سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حکیمانہ اقوال جو لوگوں میں ضرب المثل بن گئے
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’جس نے اپنے راز کو راز رکھا اس کی بھلائیاں اس کے ہاتھ میں ہیں اور جس نے خود کو مقام تہمت پر کھڑا کیا تو وہ اپنے ساتھ بدظنی کرنے والے کو ملامت نہ کرے اور اگر تمہارے بھائی کی زبان سے تمہارے حق میں کوئی بری بات نکل گئی اور تمہیں اس میں خیر کا کوئی پہلو نظر آ رہا ہے تو اس کے ساتھ ہرگز بدگمانی نہ کرو اپنے بھائی کے معاملہ کو بھلائی پر محمول کرو، یہاں تک کہ اس کے خلاف کوئی چیز دیکھ لو اور زیادہ قسمیں نہ کھاؤ کہ اللہ تمہیں رسوا کر دے اور جس نے تمہارے حق میں برا کیا اسے تم اسی طرح کا برا بدلہ نہ دو، بلکہ اس کے حق میں بھلائی کا مظاہرہ کرو اور سچے بھائیوں کو دوست بناؤ، ان کو خوش رکھو، اس لیے کہ وہ لوگ آسانی میں زینت اور مصیبت میں زاد راہ ہیں۔‘‘
(تاریخ دمشق: جلد 44 صفحہ 359، التاریخ الإسلامی: جلد 20 صفحہ 270 )
یہ ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حکیمانہ باتیں، کہ ہر حکمت تربیت کی دنیا میں ایک نیا افق ہے۔ ان حکیمانہ اقوال پر کچھ مفید تعلیق بھی پیش خدمت ہے:
جس نے اپنا راز راز رکھا بھلائی اس کے ہاتھ میں رہی
اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک انسان کا راز اس کے دل میں پوشیدہ ہوتا ہے خود اپنی ذات کا حاکم ہوتا ہے، لیکن اگر کسی ایک یا زیادہ لوگوں کو اپنے راز کی بات بتا دی اور مصلحت اس بات میں سمجھتا ہے کہ راز فاش نہ ہو تو اس راز کو واپس لینے کی اس میں طاقت نہیں ہے۔
جس نے خود کو مقام تہمت پر کھڑا کیا وہ اپنے ساتھ بدظنی کرنے والوں کو ملامت نہ کرے:
اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان دوسروں سے پہلے خود اپنا مالک ہے، لہٰذا اس پر ضروری ہے کہ بقدرِ استطاعت خود کو تہمت کے مقامات سے دور رکھے اور جب اسے یہ محسوس ہو کہ کچھ لوگ ہمارے عمل سے ہماری نیت کے خلاف کوئی دوسری چیز مراد لے رہے ہیں تو اگرچہ خود ثقہ مند لوگوں میں شمار ہوتا ہو اور معاشرہ میں اچھی شہرت ہو پھر بھی فوراً حقیقت حال سے باخبر ہو کر شبہ کا ازالہ کرنا چاہیے اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں سے کہا تھا جنہوں نے آپﷺ کو رات میں عورت کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا تھا کہ
علی رسلکما انہا صفیۃ بنت حُي۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 20 صفحہ 271)
ترجمہ: ’’ٹھہرو، یہ (میری بیوی) صفیہ بنت حي ہیں۔‘‘
اگر تمہارے بھائی کی زبان سے تمہارے حق میں بری بات نکل گئ اور تمہیں اس میں خیر کا پہلو نظر آ رہا ہے تو اس کے ساتھ ہرگز بدگمانی نہ کرو:
بدظنی سے بچنے کے بارے میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی یہ کتنی اہم توجیہ و رہنمائی ہے۔ ہر مسلمان سے شرعاً مطلوب ہے کہ تمام مسلمانوں سے حسنِ ظن رکھا جائے اور ان کی جو باتیں یا کلمات بظاہر غلطی پر مبنی ہیں انہیں صحیح معنوں پر محمول کرنے کی کوشش کی جائے، اِلا یہ کہ وہ باتیں خالص برائی پر ہی مشتمل ہوں۔ پس یہی ہر مسلمان سے مطلوب ہے جب کہ ساتھ ہی اسے اپنے اور اپنے ماتحتوں کے بارے میں چوکنا بھی رہنا چاہیے، تاکہ حسنِ ظن کی بنا پر کہیں وہ مار نہ کھا جائے۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 20 صفحہ 271)
زیادہ قسمیں نہ کھاؤ کہ اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا کر دے
اللہ کی قسم کھانا اس کی تعظیم ہے، لہٰذا اگر بقدر ضرورت اور اللہ کی تعظیم نیز اس کے خوف و خشیت کی نیت سے قسم کھائی جائے تو اللہ کی توحید اور اس کی عظمت و جلال کا اعتراف ہوتا ہے، لیکن اگر مسلمان کثرت سے یہاں تک کہ گھٹیا سے گھٹیا چیزوں میں بھی قسمیں کھاتا ہے تو اس قسم میں اللہ کی تعظیم نہیں ہوتی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے نام کی توہین اور اس کی جلالت کا انکار ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بکثرت قسمیں کھا کر اللہ تعالیٰ کی توہین کرنے والا، خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذلت و رسوائی کا سامنا کرتا ہے اور جسے اس رسوائی کا سامنا کرنا پڑا وہ کھلے ہوئے نقصان و خسارہ میں ہو گیا۔
جس نے تمہارے حق میں برا کیا اسے اسی طرح برا بدلہ نہ دو، بلکہ اس کے حق میں بھلائی کا مظاہرہ کرو:
اگر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا کسی سے جھگڑا و اختلاف ہو اور مخالف تمہاری وجہ سے اللہ کی نافرمانی کرے، بایں طور کہ تم پر دست درازی کرے، یا تمہاری بے عزتی کرے، یا تمہارا مال لے لے، تو اس سے بہتر بدلہ اسے یہ دو کہ اس کے حق میں بھلائی کا مظاہرہ کرو، یعنی جھگڑے و اختلاف کے اسلامی آداب کی رعایت کرو اور اپنے مسلمان بھائی کے حق کی حفاظت و احترام کرو۔ جس گھٹیا پن میں اس نے تمہیں مخاطب کیا ہے اسی درجہ میں اتر کر تم اس کا جواب نہ دو، اور اگر معاف کر دو اور اپنے حق سے تنازل کر لو تو یہ اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت ہو گی۔
سچے بھائیوں کو دوست بناؤ:
جی ہاں! بہت سے ایسے بھائی ہیں جو تمہارے حقیقی بھائی نہیں ہیں ہاں سچے بھائی وہ ہیں جن کے دل خالص تقویٰ کی بنیاد پر محبت کرتے ہیں۔ وہ لوگ حقیقی بھائیوں سے زیادہ قربانی دینے والے اور احسان کرنے والے ہوتے ہیں۔ بشرطیکہ حقیقی بھائی اس طرح نہ ہوں۔ پس آسانی و سکون کے وقت سچے بھائیوں کی دوستی انسان کے لیے باعثِ سعادت ہے وہ ان سے مل کر خوش ہوتا ہے، اور نیکی احسان نیز اصلاح و رہنمائی کے کاموں میں ان کے ساتھ شریک ہوتا ہے اور جب مصیبت آ جاتی ہے تو انہیں پوری قوت کے ساتھ حاضر پاتا ہے۔ اس طرح وہ لوگ اپنے بھائیوں کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں، مال خرچ کرنے اور قربانی دینے میں مقابلہ کرتے ہیں اور مشکل سے مشکل کاموں کی انجام دہی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ نکلنے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ انہیں کتنی ہی سخت ضرورت کیوں نہ ہو۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 20 صفحہ 272)
یہ ہیں چند فاروقی حکیمانہ اقوال جو لوگوں میں ضرب المثل بن چکے ہیں۔ عربی ادب کے ناقدین آج تک متنبی کے حکیمانہ اقوال کو حیرت و استعجاب کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس نے اپنے دور میں انسانی تجربات کا خلاصہ پیش کر دیا ہے۔ حالانکہ متنبی کے حکیمانہ اقوال کسی اعتبار سے اس لائق نہیں ہیں کہ انہیں سیدنا عمر فاروقؓ کے حکیمانہ اقوال کے ساتھ ذکر کیا جائے یا کسی میدان میں ان کے ساتھ موازنہ کیا جائے۔ متنبی نے اپنے حکیمانہ اقوال میں لوگوں کے تجربات کی تلخیص و اختصار کیا ہے، جب کہ سیدنا عمرؓ نے انہیں لوگوں کے لیے خود وضع کیا ہے۔ حضرت عمرؓ کی جو باتیں حکومت، عدلیہ یا اخلاقیات کے لیے دستوری درجہ رکھتی ہیں وہ مکمل دستور تھیں، لیکن انہیں طویل رپورٹوں کی شکل میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ قانونی زبان میں انہیں تحریر کیا گیا۔ وہ دستور لوگوں کے سامنے حکیمانہ اقوال اور مثالی نقوش کی شکل میں اور ایسی زبان میں رائج رہا جس کے بیان و وضاحت کی کوئی انتہا نہیں۔ مثلاً حضرت عمرؓ کا یہ قول کہ ’’تم نے کب سے ان کو غلام بنا لیا ہے، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟‘‘
اور یہ قول کہ ’’اس معاملہ کے لیے نرمی ہی مناسب ہے مگر وہ نرمی جس میں کمزوری نہیں اور سختی مناسب ہے، مگر وہ سختی جس میں ظلم و جبر نہیں۔
اور یہ فرمان کہ ’’میں امارت کے لیے ایسا آدمی چاہتا ہوں کہ اگر وہ قوم میں قوم کا امیر بن کر رہے تو خود کو اسی کا ایک فرد سمجھے اور اگر ان میں بلا امارت کے ہو اور انہی کا ایک فرد ہو تو خود کو امیر سمجھے۔ ‘‘اور حکمرانوں کے بارے میں حضرت عمرؓ کا یہ قول کہ ’’میں طاقتور کے ظلم اور پرہیزگار کی درماندگی کی شکایت صرف اللہ ہی سے کرتا ہوں۔ ‘‘
نیز سیدنا عمرؓ کا یہ کہنا کہ ’’جو برائی کو نہیں پہچانتا وہ زیادہ قریب ہے کہ اس میں واقع ہو جائے۔‘‘
اور سیدنا عمرؓ کا یہ فرمان کہ ’’میں دغا باز نہیں ہوں اور نہ کوئی دغا باز مجھ کو دھوکا دے سکتا ہے۔‘‘
(أخبار عمر: صفحہ 212)
اور آپ کا یہ زرّیں قول کہ ’’اللہ تعالیٰ نے جو کام کرنے کا حکم دیا اس پر مدد کی اور جس کام سے منع کیا اس سے بے نیازی بھی عطا کی۔‘‘
(أدب الدنیا والدین: ماوردی: ص 311، فرائد الکلام: صفحہ 111)