مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین - دفاعِ اہلِ سنت |…

مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی دامت برکاتہم استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 7
اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ نبی کریمﷺ‏ کے بعد اب کوئی معصوم نہیں ہے اور کوئی فرد یا جماعت کسی غیر رسول کی عصمت کا مدعی ہے تو وہ اپنے دعویٰ میں کاذب اور جھوٹا ہے۔ اس لیے جماعتِ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ ہر انسان سے صواب و خطا اور خیر و شر کا صدور ہو سکتا ہے، البتہ بعض خدا کے ایسے سعید بندے ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی پر خیر و صلاح کا غلبہ ہوتا ہے، اسی غلبہ خیر کی بناء پر انھیں نیک، صالح، ولی وغیرہ محترم ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، جس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ یہ زلّات و سیئات سے بالکلیہ پاک ہیں۔
اس کے بالمقابل کچھ نابکار ایسے بھی ہیں جو مجموعہ شرور و معاصی اور خزینہ فسق و فساد ہوتے ہیں، ان کے فسق و فساد کی یہ کثرت انھیں ظالمین و مفسدین کے زمرے میں پہنچا دیتی ہے، بایں ہمہ ان کا بھی دامنِ حیات خیر و صلاح سے یکسر خالی نہیں ہوتا۔
صلحائے امت کی حیات و سوانح پر بحث و تحقیق کے وقت ان کی بعض لغزشوں اور بشری کمزوریوں کے پیشِ نظر ان کے جملہ محاسن و مزایا پر خطِ تنسیخ کھینچ دینا اور ان کے سارے حسنات و خیرات کا انکار کر کے انھیں ظالمین و مفسدین کی صف میں کھڑا کر دینا علم و دیانت کے سراسر منافی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ظالمین و مفسدین کے چند گنے چنے اچھے کاموں کو سامنے رکھ کر ان کی زندگی کے سارے سیاہ کارناموں سے آنکھیں بند کر کے انھیں صلحاء و اولیاء کی جماعت میں شامل کر دینا کسی طرح بھی درست نہیں ہو گا، بلکہ ہر ایک کے ساتھ اس کے اعمالِ خیر و شر کی قلت و کثرت کے اعتبار سے معاملہ کیا جائے گا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:  
أمَرَنا رسولُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن نُنْزِلَ الناسَ مَنازِلَہم 
ترجمہ: آنحضرتﷺ‏ کا ہمیں حکم تھا کہ ہم لوگوں کو ان کے درجات و مراتب میں رکھیں۔
گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی
بحث و نظر اور تحقیق و تبصرہ کا یہ ایسا لازمی اصول ہے جس سے غفلت اور بے اعتباری ایک محقق و مبصر کو دائرہ بحث و تحقیق سے نکال کر افراط و تفریط اور تنقیص و تضلیل کی صف میں پہنچا دیتی ہے، جس سے خود اس کی ذات مجروح اور علمی کاوشیں بے سود ہو کر رہ جاتی ہیں۔
پر ایک محقق کی علمی دیانت کا بھی یہ تقاضا ہے کہ کسی شخصیت پر بحث کرنے کے لیے اس سے متعلق جو درست، صالح، معتبر اور مستند مواد ہیں انھی کو کام میں لائے، خود تراشیدہ، غیر مقبول اور گری پڑی باتوں کو بنیاد بنا کر اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا نہ صرف اس شخصیت پر ظلم ہے، بلکہ خود علم و تحقیق کے ساتھ مذاق کرنا ہے، محقق کا یہ رویہ بھی اسے پایۂ اعتبار سے ساقط اور علمی خیانت سے متہم کر دیتا ہے، باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوۡۤا ۞(سورۃ الحجرات: آیت 6)
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو،  
ایک دوسری آیت میں ہے۔  
اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَتَبَـيَّـنُوۡا ۞ (سورۃ النساء: آیت 94)
اس لیے صحیح، سقیم، قوی، ضعیف کی اچھی طرح چھان بین کے بعد ہی کوئی فیصلہ درست سمجھا جائے گا۔
عام اسلامی شخصیات سے ہٹ کر اصحابِ رسول اللہﷺ‏ کے حالات اور ان کے مقام و مرتبہ پر بحث و کلام کے لیے محض تاریخی روایات پر انحصار و اعتماد بھی ایک محقق کو راہِ اعتدال اور راہِ صواب سے دور کر دیتا ہے، کیونکہ تاریخ کو ہرگز یہ حیثیت حاصل نہیں ہے کہ اس کی شہادت سے کتاب و سنت کے مسلمات کے خلاف استدلال فراہم کیا جائے، البتہ خدا اور عام امت کے درمیان دین خالص کے صحیح تصور کے لیے اگر کوئی قابلِ اعتماد واسطہ ہے تو وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برگزیدہ اور مقدس جماعت ہے۔ پیغمبرِ خداﷺ‏ کی زندگی کے یہ ساتھی ہی آپ کے پیغام اور آپ کی تعلیمات کو پورے عالم میں پہنچانے والے ہیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داعیانہ حیثیت کا اعلان خود خدائے علیم و خبیر نے اپنے رسولﷺ‏ کی زبانی یوں فرمایا ہے:  
قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ اَدْعُوْا إِلَی اللّٰہِ عَلیٰ بَصِیْرَۃٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ الآیۃ 
ترجمہ: آپﷺ‏ اعلان کر دیں کہ یہ میرا راستہ ہے بلاتا ہوں اللہ کی طرف، سمجھ بوجھ کر میں اور میرے ساتھی۔ 
مطلب یہ ہے کہ کسی اندھی تقلید کی بنیاد پر نہیں، بلکہ حجت و برہان اور بصیرت و وجدان کی روشنی میں، میں اور میرے اصحاب دینِ توحید کی دعوت دے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ‏ کو جو نورِ بصیرت عطاء فرمایا تھا، آپﷺ‏ کے فیضِ صحبت سے ہر صحابی رضی اللہ عنہ کا دل و دماغ اس نور سے روشن ہو گیا تھا اور دعوت الی اللہ علی وجہ البصیرۃ میں وہ رسول اللہﷺ‏ کے دست و بازو اور رفیقِ کار بن گئے تھے، حدیث پاک ما أنا علیہ و أصحابی میں آنحضرتﷺ‏ نے بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اسی مرتبہ بلند کو بیان فرمایا ہے، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت درحقیقت رسول پاکﷺ‏ کی سیرت کا جز ہے، عام شخصیات و رجال کی طرح انھیں صرف کتبِ تاریخ کی روشنی میں نہیں، بلکہ قرآن و حدیث اور سیرتِ رسول اللہﷺ‏ کے آئینہ میں دیکھا جائے گا۔
قاضی عیاض رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:
ومن توقیرہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم توقیر اصحابہ وبرھم معرفۃ حقھم والقتداء بھم وحسن الثناء علیھم والاستغفار لھم والإمساک عما شجر بینھم ومعاداۃ من عاداھم والاضراب عن أخبار المؤرخین وجھلۃ الرواۃ 
(الاسالیب البدیعۃ: صفحہ، 8)
ترجمہ: آنحضرتﷺ‏ کی تعظیم و توقیر میں سے ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم کرنا، ان سے حسنِ سلوک کرنا، ان کے حق کو پہچاننا، ان کی پیروی کرنا، ان کی مدح و ستائش کرنا، ان کے واسطے استغفار کرنا، ان کے باہمی اختاف کے ذکر سے (زبان و قلم کو) روکے رکھنا، ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھنا مؤرخین اور جاہل راویوں کی (ان کی خلافِ شان) روایتوں کے نقل و بیان سے باز رہنا۔
حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی قدس سرہٗ اپنے ایک مکتوب میں رقم طراز ہیں:
صفحہ 1 از 7