مسلم بن عقیل رحمۃ اللہ کے خاتمہ کے لیے عبیداللہ بن زیاد کے…

مسلم بن عقیل رحمۃ اللہ کے خاتمہ کے لیے عبیداللہ بن زیاد کے اقدامات

  ابو شاہین

صفحہ 1 از 3

مسلم بن عقیلؒ کے خاتمہ کے لیے عبیداللہ بن زیاد کے اقدامات

1۔ مسلم بن عقیلؒ کی تنظیم کا توڑ
عبداللہ بن زیاد نے اپنے جاسوسوں کے ذریعہ سے مخالف گروہوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں اور پھر ان کی روشنی میں مسلم بن عقیلؒ کے پیروکاروں کو توڑنے میں کامیاب ہو گیا، اس نے اس مہم کو سر کرنے کے لیے معقل نامی ایک شامی شخص کی خدمات حاصل کیں اور اس کے لیے اسے تین ہزار درہم کی رقم فراہم کی، وہ یہ رقم وصول کر کے مسلم بن عقیلؒ کی تلاش کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور آخرکار بڑی آسانی کے ساتھ انہیں تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ وہ شہر کی بڑی مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ مسجد کے ستون کے ساتھ ایک آدمی بڑی کثرت کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے وہ اس کے قریب ہو کر بیٹھ گیا جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو اس سے کہنے لگا میں تم پر قربان، میں شام کا رہنے والا ہوں اور بنو کلاع کا آزاد کردہ غلام ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے اہلِ بیت کی محبت اور ان سے محبت کرنے والوں کی محبت سے نوازا ہے، میرے پاس تین ہزار درہم ہیں اور میں یہ رقم ان میں سے کسی ایک شخص تک پہنچانا چاہتا ہوں مجھے معلوم ہوا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا کوئی نمائندہ یہاں پہنچا ہے کیا تم مجھے اس کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہو؟ تاکہ میں یہ رقم اس تک پہنچا سکوں؟ اور وہ اپنے بعض معاملات میں اس سے فائدہ اٹھا سکے اور اپنے شیعوں میں سے جس پر چاہے خرچ کر سکے، وہ آدمی کہنے لگا مسجد میں اور بھی کئی لوگ موجود ہیں مگر تم نے مجھ سے ہی یہ سوال کیوں کیا ہے؟ اس نے جواب دیا اس لیے کہ میں نے تم میں خیر کی کچھ علامات دیکھی ہیں، جن سے مجھے یہ امید ہوئی کہ تمہارا شمار اھل بیت سے محبت کرنے والوں میں ہوتا ہے وہ آدمی کہنے لگا تو نے صحیح سمجھا، میرا شمار بھی تیرے بھائیوں میں ہوتا ہے۔ میرا نام مسلم بن عوسجہ ہے، مجھے تم سے مل کر بہت خوشی ہوئی، میں اہل بیت کے شیعہ میں سے ہوں اور مجھے اس سرکش ابنِ زیاد سے خوف محسوس ہوتا ہے تم مجھ سے اللہ کے نام پر وعدہ کرو کہ تم یہ بات سب لوگوں سے مخفی رکھو گے اس نے انسے یہ وعدہ کر لیا، شامی نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور آخرکار وہ مسلم بن عقیلؒ تک رسائی میں کامیاب ہو گیا، وہ ان سے براہِ راست ملاقاتیں کرتا، وہ دن بھر ان کے ساتھ رہتا اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرتا رہتا اور رات کے اندھیروں میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس جا کر اسے جملہ معلومات سے آگاہ کر دیتا اور اسے یہ بھی بتاتا کہ انہوں نے کیا کہا اور کیا کیا، ایک دن اس نے ابنِ زیاد کو یہ بھی بتا دیا کہ مسلم بن عقیلؒ ہانی بنم عروہ کے گھر میں مقیم ہیں(الاخبار الطوال: صفحہ، 218 تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 247) اس طرح ابن زیاد نے مسلم بن عقیل کی سرگرمیوں سے آگاہی حاصل کر لی۔
 (تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 286)
2۔ ہانی بن عروہ کی گرفتاری
 محمد بن اشعث اور اسماء بن خارجہ عبیداللہ بن زیاد کو سلام کرنے کے لیے جایا کرتے تھے۔ ایک دن ابن زیاد نے ان سے پوچھا: ہانی بن عروہ نے کیا کیا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ کئی دنوں سے بیمار ہے۔ اس پر ابن زیاد کہنے لگا: وہ کیسے، مجھے تو یہ خبر ملی ہے کہ وہ سارا دن گھر کے دروازے پر بیٹھا رہتا ہے۔ اسے ہمارے پاس آنے اور ہمیں سلام کہنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے؟ انہوں نے کہا، ہم اسے اس سے مطلع کریں گے اور اسے بتائیں گے کہ تم امیر کے پاس حاضر ہونے میں تاخیر کر رہے ہو۔ پھر وہ یہاں سے نکل کر ہانی بن عروہ کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ امیر نے ان سے کیا کہا اور ہم نے اسے کیا جواب دیا۔ پھر کہنے لگے: تم اسی وقت ابن زیاد کے پاس جانے کے لیے ہمارے ساتھ چلو تاکہ تمہارے بارے میں اس کا دل صاف ہو جائے۔ ہانی اپنے خچر پر سوار ہو کر ابن زیاد کی طرف روانہ ہوئے۔ جب وہ قصر امارت کے قریب پہنچا تو ان کی نیت میں خلل آ گیا اور ان دونوں سے کہنے لگے، مجھے تو اس آدمی سے ڈر لگتا ہے۔ انہوں نے کہا: وہ کیوں ؟ تم تو بالکل صاف ہو۔ وہ ان کے ساتھ چلے یہاں تک کہ ابن زیاد کے پاس پہنچ گئے۔ انہیں دیکھ کر ابن زیاد نے یہ شعر پڑھا،
ارید حیاتہ و یرید قتلی عذیرک من خلیلک من مراد
’’میں اس کی زندگی چاہتا ہوں جبکہ وہ میرے قتل کا خواہش مند ہے۔ اپنے دوست مرادی کے لیے میرا عذر سن رکھو۔‘‘
ہانی کہنے لگے: امیر محترم! اس کا کیا مطلب؟
صفحہ 1 از 3