لفظ شیعہ کےاصطلاحی معنی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ شیعہ کےاصطلاحی معنی

  توقیر احمد

صفحہ 1 از 4

 لفظ شیعہ کے اصطلاحی معنی 

پہلی اصطلاحی تعریف
معروف شیعہ عالم سعد بن عبداللہ القمی( المتوفی301ھ) شیعہ کی تعریف کرتے ہوئے رقمطراز ہیں 
“وہ لوگ جو علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کے اتباع اور ماننے والے ہیں ؛
المقالات و الفرق صفحہ 3 
نیز لکھتا ہے ۔شیعہ سے مراد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی جماعت ہے جنہیں عہد نبوی میں اور اس کے بعد کے زمانے میں شیعان علی کہا جاتا تھا اور بعد میں یہ لوگ علی رضی اللہ تعالی عنہ سے اپنے مخصوص تعلق اور ان کی امامت کے عقیدے سے معروف ہوئے 
المقالات والفرق ص10
ایک اور معروف شیعی عالم حسن بن موسی النوبختی نے بھی بھی بعینہ انہی الفاظ میں شیعہ کی تعریف کی ہے 
فرق الشیعۃ صص2۔17
 یہ تعریف جامع ومانع نہیں۔ ۔
یہ ہے شیعہ کی تعریف جو اس فرقہ کی اہم ترین اور فرق وجماعت کے متعلق قدیم و معتبر کتب میں مرقوم ہے لیکن یہ تعریف فرقہ اہل تشیع کے کسی بنیادی اصول اور ان کے امتیازی عقائد و نظریات کی طرف ادنیٰ اشارہ بھی نہیں کرتی 
١۔ ۔ شیعہ کے ہاں علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کے حق میں ولایت و امامت کی وصیت کے منصوص ہونے کا عقیدہ ہے یعنی جیسے بارہ آئمہ
 ٢۔ ۔اس تعریف کے آخر میں امامت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر تو موجود ہے لیکن اس سے متعلق باقی ائمہ شیعہ کی ولایت و امامت کا کوئی تذکرہ نہیں ہے
٣۔ ۔۔ شیعہ مذہب کی تعریف جو بعد میں پیدا ہونے والے شیعہ اصول و عقائد سے خالی ہے درحقیقت یہی اصل شیعان علی رضی اللہ عنہ اور ان کے حقیقی متبعین کی معتبر تعریف ہے جو شیعیت کا دعوی کرنے والوں کو دائرہ تشیع سے نکال باہر کرتی ہے جنہوں نے اپنے مذہب میں ایسے عقائد و نظریات ایجاد کرلیے تھے جن کے ائمہ اہل بیت قطعاقائل نہیں تھے 
 ۴۔ ۔۔فرقہ اہل تشیع کے معیار کے مطابق یہ شیعہ مذہب کی صحیح تعریف نہیں حالانکہ قمی اور نوبختی فرقہ اہل تشیع کے افراد بلکہ ان کے معروف اور ممتاز علماء میں سے تھے ۵۔ ۔۔اس تعریف میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ شیعان علی رضی اللہ عنہ عہد نبوی میں بھی موجود تھے بلکہ ان کے نام بھی ذکر کیے گئے ہیں 
 مقداد بن اسود ۔سلمان فارسی ۔ابوذر جندب بن جنادہ ۔عمار بن یاسر اور دوسرے وہ صحابہ جن کی محبت علی رضی اللہ عنہ کی محبت کے تابع تھی یہ لوگوں شیعہ کے ہاں  اس امت کے اولین افراد ہیں جنہیں شیعہ نام سے ملقب ہونے کا شرف حاصل ہے 
المقالات والفرق صفحہ-15
الفرق الشیعۃ صفحہ 918 
 ٦۔ ۔۔۔ کتاب و سنت اور صحیح معتبر تاریخی حقائق و واقعات سے اس کی قطعا کوئی تائید نہیں ہوتی
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں 

   Surat No 3 : Ayat No 19 
اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟  ﴿۱۹﴾

 بیشک اللہ تعالٰی کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔

Surat No 3 : Ayat No 85 
وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۸۵﴾

صفحہ 1 از 4