حصہ دوم مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حصہ دوم مقدمہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 4

مقدمہ

سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہیں۔ ہم اسی اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں، اس سے مدد کے خواستگار ہیں، اس سے ہدایت کے طلب گار ہیں اور اس سے توبہ و استغفار کرتے ہیں اور اپنے نفس کے شرور اور اعمال کی برائیوں سے اس کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ سیدھی راہ پر ڈال دے اسے کوئی بہکانے والا نہیں اور جسے وہ بے راہ کر دے اسے سیدھی راہ پر ڈالنے والا کوئی نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اکیلے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، کوئی اس کا شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَo (آل عمران: آیت 102)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم ہرگز نہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘

اور فرمایا:

یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَ بَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآئً وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِہٖ وَ الْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًاo (النساء: آیت 1)

’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی پیدا کی اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتوں سے بھی، بے شک اللہ ہمیشہ تم پر پورا نگہبان ہے۔‘‘

اور فرمایا:

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاo یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًاo (الاحزاب: آیت 70-71)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور بالکل سیدھی بات کہو۔ وہ تمھارے لیے تمھارے اعمال درست کر دے گا اور تمھارے لیے تمھارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے تو یقینا اس نے کامیابی حاصل کرلی، بہت بڑی کامیابی۔‘‘

اے اللہ! اے آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود بخشنے والے، چھپی اور ظاہر چیزوں کو جاننے والے، بے شک روزِ قیامت بندوں کے اختلافات کا فیصلہ تو ہی کرے گا۔ پس لوگوں نے حق بات میں بھی جو اختلاف کیا ہے، اس میں تو ہی مجھے اپنے حکم سے سیدھی راہ دکھا، بے شک جس کو تو چاہے سیدھی راہ کی ہدایت بخشتا ہے۔

اما بعد! نبی کریمﷺ کے پھول، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آنکھوں کی ٹھنڈک سیّدنا ابو عبداللہ حسین بن علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کے بارے میں ایک مستقل کتاب لکھنے کا میرا شروع سے کوئی ارادہ نہ تھا۔ لیکن جب میں نے چوتھے خلیفہ راشد سیّدنا علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ پر قلم اٹھایا اور اس غرض کے لیے کتب سیرت و تاریخ کے سمندر میں اتر گیا تو اس بحر ناپید اکنار کی شناوری کرتے ہوئے مجھے اس بات کا شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے صرفِ نظر کر کے گزرنا میرے لیے ممکن نہیں اور یہی احساس خلیفہ راشد پر پہلے قلم اٹھانے کی راہ میں حائل ہو گیا۔

چنانچہ میں نے چمنستانِ سیرت سے حضرت ختمی مرتبت سیّد الاوّلین و الآخرین سیّدنا و سیّد العالمین محمد مصطفی احمد مجتبیٰﷺ کے اس پھول کی کلیوں، خوشبوؤں اور مہکوں کو جمع کرنا شروع کیا۔ جب معتبر و مستند معلومات کا ایک اچھا خاصہ ذخیرہ جمع ہو گیا، تو ان سب کو کتاب و سنت کی روشنی میں ایک مرتب و مبوّب سیرت کی صورت میں امت مسلمہ کے افراد و اشخاص اور عوام و خواص کے سامنے پیش کرنا نہایت مفید لگا، تاکہ ان کے سامنے سبطِ رسول اور ریحانۂ رسول سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور ان کے خاندان کا صحیح خاکہ ابھر کر سامنے آسکے اور انہیں یہ بھی معلوم ہو کہ اس پاکیزہ خاندان اور بالخصوص سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے کیا فضائل و مناقب ہیں اور وہ یہ بھی جان لیں کہ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما جناب رسول اللہﷺ کی صورتِ مبارکہ کے کس قدر مشابہ تھے، اور سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی پاکیزہ صورت و سیرت کی بنا پر امت مسلمہ کا سب سے بزرگ ترین طبقہ، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان سے کس قدر محبت کرتے تھے اور ان کے پاکیزہ دلوں اور پاک ذہنوں میں حضرت رسالت مآبﷺ کے اس چشم و چراغ کی کس قدر تعظیم اور کتنا احترام تھا۔

دوسرے سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کی تحریک کی بابت کھرے اور کھوٹے اور سچے اور من گھڑت واقعات ایک دوسرے سے یوں جدا ہو جائیں، جیسے سورج کے طلوع ہونے سے رات کا اندھیرا دن کے سپیدے اور چاندنے سے جدا ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی کینہ پرور باطنیت کی سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی بے داغ شخصیت کو مسخ کرنے کی بابت گمراہ کن کاوشوں کا اٹوٹ سلسلہ بھی ٹوٹ جائے اور حقائق کو بگاڑ کر پیش کرنے کی بابت ان کا رسوائے زمانہ گھناؤ نا اور ازحد خطرناک کردار بھی طشت از بام ہو جائے۔ جس نے سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور آلِ بیت اطہار کے پاکیزہ خونوں کو ’’ان کے دفاع‘‘ کے نام سے امت مسلمہ میں فساد، انتشار اور انارکی پھیلانے اور باہم جنگ برپا کرنے کا ایک شرم ناک ہتھکنڈا بنا رکھا ہے تاکہ امت مسلمہ دوہری مصیبت میں گرفتار ہو، چنانچہ ایک تو وہ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے جگر پاش واقعہ شہادت کا غم سہے، دوسرے سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور آل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے دفاع کے نام پر تراش لی جانے والی رسموں کے سائے تلے عقائد کی تحریف اور اتفاق و اتحاد کی پراگندگی کا شکار بھی ہو۔

صفحہ 1 از 4