امر دوم: کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ خلیفہ بلا فصل…

امر دوم: کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ خلیفہ بلا فصل تھے؟

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 2

ہم علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی عظمتِ شان اور رفعت قدر کے قائل ہیں بیشک آپ صہر النبیﷺ ابنِ عمِ رسولﷺ والد حسنین کریمین رضی اللہ عنہما، زوجِ زہرا رضی اللہ عنہا، باب العلم، خلیفہ رابع تھے اور آپؓ کے مناقب و فضائل کا احصار نہیں ہو سکتا لیکن یہ دعویٰ کہ خلافت آپؓ ہی کا حق تھا اور آپؓ خلیفہ بلافصل تھے، عقل و نقل کے خلاف ہے اور اس دعویٰ کے بطلان پر ہم چند ایسے دلائل پیش کرتے ہیں کہ اُن کے ماننے سے کسی ذی فہم منصف شخص کو انکار نہیں ہو سکتا۔

پہلی دلیل:

آیت استخلاف سے ثابت ہو چکا ہے کہ خلافتِ خلفاء حسبِ وعدہ ایزد متعال عمل میں آئی۔ جب قرآن اس بات پر ناطق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں سے وعدہ فرمایا تھا کہ ہم ان کو ضرور خلیفہ بنائیں گے۔ جیسے بنی اسرائیل میں خلیفہ گزر چکے ہیں تو پھر ناممکن تھا کہ منشاء ایزدی وعدہ الہٰی کے خلاف خلافت موعودہ سے کوئی غیر مستحق مستفید ہو جاتا اور جس سے وعدہ کیا گیا ہے وہ محروم رہ جاتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں میں تخلف نہیں ہے اور خدا تعالیٰ سے کوئی شخص غالب نہیں ہو سکتا کہ اس کے خلاف منشاء اس کا موعود انعام زبردستی چھین لے۔ اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے وہ سب سے زبردست جبار و قہار ہے۔ کون ہے جو اس کے ارادوں میں خلل انداز ہو يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ 

(سورۃ آلِ عمران: آیت 40)

اور فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ 

(سورۃ ہود: آیت 107) 

اُس کی مانی ہوئی اوصاف ہیں اس لیے ماننا پڑے گا کہ اس کو ایسا ہی منظور تھا جیسا کہ وقوع میں آیا کہ خلافت کا منصب جلیل رسولِ اکرمﷺ کے جلیلُ القدر اصحابِ اربعہؓ کو ایسی ترتیب سے ملے جو عمل میں آئی۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خلافت کے مستحق یہی چار اصحاب تھے ان کی خدمات اسلام میں بیش از بیش تھیں اور دیگر اصحاب پر اُن کو ہر طرح سے ترجیح تھی۔ اگر یہ ترتیب قائم نہ رہتی تو ان سب کو اس کا انعام سے حصہ ملنا مشکل تھا کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے فوت ہو جانا تھا اگر باقی خلفاء سے کوئی شخص خلیفہ ہو جاتا تو اُن کو خلافت نہ مل سکتی اور اگر حضرت عثمانؓ یا حضرت علیؓ میں سے کوئی شخص پہلے خلیفہ ہوتا تو حضرت عمر فاروقؓ کی عمر چونکہ اُن سے پہلے ختم ہو جانے والی تھی وہ محروم رہ جاتے اور اگر حضرت عثمانِ غنیؓ سے اول حضرت علی المرتضیٰؓ خلافت حاصل کر لیتے تو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی زندگی پہلے ختم ہو جانے کی وجہ سے وہ بہرہ ور نہ ہو سکتے اس لیے اللہ تعالیٰ علیم و خبیر نے اپنے وعدہ کیے ہوئے انعام کو اس طرح تقسیم فرمایا کہ ہر چہار اصحابِ رسولﷺ اس سے بہرہ یاب ہو گئے سُبْحَانَ الله فِعْلُ الْحَكِيمِ لَا يَخْلُو عَنِ الْحِكْمَةِ۔ اللہ تعالیٰ کے کام حکمت سے خالی نہیں ہوتے۔

دوسری دلیل:

اگر رسولِ اکرمﷺ کی وفات کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ منصبِ خلافت پر جاگزیں ہو جاتے تو مخالفینِ اسلام (کفار) کو یہ طعن کرنے کا موقعہ تھا کہ پیغمبرﷺ نے یہ سارا کام کنبہ کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنا رکھا تھا کہ زندگی میں خود حکومت کی اور مرنے کے بعد اپنے چچا زاد بھائی اپنے داماد کو یہ اعزاز بخش دیا کہ ان کی دخترِ بلند اختر (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) اور ان کے نواسے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما چین سے زندگی بسر کریں۔ پھر کفار کے اس اعتراض کا کوئی جواب یہ نہ ہو سکتا اور اسلام پاک کے ذمے ہمیشہ کے لیے یہ طعن باقی رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ حق تعالیٰ جو اسلام پاک کا ہمیشہ کے لیے ناصر و محافظ تھا اس نے اپنی قدرتِ کاملہ سے انتظامِ خلافت کا کام اپنے ہاتھ میں لے لیا اور خلافت کی ترتیب اس طرح اختیار فرمائی کہ کسی دشمنِ اسلام کو کوئی گنجائش اعتراض کرنے کی نہ رہی۔ کیونکہ اگر امرِ خلافت (نیابتِ رسولﷺ) موروثی ہوتی تو سب سے زیادہ مستحق حضرت عباس عمِ رسول اللہﷺ تھے۔ اُن کو خلافت نہ ملی۔ پھر زیادہ قرابت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے تھی اُن کو بھی سب سے اخیر میں حصہ ملا بلکہ رب العباد نے یہ کام خود مسلمانوں کے سپرد فرما دیا کہ جس کو وہ مستحق سمجھیں خلیفہ بنالیں۔ چنانچہ مجلسِ شوریٰ نے انتخابِ خلیفہ باتفاق رائے کیا ثم، فثم، فثم۔

تیسری دلیل:

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اس بارہ میں خود فیصلہ فرما دیا:

إِنَّمَا الشورىٰ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى رَجُلٍ وَسَمَّوهُ إِمَامًا كَانَ ذَلِكَ اللَّهُ رضِی۔

ترجمہ: انتخابِ خلافت کا کام مجلسِ شوریٰ مہاجرین وانصار کے ہاتھ میں ہے جس کو وہ خلیفہ منتخب کر لیں اللہ تعالیٰ کو بھی وہی منظور ہے۔

اور یہ مسلم الطرفین ہے کہ خلیفہ اول حضرت صدیقِ اکبرؓ کا انتخاب مجلسِ شوریٰ مہاجرین و انصار کے اجتماع سے عمل میں آیا اور جب اس کو سیدنا علی المرتضیٰؓ حق بجانب سمجھتے ہیں تو بقول شخصے مدعی ست و گواہ چست شیعہ کا امیر رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے خلاف شور و غل کرنا بے فائدہ ہے۔

چوتھی دلیل:

اگر سیدنا علی المرتضیٰؓ کو یہ فیصلہ منظور نہ ہوتا اور وہ خلافت اپنا حق تصور فرماتے تو وہ کبھی خاموش نہ بیٹھتے بلکہ مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے۔ آپؓ کی شجاعت مسلّم تھی۔ آپؓ کی ذوالفقار غضب ڈھاتی تھی۔ آدمی تو آدمی بقول شیعہ دیو اور جن بھی اس کے سایہ سے کانپتے تھے اور چونکہ آپؓ ابنِ عمِ رسولﷺ اور صہر النبیﷺ تھے۔ مسلمان بھی ان کی حق تلفی پسند نہ کرتے اور قتل و قتال کی نوبت آ جاتی تو جمہور المسلیمن آپؓ کا ساتھ دیتے اور نہیں تو بنی باشم تو سب آپ کے ساتھ تھے ہی آپؓ کو غاصبین خلافت پر تلوار اٹھانی واجب تھی اور اگر راستی پر ہوتے تو نصرتِ الہیٰ آپ کے شامل ہوتی اور بحکمِ کَمۡ مِّنۡ فِئَةٍ قَلِيۡلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةً کَثِيۡرَةً بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 249)

صفحہ 1 از 2