عظمت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین - دفاعِ اہلِ سنت |…

عظمت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  مولانا اسرارالحق قاسمی

صفحہ 1 از 2

عظمتِ صحابہ رضی اللہ عنہم

ممبر پارلیامنٹ ورکنِ مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند

یوں تو روئے زمین پر بے شمار امتیں اور ملتیں ہیں، لیکن ان میں جو مقام و مرتبہ امتِ محمدیہ کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں۔ امتِ محمدیہ کے مقام و منصب کا اندازہ قرآنِ کریم کی اس آیت سے کیا جا سکتا ہے:

”کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ المُنْکَر“

اس آیت میں مسلمانوں کو مخاطب کر کے صاف کہہ دیا گیا ہے کہ تم بہترین امت ہو۔ خیرِ امت سے مراد مسلمان ہیں لیکن جو مسلمان جس قدر اسلام کا پابند ہو گا اور اپنے فرائض منصبی کی تکمیل کرنے والا ہو گا، اس کا مقام اسی اعتبار سے بلند ہوگا۔ جیسا کہ فضیلت کا معیار بیان کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد فرمایا گیا:

اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقَاکُمْ

”بلاشبہ تم میں زیادہ مکرم وہ ہے جو متقی ہو۔“

اگر مسلمانوں میں کسی ایسے طبقے کی تلاش کی جائے جو مقام و منصب کے اعتبار سے زیادہ بلند مقام رکھتا ہو، تو ان میں اول مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہے۔

صحابہ وہ ہیں جن کے بارے میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْم

”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد فرمانے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں میں صحابہ کا مقام بہت نمایاں ہے۔”ما اَنا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ“ والی حدیث سے بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام کا پتہ چلتا ہے ۔اس حدیث سے بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کے مقام و منصب کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا:

خَیْرُ القُرُوْنِ قَرْنِیْ، ثم الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ

”میرے زمانے کے لوگ سب سے بہتر ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے زمانے سے ملے ہوئے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے زمانے سے متصل ہیں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو سب سے بہتر قرار دیا ۔ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے لوگوں سے مراد صحابہ ہیں۔ صحابہ کے بعد تابعین ہیں اور تابعین کے بعد تبع تابعین ہیں۔

صحابہ کون لوگ ہیں؟ اس بارے میں حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

الصحابی من لقی النبی صلی اللہ علیہ وسلم مومنا بہ ومات علی الاسلام

”صحابی اس کو کہتے ہیں جس نے ایمان کی حالت میں بنی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ہو اور ایمان کی حالت میں ہی اس کی موت آئی ہو۔“

اس تعریف کی روسے ہر وہ مومن صحابی ہو گا جس نے ایمان کی حالت میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو دیکھا ہو یا ملاقات کی ہو اور ایمان کی حالت میں اس کا انتقال ہوا ہو۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت وع ظمت کے سلسلے میں بہت سی حدیثیں موجود ہیں اور قرآن کی آیات بھی۔ سورہ توبہ کی آیت نمبر 100 میں صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا:

وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِینَ اتَّبَعُوہُم بِإِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّہُ عَنْہُمْ وَرَضُواْ عَنْہُ وَأَعَدَّ لَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی تَحْتَہَا الأَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا أَبَداً ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ (سوری التوبة: آیت، 109)

ترجمہ: ”اور مہاجرین وانصار میں سے وہ اولین لوگ (جو ہجرت اور ایمان میں) دوسرے پر سبقت لے گئے اور وہ لوگ بھی جنھوں نے ان اولین لوگوں کی اخلاص کے ساتھ پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا اور وہ سب اللہ سے راضی ہو گئے، اور اللہ نے ان کے لیے ایسی جنت تیار کی ہے کہ جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔“

اگر غور و فکر کیاجائے تو صحابہ کے مقام ومرتبہ کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ صحابہ کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہوئی۔انھوں نے براہِ راست آپ سے فیضان حاصل کیا۔ساتھ ہی صحابہ نے اللہ کے رسولﷺ کی اتباع کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔ جب بھی آپﷺ کچھ ارشاد فرماتے، صحابہؓ بصد شوق و اشتیاق اس کی تکمیل میں لگ جاتے، مال، جان سب کچھ آپﷺ کے اشارے پر قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی آواز بلند کی تو مکہ کے لوگ آپ کے دشمن ہو گئے، وہ آپ پر ظلم ڈھانے لگے، ایسے ہی ان لوگوں پر بھی جو دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے ۔ ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے مگر وہ کسی بھی صورت میں اسلام کو نہ چھوڑتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کررہے تھے، تو اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ساتھ تھے حالانکہ یہ وقت بڑا صبر آزما تھا دشمن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو العیاذ باللہ قتل کرنے کے درپے تھے انھوں نے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تھا، اور پھر صبح ہوتے ہی آپ کو ڈھونڈنے کے لیے وہ نکل پڑے تھے۔ یعنی دشمنانِ اسلام کی پوری ایک جماعت آپ کا پیچھا کر رہی تھی۔ ایسے موقع پر حضرت ابوبکر اپنی جان کی بازی لگا کر آپ کے ساتھ تھے، انھیں اپنی جان اتنی عزیز نہ تھی جتنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ غار میں بھی انھوں نے سانپ کے کاٹنے کی کوئی پرواہ نہ کی، اپنی جان پر کھیلنا گوارہ کیا مگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچے اس کو پسند نہ کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے ہجرت کے لیے نکلے تھے تو امانتیں تقسیم کرنے کی غرض سے حضرت علی کو چھوڑ آئے تھے ۔حضرت علی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر لیٹے ہوئے تھے، اس بات سے بے پرواہ ہو کر کہ دشمن اس حالت میں ان پر حملہ بھی کر سکتے ہیں۔

صفحہ 1 از 2