واقعہ افک اور اس کے متعلق اہم نکات کی تفاصیل - دفاعِ اہلِ…

واقعہ افک اور اس کے متعلق اہم نکات کی تفاصیل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 6

پہلا مطلب: واقعہ افک ہے کیا؟

کتب احادیث صحیحہ سے ماخوذ واقعہ افک کا متن درج ذیل ہے:

ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص، عبیداللہ بن عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث روایت کی کہ جب بہتان لگانے والوں نے ان کی شان میں جو کہا سو کہا۔ تب اللہ تعالیٰ نے انھیں، لوگوں کے الزامات سے بری کر دیا۔

درج بالا تمام راویوں میں سے ہر ایک نے حدیث کا کچھ متن روایت کیا ہے۔ وہ ایک دوسرے کی بیان کردہ روایات کی تصدیق کرتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کچھ راوی دوسروں کی نسبت زیادہ یاد کرنے والے تھے، جو حدیث عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب روانگی (سفر) کا ارادہ کرتے اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ ان میں سے جس کے نام کا قرعہ نکل آتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنا ہم سفر بنا لیتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے درمیان قرعہ ڈالا۔ میرے نام کا قرعہ نکلا۔ چونکہ میں حکم حجاب نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئی۔ میں اپنی پالکی یعنی کجاوے میں سوار ہوتی اور اس میں پڑاؤ کرتی۔ ہم چل پڑے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ سے فارغ ہوئے تو واپس ہو لیے اور ہم واپسی کے سفر میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے۔ ایک رات سفر شروع کرنے کا اعلان ہو گیا تو میں اعلان سن کر اٹھی اور لشکر گاہ سے باہر آ گئی۔ جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوئی تو لشکر گاہ کی جانب متوجہ ہوئی، تب مجھے پتا چلا کہ یمنی گھونگھوں (جزع ظفار: الجزع یمنی گھونگے۔ ظفار: یمن کا ایک ساحلی شہر ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 269۔) فتح الباری لابن حجر: جلد 1 صفحہ 151) سے بنا ہوا میرا ہار نہیں ہے۔ لہٰذا میں اپنا ہار تلاش کرنے لگی اور اس کی تلاش نے مجھے روک لیا اور وہ گروہ آ گیا جو مجھے سوار کراتے اور اتارتے (یَرْحَلُوْنَ: یعنی جو کجاوہ اور پالان وغیرہ اونٹ پر رکھتے۔ (شرح مسلم للنووی: جلد 17 صفحہ 104۔)

تو انھوں نے میری پالکی اٹھائی اور میرے اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوتی تھی۔ ان کے خیال کے مطابق میں پالکی میں تھی۔ اس وقت عورتیں دبلی پتلی ہوتی تھیں۔ انھیں گوشت وزنی نہ کرتا کیونکہ وہ بقدر ضرورت کھانا (اَلْعُلْقَۃَ: مناسب سا کھانا اور ایک قول کے مطابق جس سے گزارا ہو جائے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 3 صفحہ 290۔ الفائق للزمخشری: جلد 2 صفحہ 262۔) کھاتی تھیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے جب پالکی اٹھائی تو اس کے خفیف ہونے پر انھیں کوئی تعجب نہ ہوا۔ میں اس وقت نوعمر لڑکی تھی۔ انھوں نے اونٹ اٹھایا اور قافلہ چل پڑا۔ لشکر لشکر گاہ سے نکل گیا، اب جب میں پڑاؤ والی جگہ پر آئی تومجھے اپنا ہار مل گیا۔ وہاں نہ کوئی پکارنے والا تھا اور نہ کوئی پکار سننے والا تھا۔ میں نے سوچا کہ جب انھیں میرے نہ ہونے کا پتا چلے گا تو وہ ضرور میرے پاس لوٹ آئیں گے۔ جونہی میں اپنے خیمے والی جگہ بیٹھی مجھ پر نیند کا غلبہ ہو گیا اور میں سو گئی۔ صفوان بن معطل سلمی ذکوانی لشکر کے پیچھے رہ کر خبری گیری کرتے تھے، وہ رات (اَدْلَج: رات کے ابتدائی حصے میں سفر شروع کرنا۔

(النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 129) کی ابتدا میں چلے تو صبح کے قریب میرے خیمے والی جگہ پہنچے، انھیں ایک سوئے ہوئے انسان کا ہیولا نظر آیا۔ وہ میری طرف آئے اور جب مجھے دیکھا تو پہچان لیا۔ چونکہ وہ حکم حجاب کے نزول سے پہلے مجھے دیکھ چکے تھے۔ انھوں نے جب مجھے پہچانا تو اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہا۔ میں اس کے استرجاع کی آواز سن کر بیدار ہو گئی۔ میں نے اپنی چادر کے ساتھ اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور اللہ کی قسم! اس نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے اس کے استرجاع کے علاوہ اس کا کوئی لفظ سنا۔ بالآخر اس نے اپنی سواری بٹھائی اور اس کے اگلے پاؤں پر اس نے اپنا پاؤں رکھا، میں اس پر سوار ہو گئی۔ وہ سواری کی مہار پکڑ کر آگے آگے چل دیا۔ یہاں تک کہ ہم دوپہر کے وقت (نَحْرِ الظہیرۃ: یعنی دوپہر کے وقت۔ جب سورج آسمان کے وسط میں ہوتا ہے۔ مؤغرین اور کہا جاتا ہے اور غر الرجل: یعنی فلاں آدمی اس وقت میں داخل ہوا۔

(النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 5 صفحہ 209۔) لشکر سے آ ملے، جب انھوں نے دوپہر کا پڑاؤ کیا۔)

سو جس نے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہو گیا اور بہتان تراش عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ ہم مدینہ آ گئے۔ جب میں گھر پہنچی تو مجھے ایک مہینے تک سخت بخار ہو گیا اور لوگ بہتان تراشوں کی افواہوں کے متعلق رائے زنی کرتے۔ مجھے اس کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا۔ البتہ مجھے جو چیز کھلتی تھی وہ یہ کہ میں اپنی بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ لطف و کرم نہ دیکھ پاتی، جو میں اس سے پہلے اپنی بیماری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پاتی۔ اب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کرتے پھر فرماتے: ’’تم کیسی ہو؟‘‘ کیف تیکم؟ یہ مونث کے لیے اسم اشارہ ہے۔

(شرح مسلم للنووی: جلد 17 صفحہ 106۔ مقدمۃ فتح الباری لابن حجر: صفحہ 94۔)

صفحہ 1 از 6