Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خاتمہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

٭ واضح ہوا کہ رب تعالیٰ نے ان رافضیوں کی تدبیروں کو ناکام کیا جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے قتل کیا تاکہ امت کی وحدت ختم ہو، لیکن رب تعالیٰ نے اپنی حکمت سے امت میں ایک بار پھر وحدت پیدا فرما دی اور اس وحدت کا شرف بنو ہاشم کے چشم و چراغ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اور بنو امیہ کے چشم و چراغ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا جو دنوں حلم و کرم کے پیکر تھے۔ اس اتفاق نے اعدائے صحابہ پر شقاق و افتراق پھیلانے کے سب دروازے بند کر دئیے۔

اس بے مثال اتفاق و اتحاد نے اسلامی فتوحات کا دائرہ بے حد وسیع کر دیا اور مشرق و مغرب سنت نبویہ کے انوارات سے روشن ہو گئے۔ جناب جناب حسین رضی اللہ عنہ اس اتفاق و اتحاد کے ایک اہم ترین ستون تھے، جو خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں اخلاص اور جہاد کے لبادوں کے ساتھ زندگی گزارتے رہے۔ امت مسلمہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات تک اسی حال پر زندگی گزارتی رہی، جو امت پر بے حد شفیق تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ

’’میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بھیڑ کی طرح چھوڑ جاؤں، جس کا چرواہا نہ ہو۔‘‘ (تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 248)

٭ جب امت کے سربرآوردہ لوگوں کے مشورہ، اہل قوت و شوکت کی نصرت و تائید اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سکوت اور قول کے ساتھ یزید کی خلافت طے ہو گئی، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بصیرت سے بھانپ لیا کہ اعدائے صحابہ اور منافقوں کے دل ہرگز بھی سکون سے نہ رہیں گے اور وہ ازسر نو فتنہ کی آگ ضرور بھڑکائیں گے اور آپ نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ان فتنہ پردازوں میں بعض کا سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ تعلق ہے، تو آپ کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی مکر ضرور کریں گے اور اسی مکر کے ذریعے ان کی جان لینے کی کوشش بھی کریں گے۔ اسی لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو شدت کے ساتھ جناب حسین رضی اللہ عنہ کے معاملہ کی تاکید کی اور خبردار کیا کہ وہ دشمنانِ اسلام کے تیار کیے سیاسی جالوں میں پڑ کرہلاک ہونے سے بچے۔

٭ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو جن باتوں کا خدشہ تھا، افسوس کہ وہ باتیں ہو کر رہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پہلے سے ان باتوں سے کھٹک جانا، آپ کے گہرے سیاسی تدبر اور دور رس نگاہی کی دلیل ہے کہ آپ نے پہلے سے ہی اعدائے صحابہ کے مکر اور ان کے فریب کو بھانپ لیا تھا۔ آپ کی یہ فراست اور تدبر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر نقد و تبصرہ کرنے والوں کی حماقت کی کھلی دلیل ہے، کیونکہ یہ نالائق طبقہ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی چالیس سالہ مدبرانہ اور دیانت دارانہ زندگی پر قلم پھیر دینا چاہتے ہیں۔ امت کتاب و سنت کے اہل عقل و دانش کو اس امر پر متنبہ ہونا ازحد ضروری ہے، تاکہ وہ قاتلان حسین رضی اللہ عنہ کے مکر سے آگاہ ہوں۔

٭ یہ بھی معلوم ہو گیا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا خروج مغالطہ انگیز اور غلط معلومات کی بنا پر تھا۔ ان جھوٹی خبروں کو اعدائے صحابہ نے کمال ہوشیاری اور مکاری سے تراشا تھا۔ چنانچہ ان خبروں کے ذریعے یہ لوگ جناب حسین رضی اللہ عنہ کو دین و سنت کی نصرت و حمایت پر ابھارتے تھے۔

٭ ان لوگوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو یہ یقین دلایا کہ لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ چنانچہ انہوں نے قبائل کے سرداروں کی طرف سے جھوٹے خطوط لکھے، جن کی ان کو خبر بھی نہ تھی۔

٭ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ لوگ ان کے ساتھ ہیں، اسی لیے انہوں ے خروج کا اٹل فیصلہ فرما لیا۔ چنانچہ جناب حسین رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا وہ اس میں بلاشبہ سچے اور صادق و امین تھے اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ اعدائے صحابہ نے خطوط لکھ کر ثابت کر دیا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اس میں کاذب و خائن اور غدار و عیار ہیں۔

٭ چنانچہ یہ بات اول وہلہ میں ہی کھل کر سامنے آ گئی جب والی کوفہ کے ملنے کے بعد کوفیوں نے مسلم بن عقیلؓ کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا اور بالآخر وہ قتل کر دئیے گئے۔

٭ اس واقعہ میں ہر اس ناسمجھ کے لیے عبرت آمیز سبق ہے، جو آج ان اعدائے صحابہ کو اپنا دوست باور کرنے پر تلا ہوا ہے۔ بلاشبہ جن لوگوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے دھوکا کیا، وہ دوسروں کو دھوکا دینے پر زیادہ جری ہو گا۔

٭ یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ کوفی رافضی سبائی ہی تھے جنہوں نے جھوٹے خطوط لکھے، پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاصد مسلم بن عقیلؓ کے ساتھ رسوائے زمانہ غداری کی اور بعد میں خود جناب حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی غداری کی اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہ تھا۔ یہ غداری اس سے قبل یہ کوفی سیّدنا علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کر چکے تھے اور ان حضرات کے بعد ان غداروں نے یہ خیانتیں ائمہ اہل بیت کے ساتھ بھی کیں۔

٭ غدار کوفیوں کے اس مکر نے حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع کو ردّ کرنے پر ابھارا، جنہوں نے آپ کو خروج سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور نصیحت و وصیت کرنے میں کوئی کمی نہ کی۔ چنانچہ آپ نے اپنے مخلصین و محبین میں سے کسی کی بات نہ مانی اور کوفہ پہنچنے تک راستہ میں جو بھی ملا نہ اس کی بات مانی۔

٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے یہ سب شخصی یا خاندانی مفادات کے لیے نہ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب راستے میں آپ کو مسلم بن عقیلؓ کی شہادت پا جانے کی خبر ملی تو آپ نے لوٹنے کا ارادہ کیا لیکن مسلمؒ کے بیٹوں نے اب واپس جانا مناسب نہ سمجھا اور ان کے قتل کا بدلے لینے کا قطعی فیصلہ کر لیا۔ جس پر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی اس امید پر ان کی رائے کی موافقت کرنے پر مجبور ہو گئے کہ شاید آپ ان پر سے شر کو ہٹا سکیں۔

٭ کوفہ پہنچ کر جب آپ نے لشکریوں کی قوت دیکھی، تو یزید کے پاس جانے کے ارادے سے شام کا رخ کرنا چاہا لیکن کوفیوں نے نہ جانے دیا اور ان کے لشکریوں نے کربلا میں آپ کا محاصرہ کر لیا۔

٭ جب آپ نے دیکھا کہ یہ کوفی آپ کی جان لے کر ہی رہیں گے اور آپ کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ان کے آنے والے سب خطوط جھوٹے اور جعلی تھے، تو آپ صلح اور مفاہمت پر آمادہ ہو گئے اور ان کے سامنے تین تجاویز رکھ دیں، جن کو گزشتہ میں ذکر کر دیا ہے۔ لیکن ان سبائیوں نے تینوں تجاویز کو رد کر دیا۔

٭ کوفی سبائیوں کا ان تجاویز کو رد کرنا اور عمر بن سعد کی رائے کو بھی قبول نہ کرنا، جو آپ کی تائید میں تھا۔ ان کوفیوں کے ارادوں اور نیتوں کو واضح کرتا ہے کہ وہ صرف آپ کو قتل ہی کرنا چاہتے تھے، تاکہ سنت کے ایک زبردست حامی و ناصر کی آواز کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے اور امت کی وحدت کو انتشار و خلفشار کی آگ میں پھینک دیا جائے اور بعد میں انہی پاکیزہ خونوں کو امت کی صفوں میں فتنوں کے پھیلانے میں استعمال کریں گے۔

ابن مرجانہ کو جب عمر بن سعد کی رائے پہنچی کہ وہ صلح پر آمادہ ہے، تو ابن مرجانہ فارسیہ بھی اس کے لیے تیار ہو گیا۔ لیکن افسوس کہ کوفیوں نے اسے ایسا کرنے نہ دیا اور شمر بن ذی الجوشن رافضی نے اسے ڈرایا کہ آگے چل کر یہی حسین تیری حکومت کے کمزور کرنے اور گرانے کا سبب بنے گا۔ آج قابو میں ہے اس لیے ان کا قصہ ابھی نمٹا دو اور بالآخر اسے آمادہ کر لیا کہ وہ جناب حسین کی کسی رائے کو قبول نہ کرے۔ ابن مرجانہ فارسیہ نے ان کی بات مان کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے اس بات کا مطالبہ کر دیا کہ آپ صرف اس کے حکم پر اتریں۔ یوں ابن مرجانہ نے کوفیوں کی دلی مراد پوری کر ڈالی۔

٭ ابن مرجانہ کا مطالبہ ظلم اور یزید کی تاکید کے خلاف تھا۔ جبکہ اس میں صرف رافضیوں کی خوشی کا سامان  تھا۔ اسی لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ والی کوفہ کے حکم کو ردّ کرنے میں حق بجانب تھے۔ کیونکہ ابن مرجانہ کا حکم مجہول تھا، نہ جانے وہ کرنا کیا چاہتا تھا۔ اس لیے اس پر اعتبار نہ تھا کیونکہ وہ اصحاب رسول پر بے حد جری تھا۔ اس نے اہل کوفہ سے صرف اہل اسلام کی خون ریزی ہی سیکھی تھی۔

٭ ابن مرجانہ کی بات کو رد ہوتے دیکھ کر کوفی قتال پر اتر آئے۔ یہ دیکھ کر جناب حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں ان کے لکھے خطوط کا واسطہ دیا۔ لیکن وہ صاف مکر گئے کہ ہم میں سے کسی نے وہ خطوط نہیں لکھے۔ جس سے ان کا یہ بھیانک منصوبہ کھل کر سامنے آ گیا کہ دراصل یہ ائمہ سنت نبویہ کا خون پینا چاہتے ہیں۔ ان کا مشن ان کو مشکوک بنانا اور ان کے خلاف نفرتوں کو پھیلانا ہے۔

٭ جب قتال شروع ہو گیا، تو جناب حسین رضی اللہ عنہ پر اپنا اور اپنے اہل بیت کا اور دیگر ہمراہیوں کا دفاع کرنا واجب ہو گیا تھا۔ اس قتال کے نتیجے میں یہ حضرات شہید ہوئے۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بھائی، بھتیجے اور خود اپنی اولاد سوائے علی اصغر بن حسین بن علی زین العابدین کے، جو بیمار تھے۔ عمر بن سعد نے ان کے قتل سے تعرض کرنے سے منع کیا تھا۔ اسی طرح آل بیت کی خواتین سے بھی گریز کرنے کی تاکید کی تھی۔

٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نوجوان شہید ہوئے، جن کے نام حضرات خلفائے راشدین کے ناموں پر تھے، جن کی تفصیل گزشہ میں ذکر کی جا چکی ہے، لیکن یہ اعدائے صحابہ ان کے ناموں کو چھپاتے ہیں، تاکہ امت مسلمہ کو ان حضرات کی باہمی محبت و عقیدت کی خبر نہ ہو سکے۔ جو ائمہ اہل بیت اور حضرات خلفائے راشدین کے درمیان مضبوطی کے ساتھ قائم تھی تاکہ امت مسلمہ کو گمراہ کر کے ان میں فتنوں کو ہوا دے سکیں ۔

٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے بعد کوفی سبائی رافضی سر قلم کر کے ابن مرجانہ فارسیہ کے پاس لے گئے، اس بدبخت فاسق نے اپنے ہاتھ میں پکڑی چھڑی کو آپ کے چہرۂ مبارک کو مارنا شروع کیا۔ جس پر اس مجلس میں موجود حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسی سختی کے ساتھ جھڑکا اور جتلایا کہ جناب رسول اللہﷺ کو ان سے بے حد محبت تھی اور جہاں تم اپنی چھڑی مار رہے ہو، اس جگہ کو نبی کریمﷺ چوما کرتے تھے۔

٭ یہ قول باطل ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کے ساتھ یزید نے بھی ایسا ہی کیا تھا، جیسا کہ ابن مرجانہ فارسیہ نے کیا تھا۔ یہ اعدائے صحابہ کی اکاذیب میں سے ہے، جن کو یہ کم عقلوں اور کرم خوردہ فہم کے مالک لوگوں کو سناتے ہیں۔ کیونکہ اس روایت میں جن صحابہ کا نام لیا جاتا ہے، وہ تو اس وقت کوفہ میں تھے ناکہ شام میں۔

٭ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے سر کے مختلف شہروں میں دفن ہونے کی بابت اقوال غیر صحیح ہیں، جن کی تفصیل گزشتہ میں ذکر کی جا چکی ہے۔ ان روایات کو رافضیوں نے اپنے باطنی مقاصد کے حصول کے لیے شائع کیا ہے۔ تاکہ جا بجا مشاہد و مزارات قائم کر کے مساجد کی اہمیت کو گھٹایا جا سکے۔ تاکہ وہ مشاہد و مزارات ان کی قوت کے اظہار کے اڈے اور ان کے منبر حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم پر سب و شتم کرنے کے تھڑے بن سکیں اور جہاں کہیں انہیں ذرا قوت حاصل ہو وہاں خوب کھل کر دشنام طرازی کا بازار گرم کیا جا سکے۔

٭ آل بیت حسین رضی اللہ عنہ کی خواتین کی بے حرمتی کی بابت مروی جملہ روایات باطل، بے سند اور بے اصل ہیں جو صحیح روایات کے متناقض ہیں۔

٭ کسی صحیح روایت سے یہ ثابت نہیں کہ یزید کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل ہو جانے کی خبر بھی تھی، چہ جائیکہ وہ اس بات کا حکم بھی دیتا، اور قتل حسین کی خبر سن کر اس کے خوش ہونے کی روایت بھی بے، اصل و بے سند ہے۔ دراصل ان روایات کی آڑ میں یہ اعدائے صحابہ اپنے دل کے سرور کا اظہار کرتے ہیں، تحقیقی بات یہ ہے کہ قتل حسین کی خبر سن کر یزید اور اس کے اہل خانہ مارے غم کے رونے لگے تھے۔

٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قتل جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی وصایا اور احکام کی کھلی خلاف ورزی تھی اور اس میں خود دولت اسلامیہ کی مصلحت بھی نہ تھی۔ لیکن اعدائے صحابہ نے یہ قتل کیا تاکہ دولت اسلامیہ میں انتشار پھیلے اور بنو امیہ طعن کی زَد میں آ جائیں، تاکہ امت ان پروپیگنڈوں میں لگ کر اصل قاتلوں سے بے پروا ہو جائے۔

٭ صحیح روایات بتلاتی ہیں کہ یزید نے آل بیت حسین کی خواتین کا بے حد اکرام و اعزاز کیا، ان کی غم گساری و دلداری کی۔ یزید نے اس حادثہ فاجعہ کی بابت اپنی بے علمی کا عذر پیش کیا، جس کو آل بیت حسین نے قبول کیا۔

٭ یزید سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ذریت کا بے حد اکرام اور رعایت کرتا تھا۔ بالخصوص امام زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ کے اکرام میں بے حد مبالغہ کرتا اور ان کے احوال کی جستجو میں رہتا۔ ان کی ضروریات پوری کرتا، پھر امام زین العابدین نے بھی یزید کے ساتھ وفا کی اور کبھی اس کے خلاف نہ خروج کیا اور نہ خروج کرنے والوں کا ساتھ ہی دیا۔ حتیٰ کہ یزید کی وفات کے بعد بھی امام زین العابدین سے یزید کی مذمت کی بابت کوئی قول یا تحریر صحیح روایات میں منقول نہیں ملتی۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے قتل ہونے سے پہلے اس گناہ کا ذمہ دار غدار کوفیوں کو ٹھہرایا اور ان کے سامنے اس بات کو صراحت کے ساتھ ذکر بھی کیا۔ جیسا کہ امام زین العابدین ہمیشہ اہل کوفہ کو قتل حسین رضی اللہ عنہ کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔ یہی رائے زینب بنت علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بھی تھی اور محمد بن حنفیہ بھی ہمیشہ کوفیوں کی گردن پر قتل حسین رضی اللہ عنہ کے خون کو تلاش کرتے تھے۔ جبکہ سادات اہل بیت جیسے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ، بھی کوفیوں کو ہی خون حسین کا اصل قاتل قرار دیتے تھے۔

٭ اہل بیت میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں کہ انہوں نے یزید کو قتل حسین کا ذمہ دار کہا ہو اور یزید کی وفات تک اہل بیت میں سے کسی نے بھی یزید کے خلاف خروج نہ کیا تھا۔ اس باب میں جو کچھ بھی کہا جاتا ہے، وہ نرا باطل اور سراسر کذب ہے۔ جو اعدائے صحابہ کے اباطیل و اکاذیب میں سے ہے، جن کو یہ لوگ صرف حقائق کو بدلنے کے لیے دہراتے رہتے ہیں اور جن پر صرف مخبوط الحواس لوگ ہی کان دھرتے ہیں۔

دوسرے ان روایات کی آڑ میں مظلومیت کے عقیدہ کو فروغ دینا مقصود ہے، تاکہ اس گھناؤنے ترین جرم کے اصل مجرم بری رہیں۔

٭ شعائر حسینیہ کے نام سے کیے جانے والے افعال نری رسمیں ہیں، جن کی آڑ میں قاتلان حسین شبہات پیدا کر کے خود کو اس جرم سے بری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ رسوم ائمہ اہل بیت کے ادوار میں نہ تھیں، بلکہ بعد کے عہود میں ایجاد کی گئی ہیں اور یہ بھی معلوم رہے کہ نوحہ کرنا، سینہ کوبی کرنا، زنجیر زنی کرنا اور سیاہ لباس پہننا سب حرام ہے اور مکروہ ترین بدعت ہے۔

٭ شیعہ عاشوراء کے روزہ کا انکار کر کے اسے امویوں کی ایجاد قرار دیتے ہیں، حالانکہ اس روزہ کی سنت خود نبی کریمﷺ نے رکھی، کیونکہ اس دن سیّدنا موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی تھی اور فرعون اپنے لشکروں سمیت غرق ہوا تھا۔

عاشوراء کے روزہ کا قتل حسین رضی اللہ عنہ کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، جو تقدیر سے دس محرم کو پیش آ گیا تھا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کی اولاد اور امت مسلمہ بہت پہلے سے عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے۔

٭ قتل حسین رضی اللہ عنہ کی منصوبہ بندی صرف رافضی کوفی سبائیوں نے کی تھی۔ اس لیے اس جرم کا گناہ صرف انہی کے سر ہے اور آج بھی یہ لوگ امت مسلمہ کے خون سے ہولی کھیلنے کے جرم کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ امت مسلمہ کا امن، سلامتی اور وحدت انہیں نہ کل بھائی تھی اور نہ آج بھاتی ہے۔

٭ شیعہ مقبروں اور زیارت گاہوں کے بنانے کو جائز سمجھتے ہیں، حالانکہ نبی کریمﷺ نے ان کاموں سے منع فرمایا ہے۔

گزشتہ مذکورہ تمام معلومات کی روشنی میں اس بات کی ازحد ضرورت ہے کہ امت مسلمہ اپنا علم صحیح کرے اور ایک بھرپور علمی تحریک چلائی جائے، جس میں جملہ صلحاء اور مخلصین بھرپور شرکت کریں اور اپنی اپنی وسعت کے بقدر اس تحریک میں اپنی صلاحیتیں خرچ کریں۔ ضرورت ہے توحید و وحدت امت پر غیر کھانے والے مسلمانوں کی جن کو آل بیت رسول اور حضرات صحابہ کرام پر بے حد غیرت ہو کہ وہ آگے بڑھیں اور ایک بنیادی سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیں، جس کے ارکان و اساطین قرآن و سنت کی بنیادوں پر کھڑے ہوں۔ ان قواعد و ضوابط میں امت کے اسلاف کی سیرت اور تجربات کا نچوڑ ہو اور ایک ایسا مضبوط معاشرہ تشکیل دیا جائے جو حال کو دیکھ کر چلے اور اس کی نگاہ مستقبل پر بھی ہو اور جو لوگ امت مسلمہ کے وجود، اس کے عقیدہ و مذہب اور عبادت و افعال سے کھلواڑ کرنا چاہیں، ان کے سامنے سد سکندری بن کر کھڑا ہو۔ یہ معاشرہ ایک ایسا حتمی موقف اختیار کرے، جو اسلامی معاشرے کے امن اور سلامتی کا ضامن ہو، اس میں کتاب و سنت کا عقیدہ محفوظ اور ارتداد و قبائلی عصبیت نابود ہو۔ اس میں آنے والی نسلوں کا تحفظ یقینی ہو اور اس معاشرے کے گرد حزم و احتیاط کی ایسی باڑ لگی ہو، جو ان کی الفت و محبت، اتفاق و اتحاد، تعاون و تناصر، تناصح و تضحیہ اور راہ خدا میں خرچ کرنے کی بنیادی صفات کی بیرونی بد عقیدگیوں اور سازشوں کی یورش سے حفاظت کرے۔

اخیر میں رب ذوالجلال کے اسماء حسنیٰ کے طفیل اس بات کی دعا ہے کہ رب تعالیٰ ہماری اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور اسے خالص اپنی ذات کے لیے بنا لے اور اسے سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کی نصرت و حمایت کا قوی ذریعہ بنائے اور ہر مظلوم کی داد رسی کا سبب بنائے۔ ہم امت مسلمہ کے نوجوانوں کو اس بات کی بھرپور دعوت دیتے ہیں کہ وہ اخوت، وحدت، فراست، کتاب و سنت پر اعتماد، اسلافِ امت پر اعتقاد اور ان سے محبت و ولاء کے اسباب کو مضبوطی سے تھامیں اور کتاب و سنت اور اسلاف بالخصوص حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور آل بیت رسولﷺ کے دشمنوں سے ازحد بچیں۔

میں اپنی ہر خطا، بھول چوک، لغزش، کمی کوتاہی اور نادانی کی رب تعالیٰ سے معاف مانگتا ہوں۔

وَ آخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّ آلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔