دلیل قرآن (رضی اللہ عنہ) اللہ ان سے راضی ہوا - دفاعِ اہلِ…

دلیل قرآن (رضی اللہ عنہ) اللہ ان سے راضی ہوا

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 2

دلیل قرآن (رضی اللہ عنہ) اللہ ان سے راضی ہوا

وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ 
(سورۃ التوبہ: آیت، 100)
ترجمہ: جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہیں اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ اُولٰٓئِكَ هُمۡ خَيۡرُ الۡبَرِيَّةِجَزَآؤُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ‌ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ ‌ؕ ذٰلِكَ لِمَنۡ خَشِىَ رَبَّهٗ
(سورۃ البینۃ: آیت،  7 اور 8)
 ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ بیشک ساری مخلوق میں سب سے بہتر ہیں ان کے پروردگار کے پاس ان کا انعام وہ سدا بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں وہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے خوش ہوگا اور وہ اس سے خوش ہونگے یہ سب کچھ اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھتا ہوں۔
تشریح:
اور مہاجرین و انصار میں سے جو سب سے پہلے سبقت کرنے والے ہیں اور پھر جن لوگوں نے ان کی خوبی کے ساتھ پیروی کی ہے اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اس نے تیار کر رکھے ہیں ان کے لیے ایسے باغات جن کے نیچے ندیاں رواں ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور بڑی کامیابی یہی ہے۔
کفار مشرکین اور منافقین پر تنقید اور ان کی علامات کے بیان کے بعد اب ان لوگوں کا تذکرہ فرمایا جا رہا ہے جو اسلام کا اصل سرمایہ اور امت کے گل سر سبد ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعوت دین کا آغاز فرمایا تو آپ روئے زمین پر بالکل تنہا تھے مکہ کا جاہلی معاشرہ شرک کی دلدل میں سر تک دھنسا ہوا تھا ان کے پیش نظر مادی زندگی اور عیش و عشرت کے علاوہ کوئی مقصد نہ تھا اخلاق نام کی کوئی چیز تلاش سے بھی ان میں نہیں ملتی تھی حقوق العباد کا دور دور تک کوئی تصور نہیں تھا بھلائی کی ہر بات سے انھیں چڑ تھی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی کہ اپنے اعتقادات اپنے طرز زندگی اور طور اطوار میں اس حد تک جامد واقع ہوئے تھے کہ ان میں کسی طرح کی تبدیلی کا تو کیا سوال تھا اس پر تنقید سننا بھی انھیں گوارا نہ تھا ایک حیوانی زندگی تھی جس میں جنگل کا قانون کار فرما تھا اور اسے وہ چھوڑنے کے لیے کسی طرح بھی تیار نہ تھے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مکمل تبدیلی کا پیغام تھی جن آستانوں پر وہ جھکتے تھے اور جو جو انھوں نے طاقت و سطوت کے مراکز بنا رکھے تھے ان کے خلاف کھلی بغاوت تھی ظاہر ہے ایسی دعوت کو وہ کس طرح ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرسکتے تھے چنانچہ جیسے ہی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھلے عام ان کے باطل عقائد اور ان کی حیوانی زندگی پر تنقید شروع کی تو وہ اس دعوت کو روکنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اذیت کی بھٹیاں سلگنے لگیں ظلم کے نئے نئے طریقے ایجاد ہونے لگے انھوں نے اپنی پوری قوت اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے صرف کر ڈالی۔
ایسی حالت میں اس دعوت کو قبول کرنا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست حق پرست میں ہاتھ دینا قیامت کو دعوت دینے کے مترادف تھا لیکن اس حالت میں بھی یکے بعد دیگرے لوگ اسلام کی طرف بڑھتے گئے انھوں نے اس راہ کی صعوبتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اس راہ میں مال لٹایا، وطن بھی چھوڑنا پڑا تو چھوڑ دیا جان کی ضرورت پڑی تو جان کا نذرانہ پیش کردیا۔
وہ لوگ جنہوں نے اس راہ پر سب سے پہلے قدم اٹھایا انھیں یہاں اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کہہ کر ذکر فرمایا گیا یہ وہ بارش کے پہلے قطرے ہیں جنہوں نے جلی ہوئی زمین پر گرنا برداشت کیا پھر ان کی جرأت و استقامت نے دوسروں کو حوصلہ بخشا پھر ایسا سماں بندھا کہ جل تھل ایک ہوگیا ان لوگوں کا راہ حق میں قربانی و ایثار ان کی جرأت و شجاعت ان کی پامردی و استقامت اور ان کی سرفروشی و جاں سپاری کی داد اللہ کے سوا اور کون دے سکتا ہے اس لیے اسی کریم ذات نے ان آیات میں ان کی تحسین فرمائی اور ان کے تذکرے کو اپنی لافانی کتاب میں جگہ عطا فرمائی۔
 سوال یہ ہے کہ یہ اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْن کون لوگ ہیں جن اہلِ علم نے "من المہاجرین" میں من کو تبعیض کے لیے قرار دیا ہے انھوں نے صحابہؓ کے دو طبقے قائم کیے ایک اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کا اور دوسرا باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا پھر اس میں اختلاف پیدا ہوا کہ دونوں طبقوں میں کون لوگ شامل ہیں اس میں مختلف اقوال ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ وہ لوگ ہیں جو تحویل قبلہ سے پہلے مسلمان ہوئے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ وہ صحابہؓ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔
ایک رائے یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو حدیبیہ کی بیعت رضوان میں شریک ہوئے ان میں مہاجر بھی شامل ہیں اور انصار بھی۔
اس کے بعد جتنے ایمان لانے والے صحابہؓ ہیں چاہے وہ مہاجر ہوں یا انصار دوسرے درجے میں ہیں۔
 بعض مفسرین کا خیال یہ ہے کہ "من المہاجرین" میں حرف من تبعیض کے لیے نہیں بلکہ بیان کے معنی میں ہے پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باقی امت کی نسبت سے اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ ہیں اور باقی امت کے لوگ جنہوں نے اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کا اتباع مکمل طریقے اور نہایت حسن و خوبی کے ساتھ کیا وہ دوسرے درجے پر ہیں اس تفسیر کی رو سے تمام صحابہؓ اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کے مصداق ہوں گے اور باقی امت کے صالحین جنہوں نے احسان کے ساتھ صحابہؓ کی پیروی کی وہ صحابہؓ کے بعد شمار ہونگے۔
صفحہ 1 از 2