غزوۂ خیبر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے موقف کے فوائد اور…

غزوۂ خیبر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے موقف کے فوائد اور عبرت وموعظت کے چند درُوس

  علی محمد محمد الصلابی

1: ایک عظیم فضیلت اور ظاہری منقبت:

آپﷺ نے حضرت علیؓ کے حق میں حب الہٰی اور حب رسولﷺ کی شہادت دی اور فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ان سے محبت کرتے ہیں۔ 

حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں:

’’اللہ کے نبیﷺ کی شہادت کہ علی اللہ و رسول سے محبت کرتے ہیں، کا مقصود یہ ہے کہ حضرت علیؓ کا دل محبت کی حقیقی لطافت سے معمور ہے، ورنہ مطلقاً محبت کی صفت میں سیدنا علیؓ کا اختصاص نہیں ہے اس میں دوسرے مسلمان بھی شریک ہیں۔ اسی طرح حدیث میں اس فرمان الہٰی کی طرف تلمیح واشارہ ہے۔

قُلۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوۡنِىۡ يُحۡبِبۡكُمُ اللّٰهُ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ۞ (سورۃ آل عمران آیت 31)

ترجمہ: (اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

گویا اس بات کی طرف اشارہ مقصود تھا کہ حضرت علیؓ اتباع نبویﷺ میں اتنے کامل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنا محبوب بنا لیا ہے۔ 

(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 72، یہ واضح رہے کہ رسول اللہﷺ کے اس ارشاد کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف حضرت علیؓ اس صفت میں تنہا ہیں بلکہ اس میں دیگر صحابہ کرامؓ بھی شریک ہیں۔ آپ بھی انھیں میں سے ایک فرد ہیں جنھیں یہ شرف حاصل ہے۔ (مترجم)

2: دعائے نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت:

نبیﷺ نے حضرت علیؓ کی آنکھوں کی شفایابی کے لیے جو دعا فرمائی تھی وہ بار گاہ الہٰی میں قبول ہوئی۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جب سے نبی کریمﷺ نے میری دونوں آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا، اس کے بعد پھر کبھی میری آنکھیں نہیں آئیں۔ 

(مسند أحمد: الموسوعۃ الحدیثیۃ، حدیث نمبر 579) اس کی سندحسن ہے۔)

 اسی طرح ایک مرتبہ حضرت علیؓ بیمار ہوئے، اللہ کے رسولﷺ حضرت علیؓ کی بیمار پرسی کرنے آئے، تو دیکھا کہ سیدنا علیؓ دعا کر رہے ہیں: ’’اے اللہ! اگر میری موت قریب آگئی ہے تو مجھے جلد از جلد موت دے کر راحت پہنچا، اور اگر ابھی دور ہے تو اس بیماری سے مجھے نجات دے دے اور اگر یہ بیماری میری آزمائش کے لیے ہے تو صبر کی توفیق عطا فرما۔ ‘‘اللہ کے نبی کریمﷺ نے یہ سن کر فرمایا:

 مَا قُلْتَ تم نے کیا کہا؟ 

حضرت علیؓ نے اپنی دعا دہرائی، تو اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: اَللّٰہُمَّ اشْفِہِ اَللّٰہُمَّ عَافِہٖ

 ’’اے اللہ اسے شفا عطا فرما، اے اللہ اسے عافیت دے دے‘‘ 

پھر کہا کہ اٹھو! چنانچہ میں اٹھ گیا، اور اس کے بعد وہ تکلیف دوبارہ مجھے کبھی نہ ہوئی۔ 

(مسند أحمد: جلد 2 صفحہ 151، احمد شاکر نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

3: زیر بحث حدیث کا امامت علی رضی اللہ عنہ سے کوئی تعلق نہیں:

روافض کا عقیدہ ہے کہ نبی کریمﷺ کے بعد حضرت علیؓ ہی خلیفہ المؤمنین ہیں اور معرض استدلال میں حضرت علیؓ کے فضائل پر مشتمل احادیث کو پیش کرتے ہیں، حالانکہ ان احادیث کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں ہے، من جملہ ان کے دلائل میں سے ایک یہ حدیث بھی ہے اور اس میں انھوں نے غلط باتوں کا اضافہ بھی کر لیا ہے جو کہ محدثین کے یہاں بالکل باطل ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول سے حضرت علیؓ کی محبت اور پھر ان دونوں کے نزدیک حضرت علیؓ کے محبوب ہونے سے یہ قطعاً لازم نہیں آتا کہ رسولﷺ کے بعد عہد خلفائے ثلاثہ یعنی ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے عرصۂ خلافت کے بغیر حضرت علیؓ ہی خلیفہ ہوں گے یا ہیں، اس لیے کہ اللہ اور اس کے رسول کی حضرت علیؓ سے محبت وپسندیدگی شہادت و ثبوت اس بات سے مانع نہیں ہیں کہ دوسرے اس فضیلت سے ہم کنار نہ ہوں، ابوبکر صدیقؓ اور آپ کے رفقاء کے بارے میں بھی اللہ تعالی فرماتا ہے: يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ (سورۃ المائدۃ آیت 54) ’’

وہ (اللہ) ان سے محبت کرتا ہے، اور وہ (ابو بکر و رفقاء) اس (اللہ) سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ 

اسی طرح شرکائے بدر کے بارے میں فرمایا: 

اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيۡنَ يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمۡ بُنۡيَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ۞ (سورۃ الصف آیت 4)

ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے راستے میں اس طرح صف بنا کر لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں۔

اور مسجد قبا والوں کے بارے میں فرمایا: 

 فِيۡهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّتَطَهَّرُوۡا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُطَّهِّرِيۡنَ‏۞ (سورۃ التوبۃ آیت 108)

ترجمہ: اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاک صاف لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

 نیز اسی طرح جب آپﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک سب سے محبوب کون ہے؟

تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا:   عائشہ!

پھر پوچھا گیا: مردوں میں سے؟

تو آپﷺ نے فرمایا: (اَبُوْھَا) ’’اس کا باپ۔‘‘

(صحیح البخاری مع الفتح: جلد 7 صفحہ 22)۔

پس سیدنا علیؓ کے حق میں محبت اور محبوبیت کی تخصیص، باوجودیہ کہ دوسروں کو بھی یہ فضیلت حاصل ہے۔ دراصل ایک دقیق نکتہ کی طرف اشارہ ہے جو نبی کریمﷺ کے قول:

یَفْتَحُ اللّٰہُ عَلَی یَدَیْہِ۔

 (مسلم: حدیث 2406)

میں پوشیدہ ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ اگر محبت اور محبوبیت کے حوالہ سے ہٹ کر فتح کا ذکر ہوتا تو یہ وہم پیدا ہو سکتا تھا کہ اس میں حضرت علیؓ کی فضلیت کا کوئی خاص دخل نہیں ہے۔چنانچہ حضرت علیؓ کے حق میں مذکور رہ دونوں اوصاف ذکر کے اس وہم کا ازالہ کر دیا گیا۔

(مختصر التحفۃ الاثنا عشریۃ: صفحہ 70)۔

4: چند متفر ق فوائد:

فتح کی بشارت سننے کے باوجود پوری رات صحابہ کرامؓ کی توجہ کا مرکز یہی موضوع رہا کہ وہ کون سعادت مند ہوگا جو اللہ اور اس کے رسول کی محبت و محبوبیت کی عظیم بشارت کا مستحق ہوگا اور اس کے ہاتھوں فتح نصیب ہوگی، یقیناً یہ صحابہ کرامؓ کی عظمت و فضیلت اور تقدیر الہٰی پر ایمان کامل ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے کہ وہ جھنڈا ایسے فرد کو ملا جس نے اس کے لیے کوشش ہی نہیں کی، اور جس نے کوشش کی وہ اس سے محروم رہا، صحابہ کرامؓ نے رات بڑی بےصبری سے کاٹی تھی اور صبح سویرے ان میں سے ہر ایک یہ تمنا اور امید لے کر نبی کریمﷺ کے پاس پہنچا کہ شاید عَلَمْ ہمیں ملے، حالانکہ وہ نہیں پا سکے اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو کہ مریض تھے اور انھوں نے حصول عَلَمْ کے لیے کوشش بھی نہ کی تھی وہ اس سعادت سے سرفراز ہوئے۔

اسی طرح حضرت علیؓ سے نبی کریمﷺ کا فرمانا کہ ’’تم اپنی مہم پر اطمینان سے گامزن ہو جاؤ‘‘ 

اس میں ادب اور سلیقہ کا سبق دیا گیا ہے کہ کسی کام میں عجلت نہ کرو، بلکہ غور و فکر کے بعد قدم اٹھاؤ۔ قتال سے پہلے اسلام کی طرف حکمت کے ساتھ دعوت دینے کی تعلیم دی گئی ہے آپﷺ نے فرمایا تھا، انھیں اسلام کی دعوت دو اور بتاؤ کہ ان پر اللہ کا کیا حق ہے‘‘حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اقدام جنگ سے قبل اسلام اور اس کے حقوق سے آگاہ کر دو، صرف اسلام لانے کا حکم دے دینا کافی نہیں ہے، کیونکہ ممکن ہے وہ زبان سے اسلام لے آئیں اور اس کے حقوق کی ادائیگی نہ کریں۔ لہٰذا ٹھوس نگرانی و تعلیم ضروری ہے تاکہ پھر کفر کی طرف نہ پلٹ جائیں۔

اسی طرح ایسے داعی اسلام کی فضیلت و ثواب کا اعلان ہے جس کے ذریعہ سے کوئی ایک فرد ہی راہ راست پر آجائے۔ آپﷺ نے فرمایا تھا: ’’واللہ تمھارے ہاتھ پر اگر ایک آدمی بھی ہدایت پا جائے تو تمھارے لیے بےشمار سرخ اونٹوں سے بہتر ہے‘‘ مقصود یہ تھا کہ دنیا کی عظیم ومحبوب ترین چیزوں سے بھی زیادہ بہتر ہے، یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ’’سرخ اونٹوں کے صدقہ کے برابر ثواب ہے‘‘ جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے۔

ایک بات یہ بھی فائدہ کی ہے کہ فتویٰ دیتے ہوئے تاکید و اہمیت کے اظہار کے لیے قسم کھانا درست ہے، جیسا کہ اللہ کے رسولﷺ نے یہاں فرمایا: ’’فَوَاللّٰہِ لِأَنْ یَّہْدِيَ اللّٰہُ‘‘ پس آپ نے قسم کھائی، حالانکہ یہاں قسم کا کوئی مطالبہ نہ تھا، آپ اس قسم کے ذریعہ سے صرف انھیں دعوت الی الخیر پر ابھارنا چاہتے ہیں۔