فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل؛ حدیث…

فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل؛ حدیث ’’أنت منی بمنزلۃ‘‘

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 7

فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل؛ حدیث ’’أنت منی بمنزلۃ‘‘

[اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے :’’ امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اثبات میں تیسری حدیث یہ ہے:

’’ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی اِلَّا اَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘

’’تم میرے لیے بلحاظ منزلت ایسے ہو جیسے ہارون حضرت موسیٰ کیساتھ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘

اللہتعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کو یہ مرتبہ عطا کیا تھا کہ وہ تمام مراتب میں بغیر کسی استثنیٰ کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قائم مقام تھے۔اور اگر ان کے بعد زندہ رہتے تو ان کے خلیفہ ہوتے۔اگر ایسا نہ ہو تو اس سے نقص لازم آتا ہے۔ اور نیز اس لیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں اورآپ کی غیوبت کے مختصر سے عرصہ میں آپ کے قائم مقام رہ چکے تھے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کی صورت میں جب آپ کی غیوبت طوالت اختیار کر لیتی تو آپ کا خلیفہ ہونا زیادہ قرین عقل و قیاس تھا۔‘‘

[جواب]: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ مذکورہ بالا حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ غزوہ ٔ تبوک کو جاتے وقت ارشاد فرمائے تھے۔[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ تبوک (حدیث:۴۴۱۶)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ ، باب من فضائل علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ (حدیث: ۲۴۰۴)۔]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب بھی آپ کسی غزوہ پر یا عمرہ پر یا حج پر مدینہ سے باہر جاتے؛ تومدینہ میں کسی صحابی کو اپنا نائب مقرر کردیا کرتے تھے۔جیساکہ آپ نے :

۱۔ غزوہ ذی امر پر جاتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا ۔

۲۔ غزوہ بنی قینقاع میں حضرت بشیر بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا ۔

۳۔ جب قریش کے ساتھ غزوہ پیش آیا اور آپ مقام قرع تک پہنچے تو ابن ام ِ مکتوم کو نائب مقرر فرمایا۔جیسا کہ محمد بن سعد نے ذکر کیا ہے ۔

جملہ طور پر یہ بات معلوم شدہ ہے کہ اس وقت تک آپ مدینہ سے باہر تشریف نہیں لے جایا کرتے تھے جب تک کسی کو اپنا نائب مقرر نہ فرمادیتے ۔ مسلمان مؤرخین نے ان حضرات کے نام ذکر کیے ہیں جنہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نائب مقرر کیا تھا ۔

مدینہ طیبہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار عمرہ کاسفر کا کیا۔ ایک بار عمرہ حدیبیہ ؛ اوردوسری بار عمرہ قضا؛اور حجۃ الوداع کاسفر۔ اس کے علاوہ تقریباً بیس سے زیادہ مغازی کے سفر۔ ان میں سے ہر ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نہ کسی کو مدینہ طیبہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا۔ اس وقت مدینہ میں بہت سارے لوگ بھی ہوا کرتے تھے جن پر آپ کسی کو اپنا نائب مقرر فرماتے ۔

لیکن غزوۂ تبوک کو جاتے وقت کسی کو پیچھے رہنے کی اجازت نہیں دی۔یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری غزوہ ہے۔اور کسی اور غزوہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتنی بڑی جمعیت آپ کے ساتھ شریک سفر نہیں ہوئی جتنی بڑی جمعیت اس غزوہ میں تھی۔اس غزوہ میں صرف بچے اورخواتین ہی پیچھے رہ گئے تھے؛ یا پھر وہ لوگ تھے جو اپنی معذوری کی وجہ سے غزوہ پر نہیں جاسکے۔ یا پھر منافق۔ تین صحابہ بھی آپ کے ہمراہ نہ جا سکے تھے؛ جن کی توبہ قبول کرلی گئی۔[ فتح مکہ اور حجۃ الوداع کو جاتے وقت بھی آپ نے اپنا نائب مقرر کیا تھا۔مگر] غزوۂ تبوک کے موقع پر مدینہ میں مسلمانوں کی کوئی جماعت بھی باقی نہیں رہی تھی۔ اس لیے یہ استخلاف اپنی نوعیت میں نرالا تھا؛ اور باقی استخلاف کی طرح نہیں تھا جیساکہ ہر بار مدینہ سے باہر جاتے ہوئے مقرر فرمایا کرتے تھے۔بلکہ یہ استخلاف بقیہ استخلافات کی نسبت کمزور تھا۔

اس لیے کہ[اس بار] مدینہ میں کوئی طاقتور مؤمن باقی نہیں رہا تھا؛جس پر کسی کو خلیفہ بنایا جاتا؛ جیسا کہ بقیہ تمام

غزوات میں ہوا کرتا تھا۔ ان مواقع پر مدینہ میں بہت سارے طاقتور اہل ایمان موجود ہوا کرتے تھے؛ پھر جس کو آپ چاہتے ان پر خلیفہ بنادیتے۔پس آپ نے اپنے مغازی میں جتنے بھی لوگوں کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا؛ جیسا کہ غزوہ بدر کبری وصغری؛ غزوہ بنی مصطلق؛ غزوہ غابہ؛ غزوہ خیبر؛ غزوہ فتح مکہ؛ اور دیگروہ تمام مغازی جن میں جنگ تک نوبت نہیں پہنچی؛ ان کی تعداد سترہ سے کچھ زیادہ غزوات ہیں ؛ ان تمام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نہ کسی کو اپنا جانشین بنایا تھا؛ سوائے چند ایک مواقع کے ۔ایسے ہی آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اور اس سے قبل دونوں بارعمرہ کے موقع پر اورغزوہ تبوک کے موقع پر بھی آپ نے اپنے جانشین متعین کیے تھے۔

اس لیے کہ مدینہ میں ہر بار ایسے لوگ موجود ہوا کرتے تھے جو کہ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں کی نسبت بہت افضل ہوا کرتے تھے۔ اس سے قبل کا استخلاف ان لوگوں سے افضل لوگوں پر ہوا کرتا تھا جن پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نائب بنایا گیا تھا۔اسی لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روتے ہوئے آئے اور عرض کیا:’’ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں ؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ منافقین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر طعن و تنقید کرتے ہوئے یہ خبر اڑائی تھی کہ : ’’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہیں اس لیے ان کو جہادمیں ہمراہ نہیں لے جا ر ہے۔‘‘

صفحہ 1 از 7