ اللہ کی قسم! میں اپنی بیوی کے بارے میں بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتا اور لوگوں نے ایک آدمی کا نام لیا اس کے بارے میں بھی بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔ وہ جب بھی میری بیوی کے پاس گیا میرے ساتھ گیا۔ یہ سن کر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے جو بنو اوس کے سردار تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے خلاف میں آپﷺ کو راحت پہنچاؤں گا۔ اگر وہ اوس قبیلہ سے ہوا تو میں اس کی گردن کاٹوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائیوں کے قبیلہ خزرج سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جو حکم دیں گے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے۔ بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: خزرج کے سردار سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور وہ اس سے پہلے صالحین میں شمار ہوتے تھے لیکن انھیں عصبیت نے بھڑکا دیا۔ وہ سعد بن معاذ کو مخاطب کر کے کہنے لگے: تم جھوٹے ہو، عمر دینے والے اللہ کی قسم! تم نہ اسے قتل کرو گے اور نہ اسے قتل کرنے کی طاقت رکھتے ہو۔ یہ سن کر سعد بن معاذ کے چچا زاد اسید بن حضیر اٹھے اور سعد بن عبادہ کو مخاطب کر کے بولے: تم نے جھوٹ بولا، مجھے عمر دینے والے کی قسم! ہم اسے ضرور قتل کریں گے۔ کیونکہ تو منافق ہے اور منافقوں کا دفاع کرتا ہے۔ دونوں قبیلے انتقام کی آگ میں جلنے لگے۔ یعنی اوس اور خزرج۔ بلکہ انھوں نے قتال کا ارادہ بھی کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے مسلسل ان کو خاموش کرا رہے تھے۔ تاآنکہ وہ خاموش ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش ہو گئے۔
بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: میں دوسرے دن بھی روتی رہی نہ تو میرے آنسو کم ہوئے اور نہ میں نے نیند کے لیے پلکیں جھپکیں۔ بقول عائشہ رضی اللہ عنہا صبح ہوتے ہی میرے ماں باپ میرے پاس آئے۔ جبکہ میں دو راتیں اور ایک دن مسلسل روتی رہی، نہ میرے آنسو کم ہوئے اور نہ میں نے نیند کی وجہ سے پلک جھپکی۔ وہ دونوں یہ سمجھنے لگے کہ رونے کی وجہ سے میرا جگر چھلنی ہو جائے گا۔
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: جب وہ میرے پاس بیٹھے تھے اور میں رو رہی تھی تو ایک انصاری عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، میں نے اسے اجازت دے دی تو وہ بھی میرے ساتھ رونے لگی۔
بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: ہم ابھی اس حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو سلام کیا، پھر آپﷺ بیٹھ گئے۔
بقول عائشہ رضی اللہ عنہا جب سے یہ طوفان بدتمیزی اٹھا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے میرے پاس کبھی آ کر نہیں بیٹھے تھے اور ایک مہینہ گزر گیا میرے معاملے میں آپﷺ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔
بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھتے وقت تشہد پڑھا، پھر فرمایا: ’’اما بعد! اے عائشہ! مجھے تمہارے بارے میں یہ یہ خبریں پہنچی ہیں۔ اگر تم پاک دامن ہو تو اللہ تعالیٰ بھی ضرور تمہارے پاک دامن ہونے کا اعلان کرے گا اور اگر تم سے گناہ ہو گیا ہے تو تم اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کے سامنے توبہ کرو۔ کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کر لے پھر اللہ کے آگے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔‘‘
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو پوری کر لی تو میرے آنسو خشک (قلص: ختم ہو گئے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و لااثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 100۔) ہو گئے حتیٰ کہ مجھے ایک آنسو بھی نکلنے کا احساس تک نہ ہوا۔ میں نے اپنے ابا جان سے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا ان کو جواب دیں۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! مجھے تو پتا نہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں؟ تب میں نے اپنی امی سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیں۔ وہ کہنے لگیں: مجھے بھی پتا نہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں۔
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: میں نو عمر لڑکی تھی۔ میں بکثرت قرآن نہیں پڑھتی تھی۔ اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ آپ نے یہ گفتگو سنی تاآنکہ وہ آپ کے دلوں میں راسخ ہو گئی اور آپ نے اس کی تصدیق کر دی، اب اگر میں آپ سے یہ کہوں میں پاک دامن ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں پاک دامن ہوں تو آپ میری بات کی تصدیق نہیں کرو گے اور اگر میں آپ کے لیے اس معاملے کا اعتراف کر لوں حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ ضرور میری تصدیق کرو گے۔ اللہ کی قسم! مجھے تو آپ کی مثال ابو یوسف کی بات کی طرح لگتی ہے:
فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ وَاللّٰهُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ۞ (سورۃ يوسف آیت 18)
ترجمہ: اب تو میرے لیے صبر ہی بہتر ہے۔ اور جو باتیں تم بنا رہے ہو، ان پر اللہ ہی کی مدد درکار ہے۔
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا : پھر میں پلٹ کر اپنے بچھونے پر لیٹ گئی۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں اس وقت جانتی تھی کہ میں پاک دامن ہوں اور یقیناً اللہ تعالیٰ میری پاک دامنی کا اعلان کرے گا۔ لیکن اللہ کی قسم! میں نے یہ کبھی نہ سوچا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملے میں ایسی وحی نازل فرمائے گا جس کی تلاوت کی جائے گی اور میرے دل میں میری اتنی اہمیت نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسا کلام کرے گا جس کی تلاوت کی جائے گی۔ لیکن مجھے یہ امید ضرور تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند میں کوئی خواب دیکھیں گے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مجھے بری کر دے گا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک نہ اٹھے اور گھر والوں سے بھی کوئی باہر نہ گیا (ما رام: یعنی جدا نہ ہوئے۔ (فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 68۔)
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی شدت کرب (البرحاء: شدت کرب۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر: جلد 1 صفحہ 113۔) کے آثار دکھائی دینے لگے۔ یہاں تک کہ آپﷺ کی پیشانی سے چاندی کے بلبلے (الجمان: چھوٹے موتی یا چاندی کے بلبلے (جو موتیوں کی طرح ہوتے ہیں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 301۔) سے نمودار ہو گئے۔ جو آپﷺ کا پسینہ تھا حالانکہ اس دن نہایت سردی تھی۔ یہ اس وحی کا بوجھ تھا جو آپﷺ پر نازل ہوتی تھی۔
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے جو الفاظ ادا فرمائے وہ یہ تھے: ’’اے عائشہ! اللہ عزوجل نے تجھے بری کر دیا ہے۔‘‘ میری امی نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاؤ۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان کی طرف نہیں جاؤں گی اور اللہ عزوجل کے علاوہ کسی کی تعریف نہیں کروں گی۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل کی تھیں:
اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ لِكُلِّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ وَالَّذِىۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ مِنۡهُمۡ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا وَّقَالُوۡا هٰذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ۞ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡـكٰذِبُوۡنَ ۞ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمۡ فِىۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ اِذۡ تَلَـقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَـيۡسَ لَـكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ۞وَ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ قُلۡتُمۡ مَّا يَكُوۡنُ لَـنَاۤ اَنۡ نَّـتَكَلَّمَ بِهٰذَا سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ۞يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِمِثۡلِهٖۤ اَبَدًا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ۞وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 11 تا 20)
ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔ ان لوگوں میں سے ہر ایک کے حصے میں اپنے کیے کا گناہ آیا ہے۔ اور ان میں سے جس شخص نے اس (بہتان) کا بڑا حصہ اپنے سر لیا ہے اس کے لیے تو زبردست عذاب ہے۔ جس وقت تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومن مرد بھی اور مومن عورتیں بھی اپنے بارے میں نیک گمان رکھتے اور کہہ دیتے کہ یہ کھلم کھلا جھوٹ ہے؟ وہ (بہتان لگانے والے) اس بات پر چار گواہ کیوں نہیں لے آئے؟ اب جبکہ وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی وجہ سے تم پر اس وقت سخت عذاب آپڑتا۔جب تم اپنی زبانوں سے اس بات کو ایک دوسرے سے نقل کر رہے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا، اور تم اس بات کو معمولی سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی سنگین بات تھی۔اور جس وقت تم نے یہ بات سنی تھی، اسی وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ : ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم یہ بات منہ سے نکالیں، یا اللہ! آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، یہ تو بڑا زبردست بہتان ہے۔اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا، اگر واقعی تم مومن ہو۔اور اللہ تمہارے سامنے ہدایت کی باتیں صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال ہے اور اللہ بڑا شفیق بڑا مہربان ہے (تو تم بھی نہ بچتے)۔
جب اللہ عزوجل نے میری پاک دامنی میں یہ دس آیات نازل کیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے قرابت دار اور محتاج ہونے کی وجہ سے مسطح بن اثاثہ پر خرچ کرتے تھے۔ انھوں نے قسم اٹھا لی کہ اللہ کی قسم! میں اب کبھی مسطح پر ذرہ بھر خرچ نہیں کروں گا جبکہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو کہہ چکا سو کہہ چکا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل فرمایا:
وَلَا يَاۡتَلِ اُولُوا الۡـفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِى الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلۡيَـعۡفُوۡا وَلۡيَـصۡفَحُوۡا اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 22)
ترجمہ: اور تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں، وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، اور انہیں چاہیے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائیں بخش دے ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
یہ فرمان سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پکار اٹھے: اللہ کی قسم! کیوں نہیں۔ بے شک مجھے اللہ کی مغفرت محبوب ہے۔ انھوں نے مسطح کو وہ خرچ دوبارہ دینا شروع کر دیا جو اسے پہلے دیتے تھے اور انھوں نے اعلان کیا: اللہ کی قسم! میں اس سے یہ کبھی نہیں روکوں گا۔
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے میرے متعلق پوچھا کرتے: اے زینب! تمھیں معلوم ہے یا کیا تم دیکھ چکی ہو؟ اس نے کہا: اے رسول اللہ! میں اپنی سماعت اور بصارت کو محفوظ رکھوں گی۔ (احمی سمعی و بصری: کہ میں ان دونوں حواس کی طرف وہ کچھ منسوب نہ کروں گی جس کا انھیں ادراک نہیں اور اگر میں نے ان کے متعلق جھوٹ بول دیا تو ان کا عذاب سے بھی دفاع کروں گی۔
(النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 405)
مجھے سوائے بھلائی کے کچھ معلوم نہیں۔
بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: اور وہی فخر و مباہات (تسامینی: یعنی مفاخرت اور علو شان۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 405) میں میرا مقابلہ کرتی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے ورع کے سبب بچا لیا اور اس کی بہن حمنہ رضی اللہ عنہا بہتان لگانے والوں کے ساتھ برباد ہو گئی۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4750۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2770)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے تاقیامت مسلمانوں کی مساجد و محراب میں تلاوت کی جانے والی آیات ہماری پیاری ماں کی پاک دامنی کے سلسلے میں نازل فرما دیں۔ ان الزامات سے بری کرنے کے لیے جو بہتان تراشوں اور کج روؤں نے صدیقہ کائنات رضی اللہ عنہا پر لگائے تھے۔ نیز ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل و محبوب پیغمبر کو اذیت پہنچانے والوں پر اپنے غیض و غضب کا اظہار بھی کیا اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو پر داغ لگانے والوں پر غیرت کھاتے ہوئے اور اہل ایمان کی تربیت و تادیب کے لیے ایسی وضاحت و صراحت کر دی جس سے دلوں پر سخت وعید کی وجہ سے ہول طاری ہو جاتا ہے اور جس ظالم نے یہ سازشی منصوبہ بنایا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور کی گیارہ تا چھبیس آیات جن کی تعداد سولہ (۱۶)بنتی ہے، یعنی اِنَّ الَّذِیْنَ جَاؤا تا رِزْقٌ کَرِیْمٌ تک نازل فرمائی:
اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ لِكُلِّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ وَالَّذِىۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ مِنۡهُمۡ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا وَّقَالُوۡا هٰذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ۞ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡـكٰذِبُوۡنَ ۞ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمۡ فِىۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ اِذۡ تَلَـقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَـيۡسَ لَـكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ۞وَ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ قُلۡتُمۡ مَّا يَكُوۡنُ لَـنَاۤ اَنۡ نَّـتَكَلَّمَ بِهٰذَا سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ۞يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِمِثۡلِهٖۤ اَبَدًا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ۞وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ وَمَنۡ يَّتَّبِعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ يَاۡمُرُ بِالۡـفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡكَرِ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا وَّلٰـكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّىۡ مَنۡ يَّشَآءُ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞وَلَا يَاۡتَلِ اُولُوا الۡـفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِى الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلۡيَـعۡفُوۡا وَلۡيَـصۡفَحُوۡا اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ لُعِنُوۡا فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَـتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞ يَوۡمَئِذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَـقَّ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَـقُّ الۡمُبِيۡنُ ۞ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِوَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ۞
ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔ ان لوگوں میں سے ہر ایک کے حصے میں اپنے کیے کا گناہ آیا ہے۔ اور ان میں سے جس شخص نے اس (بہتان) کا بڑا حصہ اپنے سر لیا ہے اس کے لیے تو زبردست عذاب ہے۔ جس وقت تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومن مرد بھی اور مومن عورتیں بھی اپنے بارے میں نیک گمان رکھتے اور کہہ دیتے کہ یہ کھلم کھلا جھوٹ ہے؟ وہ (بہتان لگانے والے) اس بات پر چار گواہ کیوں نہیں لے آئے؟ اب جبکہ وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جن باتوں میں تم پڑ گئے تھے ان کی وجہ سے تم پر اس وقت سخت عذاب آپڑتا۔جب تم اپنی زبانوں سے اس بات کو ایک دوسرے سے نقل کر رہے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا، اور تم اس بات کو معمولی سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی سنگین بات تھی۔ اور جس وقت تم نے یہ بات سنی تھی، اسی وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ: ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم یہ بات منہ سے نکالیں، یا اللہ! آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، یہ تو بڑا زبردست بہتان ہے۔ اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا، اگر واقعی تم مومن ہو۔ اور اللہ تمہارے سامنے ہدایت کی باتیں صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال ہے اور اللہ بڑا شفیق بڑا مہربان ہے (تو تم بھی نہ بچتے)۔ اے ایمان والو! تم شیطان کے پیچھے نہ چلو، اور اگر کوئی شخص شیطان کے پیچھے چلے، تو شیطان تو ہمیشہ بےحیائی اور بدی کی تلقین کرے گا۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک صاف نہ ہوتا، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے پاک صاف کر دیتا ہے۔ اور اللہ ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے۔ اور تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں، وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، اور انہیں چاہیے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائیں بخش دے؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ یاد رکھو کہ جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی مسلمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں پھٹکار پڑچکی ہے، اور ان کو اس دن زبردست عذاب ہوگا۔جس دن خود ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کرتوت کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے رہے ہیں۔اس دن اللہ ان کو وہ بدلہ پورا پورا دیدے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور ان کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے، اور وہی ساری بات کھول دینے والا ہے۔ گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہیں، اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق۔ اور پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لائق ہیں، اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لائق۔ یہ (پاکباز مرد اور عورتیں) ان باتوں سے بالکل مبرا ہیں جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ ان (پاکبازوں) کے حصے میں تو مغفرت ہے اور باعزت رزق۔
جبکہ ہماری امی نے عربوں کی عادت کے مطابق دس آیات کہیں، اسے علمائے لغت ’’الغاء الکسر‘‘ کا قاعدہ کہتے ہیں۔ (عرب دو دہائیوں کے درمیان والے اعداد کو گنتی میں شامل نہیں کرتے۔ ظفر)
(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 477)