حروب ارتداد کے اہم دروس وعبر اور فوائد غلبہ و تمکین کی شروط…

حروب ارتداد کے اہم دروس وعبر اور فوائد غلبہ و تمکین کی شروط و اسباب اور شریعت الہٰی کے نفاذ کے آثار مجاہدین کے اوصاف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

غلبہ و تمکین کي شروط: اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے استخلاف فی الارض، اللہ کے دین کے لیے غلبہ و تمکین اور خوف کو امن میں تبدیل کرنے کا وعدہ فرمایا ہے بشرطیکہ مسلمان اس کی شرائط کو پورا کریں۔ قرآن پاک نے ان شرائط کی طرف واضح طور پر اشارہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا‌ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۞وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰ تُوا الزَّكٰوةَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ۞ (سورۃ النور آیت 55، 56)

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔ اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور رسول کی فرمانبرداری کرو، تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا برتاؤ کیا جائے۔

ان آیات کریمہ کے اندر غلبہ و تمکین کی شروط کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ شرائط یہ ہیں:

ایمان اپنے تمام ارکان و معانی کے ساتھ۔

اعمال صالحہ کی بجا آوری تمام انواع و اقسام کے ساتھ۔

نیکی اور بھلائی کی تمام قسموں کی بجا آوری کا شوق و اہتمام۔

اللہ کی کامل عبودیت کو قائم رکھنا۔

شرک کی جملہ اشکال و انواع کے خلاف جنگ۔

اور اس غلبہ و تمکین کے لوازم و تقاضے یہ ہیں:

اقامت صلوٰۃ۔

زکوٰۃ کی ادائیگی۔

رسول اللہﷺ کی اطاعت۔

(فقہ التمکین فی القرآن الکریم للصلابی: صفحہ 157)

یہ تمام شروط و لوازم عہد صدیقی اور خلفائے راشدینؓ کے دور میں مکمل موجود تھے۔

اور اللہ کے بعد، امت کو ان شرائط کی تذکیر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ اسی لیے منع زکوٰۃ کو قبول نہ کیا، لشکر اسامہ کی تنفیذ پر مصر رہے، مکمل شریعت کا التزام کیا، کسی چھوٹی یا بڑی چیز سے تنازل اختیار نہ کیا چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: رسول اللہﷺ کے بعد ہم ایسے مقام کو پہنچ چکے تھے کہ قریب تھا کہ ہم ہلاک ہو جاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے ہم پر احسان کیا، ہم تو یہ اتفاق کر چکے تھے کہ ہم بنت مخاض (سال بھر کی اونٹنی) اور بنت لبون (دو سال کی اونٹنی) کے لیے قتال نہ کریں گے، عربی کھانا کھائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی عبادت کریں گے پھر اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اندر قتال کا عزم پیدا فرمایا تو واللہ وہ ان سے راضی نہ ہوئے، اِلا یہ کہ وہ خطہ مخزیہ (رسوا کن منصوبے) کو قبول کریں یا حرب مُجلیہ (کھلی جنگ) کے لیے تیار ہو جائیں۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 21)

غلبہ و تمکین کے اسباب کو اختیار کرنا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاَعِدُّوْ لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ‌  لَا تَعۡلَمُوۡنَهُمُ‌ اَللّٰهُ يَعۡلَمُهُمۡ‌ وَمَا تُـنۡفِقُوۡا مِنۡ شَىۡءٍ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ يُوَفَّ اِلَيۡكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ‏ ۞ (سورۃ الأنفال آیت 60)

ترجمہ: اور (مسلمانو) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے (موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کرسکو، اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی نہیں ابھی تم نہیں جانتے، (مگر) اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرو گے، وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا، اور تمہارے لیے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

آپؓ نے دیکھا سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے معنوی و مادی ہر اعتبار سے مکمل تیاری کی، افواج کو تیار کیا، فوجی دستوں کے پرچم متعین کیے، حروب ارتداد کے قائدین کو متعین کیا اور مرتدین سے خط کتابت کی، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قتال پر برانگیختہ کیا، اسلحہ، گھوڑے اور اونٹ جمع کیے، غازیوں کو تیار کیا، بدعت، جہالت اور خواہش نفسانی کے خلاف جنگ کی، شریعت کو نافذ کیا، وحدت، اتفاق اور اتحاد کے اصول کو اختیار کیا، ادائیگی ذمہ داری کے لیے فراغت کے اصول کو اپنایا اور تخصص کے اصول کو زندہ کیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو فوج کی قیادت کے لیے، سیدنا زید بن ثابتؓ کو جمع قرآن کے لیے، ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو جنگی خط کتابت کے لیے منتخب کیا، امن و ابلاغ اور دیگر اسباب کا بھی اہتمام فرمایا۔

شریعت کے نفاذ کے آثار: عہد صدیقی میں شریعت الہٰی کے نفاذ کے آثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے غلبہ و تمکین کی شکل میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اللہ کے شعائر کو اپنے اور اپنے بال بچوں پر نافذ کرنے کا اہتمام کیا اور شریعت الہٰی کے نفاذ میں مخلص رہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قوت بخشی اور مرتدین کے خلاف ان کی مدد فرمائی اور انہیں امن و استقرار عطا فرمایا۔ ارشاد الہٰی ہے:

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡۤا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰۤئِكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ۞ (سورۃ الانعام آیت 82)

ترجمہ: (حقیقت تو یہ ہے کہ) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کا شائبہ بھی آنے نہیں دیا امن اور چین تو بس انہی کا حق ہے، اور وہی ہیں جو صحیح راستے پر پہنچ چکے ہیں۔ 

صفحہ 1 از 3