سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما - دفاعِ اہلِ…

سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 6
نام و نسب 
حضرت ابوسفیانؓ صخر بن حرب کے مشہور فرزند کا پدری نسب یزیدؓ بن ابی سفیانؓ بن حرب بن امیہ بن عبدالشمس بن عبد مناف ہے۔
اور آپؓ کی والدہ کا نام زینب بنتِ نوفل بن خلف ہے۔
اور آپؓ حضرت امیرِ معاویہؓ بن ابی سفیانؓ کے سوتیلے بھائی ہیں۔
سیدنا یزید رضی اللہ عنہ بہت جلیل القدر شخصیت تھے اور فضلاء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ان کا شمار کیا جاتا تھا۔
آپؓ فطرتاً شریف النفس اور سلیم الطبع واقع ہوئے تھے اور اپنے بہترین کارناموں کی بدولت ان کو یزیدُ الخیر کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔
اور آپؓ بڑے عقیل، دانش مند اور جری لوگوں میں سے تھے۔
چنانچہ علامہ الذہبیؒ نے ان کا تذکرہ بالفاظِ ذیل تحریر کیا ہے:
وکان جلیل القدر شریفا سیدا فاضلا
1 (تاریخ اسلام، للذہبی: جلد، 2 صفحہ، 25 تحت سنہ 18 ہجری)
اور ایک دوسرے مقام میں لکھا ہے کہ: 
وکان من العقلاء والالباء و الشجعان المذکورین 
قبولِ اسلام اور غزوۂ حنین میں شرکت 
سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ جناب نبی اقدسﷺ کے عہد میں فتح مکہ کے موقع پر اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوئے اور ان کا اسلام نبیﷺ نے قبول فرمایا۔ آپؓ عمر بھر اسلام پر مضبوطی سے قائم رہے اور اعلیٰ اسلامی خدمات سر انجام دینے میں پیش پیش رہے اور بڑے فعال ثابت ہوئے۔ آپؓ اسلام کے مجاہدین میں سے ایک نامور مجاہد تھے۔
سب سے اول آپؓ نے غزوۂ حنین میں شرکت کی اور غنائم میں وافر حصہ پایا۔ ان کی دینی خدمات کو محدثین اور مؤرخین نے بڑے عمدہ انداز میں ذکر کیا ہے۔ 
چنانچہ طبقات ابنٹ سعد میں ہے کہ:
اسلم یزیدؓ یوم فتح مکہ و شھد مع رسول اللہﷺ حنین و اعطاہ رسول اللہﷺ من غنائم حنین مائه من الابل وأربعين اوقيه ولم يزل يذكر بخير 
1: (طبقات ابنِ سعد: جلد، 7 صفحہ، 127 القسم الثانی تحت تذکر و یزید بن ابی سفیان)
2: (البدایہ لابنِ کثیر: جلد، 7 صفحہ، 95 تحت تذکرہ یزید بن ابی سفیان)
3: (تاریخ ابنِ عساکر، عکسی: جلد، 18 صفحہ، 307 تحت یزید بن ابی سفیان)
4: (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد، اول صفحہ، 237، 238 تحت یزید بن ابی سفیان) 
یعنی فتح مکہ کے روز سیدنا یزیدؓ بن ابو سفیانؓ اسلام لائے اور غزوۂ حنین میں پیغمبرﷺ کی معیت میں شامل ہوئے۔ 
اس غزوہ میں فتح کے بعد مالِ غنیمت میں سے نبی اکرمﷺ نے ان کو ایک سو اونٹ اور چالیس اوقیہ (دراہم) عنایت فرمائے۔ اور لوگ ہمیشہ ان کو یزید الخیر کے نام سے ذکر کرتے تھے۔ 
نسب کتابت 
اہلِ سیرتِ جہاں نبی اقدسﷺ کے کاتبوں کا ذکر کرتے ہیں، وہاں سیدنا یزید رضی اللہ عنہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو بھی کاتبِ نبوی شمار کرتے ہیں۔
چنانچہ ابنِ حزم نے جوامع السیرة میں نبی کریمﷺ کے کاتبوں کے نام جہاں ذکر کیے ہیں، وہاں ان کا نام آٹھویں مقام پر سیدنا زیدؓ بن ثابت اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے اسماء سے قبل ذکر کیا ہے۔
(جوامع السيرة لابن حزم اندلسی: صفحہ، 26 تحت کتابہﷺ) 
اسی طرح علی بن برہان الدین الحلبی رحمۃ اللہ نے اپنی سیرۃ حلیبہ میں متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کاتبینِ نبویﷺ‏ میں شمار کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ:
معاويهؓ بن ابی سفيانؓ واخوه يزيدؓ
ترجمہ: یعنی حضرت امیرِ معاویہؓ اور ان کے بھائی سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ (دونوں کاتبِ نبوی تھے)
دینی اعتماد کے سلسلہ میں کاتبِ نبوی ہونا اس شخص کے لیے وثاقت کی دلیل اور صداقت کا بہترین نشان ہے اور یہ شرف خاص خاص لوگوں کو ہی حاصل تھا۔ 
منصبِ امارت 
سیدنا یزید بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما اپنی طبعی صلاحیتوں کی بناء پر بڑے مستعد کار کن تھے۔ چنانچہ جس طرح نبی اکرمﷺ نے ان کے چھوٹے بھائی سیدنا امیر ِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو مختلف امور پر عامل بنا کر روانہ فرمایا تھا اسی طرح ان کو بھی نبی اکرمﷺ نے علاقہ تیماء پر امیر بنا کر روانہ فرمایا۔ 
چنانچہ مؤرخین نے لکھا ہے کہ:
يزيد بن ابی سفيان امرہ (نبیﷺ) علی تیماء
اور ایک اور مقام پر مؤرخین نے لکھا ہے کہ:
نبیﷺ نے حضرت یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کو قبیلہ بنی فراس (جو آپؓ کے ننھالی رشتہ دار تھے) کے صدقات پر عامل بنا کر روانہ فرمایا:
و استعمله النبیﷺ علی صدقات بنی فراس وكانوا اخوالہ 
دورِ نبوت میں فرمانِ نبویﷺ سے کسی علاقہ کا امیر بنایا جانا یا بعض قبائل کے حصولِ صدقات پر عامل مقرر کیا جانا خاص دینی اعتماد و اخلاصِ عمل پر ہوتا تھا۔ ہر شخص اس منصب کا اہل نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ فضل و شرف سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کو بھی نصیب ہوا اور امیر و عامل بنائے گئے۔ 
اعتمادِ نبویﷺ 
علاقہ یمن سے ایک شخص ھانی ابو مالک جو الکندی قبیلہ کے ایک معزز فرد تھے نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ نبی کریمﷺ نے ان پر خصوصی شفقت فرمائی اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے برکت کی دعا فرمائی اور انہیں حضرت یزید رضی اللہ عنہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرایا۔ حضرت ھانی نے حضرت یزیدؓ کے ہاں کچھ عرصہ قیام کیا اور پھر جب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سیدنا یزیدؓ کو ملک شام کی طرف امیرِ جیش مقرر فرما کر روانہ کیا تو ھانی حضرت یزیدؓ کے ساتھ ملک شام چلے گئے اور پھر وہیں مقیم ہو گئے۔ چنانچہ ابنِ سعد نے طبقات میں لکھا ہے کہ:
هانی انه قدم على رسول اللهﷺ من اليمن فاسلم فمسح رسول اللہﷺ على راسه ودعا له بالبركه وانزله على يزيدؓ بن ابی سفيان حتى خرج معه الى الشام حين وجهه ابوبکرؓ
مذکورہ بالا واقعہ سے نبی اقدسﷺ کا سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ پر کامل اعتماد واضح ہوتا ہے اور ان کی جانب سے فرمانث نبویﷺ کی قدر دانی اور اطاعت ثابت ہوتی ہے۔ یہ چیزیں حضرت یزیدؓ کے حق میں بہترین فضیلت کی ہیں۔
روایتِ حدیث کا شرف 
نبی اقدسﷺ سے دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بھی حدیث نقل کی ہے اور یہ شرف ان کو دوسرے رواۃ حضرات کی طرح حاصل ہے اور پھر ان سے دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا روایتِ نبویﷺ‏ نقل کرنا بھی ثابت ہے۔ لہٰذا ان کو راوی اور مروی ہونے کے دونوں شرف نصیب ہوئے۔
1: له عن النبی صلى الله عليه وسلم فی الوضوء وعن ابی بکر
2: روى عنه ابوعبدالله الاشعرى و جنادہ بن ابی امیہ امیر جیش اور صدیقی وصایا 
صفحہ 1 از 6