حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک قرآن کی عظمت و اہمیت
علی محمد محمد الصلابیسیدنا علیؓ نے تلاوت، حفظ، فہم اور عمل کے ذریعہ سے قرآن کے سائے میں اپنی زندگی گزاری اور کہتے تھے:
’’جس نے قرآن پڑھا، پھر مر گیا اور جہنم میں داخل کیا گیا تو یہ اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے والوں میں سے تھا۔‘‘
(المستطرف: جلد 1 صفحہ 29، فرائد الکلام: صفحہ 375)
اور کہتے تھے:
’’قرآن پڑھنے والوں کے لیے بشارت ہے، یہ لوگ اللہ کے رسولﷺ کی نگاہ میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔‘‘
(التبیان فی آداب حملۃ القرآن: صفحہ 146، فرائد الکلام: صفحہ 390)۔
اور فرمایا کرتے تھے:
’’میرے خیال میں وہ شخص عقل مند نہیں ہے، جو سورۂ بقرہ کی آخری کی تین آیات کی تلاوت کیے بغیر سو جائے۔‘‘
(التبیان فی آداب حملۃ القرآن: صفحہ 266)۔
حضرت علیؓ نے قرآن کی اہمیت اور اس کی عظمت و فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں تم سے پہلے لوگوں کی تاریخ ہے اور تمھارے بعد کے لوگوں کی خبریں ہیں، وہ تمھارے مسائل کا حل ہے، وہ برحق ہے، کھلواڑ نہیں ہے، جو ظالم اسے چھوڑے گا اللہ اسے توڑے گا، اور جو اس کے علاوہ دوسری چیز میں ہدایت تلاش کرے گا، اللہ اسے گمراہ کرے گا، وہ مضبوط رسی ہے، حکمتوں سے پُر نصیحت کی کتاب ہے وہی صراط مستقیم ہے، وہ ایسی کتاب ہے جس پر عمل کرکے خواہشات بہک نہیں سکتیں اور نہ ہی دوسری زبانیں اس سے خلط ملط ہوسکتی ہیں، اس کے عجائبات و معجزات کی انتہا نہیں اور علماء اس سے آسودہ نہیں ہوسکتے، جس نے اس کے حوالہ سے کچھ کہا، اس نے سچ کہا اور جس نے اس پر عمل کیا وہ ثواب سے نوازا گیا اورجس نے اس کی طرف دعوت دی وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا۔‘‘
(فضائل القرآن: ابن کثیر: صفحہ 15 و موقف علی امیر المؤمنین علی۔)
قرآن کریم کے کثرت اہتمام سے قرآن اور علوم قرآن پر آپ کو عبور حاصل تھا، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ آپؓ نے فرمایا:
’’اللہ کی قسم کوئی بھی آیت نازل ہوئی تو مجھے اس کے بارے میں علم رہا کہ یہ آیت کس کے بارے میں کہاں اور کس پر نازل ہوئی، میرے رب نے مجھے کافی حساس دل اور سچ بولنے والی زبان سے نوازا ہے۔‘‘
(طبقات ابن سعد: جلد 2 صفحہ 338، تاریخ الخلفائ: السیوطی: صفحہ 152)۔
ایک مرتبہ آپ نے فرمایا:
’’مجھ سے اللہ کی کتاب کے بارے میں پوچھ لیا کرو، اس لیے کہ میں تمام آیات کے بارے میں جانتا ہوں کہ کون سی دن میں نازل ہوئیں اور کون سی رات میں کون سی پہاڑ پر اتریں اور کون سی ہموار زمین پر۔‘‘
(الصواعق المحرقۃ: جلد 2 صفحہ 375، طبقات ابن سعد: جلد 2 صفحہ 338)۔
علامہ ابن عبدالبر کا خیال ہے کہ حضرت علیؓ ان لوگوں میں سے ایک تھے، جنھوں نے رسول اللہﷺ کی زندگی ہی میں قرآن کو حفظ کیا تھا۔
(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1130)
حضرت علیؓ نے زندگی کے آخری ایام میں فرمایا:
’’قرآن کے بارے میں جو پوچھنا ہو پوچھ لو، اس سے قبل کہ میں تم میں زندہ نہ رہوں۔‘‘
(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 57، 58)۔
آپ نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب کہ اکثر علما صحابہ وفات پاچکے تھے اور آپ عراق میں قیام پذیر تھے جن میں جہالت عام تھی بیشتر احکامِ شریعت سے ناواقف تھے، انھیں قرآن کریم اور سنت نبوی کی تعلیم دی جائے۔ اسی لیے حضرت علیؓ انھیں تعلیم دیتے اور حق کی طرف رہنمائی کرتے۔ آپ اپنے دور کے سب سے بڑے عالم تھے، اور یہ آپ کے عالم ربانی ہونے کی واضح مثال ہے جو لوگوں کو خیر کی دعوت دینے اور اسی پر ان کی تربیت فرمانے کا حریص ہوتا ہے۔