Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عہد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں ولایت عہد کے تصور پر اعتراضات

  علی محمد الصلابی

نظام اسلام حکمران کے انتخاب کے لیے کسی معین طریقہ کار کی صراحت نہیں کرتا البتہ اس نے اس کے لیے ایک ایسی اساس ضرور وضع کر دی ہے جس سے بجز اضطراری حالت کے انحراف کرنا جائز نہیں ہے اور وہ ہے: شوریٰ۔ مگر شوریٰ کے لیے بھی کوئی ایسا خاص اسلوب اور ایک ہی طریقہ کار نہیں ہے جس کے بغیر وہ متحقق نہ ہو سکتی ہو، اس کے الگ الگ طریقہ ہائے کار ہیں جیسا کہ ہم نے خلفائے راشدینؓ کے انتخاب میں مشاہدہ کیا۔ اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسلمان قوم کے اتحاد و اتفاق اور اسے خون ریزی سے بچانے کے لیے اسلامی نظام حکومت میں ولایت عہد کا طریقہ ایجاد کیا تھا تو وہ اس کے لیے ان شاء اللہ ماجور من اللہ ہیں۔ البتہ وہ اس بات پر قادر تھے کہ وہ ایسا اپنے بیٹے کے علاوہ اس وقت موجود کبار صحابہ کرامؓ  میں سے کسی کے لیے کرتے اگر انہیں یہ ذمہ داری تفویض کی جاتی تو یقیناً وہ اس کا حق ادا کرتے، اس وقت حسین بن علی رضی اللہ عنہما، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وغیرھم موجود تھے مگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سب سے احتراز کرتے ہوئے اپنے بعد اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ بنانے کا پروگرام بنایا اور اس طرح اسلامی نظام حکومت میں ایک حقیقی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی، یہ تبدیلی ولایت عہد کے نظام کے ایجاد کرنے میں نہیں تھی بلکہ اصل تبدیلی یہ تھی کہ ولی عہد خلیفہ کا بیٹا یا اس کا کوئی قرابت دار ہو، یہاں تک کہ حکومت خلافت راشدہ کی بجائے ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔

(الامویون بین الشرق و الغرب للوکیل: جلد 1 صفحہ 180)

اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت کی اتباع کے لیے مامور ہیں تو پھر نظام وراثت

کا التزام نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور نہ ہی خلفاء راشدینؓ کی۔ مزید برآں خلافت کے لیے یزید کی نامزدگی مندرجہ ذیل اسباب کی بناء پر درست نہیں تھی، اس وقت اسلامی معاشرے میں یزید سے کہیں زیادہ خلافت کے حق دار لوگ بھی موجود تھے جو اپنے علم و عمل، مقام و مرتبے، سابق الاسلام اور شرف صحابیت کے اعتبار سے اس سے کہیں بڑھ کر تھے۔ جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرھم۔ چہ نسبت خاک را بعالم پاک۔

(تاریخنا المفتری علیہا، قرضاوی: صفحہ  250)

یہ باپ سے بیٹے کی طرف انتقالِ حکومت کا آغاز تھا۔

علیٰ کل حال اس سے اہل سنت کے عقیدہ پر کوئی حرف نہیں آتا۔ وہ نہ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو گناہوں سے منزہ قرار دیتے ہیں اور نہ ہی ان سے افضل لوگوں کو، چہ جائیکہ وہ انہیں اجتہادی غلطی سے منزہ قرار دیں، بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ توبہ و استغفار، نیک اعمال اور مصائب و آلام وغیرہ سے انسان کو گناہوں کی سزا سے چھٹکارا مل جاتا ہے اور یہ قانون صحابہؓ وغیرھم کے لیے بھی ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 385)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار ان بہترین بادشاہوں میں ہوتا ہے جن کا عدل ان کے ظلم پر غالب رہا۔ البتہ وہ انسانی کمزوریوں سے مبرا نہیں ہیں۔ اللہ ان سے درگزر فرمائے گا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 156)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہمارے لیے یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ ہمارے دل اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہر قسم کے کینہ وغیرہ سے پاک ہیں۔ ان کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہے: 

وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡلَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (سورۃالحشر آیت 10)

ترجمہ: اور (یہ مال فیئ) ان لوگوں کا بھی حق ہے جو ان (مہاجرین اور انصار) کے بعد آئے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہماری بھی مغفرت فرمایئے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔ اے ہمارے پروردگار ! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔

ہمارا مؤقف ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے امت کے تقسیم ہونے اور اس کے فتنہ میں مبتلا ہونے کے ڈر سے اجتہاد کیا۔ ان کے بعد آنے والے تمام امراء اور بادشاہوں کی غلطیوں کو ان کے ذمے ڈال دینا مناسب نہیں ہے۔ جیسا کہ عبدالقادر عودہ قرار دیتے ہیں، وہ لکھتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے امت اسلامیہ کا معاملہ ظلم و طغیان اور پامالی حقوق پر قائم کیا، انہوں نے شوریٰ کا خاتمہ کر دیا اور اس ارشاد باری کو معطل کر دیا:

وَاَمۡرُهُمۡ شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ ۞ (سورۃ الشورى آیت 38)

ترجمہ:اور ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں، 

‘‘ انہوں نے صاف ستھرے عادلانہ حکم کو ایسے گندے حکم میں تبدیل کر دیا جو نفسانی خواہشات پر قائم ہے اور انہوں نے لوگوں کو نفاق، ذلت اور پستی میں دھکیل دیا، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عصر حاضر تک ان کے بعد آنے والے حکمران بجز حضرت عمر بن عبدالعزیز کے ان کی سنت پر عمل پیرا رہے اور ان کی بدعت کے ساتھ چمٹے رہے، چونکہ اس برے طریقے کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے رواج دیا، لہٰذا اس کا اور اس پر قیامت تک عمل کرنے والوں کا گناہ ان کے سر لادا جاتا رہے گا۔

(الاسلام و اوضاعنا السیاسیۃ: صفحہ 159)

اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یا اموی خلفاء نے خلافت کو شوریٰ سے بادشاہت میں تبدیل کر دیا تھا تو ان کے پوتے معاویہ بن یزید بن معاویہ بن ابوسفیان نے جو کہ تیسرے اموی خلیفہ تھے انہوں نے نئے سرے سے خلافت کو بادشاہت سے شوریٰ کاملہ میں تبدیل کر دیا۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 293، 294، 195)

حقیقت یہ ہے کہ بیعت یزید کو بہت سارے لوگوں نے حتیٰ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی قبول کر لیا تھا، اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ستر لوگوں نے اس سے بیعت کی تھی جن میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے۔

(القید الشدید: ورقۃ 17 نقلا عن مواقف المعارضۃ: صفحہ 153)

عبدالرحمٰن بن ابوبکر کی وفات کے بعد صرف تین مخالفین ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما ہی باقی رہ گئے تھے۔ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو یزید پر مجتمع دیکھا تو انہوں نے بھی یزید سے بیعت کر لی، انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد یزید کو بیعت کا پیغام بھیجتے ہوئے کہا: اگر یہ خیر ہے تو ہم اس پر راضی رہیں گے اور اگر یہ کوئی مصیبت ہے تو اس پر صبر کریں گے۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 11 صفحہ 100، صحیح سند کے ساتھ)

آخرکار معارضہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور حسین بن علی رضی اللہ عنہما تک محدود ہو کر رہ گیا۔ بعض لوگوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر صحیح ہاتھوں میں خلافت دینے میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے ان سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اگر مجھے یزید سے محبت نہ ہوتی تو میں اپنی رشد و ہدایت صاف دیکھ لیتا۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 28)

مگر اس کی سند واقدی کے طریق سے ہے اور واقدی متروک ہے،

(مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 152)

اس نے ان کی طرف یہ بات بھی منسوب کی ہے کہ انہوں نے یزید سے کہا: اللہ تعالیٰ نے میرے جی میں تجھے خلیفہ بنانے سے بڑی کوئی بات نہیں ڈالی۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 60)

یہ سند ہیثم بن عدی کے طریق سے ہے اور وہ کذاب ہے۔

(مواقف المعارضۃ: صفحہ 152)

محمد رشید رضا نے اس روایت پر اعتماد کرتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر بڑا سنگ دِلانہ حملہ کیا ہے۔

(مواقف الصحابۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 152۔ الخلافۃ: محمد رشید: صفحہ 52)

اکثر باحثین نے صدر اسلام کی تاریخ سے متعلق ضعیف اور موضوع روایات پر اعتماد کرتے ہوئے ایسے تصورات اور افکار و احکام کی بنیاد رکھی ہے جو نئے سرے سے نظرثانی کے محتاج ہیں۔ اسلامی نظام حکومت کا اعلیٰ ترین نمونہ جو کہ خلافت سے عبارت ہے اور جس میں روح اسلام پورے طور پر جلوہ گر ہوتی ہے اس میں جس قدر بھی تبدیلی آئی

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 112)

مگر حکومت پر اسلامی رنگ ہمیشہ غالب رہا۔ نماز اپنے مقررہ اوقات میں ادا کی جاتی رہی، صاحب نصاب لوگوں سے زکوٰۃ وصول کی جاتی رہی، فرض روزوں کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ کی جاتی اور حدود شرعیہ کے نفاذ میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہ کیا جاتا، اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ کا فریضہ بھی سرانجام دیا جاتا رہا۔ المختصر جملہ تعلیمات اسلامیہ کی تطبیق کی جاتی رہی۔

(الامویون بین الشرق و الغرب:جلد 1 صفحہ 94، 95)