سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 4

 سیدنا حسنؓ کی  سیدنا معاویہؓ سے صلح  

یہ واقعہ اسلام میں اپنے پس منظر میں ایک بڑی تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور مؤرخین نے یہاں بہت کچھ رطب و یابس چیزیں فراہم کی ہوئی ہیں لیکن مناسب یہ ہے کہ اس واقعہ کو محدثین کی روایات کی روشنی میں پیش کیا جاۓ تاکہ اصل حقیقت حال کے زیادہ قریب ہو۔ بعد ازاں روایات درج کردی جائیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کتاب الصلح میں حضرت حسن بصری رحمۃاللہ سے مروی ہے کہ حضرت حسنؓ اور امیر معاویہؓ کے پہاڑوں کے مانند لشکر اور جیوش باہم متقابل ہوۓ ۔ حضرت عمرو بن العاصؓ فرماتے ہیں کہ یہ لشکر اور عساکر ایک دوسرے کو قتل کیے بغیر پسپا ہونے والے نہیں تھے۔ 

حضرت حسن بصری رحمۃاللہ کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہؓ اللہ کی قسم خیر الرجلین یعنی عمرو بن العاصؓ سے بہتر تھے ۔ انہوں نے حضرت عمرو بن العاصؓ سے کہا کہ اگر ایک فریق دوسرے کو قتل کر ڈالے اور دوسرا فریق پہلے فریق کو قتل کردے تو لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال کون کرے گا؟؟ ان عورتوں اور بال بچوں اور کمزور لوگوں کی نگہداشت کون کرے گا؟ یعنی اس صورت میں یہ لوگ ضائع اور برباد ہو جائیں گے۔

تو ان حالات کے پیشِ نظر حضرت امیر معاویہؓ نے بنی عبد الشمس کے دو افراد عبد الرحمن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر کو حضرت حسنؓ کی طرف روانہ کیا اور فرمایا کہ حضرت حسنؓ کے پاس جاکر صلح نامہ پیش کیجیے اور انہیں صلح پر آمادہ کیجیے۔ 

یہ دونوں حضرات حضرت حسنؓ کے پاس پہنچے اور اس مسئلے پر گفتگو کر کے صلح کی دعوت دی۔ اس پر سیدنا حسنؓ نے ان دونوں کو فرمایا کہ ہم بنو عبد المطلب ہیں ( اپنے اہل و عیال ، اقرباء اور خدام پر بخشش، توسع اور کرم کرنا ہماری جبلت میں داخل ہے ) اور اس مال سے ہم ان سب کے حقوق ادا کرتے ہیں اور اب اس امت میں بہت انتشار اور فساد واقع ہوگیا ہے۔ 

اس پر ان دونوں بزرگوں نے کہا کہ آپکی ضروریات اور تقاضے پورے کیے جائیں گے اور مطالبات تسلیم کیے جائیں گے۔ حضرت سیدنا حسنؓ نے فرمایا کہ ان وعدوں کے ایفا کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ ان دونوں نے کہا ہم ذمہ دار ہیں ۔ اس کے بعد مسئلہ خلافت میں حضرت سیدنا حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ سے صلح کرلی۔ 

حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ یہ صلح حضور نبی کریمﷺ کی اس پیش گوئی کا مصداق ہے جو ابوبکرہؓ (نفیع بن حارث ثقفی) سے میں نے سنی۔ ابوبکرہؓ کہتے تھے کہ میں نے نبی کریمﷺ کو مدینہ منورہ میں منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا آپﷺ کے پہلو میں منبر پر حضرت حسنؓ ( عالم طفولیت میں ) بیٹھے تھے۔ آنجنابﷺ خطبہ کے دوران کبھی سیدنا حسنؓ کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی ہم لوگوں کی طرف التفات فرماتے۔ اس خطبہ میں نبی اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: ” یہ میرا بیٹا سردار ہے امید ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے درمیان صلح کرا دے گا“

اس موقع پر آپﷺ نے ہر جماعت کو فئۂ عظیمہ فرمایا، کسی ایک کو نہیں گرایا۔ 

((فصالحه قال الحسنؓ البصرى) ولقد سمعت ابا بكرۃؓ يقول رأيت رسول الله على المنبر والحسنؓ بن علىؓ الى جنبه وهو يقبل على الناس مرة وعليه اخرى ويقول إنَّ ابنى هذا سيد ولعل الله ان يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين)

فائدہ: اس مقام پر یہ چیز قابلِ التفات ہے کہ نبوت کی عظیم پیش گوئی جس طرح حضرت حسنؓ کے اقدام ہذا کی صورت میں تمام ہوئی جو ان کے حق میں اعلیٰ فضیلت پر مشتمل ہے، اسی طرح اس میں حضرت امیر معاویہؓ کی نہایت خوش بختی ظاہر ہوئی کہ وہ اس بشارت عظیمہ کے پورے ہونے کا ذریعہ بنے اور اس کی تکمیل کا انھیں شرف نصیب ہوا اور اہل اسلام کے دو متحارب گروہوں کی مصالحت کا باعث ہوئے۔ 

واقعۂ ہذا گزشتہ سطور میں محدثین کی روایات کی روشنی میں مذکور ہوا اور ایک حوالہ شیعہ کا بھی بطور تائید کے حاشیہ میں ذکر کر دیا ہے۔ اب اس واقعہ کو مؤرخین کی تاریخی روایات کی بنا پر ذکر کیا جاتا ہے تاکہ واقعہ کی مزید تفصیلات بھی سامنے آسکیں۔ 

چنانچہ ابن کثیرؒ ذکر کرتے ہیں کہ:

(ولما رأى الحسنؓ بن علىؓ تفرق جيشه عليه مقتهم وكتب عند ذالك الى معاويةؓ بن ابي سفيانؓ و كان قد ركب فى اهل الشام فنزل مسكن يراوضه على الصلح بينهما ۔فبعث اليه معاويۃؓ عبدالله بن عامر و عبد الرحمن بن سمرة  فقدما عليه الكوفة فبذلا له ما اراد من الاموال فاشترط ان ياخذ من بيت مال الكوفة خمسة الاف الف درهم، وان يكون خراج دار ابجرد له وان لا يسب علىؓ وهو يسمع، فاذا فعل ذلک فنزل عن الامرة لمعاويۃؓ و يحقن الدماء بين المسلمين فاصطلحوا على ذالك واجتمعت الكلمة على معاويةؓ له

(وهو عبدالرحمٰن بن سمرة) ( كان احد السفيرين بين معاويةؓ والحسنؓ )

مطلب یہ ہے کہ مؤرخین کہتے ہیں کہ حضرت حسنؓ بن علیؓ نے اپنے جیش میں افتراق اور انتشار دیکھا تو انھیں سخت ناراضی ہوئی اور کبیدہ خاطر ہوئے۔ (اس روایت کی بنا پر ) اس پر آپؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کی طرف خط لکھا۔ ادھر اہل شام آمادہ تھے پس اپنے مسکن پر ٹھہرے اور جانبین کے درمیان صلح کی کوشش کی گئی۔

حضرت امیر معاویہؓ نے عبداللہ بن عامر اور عبد الرحمٰن بن سمرہ کو اس مقصد کے لیے بھیجا۔ وہ دونوں حضرت حسنؓ کے پاس آئے اور انھوں نے حضرت سیدنا حسنؓ کے تقاضوں کو پورا کرنے کا ذمہ لیا۔ پس حضرت سیدنا حسنؓ نے شرط لگائی کہ کوفہ کے بیت المال سے وہ پچاس لاکھ درہم حاصل کریں گے اور دار ابجرد کا خراج بھی حضرت حسنؓ کے لیے ہو گا اور حضرت علی المرتضیٰؓ کے خلاف ان کی موجودگی میں ہتک آمیز کلام نہیں کیا جائے گا۔ 

ان شرائط پر سیدنا حسنؓ امر خلافت سے دست بردار ہوئے اور خلافت کا معاملہ امیر معاویہؓ کے سپرد کر دیا۔ اس صلح میں مسلمانوں کا خون ریزی سے بچاؤ کرنا اور مسلمانوں کو کلمۂ واحد پر جمع کرنا مقصود نظر تھا چنانچہ اس طور پر ان دونوں حضرات کے درمیان مصالحت ہوئی اور امیر معاویہؓ پر امر خلافت مجتمع ہو گیا۔ 

تنبیہ: علمائے کرام نے اس موقع پر تحریر کیا ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت سیدنا حسنؓ سے بہت سی شرائط پر مصالحت کی تھی اور جن امور کی انجام دہی کی ذمہ داری قبول کی ان کو ایفا کیا اور پورا کر دیا۔ چنانچہ ابن حجر مکیؒ تحریر کرتے ہیں کہ

صفحہ 1 از 4