Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فضائل نبوی اور امت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض حقوق

  علی محمد محمد الصلابی

4۔ فضائل نبوی اور امت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض حقوق:

نبی اکرمﷺ کے فضائل کا ذکر کرتے ہوئے سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کرم اور خصوصی احسان رہا کہ اس میں محمدﷺ کو مبعوث فرمایا اور آپﷺ نے اپنی امت کو کتاب الہٰی، حکمت، فرائض اور سنت کی تعلیم دی، تاکہ لوگ ہدایت یاب ہوجائیں، انھیں متحد کیا تاکہ اختلاف نہ کر لیں، ان کا تزکیہ کیا تاکہ ان کے دل صاف ہو جائیں، انھیں خوشحال بنایا تاکہ ظلم نہ کریں اور جب آپ اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو گئے تو اللہ نے آپﷺ کو وفات دے دی۔ لہٰذا امت پر آپﷺ کے چند اہم حقوق واجب ہیں:

ا: آپﷺ کے بارے میں صدق بیانی کا وجوب اور آپ پر جھوٹ اور افترا پردارزی کی حرمت:

امیر المؤمنین علیؓ رسول اللہﷺ پر جھوٹ باندھنے سے لوگوں کو ڈراتے تھے، ربعی بن خراش بیان کرتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

لَا تَکْذِبُوْا عَلَيَّ فَإِنَّہُ مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ فَلْیَلِجِ النَّارَ۔

(صحیح البخاری: العلم: اثم من کذب علی النبیﷺ 106)۔

’’مجھ پر جھوٹ نہ باندھو، کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے گا وہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘

اسی طرح حضرت علیؓ نے خبردار کیا کہ جھوٹی روایت کا علم ہوتے ہوئے اسے رسولﷺ کی طرف منسوب کر کے بیان کرنا آپﷺ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

مَنْ حَدَّثَ عَنِّيْ حَدِیْثًا وَ ہُوَ یَرَی أَنَّہُ کَذِبٌ فَہُوَ أَحَدُ الْکَاذِبِیْنَ۔

(صحیح سنن ابن ماجہ: جلد 1 صفحہ 13، شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

’’جس نے میری طرف کوئی حدیث منسوب کی اور وہ جانتا ہے کہ یہ حدیث جھوٹی ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک ہے۔‘‘

ب: رسول اللہﷺ کی تکذیب کے اسباب سے احتراز و اجتناب:

امیر المؤمنین علیؓ نے لوگوں کو ان اسباب سے دور رہنے کی ہدایت فرمائی جن سے رسول اللہﷺ کی تکذیب کا اندیشہ ہو، مثلاً عوام الناس کو ایسی احادیث نہ سنائی جائیں جنھیں ان کی عقلیں ماننے کے لیے تیار نہ ہوں، چنانچہ آپ نے فرمایا:

حَدِّثُو النَّاسَ بِمَا یَعْرِفُوْنَ، أَ تُحِبُّوْنَ أَنْ یُکَذَّبَ اللّٰہُ وَ رَسَوْلُہُ۔

(صحیح البخاری: العلم: باب نمبر 49 تعلیقاً۔)

’’عوام الناس کو ایسی احادیث سناؤ جنھیں وہ سمجھ سکیں، کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول جھٹلائے جائیں۔‘‘

اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ عوام الناس کے سامنے متشابہ احادیث بیان کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ کا یہی موقف ان احادیث کے بارے میں ہے، جو بظاہر مسلمانوں کے امام و حاکم وقت کے خلاف بغاوت کے جواز پر دلالت کرتی ہیں، نیز احادیث صفات کے بارے میں امام مالک اور غرائب کے بارے میں امام ابو یوسف اور ان سے پہلے احادیث فتن کے بارے میں سیدنا ابوہریرہؓ کا یہی موقف تھا، اور اس طرح حضرت حذیفہؓ سے بھی مروی ہے اور حسن بصری نے انس رضی اللہ عنہ پر حجاج کے سامنے عرنیین والی حدیث کو بیان کرنے پر اعتراض کیا، کیو ں کہ حجاج اپنے تاویل فاسد کے ذریعہ سے اس حدیث کو مسلمانوں کے قتل و خون ریزی میں مزید شدت اختیار کرنے کے لیے ذریعہ بنا لیتا۔ اس کا ضابطہ یہ ہے کہ اس کے ظاہری الفاظ سے کسی بدعت کو تقویت مل رہی ہو، حالانکہ دراصل یہ ظاہر مقصود نہیں ہے، لہٰذا جس شخص کے بارے میں اندیشہ ہو کہ وہ ظاہرِ الفاظ پر اعتماد کر لے گا اس کے سامنے اس طرح کی احادیث کو بیان کرنا بالکل درست نہیں ہے۔

(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 425، باب من خص بالعلم قوما دون قوم)

ج: حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حسن ظن:

امیر المؤمنین سیدنا علیؓ کا ارشاد ہے کہ ’’جب تم اللہ کے رسولﷺ کی کوئی حدیث سنو تو اس کے تسکین خاطر، قابلِ آفریں اور باعث تقویٰ ہونے پر یقین رکھو۔‘‘

(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 211) بتحقیق احمد شاکر اس کی سند صحیح ہے۔)

ز: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا:

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا‏۞ (سورۃ الأحزاب آیت 56)

ترجمہ: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو۔

اس آیت میں نبی کریمﷺ کے اس مرتبہ و منزلت کا بیان ہے جو (آسمانوں) میں آپﷺ کو حاصل ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں میں آپ کی مدح و تعریف کرتا ہے، اور فرشتے بھی آپ کے لیے بلند درجات کی دعا کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہی اللہ نے اہل زمین کو حکم دیا کہ وہ بھی آپﷺ پر درُود و سلام بھیجیں، تاکہ آپﷺ کی تعریف میں آسمانی اور ارضی دونوں دنیا متحد ہوجائیں۔

(تفسیر ابن کثیر: جلد 3 صفحہ 508)۔

سیدنا علیؓ نبی کریمﷺ کے اس حق کی تاکید میں رسول اللہﷺ کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

اَلْبَخِیْلُ الَّذِیْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَيَّ۔

(صحیح سنن الترمذی: جلد 3 صفحہ 177، بتحقیق البانی یہ حدیث صحیح ہے۔)

’’بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘

ھ: محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم:

قُلۡ اِنۡ كَانَ اٰبَآؤُكُمۡ وَاَبۡنَآؤُكُمۡ وَاِخۡوَانُكُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ وَعَشِيۡرَتُكُمۡ وَ اَمۡوَالُ اقۡتَرَفۡتُمُوۡهَا وَتِجَارَةٌ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَ جِهَادٍ فِىۡ سَبِيۡلِهٖ فَتَرَ بَّصُوۡا حَتّٰى يَاۡتِىَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖ‌وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ۞ (سورۃ التوبة آیت 24)

ترجمہ: (اے پیغمبر! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ: اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان، اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے اور وہ کاروبار جس کے مندا ہونے کا تمہیں اندیشہ ہے، اور وہ رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔ 

یہ آیت کریمہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی قطعی محبت کو واجب ٹھہراتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ یہ محبت ہر چیز کی محبت پر مقدم ہو، اس پر پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے۔ (تفسیر القرطبی: جلد 8 صفحہ 95)۔

فرمان الہٰی ہے:

قُلۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوۡنِىۡ يُحۡبِبۡكُمُ اللّٰهُ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ۞ (سورۃ آل عمران آیت 31)

ترجمہ: (اے پیغمبر! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

اس آیت میں بھی ضمناً اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کی محبت واجب ہے، اس لیے کہ اللہ نے اپنی محبت اور اس میں صداقت کی دلیل اتباع نبوی کو قرار دیا ہے، اور یہ اتباع اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک آپﷺ پر ایمان کامل نہ ہو۔ گویا دعوائے محبت نبویﷺ کے لیے اتباع نبوی شرط اور لازم ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

فَوَالَّذِیْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ لاَ یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی اَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَلَدِہِ وَ وَالِدِہ

(صحیح البخاری مع الفتح: جلد 1 صفحہ 58)۔

’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا ہے جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد اور ماں باپ سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔‘‘

بے شک صحابہ کرامؓ کو محبت رسول اللہﷺ کا بھرپور حصہ ملا تھا، کیوں کہ کسی سے محبت اس کی حقیقی معرفت کا نتیجہ ہوتی ہے، پس صحابہ کرامؓ نبی کریمﷺ کی عظمت اور آپ کے مقام و مرتبہ سے بہت اچھی طرح واقف تھے، انھیں سب سے زیادہ آپﷺ کی معرفت حاصل تھی، یہی وجہ تھی کہ وہ رسول اللہﷺ سے سب سے زیادہ اور حقیقی محبت کرنے والے تھے۔

(حقوق النبی علی امتہ: جلد 1 صفحہ 314)۔

 ایک مرتبہ امیر المؤمنین علیؓ سے پوچھا گیا کہ رسولﷺ کی محبت آپ لوگوں کو کس قدر تھی؟ حضرت علیؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! آپﷺ ہمارے نزدیک مال، اولاد، آباء و اجداد، ماؤں اور انتہائی پیاس کی حالت میں ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب تھے۔

(الشفاء: قاضی عیاض: جلد 2 صفحہ 568)۔ 

یہ مطلق خصوصیت آپﷺ کے سوا کسی کو حاصل نہ تھی۔