فصل:....راضی بہ رضا رہنے پر رافضی کا اعتراض اور اس کا جواب…

فصل:....راضی بہ رضا رہنے پر رافضی کا اعتراض اور اس کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

فصل:....راضی بہ رضا رہنے پر رافضی کا اعتراض اور اس کا جواب 

’’رب تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی رہنے‘‘ پر رافضی کا کلام اور اس کا ردّ۔

[شبہ ]یہ امامی قدری کہتا ہے: اور ایک بات یہ ہے کہ ’’اس سے رب تعالیٰ کی قضا پر ناراض ہونا لازم آتا ہے حالانکہ قضائے الٰہی پر راضی رہنا واجب ہے۔ لہٰذا اگر تو کفر رب کی قضاء و قدر سے ہے تو ہم پر واجب ہے کہ اس پر راضی رہیں ۔لیکن کفر پر رضا جائز نہیں ۔‘‘

[جواب ]: اس کے متعدد جوابات ہیں :

اوّل یہ کہ بے شمار اہل اثبات کا جواب یہ ہے کہ ہم یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ رب تعالیٰ کی جملہ مقتضیات پر راضی رہنا واجب ہے کیونکہ اس کے وجوب پر کوئی دلیل نہیں ۔

علما کا مرض، فقر، اور ذلت پر راضی رہنے میں اختلا ہے کہ آیا یہ مستحب ہے یا واجب؟ امام احمد وغیرہ کے اس بارے دو اقوال ہیں ۔ جبکہ اکثر علماء کا قول ہے کہ مرض وغیرہ پر راضی رہنا مستحب ہے نا کہ واجب۔ کیونکہ رب تعالیٰ نے اہل رضا کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے:

﴿رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ﴾ (البینۃ: ۸)

’’اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے۔‘‘

ہاں ! اللہ نے جو واجب کیا ہے، وہ صبر ہے۔ جس کا رب تعالیٰ نے متعدد آیات میں حکم دیا ہے۔ جبکہ مقدور پر راضی رہنے کا حکم نہیں دیا۔ ہاں مشروع رضا کا حکم دیا ہے۔

سو مامور بہ پر رضا واجب ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

﴿وَ لَوْ اَنَّہُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَ رَسُوْلُہٗٓ اِنَّآ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ﴾ (التوبۃ: ۵۹)

’’اور کاش کہ واقعی وہ اس پر راضی ہو جاتے جو انھیں اللہ اور اس کے رسول نے دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے، جلد ہی اللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی۔ بے شک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں ۔‘‘

جبکہ دوسرا قول رضا کے وجوب کا ہے کیونکہ یہ رب تعالیٰ کے رب ہونے پر راضی ہونا؛ اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہونے کی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہونے کی تمامیت میں سے ہے، کیونکہ ایک روایت میں آتا ہے: ’’جو میری قضاء پر راضی نہ ہو، اور میری آزمائش پر صبر نہ کرے تو میرے سوا کسی اور کورب بنا لے۔‘‘لیکن اس سے بھی حجت قائم نہیں ہوتی، کیونکہ رب تعالیٰ سے اس کا ثبوت معروف نہیں ۔

رہا اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر راضی ہونا اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہونا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہونا۔ تو یہ واجب ہے اور یہ وہ رضا ہے جس پر کتاب و سنت کی دلالت ہے۔

رہا رب تعالیٰ کی جملہ مخلوقات اور تقدیر پر راضی رہنا تو کتاب و سنت کی اس پر کوئی دلالت نہیں اور نہ اسلاف میں سے کسی کا بہ قول ہے۔ بلکہ اللہ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ وہ متعدد امور پر راضی نہیں حالانکہ وہ امور اسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں ۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

﴿وَلَا یَرْضَی لِعِبَادِہٖ الْکُفْرَ﴾ (الزمر: ۷)

’’اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا۔‘‘

اور فرمایا:

﴿اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ﴾ (النسآء: ۱۰۸)

’’جب وہ رات کو اس بات کا مشورہ کرتے ہیں جسے وہ پسند نہیں کرتا۔‘‘

ہم نے ایک مستقل کتاب میں رضا بالقضا کی بابت مفصل کلام کیا ہے اور بتلایا ہے کہ اس باب میں لوگ کیونکر مختلف فرقوں میں بٹ گے۔ سو ایک فرقہ یہ گمان کرنے لگا کہ وہ رب تعالیٰ کی حام کردہ باتوں پر اس لیے راضی ہیں کیونکہ یہ اللہ کی قضا ہے اور ایک فرقہ رب تعالیٰ کی قضاء و قدر کا اس لیے منکر ہو گیا کیونکہ اس سے اس پر راضی ہونا لازم آتا ہے اور ان فرقوں کی بنا اس بات پر تھی کہ رب تعالیٰ کی جملہ مخلوقات پر رضا مامور بہ ہے۔ حالانکہ بات یوں نہیں ۔ بلکہ رب تعالیٰ بے شمار حوادث سے محبت یا بغض یا ناراضی رکھتا ہے اور ہم کو بھی اللہ نے ان امور سے بغض و ناگواری رکھنے کا حکم دیا ہے۔

دوم : یہ کہا جائے کہ رب تعالیٰ جن باتوں پر خود راضی ہے ان سے راضی ہونا مشروع ہے۔ اب اللہ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ وہ فساد اور کفر کو پسند نہیں کرتا اور اسی طرح راتوں کی خفیہ سازشانہ سرگوشیوں کو بھی پسند نہیں فرماتا اور یہ بات بندوں کے اقوال میں بھی موجود ہے اور اللہ نے بھی خبر دی ہے کہ وہ ان باتوں کو پسند نہیں فرماتا تو جب ایک بات سے وہ خود راضی نہیں ، اس سے راضی رہنے کا حکم وہ اپنے بندوں کو کیونکر دے سکتا ہے؟ بلکہ یہ بات واجب ہے کہ جن باتوں سے اللہ ناراض ہے اور انہیں ناپسند فرماتا ہے، بندے بھی ان باتوں سے ناراض ہوں اور انہیں ناپسند کریں اور جن باتوں پر اللہ راضی ہے بندے بھی ان باتوں پر راضی ہوں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ اتَّبَعُوْا مَا اَسْخَطَ اللّٰہَ وَکَرِہُوا رِضْوَانَہٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَہُمْ﴾ (محمد: ۲۸)

’’یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جس نے اللہ کو ناراض کر دیا اور اس کی خوشنودی کو برا جانا تو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔‘‘

سو رب تعالیٰ نے اس آیت میں ان لوگوں کی مذمت بیان کی ہے جو اس کی ناراضیوں پر چلتے ہیں اور اس کی رضاسے کتراتے ہیں اور ان کی مذمت بیان نہیں کی جو اس کی ناراضیوں کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کی رضا پر چلتے ہیں ۔

جب یہ کہا جائے گا کہ بھلا رب تعالیٰ اپنی قدر و قضا پر کیونکر ناراض ہو سکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں وہ ایسا کر سکتا ہے جیسا کہ گزشتہ میں بیان ہوا۔جبکہ اکثر کے طریق پر اس لیے کہ مقضی ایسی شی ہے جو اس نے بنائی ہے اور ان کے نزدیک بغض یہ ارادہ کے مغایر ہے۔

صفحہ 1 از 4