فلاسفہ کاعقیدہ : ذات واحدہ سے صرف ایک ہی چیز صادر ہوسکتی ہے…

فلاسفہ کاعقیدہ : ذات واحدہ سے صرف ایک ہی چیز صادر ہوسکتی ہے پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فلاسفہ کاعقیدہ : ذاتِ واحدہ سے صرف ایک ہی چیز صادر ہوسکتی ہے؛پررد:

پس ان کا یہ کہنا کہ ایک ذات سے صرف ایک ہی صادر اور پیدا ہو سکتا ہے یہ ایک قضیہ کلیہ ہے اگر اس میں وہ لوگ اللہ کے ماسوا مخلوقات کو داخل کرتے ہیں تو اللہ کے ماسوا کوئی بھی شے ایسی نہیں کہ اکیلے صرف اسی کے تصرف سے اس سے کوئی شے صادر ہو اور اگر اس سے ان کی مراد صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو یہی بات محل نزاع اور محلِ دلیل ہے پس کیسے یہ بعینہ دلیل کامدلول بن جائے گا اور اس واحد کی حقیقت تو یہ خود نہیں جانتے نہ اس سے صدور کی کیفیت کو جانتے ہیں اور یہ بھی کہ جس ایک ذات کو یہ ثابت کرتے ہیں تو وہ ایک ایسا وجود ہے جوبعض کے نزدیک صفاتِ ثبوتیہ سے خالی ہے جیسے ابن سینا اور اس کے متبعین اور بعض دیگر کے نزدیک وہ صفاتِ ثبوتیہ اور سلبیہ دونوں سے مجرد اور خالی ہے اور ایسی شے کا خارج میں کوئی حقیقت نہیں بلکہ خارج میں تو اس کا تحقق ممتنع ہے اور بے شک یہ ایسا امر ہے جس کو صرف ذہنوں میں فرض کیا جا سکتا ہے

جس طرح کہ دیگر ممتنعات کو فرض کیا جاتا ہے اسی وجہ سے اس بات میں ابن سینا نے جو کچھ ذکر کیا ہے اس کے ساتھ ابن رشد اور دیگر فلاسفہ نے اختلاف کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ یہ ائمہ فلاسفہ کا قول نہیں اور ابن سینا اور ان کے امثال نے اپنی طرف سے ان کو گھڑا ہے اور اس وجہ سے ابو البرکات جو صاحب المعتبرہیں انہوں نے اس پر اعتبار نہیں کیا حالانکہ وہ اپنی نظر کے اعتبار سے حجتِ صحیحہ کے اتباع کی طرف ان لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہیں اور ان کے اسلاف کی تقلید سے عدول اور روگردانی کے اعتبار سے زیادہ بعید ہیں باجود یہ کہ ان کے حکمت اور فلسفے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ عقلیات میں کسی کی تقلید جائز نہیں اور یہ بات بھی کہ جب اس ذات سے صرف ایک ہی صادر اور پیدا ہو سکتا ہے جس طرح کہ یہ لوگ عقلِ اول میں قائل ہیں تو وہ صادرِ اول اگر من کل وجہ ایک ذات ہے تو لازم آئے گا کہ اس سے بھی صرف ایک ہی صادر ہو اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا جائے گا اگرچہ اس میں ایک اعتبار سے کثرت بھی پائی جاتی ہے اور کثرت ایک وجودی شے ہے اس طرح کہ اول ایک ذات سے زیادہ افراد صادر (پیدا )ہوں اور اگر وہ عدمی شے ہے تو اس سے وجود صادر نہیں ہو سکتا پس صادرِ اول سے پھر کوئی ایک ذا ت بھی صادر نہیں ہو سکتا۔رہا ان کا اپنے اس دعوے پر اس قول سے دلیل پکڑنا کہ اگر اس سے دو اشیاء صادر ہوں تو اس شے کا مصدر ا س دوسرے کے مصدر کے علاوہ ہو گا یعنی اس کا منشأ اس دوسرے کے منشأ کے علاوہ کوئی اور ہو گا اور ترکیب لازم آئے گی حالانکہ ہم نے اس کو بسیط فرض کر لیا تھا:

تو اولاً اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ سے اشیاء کا صدور نفسِ حرارت کے صدور کی طرح نہیں بلکہ وہ تو مشیت اور اختیار کے ساتھ فاعل ہے اور اگر مصدر کے تعدد کو فرض کر لیا جائے تو یہ امور اضافیہ کا تعدد ہے اور اضافات اور سلبی امور کا تعدد بالاتفاق اس کے لیے ثابت ہے ۔

اگر یہ بات فرض کی جائے کہ یہ صفات کا تعدد ہے تو یہ صفات کے ثبوت کے قول کو مستلزم ہے اور یہ بات حق ہے اور ان کا یہ کہنا کہ پھر تو یہ مرکب بن جائے گا اور ترکیب تو ممتنع ہے تو بہ تحقیق ہم نے اس مقام کے علاوہ دوسری جگہ پر کئی اعتبارات سے اس کے فساد کو بیان کر دیا ہے اور ہم نے یہ بات بیان کر دی ہے کہ ترکیب ، افتقار (احتیاج)، جزء اورغیر کے الفاظ مشترک اور مجمل الفاظ ہیں اور اس معنی پریہ لازم نہیں آتے جس کی نفی پر دلیل دلالت کرتی ہے اور یہ اس معنی پر لازم آتے ہے جس کی دلیل نفی نہیں کرتا بلکہ دلیل اس کو ثابت کرتا ہے یعنی اللہ کے لیے اس معنی پر یہ ثابت ہوتے ہیں جس معنی پر یہ اس کی ذات کے لیے ممتنع نہیں ہے ۔

مقصود تو یہاں یہ ہے کہ موجب بالذات کی اگر اس طرح تفسیر کی جائے تو یہ باطل ہے رہا یہ کہ اگر موجب بالذات کی تفسیر اس طرح کی جائے کہ وہ ایک ایسی ذات ہے جواپنی مشیت اور قدرت کے ساتھ اپنے مفعول کے لیے موجب اور محدث ہے تو یہ معنی اس کے فاعلِ مختار ہونے کے منافی نہیں بلکہ وہ فاعل بالاختیار بھی ہوگا اور موجب بالذات بھی ہوگا اور ا پنے مشیت اور قدرت کے ساتھ بھی موجب ہوگا ۔

جب یہ بات واضح ہوگئی کہ موجب بالذات دونوں معانی کا احتمال رکھتا ہے ،ایک معنی اس امر کے منافی نہیں ہے کہ وہ اپنی مشیت اور قدرت کے ساتھ فاعل بنے اور دوسرا اس کے منافی ہے کہ وہ اپنے مشیت اور قدرت کے ساتھ فاعل بنے تو جوشخص اس بات کا قائل ہوا کہ قادر کوئی بھی فعل صادر نہیں کرتا مگر جواز اور امکان کے طریقے پر جس طرح کہ قدریہ اور جہمیہ میں سے بعض کا یہ قول ہے تو وہ اختیا رکے ساتھ فعل کے صادر ہونے کو ایجاب کے منافی قرار دیتا ہے جو کہ کسی بھی طریقے سے اس کے ساتھ جمع نہیں ہوتا ۔

وہ یہ کہتے ہی کہ کوئی ذات قادرِ مختار صرف اس وقت بنتا ہے جب وہ امکان اور جواز کے طریقے پر فعل صادر کرے نہ کہ وجوب کے طریقے پر اور اہل سنت اور دیگر جمہور اس بات کے قائل ہیں کہ قادر ذات وہی ہے کہ اگر وہ چاہے تو کرے اور اگر چاہے تو نہ کرے لیکن جب وہ اپنی قدرت کے ساتھ فعل کو کرنا چاہے تو اس کے فعل کا وجود لازم ہوتا ہے پس جو اللہ چاہتے ہیں وہ موجود ہوتا جو نہیں چاہتے وہ نہیں موجود ہوتا اس لیے کہ یقیناً وہ ان تمام اشیا پر قادر ہیں جس کو وہ چاہتے ہیں اورقدرتِ تامہ اور مشیتِ لازمہ کے ساتھ فعل کا وجود واجب ہے اسی وجہ سے تو اقوال تین ہوگئے :

پس فلاسفہ جو ہیں ایسے موجب بالذات کے قائل ہیں جو مجردہ عن الصفات ہے۔

یا ایسے موصوف کے قائل ہوئے جس کا موجب معین اس کے ساتھ ازلا ًو ابداً مقارن ہے۔

معتزلہ میں سے قدریہ اور دیگر جہہمیہ میں سے اور جو ان کے موافق ہیں وہ ایسے فاعلِ مختار کے قائل ہیں جو جواز اور امکان کے طریقے پرا فعال صادر کرتا ہے نہ کہ وجود کے طریقے پر پھر ان میں سے بعض وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ فعل صا در کرتا ہے بغیر ارادے کے بلکہ ان کے نزدیک مرید یعنی ارادہ کرنے والا وہ فاعلِ عالم ہے اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو ارادے کے حددوث کے قائل ہیں ۔

صفحہ 1 از 3