دین الہٰی کے پاسبان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

دین الہٰی کے پاسبان

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 2

دینِ الہٰی کے پاسبان:

اللہ جل شانہٗ نے نبی اکرم رسول معظم فخر بنی آدم سیدنا محمد رسول اللہﷺ کو تمام عالم کے انس و جن کے لیے مبعوث فرمایا۔ آپﷺ نے تعلیم و تزکیہ کا فریضہ پوری طرح انجام دیا اللہ کی کتاب کے الفاظ کی تعلیم دی۔ اس کے معانی اور احکام بتائے اور عملی طور پر بھی خود کر کے دکھایا اور بہت سے وہ احکام بتائے جو وحی جلی یعنی قرآن میں منصوص نہ تھے۔ آپﷺ کی دعوت اور تعلیم و تبلیغ کا کام انجام دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو منتخب فرمایا ان حضرات نے بہت ہی تکلیفیں اٹھائیں اور اسلام کے عقائد اور اصول و فروع کے پھیلانے اور پہنچانے میں جانوں کی بازی لگادی، جو دین ان کو ملا تھا اس کو محفوظ رکھا اور آگے بڑھایا اور عالم میں پھیلایا۔ ساری اُمت پر ان حضرات کا احسان ہے کہ اُمت تک پورا دین پہنچا دیا۔ یہ حضرات نبی اکرمﷺ کے صحیح نائب بنے۔ علم بھی سکھایا اور عمل کر کے بھی دکھایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص کی قدر دانی فرمائی ان کی محنتوں کو قبول فرمایا۔ قرآنِ مجید میں ان کی تعریف فرمائی اور ان سے راضی ہو جانے کی خوشخبری دی اور ان کے بلند درجات سے آگاہ فرمایا۔

اہلِ السنت و الجماعت کا ہمیشہ سے یہ عقیدہ ہے کہ بنی آدم میں انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد فضیلت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کا درجہ ہے۔ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اگرچہ معصوم نہیں ہیں لیکن ان کے گناہ مغفور ہیں۔ ان سے گناہ سرزد ہونے میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں اور ان خطائوں کا صادر ہونا ان کے بلند مرتبہ کے منافی نہیں ہے اور حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر صرف خیر ہی کے ساتھ کرنا درست ہے۔ ان میں سے کسی کو بُرا کہنا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے جو عقائد اہل السنت و الجماعت کی ترجمان ہے کہ:

ویکف عن ذکر الصحابۃ الاّ بخیر لما ورد من الأحادیث الصحیحۃ فی مناقبہم و وجوبِ الکفّ عن الطعن فِیْہِمْ۔

اور حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر صرف خیر کے ساتھ کرے کیونکہ ان کے مناقب میں اور ان پر طعن نہ کرنے کے واجب ہونے کے بارے میں صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں۔

آج کل جوش تحقیق میں مجتہد اور مجدد ہونے کے دعویدار جو تھوڑی بہت شگفتہ اردو لکھ لیتے ہیں حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرنے کو اپنی امارت اور تجدید کا قابلِ فخر کارنامہ سمجھتے ہیں۔ اہلِ السنت و الجماعت کے اکابر نے تو یہ ارشاد فرمایا کہ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر صرف خیر ہی کے ساتھ کیا جائے اور ان سے جو کوئی عملی خطا سرزد ہوگئی ہے اس کے بارے میں نہ صرف یہ کہ سکوت کیا جائے بلکہ اس کا اچھا محمل تلاش کرلیں اور اچھی طرح تاویل کر لیں۔ ان سے نہ خود بدگمان ہوں نہ دوسروں کو بدگمان ہونے دیں لیکن ذوقِ تنقید کے خوگر حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مطعون کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتے۔ ہداہم اللہ تعالیٰ۔ دورِ حاضر کے بہت سے محقق تو اہلِ السنت والجماعت کے مسلک سے خارج ہونے کو کوئی بُری بات ہی نہیں سمجھتے اور بعض لوگ اہلِ السنت والجماعت سے اپنی نسبت کاٹنے کو پسند نہیں کرتے لیکن پھر بھی حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف کتابیں لکھتے ہیں۔ ان دونوں قسم کے محققین میں کوئی سیدنا عثمانؓ پر کیچڑ اچھال رہا ہے اور کوئی سیدنا امیرِ معاویہؓ کو ہدفِ ملامت بنا رہا ہے اور بعض لوگ اہلِ تشیع کے جواب میں ایسا انداز اختیار کرتے ہیں جس سے سیدنا علیؓ اور حضراتِ حسنین مطعون ہوتے ہیں۔ یہ لوگ تاریخ کے حوالوں سے حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کچھ لغزشیں اور کوتاہیاں جمع کر کے اور کچھ ان کے آپس کے اختلاف اور جنگ کے واقعات کو سامنے رکھ کر اپنے ذوقِ تنقید کی تسکین کرتے ہیں۔ ہداہم اللہ تعالیٰ۔ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اختلافات اور باہمی جنگوں کے واقعات کو مشاجراتِ صحابہ کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے، ان واقعات کے بارے میں حضراتِ سلف نے خاموشی اور کف لسان ہی کو واجب بتایا اور ان کا یہ بتانا اور فرمانا کتاب و سنت کے عین مطابق ہے۔

غور کرنے سے مجھے مشاجراتِ صحابہ کے متعلق اللہ جل شانہ نے بعض ایسے محامل القاء فرما دیے جن کی وجہ سے ان کے بارے میں کوئی اشکال نہیں رہا اور نہ صرف یہ کہ اشکال باقی نہ رہا بلکہ دل میں یہ آیا کہ اُمت کی تعلیم کے لیے ان مشاجرات کا وجود میں آنا ضروری تھا۔ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تو اللہ جل شانہٗ نے بہت بڑی فضیلت بخشی ہے ان کو برائی سے یاد کرنا کیونکر درست ہو سکتا ہے جب کہ عام مسلمانوں کے بارے میں حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: لا تسبّوا الأموات فانّہم قد أفضوا إلی ما قدموا۔

ترجمہ: یعنی مُردوں کو برائی سے یاد نہ کرو کیونکہ وہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنی اپنی جگہ کو پہنچ چکے ہیں۔ 

(رواہ البخاری)

علامہ سیوطیؒ نے ایک رسالہ مفتاح الجنّۃ فی الاحتجاج بالسنّہ کے نام سے تحریر فرمایا ہے اس میں انہوں نے علامہ دینوری کی کتاب المجالسہ سے نقل کیا ہے کہ رافضیوں کے مذہب کی ابتداء اس طرح سے ہوئی کہ چند زندیقوں نے اسلام کو لوگوں کی نظروں سے گرانے اور بدنام کرنے کے لیے مشورہ کیا کہ اس بارے میں کیا کرنا چاہیئے۔ ان میں سے بعض نے رائے دی کہ مسلمانوں کے نبی اکرمﷺ کو بُرا بھلا کہیں جب ان کی عظمت اور عقیدت گھٹے گی تو اس کا دین آگے بڑھنے میں بھی رکاوٹ ہوگی۔ اس پر ان کے سردار نے کہا کہ ایسا کریں گے تو ہم سب قتل کردیے جائیں گے کیونکہ مسلمان اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے پھر آپس میں مشورہ ہوا کہ ان کے نبیﷺ کے دوستوں کو بُرا بھلا کہنا چاہیئے اور ان سے علیحدگی اختیار کی جائے اور ان کو کافر کہا جائے۔ جب آپس میں یہ رائے پاس ہوگئی تو انہوں نے کہا کہ سیدنا علیؓ کے علاوہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دوزخ میں ہیں۔ پھر کہنے لگے کہ سیدنا علیؓ ہی نبی تھے جبرائیل علیہ السلام سے وحی لانے میں خطا ہو گئی۔ 

(مفتاح الجنۃ: صفحہ، 74)

صفحہ 1 از 2