میں شیعہ ہونے کا اعلان کرنے ہی والا تھا! - ردِ رافضیت |…

میں شیعہ ہونے کا اعلان کرنے ہی والا تھا!

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 1 از 4

میں شیعہ ہونے کا اعلان کرنے ہی والا تھا!

 داستانِ ہدایت ۔۔۔۔۔۔شیخ محمد فراست

شیخ محمد فراز کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھاجو کم علم صوفیوں کی محبت میں تفضیلیت زدہ تسنن کا شکار تھا یعنی بظاہر سنی تھا مگر درحقیقت وہ تفضیلی شیعہ تھا ان کے گھر میں شہادت نامے پڑھے جاتے تھے ان کی شیعہ لڑکوں سے دوستی تھی اس کی وجہ سے وہ شیعوں کی مجالس میں بھی جاتے تھے شیعہ خطیبوں کی لفظی بھول بھلیوں سے متاثر ہو کر شیعوں کی طرف مائل ہو گئے تھے حتی کہ ایک ایسا وقت آیا کہ انہوں نے شیعہ ہونے کا اعلان کرنے کے لیے راہیں ہموار کرنا شروع کر دی لیکن اللہ تعالی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔۔۔۔۔وہ شیعہ کے اعلان کرنے سے اور شیعی قائد کے تاثر سے کیسے بچے۔۔۔۔۔۔؟! اس کی تفصیل انہوں نے آیات بیناتِ کے شروع میں لکھی ہیں آئیے انہی کی زبانی سنتے ہیں۔

شیعہ سے متاثر ہونے کے اسباب

آیاتِ بینات کی اشاعت میری ایک دیرینہ تمنا کی تکمیل ہے کیونکہ یہی وہ میری محسن کتاب ہے جس نے مجھے گمراہی کے اندھیرے غار میں گرنے سے بچا لیا بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کے اوائل میں میرے دل و دماغ پر شیعی افکار ونظریات چھائے ہوئے تھے بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ ان دنوں میں بظاہر تو اہلِ سنت مگر بہ باطن شیعہ تھا. شیعیت کی طرف مائل ہونے کے لیے میرے لیے یوں تو کئی سبب تھے مگر ان میں دو سبب بہت اہم تھے. ایک تو میرا گھریلو ماحول دوسرا میرا شیعہ دوست. میرے خاندان کے بزرگ کچھ عابد و زاہد مگر کم علم صوفیوں کی محبت میں اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے جانے انجانے میں تفضیلیت زدہ تسنن کا شکار تھے. اودھ کے اکثر گھرانوں کی طرف میرے گھر میں بھی شہادت نامہ پڑھنے اور تعزیہ داری کا رواج تھا. اسی ماحول میں میری بھی پرورش ہوئی. اور میں بذات خود سیدنا حسینؓ کی دردناک شہادت سے جو کہ مسلمانوں ہی کے ایک گروہ کے ہاتھوں ہوئی تھی. بے حد متاثر تھا اور آج بھی ہوں ـ اللہ مجھے معاف کرے ان دنوں سیدنا معاویہؓ کے بارے میں میرے خیالات بہت جارحانہ تھے اور ان کے بارے میں اکثر میری زبان سے نازیبا کلمات نکل جاتے تھے میری اس روش سے شیعہ دوستوں کو حوصلہ ملا اور انہوں نے زمین ہموار دیکھی تو دانہ ڈال کر آب پاشی شروع کر دی. ان دنوں لکھنؤ میں قصبہ جرول ضلع بہرائچ کے ایک وکیل صاحب جو کہ خطیب الایمان کے لقب سے مشہور تھے رد اہلِ سنت کرنے اور اپنی شعلہ بیانی کی وجہ سے شیعوں کے ایک خاص طبقہ میں کافی مقبول تھے میرے شیعہ دوست ایک طرف تو مجھے ان کی مجالس میں لے جانے لگے اور دوسری طرف خورشید خاور المعروف شبہائے پشاور اور ان جیسی مناظرانہ طرز کی کتابیں مطالعہ کے لیے دینے لگے چونکہ مجھے شیعہ سنی بنیادی اختلافی مسائل جیسے امامت تحریف قرآن اور سب صحابہؓ جیسے اصولی مسائل کا صحیح علم نہیں تھا اس لیے شیعہ خطیبوں کی لفظی بھول بھلیوں اور واقعہ کربلا کے حوالے سے ان کی فلسفیانہ موشگافیوں نیز منطقی دلائل سے متاثر ہو کر حب اہلِ بیت کے جذباتی نظریہ کی رو میں بہتا چلا گیا پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں نے اپنی شیعت کے اعلان کے لیے راہ ہموار کرنا شروع کر دی مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا اور ایک صوفی بزرگ کے ذریعے میری اصلاح مقدر تھی ـ

تم نے کوشش ہی نہیں کی

 قصہ یوں ہوا کہ ان دنوں میرے گھر والوں پر قصبہ سندیلہ ضلع ہردوئی کے ایک صوفی بزرگ جن کا نام سید محمد نور الحسن شاہ عرف اچھومیاں تھا کا کافی اثر تھا جنھیں ہم لوگ دادا میاں کہتے تھے اور میرے گھر والے اپنے اہم معاملات میں ان سے مشورہ کیا کرتے تھے ایک دن جب وہ میرے گھر تشریف لائے تو میں نےڈرتے ڈرتے تنہائی میں اپنے اس ارادے کا اظہار کر دیا کافی دیر تک تبادلہ خیال ہوتا رہا انھوں نے بڑے غور سے میری باتوں کو سننے کے بعد فرمایا کہ میرا خیال ہے تم نے اب تک شیعہ حضرات کو ان کی مجلسوں اور ان کی مناظرانہ طرز کی کتابوں ہی کا مطالعہ کیا ہے جن کا تمہارے دل و دماغ پر گہرا اثر ہے مذہب بدلنا کوئی معمولی بات نہیں اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے اہلِ سنت کی مناظرانہ طرز کی کتابوں کا بھی مطالعہ کرو اور پھر دونوں مزاہب پر غور و فکر کرنے کے بعد جس نتیجے پر پہنچو اس کے مطابق فیصلہ کرو میں نے عرض کیا کہ شاید اہلِ سنت میں مناظرانہ طرز کی کتابیں کم یاب ہیں. کیونکہ اب تک میری نظر سے جو کتابیں گزری ہیں وہ سیرتِ رسولﷺ اولیاء کرامؒ کے تذکروں یا پھر مسئلہ مسائل پر مشتمل تھیں۔ میری اس بات پر انہوں نے میری طرف بہت حیرت سے دیکھا اور فرمایا کہ تمہیں دستیاب نہیں ہوئی یا تم نے کوشش ہی نہیں کی۔

دیوبندی بریلوی کا کیا سوال

 لکھنؤ میں رہنے کے باوجود تمہارا یہ کہنا بڑا تعجب خیز ہے لکھنؤ تو شیعہ سنی مباحث کا گڑھ ہے. یہاں پر مولوی عبد الشکور کاکورویؒ نے شیعہ سنی مباحث پر قابل قدر کام کیا ہے خصوصا شیعوں کے عقیدہ تحریف قرآن پر تو بڑی معرکۂ الآرا کتابیں تحریر کی ہیں اگر تم کوشش کرتے تو ان کی کتاب تمہیں ضرور دستیاب ہو جاتیں میں نے عرض کیا! کہ حضرت وہ تو ایک وہابی دیوبندی نظریات کے عالم ہیں. ہم ان کی کتابیں کیوں کر پڑھیں؟ اس پر فرمایا کہ شیعہ سنی اختلافات میں دیوبندی, بریلوی کا کیا سوال اٹھتا ہے؟ دونوں خلفائے راشدینؓ کو خلیفہ برحق مانتے ہیں. دونوں اصحابِ رسولﷺ کی تعظیم کرتے ہیں. اس لیے اس معاملہ میں شیعوں کی طرف سے اٹھنے والے سوالوں کے دونوں جواب دہ ہیں۔ میں نے خود مولوی عبدالشکورؒ کی کئی کتابیں پڑھی ہیں۔ سندیلہ میں میرے والد کے ایک مرید شبومیاں ہیں جنہیں شیعہ سنی مباحث سے بڑا گہرا شغف ہے ان کے پاس اس طرح کی کتابوں کا اچھا خاصہ ذخیرہ ہے میں آٹھ دس دن میں سندیلہ پہنچ کر ان سے تمہارا ذکر کروں گا۔ اور کوئی آتا ہوگا تو اس کے ہاتھ تمہیں کچھ کتابیں بھجوا دوں گا جب ان کتابوں کا مطالعہ کرلو تو سندیلہ آنا میں ان سے تمہاری گفتگو بھی کروا دوں گا۔

صفحہ 1 از 4