مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 9

مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد

[وہ عقائد جن میں اسلام کی طرف منسوب فرقے اہل کلام ؛ اہلِ سنت سے جداگانہ نظریات رکھتے ہیں ]

خوارج اور معتزلہ اور جھمیہ وہ اہلِ سنت و الجماعت سے کسی حق مسئلہ میں منفرد نہیں ہوتے؛ بلکہ ان کے پاس جتنا بھی حق موجود ہے؛ اہلِ سنت و الجماعت میں کسی نا کسی نے اس کا ضرور کہا ہوتا ہے۔ لیکن یہ لوگ قلتِ عقل اور کثرتِ جہالت کے باوجود اس مقام تک نہیں پہنچے جہاں تک رافضی پہنچے ہیں ۔

ایسے ہی اہل کلام اور اہلِ رائے میں سے جو مختلف فرقے اپنے آپ کو اہلِ سنت کی طرف منسوب کرتے ہیں ؛مثلاً کلابیہ؛ اشعریہ؛ کرامیہ؛ سالمیہ ؛ اور جیسے فقہی گروہ؛ حنفیہ ؛ مالکیہ ؛سفانیہ ؛ اوزاعیہ ؛ شافعیہ ؛ حنبلیہ؛ اور داؤدیہ اور ان کے علاوہ دیگر فرقے۔ اہلِ سنت و الجماعت سے منقول مشہور اقوال کی تعظیم کے باوجود ؛ان میں کسی ایک فرقہ کا بھی کوئی انفرادی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس میں وہ امت سے جدا ہوں ؛اور حق ان کے ساتھ ہو۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک گروہ کے پاس جو بھی حق اور صواب پایا جاتا ہے؛ وہ ان کے علاوہ دوسرے فرقوں کے پاس بھی پایا جاتا ہے۔ ہاں کبھی ان میں سے کسی ایک کے ہاں کوئی ایسی انفرادی غلطی پائی جاتی ہے جو کسی دوسرے فرقہ میں نہیں پائی جاتی ۔ لیکن کبھی کسی ایک گروہ میں کوئی منفردانہ حق مسئلہ ایسا ہوتا ہے جس میں وہ دوسرے فرقوں سے مناظرہ و مباحثہ کرتے ہیں ۔ جیسے اہل مذاہب اربعہ ۔ ان میں سے ہر ایک کے ہاں کچھ انفرادی مسائل ہوتے ہیں ۔ تو حق اور صواب اسی کے پاس ہوتا ہے جسے سنت سے تائید حاصل ہو؛ دوسرے تین کے پاس نہیں ہوتا۔ لیکن ان کا یہ قول ان کے علاوہ صحابہؓ وتابعینؒ اور دیگر تمام علمائے امت میں سے کسی نا کسی کا قول رہا ہوتا ہے۔ بخلاف اس مسئلہ کے جس میں یہ منفرد ہوں ؛ اوروہ مسئلہ ان کے علاوہ کسی دوسرے سے منقول نہ ہو۔ اس صورت میں یہ صرف خطاء ہی ہوسکتی ہے۔ یہی حال اہل ظاہر کا ہے۔ہر وہ قول جس میں وہ تمام امت سے منفرد اور امتیازی حیثیت رکھتے ہیں ؛ وہ خطاء ہوتا ہے۔ ہاں اگر وہ ائمہ اربعہ کے اقوال سے منفرد ہوں ؛اور وہ قول صواب بھی ہو تو پھر یہ ان کے علاوہ بھی اسلاف میں سے کسی ایک کا عقیدہ رہا ہوتا ہے۔

وہ انفرادی مسائل جن میں باقی تین گروہوں میں سے کسی ایک کی کوئی منفردانہ حیثیت ہو؛ تواس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔ لیکن اکثر یہ ہوتا ہے کہ باقی تینوں مذاہب کے ماننے والوں میں سے بھی کچھ نہ کچھ حضرات اس مسئلہ میں ان کے موافق ہوتے ہیں ۔ اس کی مثال ؛ جیسے امام ابو حنیفہؒ کا قول ہے کہ :’’محرم کے لیے کٹے ہوئے موزے اور اس مشابہ دوسرا لباس [جمجم اور مداس]پہننا جائز ہے۔ امام احمدؒ کے مذہب میں بھی اس کی ایک توجیہ موجود ہے۔

پھر آپ کا یہ مسلک کہ دادا بھائیوں کی وراثت کو ساقط کردیتا ہے۔ اس مسئلہ میں امام شافعیؒ اور امام احمد رحمہؒ کے کچھ اصحاب نے موافقت کی ہے اور ایسے ہی آپ کا قول کہ: مسح سے طہارت حاصل کرنے کے لیے دوام طہارت شرط ہے۔ نہ کہ ابتداء اور آپ کا یہ قول کہ نجاست کو جس چیز سے بھی ختم کیا جائے؛ وہ ختم ہو جاتی ہے۔یہ امام احمدؒ کے مذہب میں ان کے تین اقوال میں سے ایک قول ہے؛ اور امام مالکؒ کے مذہب میں بھی ایک قول ہے۔ ایسے ہی آپ کا یہ قول کے چیز کے تحلیل ہو جانے سے طہارت حاصل ہو جاتی ہے۔ اور جیسے امام مالکؒ کا قول ہے کہ: خمس کے وہی مصارف ہیں جو مالِ فئے کے مصارف ہیں ۔امام احمدؒ کے مذہب میں بھی یہ ایک قول ہے۔ خمس رکاز کے بارے میں آپ سے دو روایتیں ہیں ۔ کیا انہیں فئے کے مصارف میں خرچ کیا جائے گا یا زکوٰۃ کے مصارف میں ؟ اور جب اسے فئے کے مصارف میں خرچ کیا جائے تو وہ مال غنیمت کے خمس کے تابع ہوتا ہے۔

ایسے ہی آپ کا یہ قول کہ: ہر اس کافر سے جزیہ لینا جائز ہے جس کے ساتھ معاہدہ جائز ہو۔ اس میں عرب اور عجم میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ اور نہ ہی اہل کتاب اور دوسروں کے مابین کوئی فرق کیا جائے گا۔ اور نسب کا معاملہ بھی ہرگز معتبر نہیں ہوگا۔ بلکہ استرقاق؛ مناکحت اور حلتِ ذبائح میں دین معتبر ہوگا۔ یہ قول اس باب میں صحیح ترین قول ہے۔امام احمدؒ کے ہاں دو اقوال میں سے ایک قول یہی ہے۔ امام احمدؒ کا اختلاف صرف مشرکین عرب سے جزیہ وصول کرنے میں ہے۔ جب کہ آیت جزیہ کے نزول کے بعد عرب میں کوئی مشرک باقی نہیں رہا؛ بلکہ تمام مشرکین عرب نے اسلام قبول کرلیا تھا۔

جیسے امام مالک رحمہؒ کا قول ہے کہ اہل مکہ منی اور عرفات میں قصر کریں گے؛امام احمدؒ اور دیگر کے مذہب میں بھی ایک قول یہی ہے۔

جیسے دلائل اور شواہد کی موجودگی میں فیصلہ کرنے سے متعلق آپ کا مذہب ہے؛ اوراقامت حدود ؛ اور مقاصد شریعت کے بارے میں ۔ یہ آپ کے مذہب کے محاسن میں سے ہے۔ امام احمدؒ کا مذہب اکثر مسائل میں آپ کے مذہب کے قریب تر [یا موافق]ہوتا ہے۔

جیسے امام شافعیؒ کا مذہب ہے کہ اگر بچے نے پہلے وقت میں نماز پڑھ لی ہو؛ اور پھر وہ بالغ ہو جائے تو وہ نماز نہیں لوٹائے گا۔بہت سارے لوگ اس مسئلہ کی وجہ سے امام شافعیؒ پر عیب نکالتے ہیں ۔ مگر وہ اس مسئلہ میں غلطی پر ہیں ؛ اس میں حق وہی ہے جو امام شافعیؒ نے فرمایا ہے۔یہ مسئلہ کئی جگہ پر تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔اور امام احمدؒ کے مذہب میں بھی ایک توجیہ یہی ہے۔

ایسے ہی ذوات الاسباب نمازیں ؛ جب ممنوع وقت میں پڑھی جائیں ۔ اس سلسلہ میں امام احمدؒ سے دو روایتیں ہیں ۔ ایسے ہی منی کی طہارت کے بارے میں ؛ آپ کا قول۔ امام احمدؒ کے دو اقوال میں سے ایک قول اسی کے موافق ہے۔

جیسے زانیہ عورت سے نکاح کی بابت امام احمدؒ کا قول ہے۔ آپ اس وقت تک اسے جائز نہیں کہتے جب تک وہ توبہ نہ کر لے۔ اور جیسے کہ آپ کا قول ہے کہ اگر شکار زخمی ہوکر غائب ہوجائے اور پھر وہ [مردہ حالت میں ] مل جائے تو اگر اس میں کسی دوسرے زخم کے اثرات و نشانات نہیں ہیں تو اس سے کھانا جائز ہے۔ امام شافعیؒ کے مذہب میں بھی ایک قول یہی ہے۔

صفحہ 1 از 9