Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آیت ہذا عصمت و امامت پر دلالت نہیں کرتی

  علی محمد الصلابی

اس کی دلیل یہ ہے کہ ان آیات میں خطاب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم سے ہے، انھی سے ابتداء ہے، انھی پر اختتام ہے۔ فرمان الہٰی ہے

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ مَنۡ يَّاۡتِ مِنۡكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفۡ لَهَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَيۡنِ ‌وَكَانَ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ۞ وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًـا نُّؤۡتِهَـآ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا ۞يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَيَـطۡمَعَ الَّذِىۡ فِىۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ۞وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا ۞

(سورۃ الأحزاب: آیت 28 تا 34)

ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔ اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کوئی کسی کھلی بےہودگی کا ارتکاب کرے گی، اس کا عذاب بڑھا کر دو گنا کردیا جائے گا، اور اللہ کے لیے ایسا کرنا بہت آسان ہے۔ اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تابع دار رہے گی اور نیک عمل کرے گی، اسے ہم اس کا ثواب بھی دو گنا دیں گے، اور اس کے لیے ہم نے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔ اے نبی کی بیویو! اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ لہٰذا تم نزاکت کے ساتھ بات مت کیا کرو، کبھی کوئی ایسا شخص بیجا لالچ کرنے لگے جس کے دل میں روگ ہوتا ہے، اور بات وہ کہو جو بھلائی والی ہو۔ اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ اے نبی کے اہل بیت! (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔ اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ یقین جانو اللہ بہت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔ 

خطاب پورا کا پورا ازواج مطہراتؓ سے ہے، انھی کے لیے امر، نہی، وعدے اور وعید ہیں، لیکن جب یہ بات واضح ہوگئی کہ اس کی منفعت انھی اور دیگر اہل بیتؓ کو شامل ہے تو ’’یطہر‘‘ کے مفعول کے لیے مذکر کی ضمیر ’’کم‘‘ استعمال کی گئی، اس لیے کہ مذکر و مؤنث اکٹھا ہوں تو تغلیباً مذکر کی ضمیر ذکر کی جاتی ہے، ایسا اس لیے ہوا کہ آیت تطہیر تمام اہل بیت کو شامل ہوجائے، اس سلسلے میں دوسروں کے مقابلے میں علی، فاطمہ، حسن، اور حسین رضی اللہ عنہم کو خصوصیت حاصل ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے خصوصیت کے ساتھ دعا کی۔

اسی طرح یہ بھی معلوم ہے کہ کسی شخص کی بیوی اس کے اہل بیت میں سے ہوتی ہے، ایسا استعمال عربی زبان میں عام طور سے ملتا ہے، ایک آدمی دوسرے آدمی سے پوچھتا ہے: ’’کَیْفَ اَہْلُکَ‘‘ تو اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ تمھاری بیوی بچے کیسے ہیں؟ اور جواب میں وہ کہتا ہے: ہم بخیر، وہ سب خیریت سے ہیں۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ‌ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ‌ ۞

(سورۃ هود آیت 73)

ترجمہ: فرشتوں نے کہا: کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں؟ آپ جیسے مقدس گھرانے پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں،

اس آیت کی مخاطب بالاجماع ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سارہ علیہا السلام ہیں، اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی کی بیوی اس کے اہل بیت میں سے ہے۔

(الإمامۃ والنص: فیصل نور: صفحہ 386)

اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کی بھی مخاطب موسیٰ علیہ السلام کی بیوی ہیں:

فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَلَ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ اٰنَسَ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا‌ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّىۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا‌ لَّعَلِّىۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ‏ ۞

( سورۃ القصص آیت 29)

ترجمہ: پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کرلی، اور اپنی اہلیہ کو لے کر چلے تو انہوں نے کوہ طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : ٹھہرو! میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لے آؤں، یا آگ کا کوئی انگارہ اٹھا لاؤں تاکہ تم گرمائی حاصل کر سکو۔

اور اللہ تعالیٰ کے قول

وَاذۡكُرۡ فِى الۡـكِتٰبِ اِسۡمٰعِيۡلَ‌ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الۡوَعۡدِ وَكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا‌ ۞ وَكَانَ يَاۡمُرُ اَهۡلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ وَكَانَ عِنۡدَ رَبِّهٖ مَرۡضِيًّا۞

( سورۃ مريم آیت نمبر 54، 55)

ترجمہ: اور اس کتاب میں اسماعیل کا بھی تذکرہ کرو۔ بیشک وہ وعدے کے سچے تھے اور رسول اور نبی تھے۔ اور وہ اپنے گھر والوں کو بھی نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے، اور اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے۔

’’اس کتاب میں اسماعیل کا واقعہ بیان کرو، وہ بڑا ہی وعدے کا سچا تھا، اور رسول اور نبی بھی تھا، وہ اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول بھی تھا۔‘‘

اس میں اسماعیل علیہ السلام کی بیوی ان کے اہل بیت میں سے تھی جن کو وہ نماز کا حکم دیتے تھے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرح ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے:

وَاۡمُرۡ اَهۡلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا‌ ۞

(سورۃ 20 طه آیت 132)

ترجمہ: اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو، اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی بیویاں کم از کم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اس اعتبار سے کہ سورت مکی ہے آپﷺ کے اہل میں شامل ہیں۔ 

(الإمامۃ والنص: صفحہ 391) 

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

وَاسۡتَبَقَا الۡبَابَ وَقَدَّتۡ قَمِيۡصَهٗ مِنۡ دُبُرٍ وَّاَلۡفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الۡبَابِ‌ قَالَتۡ مَا جَزَآءُ مَنۡ اَرَادَ بِاَهۡلِكَ سُوۡۤءًا اِلَّاۤ اَنۡ يُّسۡجَنَ اَوۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ۞

(سورۃ يوسف آیت 25)

ترجمہ: اور دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف دوڑے، اور (اس کشمکش میں) اس عورت نے ان کی قمیص کو پیچھے کی طرف سے پھاڑ ڈالا۔ اتنے میں دونوں نے اس عورت کے شوہر کو دروازے پر کھڑا پایا۔ اس عورت نے فورا (بات بنانے کے لیے اپنے شوہر سے) کہا کہ : جو کوئی تمہاری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے، اس کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ اسے قید کردیا جائے، یا کوئی اور دردناک سزا دی جائے؟

اس الہٰی فرمان میں مخاطب عزیز مصر ہے اور ’’بأہلک‘‘ سے مراد ’’زوجتک‘‘ ہے اور یہ بہت واضح بات ہے۔ 

(الإمامۃ والنص: صفحہ 391)