Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل

  ابو شاہین

1: خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی، ’’قصی‘‘ نبی کریمﷺ کے جد امجد ہیں امہات المؤمنین میں سے حضرت خدیجہ اپنے والد کی طر ف سے آپ کے ساتھ نسب میں دوسری سب ازواج سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہیں، قصی کی اولاد میں سے آپ نے ان کے علاوہ صرف ام حبیبہ بنت ابو سفیان کے ساتھ شادی کی ہے۔ 

(ام حبیبہؓ کا نسب حضورﷺ کے ساتھ عبد مناف بن قصی کے ساتھ جا کر ملتا ہے، اور حضرت عائشہؓ کا قصی کے ساتھ ملتا ہے، جبکہ باقی ازواج مطہراتؓ کا نسب قصی کے بعد مرہ، کعب، لوئی، خزیمہ، الیاس اور مضر کے ساتھ ملتا ہے۔

حضرت خدیجہؓ کا شمار نسب کے اعتبار سے قریش کے متوسط خاندان میں ہوتا ہے، آپؓ بڑی باعزت اور مالدار عورت تھیں، جب رسول اللہﷺ کی عمر پچیس سال کی تھی تو آپﷺ کی شادی حضرت خدیجہؓ کے ساتھ ہوئی، آپﷺ سے پہلے ان کی شادی ہالہ بن نباش بن زرارہ تمیمی کے ساتھ ہوئی تھی، جن کے انتقال کے بعد آپﷺ نے شادی کی۔

حضرت خدیجہؓ آپﷺ پر ایمان لے آئیں اور دعوتی کاموں میں آپﷺ کا تعاون کیا، یہی وجہ تھی کہ رسول اللہﷺ تمام عورتوں پر ان کو فضیلت دیتے تھے، (یعنی اپنے زمانے کی سب عورتوں پر ان کو فوقیت دیتے تھے، کیونکہ وہ دنیا کی تمام عورتوں کی چار سردار عورتوں میں سے ایک ہیں۔ وہ چار عورتیں یہ ہیں: فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم، مریم بنت عمران، خدیجہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہن)

سوائے ابراہیم کے آپﷺ کی تمام اولاد ان ہی کے بطن سے ہوئی، ابراہیم حضرت ماریہؓ کے بطن سے ہوئے، رسول اللہﷺ نے ان کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کی، جب ہجرت سے تین سال پہلے ان کا انتقال ہو گیا تو دوسری شادی کی۔ 

حضرت خدیجہؓ کے جلیل القدر فضائل اور عظیم مناقب ہیں، جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

1: سیدہ خدیجہؓ کا شمار سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں ہوتا ہے وہ اللہ کی وحی پر سب سے پہلے ایمان لے آئیں، ان کو اس کا بھی اجر ملے گا اور ان کے بعد ایمان لانے والے ہر شخص کا اجر بھی ملے گا۔ (کیونکہ آپؓ عورتوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والی ہیں اور جو کوئی بہتر طریقہ رائج کرتا ہے تو اس کو اس کا اجر ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والے کا بھی اجر ملتا ہے، بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو اتنا ہی اجر و ثواب ملتا ہے، جتنا کرنے والے کو ملتا ہے، اور جو کوئی ہدایت کی طرف بلاتا ہے تو اس کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے بقدر بلانے والے کو بھی اجر ملتا ہے، لیکن ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ اس موضوع کی تفصیلات کے لیے رجوع کیا جائے: فتح الباری: باب فضائل خدیجۃ: نہایۃ الإیجاز فی سیرۃ ساکن الحجاز للطحطاوی: شرح مسلم از: نووی)

2: ان کی موجودگی میں آپﷺ نے دوسری شادی نہیں کی، وہ آپﷺ کی ازدواجی زندگی کے اڑتیس سالوں میں سے پچیس سال تک آپ کی زوجیت میں تن تنہا رہی، اس طرح آپﷺ کی دو تہائی ازدواجی زندگی ان کے ساتھ گزری۔

3: سیدہ خدیجہؓ کے ساتھ رسول اللہﷺ کی محبت عطیہ خداوندی تھا۔ 

(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابۃ: باب من فضائل خدیجۃ رضی اللہ عنہا حدیث نمبر: 2435، اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’مجھے ان کی محبت عطا کی گئی ہے۔‘‘ غور کرنے کی بات ہے کہ کس طرح اللہ کی طرف سے حضرت خدیجہؓ کی محبت رسول اللہﷺ کو عطا ہوئی تھی۔

4: آپﷺ ان کا کثرت سے تذکرہ کرتے تھے، ان کا ذکر خیر کرتے تھے، ان کی تعریف کرتے تھے اور ان کے ساتھ محبت اور مودت کے تعلقات کو بیان کرتے تھے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: مجھے نبی کریمﷺ کی کسی بیوی پر اتنی غیرت نہیں آئی جتنی مجھے حضرت خدیجہؓ پر آئی، کیونکہ آپ ان کا تذکرہ کثرت سے کیا کرتے تھے، حالانکہ میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا۔ 

(صحیح مسلم: کتاب فضائل باب من فضائل خدیجہؓ حدیث: 2435)

5: وہ امت محمدیہﷺ کی سب سے بہترین عورت ہیں۔

امام بخاریؒ نے حضرت علیؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بہترین عورت مریم ہیں اور بہترین عورت خدیجہ ہیں۔ 

(صحیح بخاری: کتاب مناقب الأنصار: باب تزویج النبیﷺ حدیث: 3815)

6: اللہ کی طرف سے سلام اور جنت میں موتی کے ایک گھر کی بشارت جہاں نہ شور شرابہ ہوگا اور نہ کوئی تھکن۔

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرمﷺ کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! یہ خدیجہ آ رہی ہیں، ان کے ساتھ سالن کا ایک برتن ہے، جب وہ آپﷺ کے پاس آئیں تو ان کے پروردگار کی طرف سے اور میری طرف سے ان کو سلام کہیے اور جنت میں موتی کے ایک گھر کی بشارت دیجیے جہاں نہ کوئی شور شرابہ ہو گا اور نہ کوئی تھکن ہوگی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب المناقب الانصار: باب تزوج النبیﷺ وفضلہا رضی اللہ عنہما حدیث: 3820)

7: اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو ان کے بطن سے اولاد عطا فرمائی، ان کے علاوہ کسی دوسرے کے بطن سے اولاد نہیں ہوئی۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے ان کے بطن سے اولاد عطا فرمائی جبکہ ان کے علاوہ سے اولاد نہیں دی۔ 

(المعجم الکبیر للطبرانی: حدیث: 22۔ باب ذکر أزواج النبیﷺ ومنہن خدیجۃ بنت خویلد: جلد 23 صفحہ 13) 

2: سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبدشمس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوئی بن غالب بن فہر، ان کی ماں شموس بنت زید بن عمرو انصاریہ ہیں۔ نبی کریمﷺ سے پہلے ان کی شادی سکران بن عمرو سے ہوئی، سودہ نے نبی کریمﷺ سے احادیث روایت کی ہیں اور ان سے حضرت ابن عباس، یحییٰ اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہم نے روایت کی ہے، مکہ میں بہت پہلے ہی اسلام قبول کیا، انہوں نے اور ان کے شوہر نے حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کی، وہیں پر ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ 

(تہذیب التہذیب از: ابن حجر عسقلانی: جلد 12 صفحہ 455)

یہ پہلی عورت ہیں جن کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کے بعد حضورﷺ نے شادی کی، مکہ ہی میں یہ شادی ہوئی، اس کے بعد تقریباً چار سال تک آپﷺ نے شادی نہیں کی، صرف سودہ ہی آپ کی اس مدت کے دوران بیوی تھیں، یہ بڑی محترم اور شریف عورت تھیں۔ ان کی وفات راجح قول کے مطابق حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت کے آخری سالوں میں 55 ہجری میں ہوئی۔ 

حضرت سودہؓ کے فضائل اور مناقب:

1: نبی کریمﷺ کی زوجیت میں رہنے کی آپؓ خواہش مند اور حریص تھیں، اسی وجہ سے انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہؓ کو ہبہ کر دی تھی، تاکہ آپﷺ کا تقرب اور محبت حاصل ہو اور جنت میں آپ کی بیوی بن کر رہیں۔

ابن سعدؓ نے طبقات میں لکھا ہے کہ حضرت سودہؓ نے نبی صلیﷺ سے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ آپﷺ مجھ سے رجوع کر لیں، قیامت کے دن مجھے آپﷺ کی بیویوں میں اٹھایا جائے، آپﷺ نے ان سے رجوع کر لیا۔ 

(تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ، طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 54)

امام بخاریؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا کہ سودہ بنت زمعہؓ نے اپنی باری عائشہ کو ہبہ کر دی، اور نبی کریمﷺ حضرت عائشہؓ کے پاس ان کا دن اور سودہ کا دن گزارتے تھے۔ 

(صحیح بخاری: کتاب النکاح: باب المرأۃ تہب یومہا من زوجہا لضرتہا: حدیث: 5212)

2: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ تمنا کی کہ وہ رہن سہن میں ان کی طرح بن جائیں۔

امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے سودہؓ کے مقابلے میں کسی ایسی عورت کو نہیں دیکھا کہ ہر چیز میں جس کی طرح ہونا مجھے محبوب ہو۔ 

(صحیح مسلم: کتاب النکاح: باب جواز ہبتہا نوبتہا لضرتہا: حدیث: 1463)

3: حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیقؓ: (ابوبکر کا نام عبداللہ بن عثمان تیمی قریشی ہے)، ان کی کنیت ام عبداللہ ہے، انہوں نے حضورﷺ سے کہا کہ وہ اپنی کنیت رکھنا چاہتی ہیں تو آپﷺ نے فرمایا: اپنے بھانجے کے نام پر کنیت رکھو، چنانچہ انہوں نے ام عبداللہ کنیت رکھی، عبداللہ کے والد زبیر بن عوامؓ ہیں اور ان کی ماں اسماء بنت ابوبکرؓ ہیں، حضرت عائشہ کی ماں کا نام ام رومان بنت عامر بن عویمر کنانیہ ہے، بعثت نبویﷺ کے چار سال بعد ان کی پیدائش ہوئی، رسول اللہﷺ نے چھ سال کی عمر میں ان کے ساتھ شادی کی اور نو سال کی عمر میں رخصتی ہوئی، آپﷺ نے ان کے علاوہ کسی دوسری باکرہ لڑکی کے ساتھ شادی نہیں کی، ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی برأت نازل ہوئی، وہ حضرت خدیجہؓ کے بعد آپﷺ کی سب سے محبوب بیوی تھیں اور امت کی عورتوں میں فقہ کی سب سے بڑی ماہر ہیں، اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے پاس فتویٰ پوچھا کرتے تھے۔ 

(تفصیلات کے لیے بدر الدین زرکشی کی کتاب ’’الإجابۃ لإیرادما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ‘‘ کی طرف رجوع کیا جائے۔)

آپﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی، ان کی وفات 17 رمضان المبارک 58ھ میں ہوئی، حضرت ابوہریرہؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور رات کو جنت البقیع میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔

• حدیث کی کتابوں میں حضرت عائشہؓ کے بہت سے فضائل اور مناقب کا تذکرہ ملتا ہے، جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

1: حضرت عائشہؓ حضرت خدیجہؓ کے بعد نبی کریمﷺ کی سب سے محبوب بیوی تھیں۔

امام بخاریؒ نے حضرت عمرو بن عاصؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کو غزوۂ ذات السلاسل کے لشکر کا امیر بنا کر بھیجا، میں آپﷺ کے پاس آیا اور میں نے دریافت کیا: آپﷺ کا سب سے محبوب کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: عائشہ، میں نے دریافت کیا: مردوں میں؟ آپﷺ نے جواب دیا: اس کے والد۔ 

(صحیح بخاری: کتاب المغازی: باب غزوۃ ذات السلاسل: حدیث: 4358)

2: رسول اللہﷺ کے ساتھ شادی سے پہلے ریشم کے کپڑے میں حضرت عائشہؓ کی تصویر حضرت جبرائیل علیہ السلام آپﷺ کے پاس لے آئے۔

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مجھے خواب میں تین راتوں تک تم کو دکھایا گیا، جبرئیل ریشم کے کپڑے میں تم کو لے کر میرے پاس آئے اور کہا: یہ تمہاری بیوی ہے، میں نے تمہارا چہرہ کھول کر دیکھا تو وہ تم تھی، میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اس کو پورا کرو۔ 

(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابۃ: باب فضائل عائشۃ أم المؤمنین رضی اللہ عنہا حدیث: 2438)

3: حضرت جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہﷺ سے ان کو اپنا سلام کہلوایا۔

امام بخاریؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک دن فرمایا: عائشہ! یہ جبرئیل ہیں، تم کو سلام کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا: ان پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت ہو، آپ وہ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھتی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب فضائل أصحاب النبیﷺ: باب فضل عائشہؓ حدیث: 3768)

4: اس وقت رسول اللہﷺ پر وحی نازل ہوئی جب آپﷺ حضرت عائشہؓ کے بستر میں تھے۔ یہ خصوصیت امہات المؤمنین میں سے کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: ام سلمہ! عائشہ کے سلسلے میں مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ، کیونکہ اللہ کی قسم! اس کے علاوہ تم میں سے کسی عورت کے بستر میں وحی نازل نہیں ہوئی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب فضائل أصحاب النبیﷺ باب فضل عائشہؓ: حدیث: 3775)

5: جب اللہ کے رسول اور دنیوی زندگی کے درمیان انتخاب کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے سب سے پہلے حضرت عائشہؓ سے دو میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے لیے کہا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞ (سورۃ الأحزاب 28، 29)

ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔

آپﷺ نے حضرت عائشہؓ کو اپنے والدین سے مشورہ کرنے کے لیے کہا: حضرت عائشہؓ نے اپنے والدین سے مشورہ کرنے سے پہلے ہی رسول اللہﷺ کا انتخاب کیا، بقیہ ازواجِ مطہراتؓ نے بھی ان ہی کی پیروی کی۔

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ اس موقع پر انہوں نے کہا: میں کس سلسلے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں اللہ اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہوں، وہ کہتی ہیں کہ پھر رسول اللہﷺ کی بیویوں نے میری طرح ہی کیا۔ 

(صحیح بخاری: کتاب التفسیر: باب قولہ: ’’وإن کنتن تردن اللّٰہ ورسولہ والدار الآخرۃ فإن اللّٰہ أعد للمحسنات منکن أجرا عظیما حدیث: 4786)

6: ان کی وجہ سے بہت سی قرآنی آیتیں نازل ہوئیں، جن میں سے بعض ان کی شان میں ہیں اور بعض پوری امت کے لیے ہیں، حضرت عائشہ صدیقہؓ کی شان میں نازل ہوئی آیتیں مندرجہ ذیل ہیں:

• واقعہ افک میں حضرت عائشہؓ پر لگائے گئے الزامات سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپؓ کو بری کر دیا اور اس سلسلے میں مندرجہ ذیل آیتیں نازل فرمائی:

اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌ لَاتَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ‌ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌ لِكُلِّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ‌ وَالَّذِىۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ مِنۡهُمۡ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞(سورۃ النور: آیت 11)

ترجمہ: جن لوگوں نے (عائشہ پر) یہ الزام لگایا ہے وہ تم ہی میں سے چند لوگ ہیں، اس کو تم اپنے لیے شر نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے خیر ہے، ان میں سے ہر شخص کو جتنا جس نے کیا تھا اس کا گناہ مل گیا، اور ان میں سے جس نے سب سے زیادہ حصہ لیا ہے اس کو سخت سزا ہوگی۔‘‘

الْخَبِیْثَاتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَالْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثَاتِ وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبَاتِ اُوْلٰٓئِکَ مُبَرَّئُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ لَہُمْ مَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیمٌ (سورۃ النور آیت 26)

ترجمہ: گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے، صاف ستھری عورتیں صاف ستھرے کے لائق ہوتی ہیں اور صاف ستھرے مرد صاف ستھر عورتوں کے، یہ لوگ ان باتوں سے بری ہیں جو یہ (منافقین) کہتے ہیں، ان کے لیے مغفرت اور عزت کی روزی (جنت میں ) ہے۔‘‘

وہ آیتیں جو ان کی وجہ سے نازل ہوئیں اور وہ پوری امت کے لیے عام ہیں۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں:

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت اسماءؓ سے ایک ہار عاریتاً لیا جو کھو گیا، چنانچہ رسول اللہﷺ نے چند لوگوں کو اس ہار کی تلاش میں روانہ کیا، راستے میں نماز کا وقت ہوگیا تو انہوں نے وضو کے بغیر ہی نماز پڑھ لی، جب وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئے تو اس بارے شکایت کی، جس کے نتیجے میں اس موقع پر تیمم کی آیت نازل ہوئی، اس پر اسید بن حضیر نے کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! جب بھی تم کو کسی ناپسندیدہ چیز سے واسطہ پڑا تو اللہ نے تمہارے لیے اس سے نکلنے کا راستہ بنایا اور اس میں مسلمانوں کے لیے برکت رکھی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب فضائل أصحاب النبیﷺ: باب فضل عائشۃؓ حدیث: 3773)

7: رسول اللہﷺ نے یہ خواہش ظاہر کی کہ حضرت عائشہؓ کے گھر میں آپ کی تیمار داری کی جائے، آپﷺ کی وفات ان کے ہاتھوں میں ان ہی کے باری کے دن ہوئی، اور دنیا کے آخری لمحات میں اللہ نے ان دونوں کے تھوک کو جمع کر دیا، اور ان ہی کے گھر میں آپﷺ کی تدفین ہوئی۔ امام بخاریؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما نبیﷺ کے پاس آئے، اس وقت میں اپنے سینے سے آپﷺ کو ٹیک لگائے ہوئے تھی، عبدالرحمٰن کے پاس ایک تازہ مسواک تھی، جس سے وہ مسواک کر رہے تھے، رسول اللہﷺ نے ان کو گھور کر دیکھا، تو میں نے ان سے مسواک لیا اور اس کو خوب چبایا اور بہترین بنا کر نبیﷺ کو دیا، آپﷺ نے اس سے مسواک کیا۔ 

(صحیح بخاری: کتاب المغازی: باب مرض النبیﷺ و وفاتہ: حدیث: 4438، یہی روایت دوسرے الفاظ اور دوسری سند کے ساتھ ابو علی محمد بن محمد اشعث کوفی کی کتاب ’’کتاب الأشعثیات‘‘ میں بھی ہے۔

8: رسول اللہﷺ نے یہ خبری دی کہ عائشہ جنتی ہیں۔

امام بخاریؒ نے قاسم بن محمد سے روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہؓ بیمار ہوئیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور فرمایا: تم رسول اللہﷺ اور ابوبکر کے پاس سچی جانشین ہو کر جا رہی ہو۔ ابن عباسؓ کا قطعیت کے ساتھ ان کو جنتی کہنا اپنی طرف سے نہیں ہوگا، بلکہ حضورﷺ کے بتانے کی وجہ سے ہی ہوگا۔

امام بخاری رحمۃاللہ اور ترمذی نے عبداللہ بن زیاد اسدی سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا کہ انہوں نے کہا: میں نے عمار کو فرماتے ہوئے سنا: یہ آپ کی دنیا اور آخرت میں بیوی ہیں۔ 

(صحیح بخاری: فضائل أصحاب النبیﷺ: باب فضل عائشۃؓ: حدیث: 3772، ترمذی: باب من فضل عائشۃؓ: حدیث: 3889، ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

9: حضرت عائشہ امت مسلمہ کی عورتوں میں سب سے بڑی عالمہ ہیں، انہوں نے نبی کریمﷺ سے بے شمار حدیثوں کو روایت کیا ہے، جن کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے، (سیدہ حضرت عائشہؓ نے 2210 حدیثیں روایت کی ہیں، ابو ہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم کے بعد چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ روایتیں حضرت عائشہؓ ہی سے منقول ہیں۔ دیکھیے: أسماء الصحابۃ الرواۃ از: ابن حزم: صفحہ 39، ابن جوزی کی کتاب تلفیح فہوم أہل الأثر: صفحہ 363)

اسی وجہ سے مسائل علمیہ میں کبار صحابہؓ ان کی طرف رجوع کرتے تھے اور فتویٰ دریافت کرتے تھے۔

4: حفصہ بنت عمر بن خطاب عدویہ قریشیہ: یہ عبداللہ بن عمر کی علاتی بہن ہیں۔ ان کی ماں عثمان بن مظعون بن وہب بن حذافہ کی بہن زینب بنت مظعون ہیں۔ ان کے پہلے شوہر خنیس بن حذافہ بدری کے مدینہ میں انتقال ہونے کے بعد 3 ہجری کو آپﷺ نے ان کے ساتھ شادی کی، یہ بڑی روزے دار اور بہت زیادہ نمازیں پڑھنے والی عورت تھی، ان کی پیدائش بعثت نبوی کے پانچ سال پہلے ہوئی اور وفات شعبان 45 ہجری میں ہوئی۔

حضرت حفصہ کے فضائل و مناقب:

1: اپنے شوہر کے ساتھ ہجرت مدینہ سے مشرف ہوئیں، ابن سعد نے ابو الحویرث سے روایت کیا ہے کہ خنیس بن حذافہ (یہ مہاجرین اولین میں سے ہیں۔ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور جنگِ بدر میں شریک ہوئے، جنگ احد میں زخمی ہوئے اور اسی زخم کی وجہ سے مدینہ میں انتقال کر گئے۔ الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 134، الإصابۃ لابن حجر: جلد 2 صفحہ 345) نے حفصہ بنت عمرؓ کے ساتھ شادی کی، وہ ان ہی کی زوجیت میں تھیں اور ان کے ساتھ مدینہ ہجرت کی۔  (طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 81)

2: بہت زیادہ روزے رکھتی تھیں اور بہت زیادہ نماز پڑھا کرتی تھیں اور وہ جنت میں حضرت محمدﷺ کی بیوی ہوں گی۔

طبرانی نے قیس بن زیدؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے حفصہ کو ایک طلاق دی، نبی کریمﷺ آئے اور اندر داخل ہوئے تو انہوں نے پردہ کیا، اس پر نبی کریمﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرئیل آئے اور انہوں نے کہا: حفصہ سے رجوع کر لو، کیونکہ وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والی اور نمازیں پڑھیں والی ہیں اور وہ جنت میں آپﷺ کی بیوی ہے۔ 

(المعجم الکبیر: جلد 18 صفحہ 365، حدیث: 934، مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 16، حدیث: 7653، علامہ البانی نے اس کو حسن کہا ہے، حدیث: 2007)

3: جب حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہدِ خلافت میں قرآن مجید کو جمع کیا گیا تو ابوبکرؓ کی وفات تک وہ قرآن ان ہی کے پاس رہا، پھر حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں ان کے پاس آیا، پھر عمرؓ کی وفات کے بعد حفصہؓ کے پاس رہا، جب حضرت عثمانؓ نے قرآن کو جمع کیا گیا تو اس مصحف سے تعاون لیا گیا اور اس کے بعد ان کو لوٹا دیا گیا ان کی وفات مدینہ میں 45 ہجری کو ہوئی۔ 

(صحیح ابن حبان: حدیث: 4506، شیخ شعیب ارناؤوط نے اس کو صحیح کہا ہے۔)

5: زینب بنت خزیمہ بن عبداللہ بن عمرو بن عبد مناف بن ہلال بن عامر بن صعصعہ ہلالیہ، ان کو ام المساکین کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ مسکینوں کو کھانا کھلایا کرتی تھیں اور ان پر صدقہ کیا کرتی تھیں، ان کے شوہر عبداللہ بن جحش جنگِ احد میں شہید ہو گئے، چنانچہ آپﷺ نے ان کے شوہر کی وفات کے بعد ان سے شادی کی، حفصہ کے بعد زینب آپﷺ کی بیوی بنیں۔ آپﷺ کے ساتھ صرف دو یا تین مہینے رہیں، پھر ان کا انتقال 4 ہجری کو ہوا، ان کے الگ سے مناقب اور فضائل نہیں ملتے تھے، لیکن ازواجِ مطہراتؓ کے حق میں جو عام فضائل وارد ہوئے ہیں ان میں حضرت زینبؓ بھی شامل ہیں جو ان کی افضلیت کے لیے کافی ہیں، اس کے علاوہ آپﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، یہ خصوصیت صرف ان ہی کو حاصل ہے، کیونکہ آپﷺ کی حیات مبارکہ میں حضرت خدیجہ اور ان کے علاوہ کسی اور بیوی کی وفات نہیں ہوئی، نبی کریمﷺ کا کسی کی نمازِ جنازہ پڑھنا اس کے حق میں رحمت ہے۔

6: ام سلمہ ہند بنت ابو امیہ: (حذیفہ) مخزومیہ قرشیہ، ان کے والد کا لقب ’’زاد الرکب‘‘ تھا کیونکہ وہ بڑے سخی تھے، اور آپ کے ساتھ سفر کرنے والا اپنے ساتھ توشہ نہیں لیتا تھا، ان کی ماں کا نام عاتکہ بنت عامر کنانیہ ہے جن کا تعلق بنو فراس سے ہے۔ ان کے شوہر اور چچا زاد بھائی ابو سلمہ بن عبدالاسد کے انتقال کے بعد حضورﷺ نے ان کی ساتھ شادی کی، (ابو سلمہ رسول اللہﷺ کے پھوپھی زاد بھائی بھی ہیں، کیونکہ ان کی ماں امیہ بنت عبدالمطلب ہے۔)

انہوں نے ابو سلمہ کے ساتھ حبشہ ہجرت کی پھر مدینہ بھی ساتھ میں ہجرت کی، کہا جاتا ہے کہ یہ پہلی مسافر عورت ہیں جو مدینہ میں داخل ہوئی، وہ بہت ہی خوبصورت اور شریف النسب عورت تھیں، راجح قول کے مطابق ازواجِ مطہراتؓ میں سب سے اخیر میں 61 ہجری کو ان کی وفات ہوئی۔ 

سیدہ ام سلمہؓ کے فضائل و مناقب:

1: نبی کریمﷺ نے ان کے ساتھ شادی کی اور ان کے حق میں دعا کی، امام مسلمؒ نے حضرت ام سلمہؓ سے روایت کیا ہے رسول اللہﷺ نے حاطب بن ابی بلتعہ کو میرے پاس اپنا پیغام دے کر بھیجا تو میں نے کہا: میری ایک بچی ہے اور میں بڑی باغیرت عورت ہوں۔ آپ نے فرمایا: اس کی بچی کے بارے میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ بچی کو اس سے بے نیاز کر دے، اور اللہ سے میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اس کی غیرت کو ختم کر دے۔ 

(صحیح مسلم: کتاب الجنائز: باب ما یقال عند المصیبۃ: حدیث: 918)

2: رسول اللہﷺ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ جنتیوں میں سے ہے، امام احمدؒ نے ام سلمہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم پر کالی چادر ڈھانپی پھر فرمایا: اے اللہ! میں اور میرے گھر والے تیری طرف، نہ کہ جہنم کی طرف، وہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور میں آپﷺ نے فرمایا: اور تم بھی۔ 

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 296، جلد 6 صفحہ 304، شیخ شعیب ارناؤوط نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، نبی کریمﷺ کے پروردہ (ربیب) عمرو ابن ابو سلمہ سے روایت ہے، جس میں وہ حضرت ام سلمہؓ سے نقل کرتے ہیں: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان کے ساتھ ہوں؟ آپﷺ نے فرمایا: تم اپنی جگہ پر ہو، تم خیر کی طرف جانے والی ہو، یہ روایت صحیح ہے، اس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے، حدیث: 3812، البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے، اس حدیث میں ام سلمہؓ کی فضیلت واضح ہے۔

3: صلح حدیبیہ کے موقع پر ان کی حکمت اور حسنِ تدبیر واضح اور نمایاں طور پر ظاہر ہوتی ہے، جب رسول اللہﷺ نے لوگوں کو پکار کر کہا: لوگو! قربانی کرو اور بال منڈواؤ۔ راوی کہتے ہیں کہ کوئی بھی کھڑا نہیں ہوا، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپﷺ نے لوگوں کو دوبارہ پکارا، لیکن کوئی کھڑا نہیں ہوا، پھر آپ نے یہی بات پکار کر کہی، پھر بھی کوئی کھڑا نہیں ہوا، پھر آپ نے یہی بات پکار کر کہی، پھر بھی کوئی کھڑا نہیں ہوا۔ رسول اللہﷺ واپس ہوئے اور حضرت ام سلمہؓ کے پاس آئے اور فرمایا: ام سلمہ! لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ ام سلمہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے غم کو آپ دیکھ ہی رہے ہیں، ان میں سے کسی کے ساتھ بات مت کیجیے، آپ کی قربانی کا جانور جہاں ہے وہاں جائیے اور اس کو ذبح کیجیے اور اپنا سر منڈائیے، اگر آپ اس طرح کریں گے تو لوگ بھی ایسا کریں گے۔ رسول اللہﷺ نکلے کسی سے بات نہیں کی، یہاں تک کہ اپنے قربانی کے جانور کے پاس آئے اور اس کی قربانی کی، پھر آپ بیٹھ گئے اور اپنے بالوں کو منڈایا۔ یہ دیکھ کر لوگ قربانی اور حلق کرنے لگے، راوی کہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان پہنچے تو سورۃ فتح کی آیتیں نازل ہوئیں۔ 

(مکمل حدیث کے لیے دیکھیے: مسند امام احمد: جلد 4 صفحہ 323، شیخ شعیب ارناؤوط نے اس کو حسن کہا ہے۔)

اس مشورے سے اللہ کی طرف سے حضرت ام سلمہؓ کو عطا کردہ عقل اور حسنِ تدبیر کا واضح طور پر پتہ چلتا ہے۔

7: زینب بنت جحش بن رباب بن یعمر اسدیہ یہ اولین ہجرت کرنے والوں میں سے ہیں، ان کی ماں امیمہ بنت عبدالمطلب بن ہاشم ہیں جو نبی کریمﷺ کی پھوپھی ہیں، نبیﷺ نے ان کے ساتھ تین یا پانچ ہجری کو شادی کی، اس سے پہلے ان کی شادی رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن ثابتؓ کے ساتھ ہوئی تھی، جن کو ابن محمد کہہ کر پکارا جاتا تھا، اسی موقع پر اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی کے ساتھ شادی کرنے کا مسئلہ پیش آیا، کیونکہ نبی کریمﷺ نے نبوت سے پہلے زید بن ثابتؓ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا، اسی وجہ سے ان کو زید بن محمد کہا جاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس نسب کو منقطع کر دیا اور یہ آیت نازل فرمائی:

اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ (سورۃ الاحزاب آیت 5)

’’ان کے باپوں کے نام کے ساتھ ان کو پکارو، یہ اللہ کے نزدیک انصاف کی بات ہے۔‘‘

پھر زینب کے ساتھ رسول اللہﷺ کی شادی کرا کے اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو موکد کر دیا اور یہ آیت نازل فرمائی:

اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ (سورۃ الأحزاب آیت 5)

’’ان کے باپوں کے نام کے ساتھ ان کو پکارو، یہ اللہ کے نزدیک انصاف کی بات ہے۔‘‘

اس واقعے کے سلسلے میں یہ آیت بھی نازل ہوئی:

﴿فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا (سورۃ الاحزاب آیت 37)

’’پس جب زید کا ان سے جی بھر گیا تو ہم نے آپ کی شادی ان کے ساتھ کر دی۔‘‘

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا دین، تقویٰ اور سخاوت میں عورتوں کی سردار تھیں، نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد سب سے پہلے ان ہی کی وفات 20 ہجری کو ہوئی۔

سیدہ زینب بنت جحشؓ کے فضائل و مناقب:

1: اللہ تعالیٰ نے ان کی شادی اپنے نبی کے ساتھ خود کرائی۔

وَاِذۡ تَقُوۡلُ لِلَّذِىۡۤ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ وَاَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِ اَمۡسِكۡ عَلَيۡكَ زَوۡجَكَ وَاتَّقِ اللّٰهَ وَتُخۡفِىۡ فِىۡ نَفۡسِكَ مَااللّٰهُ مُبۡدِيۡهِ وَتَخۡشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشٰٮهُ فَلَمَّا قَضٰى زَيۡدٌ مِّنۡهَا وَطَرًا زَوَّجۡنٰكَهَا لِكَىۡ لَا يَكُوۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ حَرَجٌ فِىۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِيَآئِهِمۡ اِذَا قَضَوۡا مِنۡهُنَّ وَطَرًاوَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ مَفۡعُوۡلًا۞(سورۃ الأحزاب آیت 37)

ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) یاد کرو جب تم اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور تم نے بھی احسان کیا تھا یہ کہہ رہے تھے کہ: اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں رہنے دو، اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھول دینے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے، حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اپنی بیوی سے تعلق ختم کر لیا تو ہم نے اس سے تمہارا نکاح کرا دیا، تاکہ مسلمانوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں اس وقت کوئی تنگی نہ رہے جب انہوں نے اپنی بیویوں سے تعلق ختم کر لیا ہو۔ اور اللہ نے جو حکم دیا تھا اس پر عمل تو ہو کر رہنا ہی تھا۔

اپنی اسی خصوصیت اور امتیاز کی وجہ سے حضرت زینبؓ ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں اور کہتی تھیں: تم لوگوں کی شادی تمہارے گھر والوں نے کرائی اور میری شادی اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کرائی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب التوحید: ’’وکان عرشہ علی الماء‘‘ حدیث: 7420)

2: ان کی شادی آیت حجاب کے نزول کا سبب ہے۔

امام بخاریؒ نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: جب حضرت زینبؓ کی شادی رسول اللہﷺ کے ساتھ ہوئی تو وہ آپ کے ساتھ گھر میں تھیں، آپﷺ نے کھانا پکوایا اور لوگوں کو مدعو کیا، لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، اس پر اللہ نے یہ آیت ناز فرمائی:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتَ النَّبِىِّ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡذَنَ لَـكُمۡ اِلٰى طَعَامٍ غَيۡرَ نٰظِرِيۡنَ اِنٰٮهُ وَلٰـكِنۡ اِذَا دُعِيۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانْتَشِرُوۡا وَلَا مُسۡتَاۡنِسِيۡنَ لِحَـدِيۡثٍ اِنَّ ذٰلِكُمۡ كَانَ يُؤۡذِى النَّبِىَّ فَيَسۡتَحۡىٖ مِنۡكُمۡ وَاللّٰهُ لَا يَسۡتَحۡىٖ مِنَ الۡحَـقِّ وَاِذَا سَاَ لۡتُمُوۡهُنَّ مَتَاعًا فَسۡئَـــلُوۡهُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ذٰلِكُمۡ اَطۡهَرُ لِقُلُوۡبِكُمۡ وَقُلُوۡبِهِنَّ وَمَا كَانَ لَـكُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰهِ وَلَاۤ اَنۡ تَـنۡكِحُوۡۤا اَزۡوَاجَهٗ مِنۡ بَعۡدِهٖۤ اَبَدًا اِنَّ ذٰلِكُمۡ كَانَ عِنۡدَاللّٰهِ عَظِيۡمًا۞ (سورۃ الأحزاب آیت 53)

ترجمہ: اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں (بن بلائے) مت جایا کرو، مگر یہ کہ تم کو کھانے کی اجازت دی جائے ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو، لیکن جب تم کو بلایا جائے تو چلے جاؤ، پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جاؤ اور باتوں میں جی لگا کر بیٹھے نہ رہو، اس سے نبی کو تکلیف ہوتی ہے، لیکن وہ تم سے شرماتے ہیں، اور اللہ حق بات کہنے سے شرماتا نہیں ہے اور جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے پاک رہنے کا ذریعہ ہے، اور تمہیں یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ، اور نہ یہ جائز ہے کہ آپ(ﷺ) کے بعد آپ کی بیویوں سے کبھی بھی شادی کرو، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی (گناہ کی) بات ہے۔‘‘

اس آیت کے نزول کے بعد پردہ فرض کیا گیا اور لوگ گھر سے واپس ہو گئے۔ 

(صحیح بخاری: کتاب التفسیر باب قولہ تعالیٰ: ﴿لا تد لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ﴾ حدیث: 4792)

3: نبی کریمﷺ نے اپنی بیویوں میں صدقہ کرنے اور اللہ کے راستے میں خرچ کرنے پر ان کی تعریف کی ہے۔

امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے پہلے مجھ سے آ کر وہ ملے گی جس کا ہاتھ سب سے لمبا ہے، وہ کہتی ہیں کہ ازواج مطہراتؓ اپنا اپنا ہاتھ پھیلا کر دیکھا کرتی تھیں کہ ان میں سے کس کا ہاتھ سب سے لمبا ہے وہ کہتی ہیں کہ ہم میں سب سے لمبا ہاتھ زینب کا تھا، کیونکہ وہ اپنے ہاتھ کی محنت سے کماتی تھیں اور صدقہ کرتی تھیں۔ 

(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابہ: باب من فضائل زینب ام المؤمنینؓ: حدیث: 3452)

4: حضرت زینبؓ کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ حضرت عائشہؓ نے ان کے بارے میں فرمایا: میں نے دین میں سب سے بہتر اللہ کا سب سے زیادہ تقویٰ رکھنے والی، سب سے سچی، سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والی، سب سے زیادہ صدقہ کرنے والی اور اس کام میں سب سے زیادہ خود کو کھپانے والی جس کا وہ صدقہ کرتی ہے اور اللہ سے تقرب حاصل کرتی ہے زینب سے بڑھ کر کسی عورت کو نہیں دیکھا۔ 

(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابہ: باب من فضائل عائشۃ ام المؤمنینؓ: حدیث: 2422)

8: جویریہ بنت حارث بن ضرار بن حبیب بن خزیمہ خزاعیہ مصطلقیہ، بنو مصطلق کی جنگ (غزوۂ مریسیع) میں پانچ یا چھ ہجری کو گرفتار ہوئیں اور ثابت بن قیسؓ کے حصے میں آئیں، جنہوں نے جویریہ کے ساتھ آزادی کا معاہدہ (مکاتبت: ( مکاتبت یہ ہے کہ آقا اپنے غلام کے ساتھ اس بات پر متفق ہو جائے کہ قسطوں میں اتنا مال ادا کرنے کی صورت میں تم آزاد ہو۔) کیا، رسول اللہﷺ نے مکاتبت کی رقم ادا کی اور ان کے ساتھ شادی کی، آپﷺ سے پہلے ان کی شادی مسافع بن صفوان کے ساتھ ہوئی تھی جو اس معرکے میں قتل ہو گیا تھا، حضرت جویریہؓ کی وجہ سے مسلمانوں نے ان کے خاندان کے سو قیدیوں کو آزاد کر دیا، اپنی قوم پر ان کی بڑی عظیم برکت تھی، ان کی وفات 50 ہجری کو ہوئی۔ 

سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب:

1: حضرت جویریہؓ کثرت سے اللہ کی عبادت اور ذکر کرتی تھیں۔

امام مسلمؒ نے حضرت عبداللہ بن عباس کے واسطے سے حضرت جویریہؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ فجر کی نماز کے لیے ان کے پاس سے نکلے، جب کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں تھیں، پھر آپ چاشت کے بعد واپس آئے تو وہ اسی جگہ پر بیٹھی ہوئی تھی، آپﷺ نے دریافت کیا: کیا تم ابھی تک اسی حالت میں ہو جس پر تم کو چھوڑ گیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! نبی کریمﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس سے جانے کے بعد میں نے تین مرتبہ چار کلمات ایسے کہے ہیں کہ اگر صبح سے جو تم نے کہا ہے ان کلمات کے ساتھ وزن کیا جائے تو یہ کلمات وزنی ہوں گے:

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ عَدَدَ خَلْقِہٖ وَرِضَا نَفْسِہٖ وَزِنَۃِ عَرْشِہٖ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہِ۔

(صحیح مسلم: کتاب الذکر والدعاء: باب التسبیح أول النہار وعند النوم حدیث: 2726)

2: رسول اللہﷺ نے ان کا نام جویریہ رکھا، جب کہ ان کا نام برّہ تھا۔

9: ام حبیبہ رملہ بنت ابو سفیان صنحر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف امویہ۔ ان کی ماں صفیہ بنت ابو العاص بن امیہ ہیں۔ بعث نبویﷺ سے سترہ سال قبل آپ کی پیدائش ہوئی، اپنے شوہر عبیداللہ بن جحش اسدی کے ساتھ اسلام قبول کیا اور ان دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی، وہاں حبیبہ کی پیدائش ہوئی، ان کے شوہر نے حبشہ میں نصرانیت قبول کی، لیکن یہ دینِ اسلام پر جمی رہیں، پھر مدینہ ہجرت کر آئیں، اللہ نے پہلے شوہر کے بدلے امت کے بہترین شخص رسول اللہ کو عطا فرمایا، یہ ازواجِ مطہرات میں رسول اللہﷺ کی سب سے قریبی رشتے دار ہیں، دونوں کا رشتہ عبد مناف پر جا کر ملتا ہے، ان کی وفات 44 ہجری کو ہوئی۔

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب:

1: جب ان کے والد ابو سفیان مسلمانوں اور قریش کی صلح کی مدت بڑھانے کے لیے مدینہ آئے تو ام حبیبہؓ نے رسول اللہﷺ کے بستر کی عزت اور احترام میں اپنے والد کو اس پر بیٹھنے نہیں دیا، کیونکہ وہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے۔

2: حبشہ کی طرف ہجرت ثانیہ میں یہ بھی تھی۔ 

(رسول اللہﷺ نے حبشہ کی طرف ہجر کرنے والوں کی تعریف کی ہے اور انھیں دو ہجرت کا مرتبہ دیا ہے، دیکھیے: صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابہ: باب فضائل جعفر بن ابی طالب واسماء بنت عمیس واہل سفینتہم رضی اللہ عنہم، حدیث: 2502)

10: صفیہ بنت حي بن اخطب بن سعیہ، ان کا تعلق مدینہ کے یہودی قبیلے بنو النضیر سے ہے اور یہ ہارون بن عمران کی نسل سے ہیں۔ اسلام لانے سے پہلے سلام بن مشکم ان کے شوہر تھے، ان کے انتقال کے بعد کنانہ بن ابو الحقیق نے ان کے ساتھ شادی کی، جو جنگ خیبر میں قتل ہوا، اور یہ گرفتار ہو کر دحیہ کلبیؓ کے حصے میں آئیں، دحیہ کلبی نے ان کے ساتھ مکاتبت کر لی نبی کریمﷺ نے مکاتبت کی رقم ادا کی اور آزاد کر کے ان کے ساتھ شادی کی اور ان کی آزادی کو ان کا مہر مقرر کیا، ان کی وفات 52 ہجری کو ہوئی۔

سیدہ صفیہ بنت حي رضی اللہ عنہا کے فضائل اور مناقب:

1: نبی کی بیوی، نبی کی بیٹی اور نبی کی بھتیجی۔

امام ترمذی رحمۃاللہ نے حضرت انسؓ سے روایت کیا ہے کہ سیدہ صفیہؓ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ سیدہ حفصہؓ نے انھیں یہودی کی بچی کہا ہے۔ یہ سن کر صفیہ رو پڑیں، جب رسول اللہﷺ ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں۔ آپﷺ نے دریافت کیا: تم رو کیوں رہی ہو؟ انہوں نے کہا: حفصہ نے میرے بارے میں یہ کہا ہے کہ میں یہودی کی بچی ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم تو نبی کی بیٹی ہو، تمہارے چچا نبی ہیں اور تم نبی کی بیوی ہو، پھر وہ کس چیز میں تم پر فخر کرتی ہے؟ پھر فرمایا: حفصہ! اللہ سے ڈرو۔

(ترمذی: کتاب المناقب: باب فضل أزواج النبیﷺ، حدیث: 3892، (یعنی تمہارے ابو ہارون علیہ السلام ہیں اور تمہارے چچا موسیٰ علیہ السلام ہیں اور تم میری بیوی ہو۔ ترمذی حدیث: 3892 کی روایت میں ہے کہ سیدہ صفیہؓ نے یہ کہا کہ تم دونوں مجھ سے کیسے بہتر ہو سکتی ہو، جب کہ میرے شوہر محمد ہیں، میرے والد ہارون ہیں اور میرے چچا موسیٰ ہیں۔

2: نبی کریمﷺ نے ان کو ’’سچی‘‘ کہا ہے، جب مرض الموت میں حضرت صفیہؓ نے رسول اللہﷺ اللہ سے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی! میری یہ خواہش ہے کہ جو بیماری آپﷺ کو لاحق ہے وہ مجھے ہو۔ دوسری ازواج مطہراتؓ نے گھور کر ان کو دیکھا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اس کو معیوب سمجھا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، وہ سچی ہے۔

(مصنف عبدالرزاق: جلد 11 صفحہ 431۔ حدیث: 20922۔ طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 128۔)

11: میمونہ بنت حارث بن حزن بن عامر بن صعصعہ ہلالیہ: ان کی ماں کا نام ہند بنت عوف ہے، پہلے ان کی شادی مسعود بن عوف ثقفی سے ہوئی، پھر دوسری شادی ابورہم بن عبدالعزی سے ہوئی، جس کا انتقال ہو گیا تو میمونہ کے وکیل حضرت عباس (عباس بن عبدالمطلب ان کی بہن فضل بنت حارث کے شوہر تھے، اس حیثیت سے میمونہ حضرت عبداللہ بن عباس کی خالہ ہوتی ہیں۔) نے نبی کریمﷺ کے ساتھ نکاح پڑھایا، مکہ سے قریب مقامِ سرف میں ان کے ساتھ رخصتی کی، نبی کریمﷺ نے سب سے اخیر میں سن 7 ہجری کو عمرۃ القضا کے موقع پر ان کے ساتھ شادی کی۔ 

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب:

1: نبی کریمﷺ نے ان کے ایمان کی گواہی دی ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’نبیﷺ کی بیوی میمونہ، ان کی بہن ام فضل بنت حارث، ان کی بہن سلمی بنت حارث حمزہ کی بیوی اور ان کی اخیافی بہن اسماء بنت عمیس، یہ سب مومن بہنیں ہیں۔ 

(مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 32، 33، حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے، اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، البانی نے کہا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے۔)

2: رسول اللہﷺ نے ان کا نام میمونہ رکھا۔

حاکم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ میری خالہ میمونہ کا نام برہ تھا، آپﷺ نے ان کا نام بدل کر میمونہ رکھا۔ (صحیح مسلم عن ابی ہریرہؓ، مستدرک حاکم میں ابن عباس سے یہ روایت ہے: جلد 4 صفحہ 30)