Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ثانیا سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی معاشرتی زندگی

  علی محمد الصلابی

خلافتِ راشدہ کے قائم کردہ اسلامی معاشرے میں زندگی گزارتے ہوئے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے اپنے پیچھے بہت سارے نمایاں کارنامے چھوڑے ہیں، سیدنا حسنؓ نظریات و افکار کی اصلاح، لوگو ں کے کام آنے، ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آنے، وعظ و نصیحت اور حکمت کی عمدہ باتوں وغیرہ کے ذریعے سے ان کی رہنمائی کے حریص تھے، اس اجمال کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دنیا میں دوبارہ آنے کے عقیدہ کی تردید

عمرو بن اصم سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا:

’’شیعوں کا عقیدہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو انھوں نے فرمایا: اللہ کی قسم وہ سب جھوٹے ہیں، وہ شیعہ نہیں ہیں، اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ آپ دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ہم سیدنا علیؓ کی بیویوں کی شادیاں نہ ہونے دیتے، سیدنا علیؓ کے مال کو تقسیم نہ کرتے۔‘‘

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 263)

اس عقیدے کا سب سے پہلا قائل عبداللہ بن سبا تھا، مگر وہ سیدنا حسنؓ کی موت کا نہیں بلکہ سیدنا علیؓ کے غائب ہوجانے کا قائل تھا، اور عقیدہ رکھتا تھا کہ آپ لوٹ کر آئیں گے، دنیا میں دوبارہ آنے کا عقیدہ سبئیہ کیسانیہ وغیرہ کا عقیدہ تھا، لیکن بعد میں دوسرے غالی فرقوں کا بھی عقیدہ ہوگیا۔

و یشیر الآلوسی إلی أن تحول مفہوم الرجعۃ عند الشیعۃ الرافضۃ منھ رجعۃ الإامام فقط إلی ذلک المعنی العام کان فی قرن الثالث

(روح المعانی: جلد 5 صفحہ 27، ضحی الإسلام: جلد 3 صفحہ 237، أحمد أمین)

’’رجعت‘‘ (دنیا میں دوبارہ آنے) کے عقیدے میں عبداللہ بن سبا یہودی کا کردار موسس کا کردار تھا، لیکن وہ رجعت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھی، اسی طرح وہ آپ کی موت کا ہی سرے سے منکر تھا۔