فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 10

فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام اور اس پر ردّ

تقدیر کے بارے میں اہلِ سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام، حضرات انبیاء کرام علیہ السلام کا لا جواب ہونا اور ان کی دلیل کا ختم ہونا، اور اس باب میں اور رافضی کا رد۔

[شبہ ] رافضی کہتا ہے: ’’اور ان میں سے ایک انبیاء کا لا جواب ہونا، اور ان کی حجت نہ رہنا بھی ہے۔ کیونکہ نبی علیہ السلام جب کسی کافر کو یہ کہتا ہے کہ مجھ پر ایمان لے آ اور میری تصدیق کر، اور وہ جواب میں یہ کہتا ہے: اسی سے جس نے تجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، یہ کہہ کہ وہ مجھ میں ایمان پیدا کر دے یا مجھ میں ایمان لانے کی قدرتِ مؤثرہ پیدا کر دے تاکہ میں ایمان پر قدرت پا سکوں اور تجھ پر ایمان لے آؤں ۔ وگرنہ تو مجھے ایک ایسی بات کا مکلف کیونکر بناتا ہے جس پر میری قدرت ہی نہیں ؟ بلکہ اس نے مجھ میں کفر کو پیدا کیا ہے، اور میں رب تعالیٰ پر قاصر آنے پر قادر نہیں تب پھر یقیناً وہ نبی دلیل سے خالی ہو جائے اور جواب نہ دے پائے گا۔‘‘ 

[جواب:] رافضی کی اس بات کا جواب یہ ہے کہ: اس مقام میں اکثر لوگوں نے دخل اندازی کی ہے۔ چنانچہ جب کسی کو اس کے ذمے واجب امر کا حکم دیا جاتا ہے تو وہ کنی کترانے کے لیے تقدیر کو آڑ بناتا ہے اور کہتا ہے کہ: تب کروں گاجب اللہ مجھے قدرت دے گا۔ یا اللہ مجھے اس پر قدرت دے گا یا جب اللہ اس کا میرے حق میں فیصلہ کر دے گا، اور جب اسے کسی شرعاً ممنوع بات سے روکا جاتا ہے تو وہ اسی طرح کہتا ہے: یہ تو اللہ نے میرے حق میں خود فیصلہ کیا ہے۔ اب میں کیا کروں ؟ وغیرہ وغیرہ۔

اس بات پر دنیا بھر کے اہل دین و عقل کا اتفاق ہے کہ قدرت سے دلیل پکڑنا حجت باطلہ ہے، اور المیہ یہ ہے کہ اس قول کے قائل پر جب کوئی ظلم کرے یا اس کے کسی حق واجب کو ادا نہ کرے اور ظالم ظلم کی دلیل میں قدرت کو پیش کرے تو یہ خود اس دلیل کو قبول کرنے پر ہر گز تیار نہ ہوگا۔ بلکہ وہ ہر صورت میں اپنا حق اس سے مانگے گا، اور عدم ادائیگی کی صورت میں اس پر عقاب و عتاب بھی کرے گا۔

بلاشبہ یہ اس سو فسطائیہ[دھوکہ بازی] میں سے ہے جو علوم میں پیش کی جاتی ہے، اور چاہے یہ سوفسطائیت اکثر لوگوں کو پیش بھی آتی ہے۔ حتیٰ کہ بسا اوقات آدمی کو خود اپنے آپ کے وجود میں بھی شبہ پیش آ جایا کرتا ہے۔ پر آپ اس کے فاسد ہونے کو ضرور جانتے ہیں ۔ پھر اسی طرح یہ سو فسطائیت اعمال میں بھی عارض ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا شبہ ہے جو صدق اور عدلِ واجب وغیرہ کے اسقاط میں اور کذاب و ظلم وغیرہ کی اباحت میں پیش آتا ہے۔ لیکن دلوں کو پھر بھی اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ یہ شبہ باطل ہے، اور تحقیق کے وقت یہ شبہ کوئی بھی دوسرے سے قبول نہیں کرتا، اور نہ کوئی اس سے دلیل پکڑتا ہے۔ ہاں اگر فعل کی حجت معلوم نہ ہو تو اور بات ہے۔ 

جب آدمی کو اس بات کا علم ہو کہ اس نے جو کیا ہے وہ مصلحت اور مامور بہ ہے اور یہ کرنا مناسب تھا تو وہ کبھی بھی قدرت اور تقدیر کو آڑ نہیں بناتا۔ اسی طرح اگر اسے یہ علوم ہو کہ جو کام اس نے نہیں کیا وہ اس کے ذمہ ہی نہ تھا، یا وہ مصلحت یا مامور بہ ہی نہیں ۔ تب بھی وہ تقدیر کو دلیل نہیں بناتا۔ بلکہ تقدیر کو حجت وہ بناتا ہے جو ہوائے نفس کا غلام اور علم سے کورا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب مشرکوں نے یہ کہا کہ:

﴿لَوْشَآئَ اللّٰہُ مَآ اَشْرَکْنَا وَلَآ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْئٍ﴾ (الانعام: ۱۳۸) 

’’اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شریک بناتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کوئی چیز حرام ٹھہراتے۔‘‘

تو رب تعالیٰ نے انہیں اس کا یہ جواب دیا:

﴿قُلْ ہَلْ عِنْدَکُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْہُ لَنَا اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَo قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ فَلَوْشَآئَ لَہَدٰیکُمْ اَجْمَعِیْنَ﴾ (الانعام: ۱۳۸ ۔۱۳۹) 

’’کہہ کیا تمھارے پاس کوئی علم ہے کہ تم اسے ہمارے لیے نکالو، تم تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کر رہے اور تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکل دوڑاتے ہو۔ کہہ دے پھر کامل دلیل تو اللہ ہی کی ہے، سو اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ضرور ہدایت دے دیتا۔‘‘

کیونکہ یہ مشرک اپنی عقل و فطرت دونوں سے جانتے تھے کہ ان کو پیش کردہ یہ دلیل باطل ہے۔ کیونکہ اگر کوئی ان کامال چھین لیتا یا عزت لوٹ لیتا یا اس کی اولاد کو قتل کر دیتا، یہ اس پر ظلم کرنے پر اڑا رہتا اور لوگ اسے ایسا کرنے سے منع کرتا اور وہ جواب میں یہ کہتا کہ اگر اللہ چاہتا تو میں ایسا نہ کرتا۔ تو یہ مظلوم کسی بھی صورت میں اس ظالم و فاجر کی یہ دلیل قبول نہ کرے، اور نہ دوسرے لوگ ہی اس دلیل کو مانیں ۔ یہ تو اس ظالم نے ملامت ہٹانے کے لیے دلیل بنائی ہے جس کی کوئی وجہ نہیں ۔ اسی لیے رب تعالیٰ نے ان مشرکوں سے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس بات کی کوئی دلیل ہے تو پیش کرو کہ یہ شرک و تحریم اللہ نے کرنے کو کہا ہے اور اس کا فعل مناسب ہے۔ تم تو اپنے گمانوں کے پیرو کار ہو۔ تمہارے پاس اس کا کوئی علم نہیں ۔ تم بس اٹکل کے تیر چلاتے اور افتراء پردازی ہی کرتے ہو۔ تمہاری سب سے عمدہ دلیل صرف تمہارا گمان اور ظن ہے۔ ناکہ رب تعالیٰ کی مشیئت اور قدرت۔ کیونکہ صرف قدرت اور مشیئت نہ دلیل ہے اور نہ کسی کی کسی پر حجت ہے، اور کسی کا کسی کے سامنے عذر ہے۔ کیونکہ قدر و تقدیر میں سب لوگ ایک ہیں ۔ اگر قدرت و مشیئت دلیل بنے تو ظالم اور مظلوم، صادق اور کاذب، عالم اور جاہل اور نیک اور بد میں سرے سے کوئی فرق ہی نہ رہے، اور نہ اس بات میں ہی کوئی فرق رہے کہ لوگوں کے لیے کیا صالح اور کیا مفسد ہے، اور کیا نافع اور کیا ضار ہے۔ یہ مشرک جو توحید و ایمان کو اور اللہ اور اس کے رسول کو ترک کرنے کے لیے تقدیر کو حجت بناتے ہیں ، خود اپنے حقوق سے اس دلیل کو سن کر دست بردار ہونے کے لیے ہر گز بھی تیار نہیں ، اور نہ اس دلیل کی رو سے کسی کا ظلم سہنے کو ہی تیار ہیں ۔ بلکہ ظلم کے خلاف اور اپنے حق کے لیے لڑنے تک کے لیے تیار رہتے ہیں ۔

صفحہ 1 از 10