Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اقتصادی بحران عام الرمادہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت میں اسلامی سلطنت ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہوئی اور اس میں کوئی تعجب نہیں، کیونکہ ابتلاء و آزمائش کے دور سے تمام اقوام، ممالک، جماعتوں، اور افراد کو ہمیشہ گزرنا پڑا ہے، یہ ایک قدیم سنت رہی ہے، امت مسلمہ بھی دیگر اقوام کی طرح ایک امت ہے، اس میں بھی اللہ کی سنت عادلہ قائم و جاری ہوتی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

بہرحال دورِ فاروقی کی سب سے عظیم آزمائش ’’عام الرمادہ‘‘ اور ’’طاعون عمواس‘‘ کی شکل میں منظر عام پر آئی، ہم اس مقام پر دونوں آزمائشوں سے متعلق بڑی تفصیل سے گفتگو چاہتے ہیں اور واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان بحرانی حالات میں حضرت عمرؓ کا کیا تعامل رہا، اور کس طرح آپؓ نے جائز اسباب کو اختیار کر کے اور اللہ تعالیٰ سے دعا و گریہ وزاری کر کے ان آزمائشوں سے سرخرو ہوئے؟

چنانچہ 18ھ میں جزیرہ عرب میں سخت قحط پڑا، لوگ خوراک کے لیے ترس گئے۔ بھوک کی شدت اور خوراک کے فقدان کا یہ عالم تھا کہ درندے بھاگ بھاگ کر انسانوں کے پاس پناہ لیتے تھے، آدمی بکری ذبح کرتا تھا لیکن کھا نہ پاتا کیونکہ وہ اس قابل نہ ہوتی، خشک سالی کی وجہ سے بہت سے مویشی بھوک کی تاب نہ لا سکے اور مر گئے، اس سال کا نام ’’عام الرمادہ‘‘ رکھا گیا، اس لیے کہ ہوا مٹی اور دھول کو راکھ کی طرح خوب اڑاتی تھی، سخت قحط پڑا، ایک لقمہ کھانا بھی ملنا مشکل ہو گیا تھا، لوگ دور دراز کے دیہی علاقوں سے بھاگ بھاگ کر شہروں میں جاتے یا ان کے قریب قیام کرتے اور اس عظیم مصیبت سے نجات پانے کے لیے امیر المؤمنین کی طرف سے کسی حل اور پیش قدمی کے منتظر تھے، جب کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس مصیبت کو سب سے زیادہ محسوس کرنے والے اور اس کے خطرناک نتائج سے سب سے زیادہ آگاہ تھے،

(فن الحکم: صفحہ 68، البدایہ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 98، تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 75)

بہرحال حضرت عمرؓ نے اس بحرانی کیفیت سے نمٹنے میں جو حکمت عملی اختیار کی اسے چند نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے: