فضائل اہل بیت (رضی اللہ عنہم) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل اہل بیت (رضی اللہ عنہم)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 3

سوال نمبر 52: حدیثِ نبوی ہے کہ جو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسنین رضی اللہ عنہما سے لڑے اس سے میری جنگ ہے اور جو صلح کرے میری اس سے صلح ہے تو کیا اتباع کا تقاضا یہی نہیں ہے؟ 

جواب: البدایہ والنہایہ کی اس حدیث کا اصل ماخذ ترمذی ہے اور امام ترمذیؒ فرماتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اس کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور (راوی) صُبِیح سیدہ اُمِ سلمیٰ رضی اللہ عنہا کا غلام معروف نہیں ہے۔ (ترمذی مناقبِ فاطمہ) 

تقریب التہذیب سے پوری سند کے راوی مع سند و جرح یہ ہیں:

1: سلیمان بن جبار بغدادی صدوق ہیں۔

2: علی بن قادم خزاعی کوفی صدوق اور شیعہ ہیں۔ 

3: اسباط بن نصر الہمدانی ابو یوسف یا ابوالنصر صدوق ہیں، بہت غلطیاں کرتے ہیں اور عجیب و انوکھی روایتیں کرتے ہیں۔ 

4: اسماعیل بن عبد الرحمٰن، سدی، صدوق اور وہمی ہے تشیع سے متہم ہے، معلوم ہوا کہ پہلے راوی کے سوا آگے مسلسل راوی شیعہ، وہمی، کثیر الخطاء اور غریب الروایۃ ہیں تو یہ روایت بہت کمزور ہے، اس کی بنیاد پر کوئی عقیدہ یا طعن بر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قائم نہیں کیا جا سکتا، مع ہٰذا جب حضرت حسنؓ نے صلح و بیعت کر لی تو حضورِ اقدسﷺ بھی حضرت امیرِ معاویہؓ سے راضی ہو گئے اب حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا دشمن رسول اقدسﷺ کا بھی دشمن ہے، اس لیے امّت اور اہلِ سنت والجماعت نے اتباعِ نبوت کی۔

سوال نمبر 53: کا جواب بھی اسی تحقیق سے ہو گیا، بالفرض اگر صحیح تسلیم کی بھی جائے تو حرب گناہ سے کنایہ ہے۔ محاربین سے مطلقاً بیزاری جائز نہیں۔ جیسے سود خواروں کے متعلق وعید ہے 

فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرۡبٍ مِّنَ اللّٰهِ (سورۃ البقرہ: آیت، 279)

ترجمہ: پھر بھی اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسولﷺ‏ کی طرف سے اعلان جنگ سن لو۔ 

تو حکماً حربِ رسول اللہﷺ گناہ ہے، اسے تسلیم کرنے کے بعد ہم ان کی توبہ تاریخ سے ثابت کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو ہماری کتاب فضائلِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین: صفحہ 277 تا صفحہ 280 سیدنا علی المرتضیٰ و سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہما اور اس کے لشکر کو ایمان و اسلام میں اپنے برابر مانتے ہیں۔ 

(نہج البلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 125) 

پھر سیدنا حسن المجتبیٰ رضی اللہ عنہ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صلح و بیعت کر لیتے ہیں۔ (جلاء العیون) تو جب ان کا انجام اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی شہادت و عمل سے اچھا ثابت ہو گیا تو رسولِ خداﷺ کے وہ دوست ہی ہوئے، ان سے دشمنی و بیزاری پیغمبرﷺ سے دشمنی ہوئی جو شیعوں کے مقدر میں آئی۔

سوال نمبر 54: بروایتِ ترمذی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا حضور اقدسﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔

جواب: روایت میں تصریح ہے یعنی من اهل بیتهٖ ہے، یعنی اپنے اہلِ خانہ میں سے یہ جوڑا زیادہ پیارا تھا، ہمارا بھی یہی اعتقاد ہے اور اہلِ سنت والجماعت خاندانِ رسالتﷺ‏ میں سے اس جوڑے سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔

سوال نمبر 55: کیا موذی رسول اکرمﷺ پر آپ لعنت کرتے ہیں؟ 

جواب: احزاب کی اس آیت میں خدا کے فعل کا ذکر ہے۔فرمان یا حکم نہیں ہے۔ اتباع و تعمیل فرمان و حکم کی ہوتی ہے فعل تو بسا اوقات بادشاہ کا خاصہ سمجھا جاتا ہے البتہ ہم موذیانِ رسول اللہﷺ سے نفرت ضرور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے اسی صفحہ پر مذکور اَزۡوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ کا انکار کریں۔ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اور بناتِ طاہراتؓ کی عظمت و شان بلکہ حسب و نسب کا انکار کر کے رسولِ خداﷺ کو اِیذاء دیں آپﷺ کی ساری جماعتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو (چار شاگردانِ سیدنا علیؓ کے سوا) مرتد کہیں، سب امتِ محمدیہﷺ کو خنزیر اور ولد الزناء کہہ کر گویا پدرِ اُمّت حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دیں۔ رسولِ خداﷺ کے ہم رتبہ معصوم و واجب الاطاعت بارہ امام مان کر رسول اکرمﷺ کی ختمِ نبوت کا مذاق اڑائیں ایسے موذیانِ رسول اقدسﷺ کو ہم بہت برا اور دشمنِ اسلام جانتے ہیں۔

سوال 56 تا 63 کے جوابات:

 سوال نمبر 56: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ناراض کرنے کا طعن جھوٹا الزام ہے جواب ہم سنی کیوں ہیں؟ کے صفحہ 145 تا صفحہ 150 میں دیکھیے۔

سوال نمبر 57: بی بی پاک (سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا) کے والد مقدس (حضور اکرمﷺ) کے جنازہ کو چھوڑنے کا طعن بھی جھوٹا ہے۔ دیکھیے تحفہ امامیہ صفحہ 145 تا صفحہ 151۔

صفحہ 1 از 3