Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 372: کیا عمِّ رسول اللہﷺ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیعتِ سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر راضی ہوئے؟

جواب: جی ہاں یقیناً تبھی تو شیعہ ان کو ضعیف الایمان ذلیل النفس اور خوار کے الفاظ سے گالیاں دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔ حیات القلوب مجلسی ذکرِ عباسؓ جلد 2 

ہم نے تاریخوں کا بغور مطالعہ کیا ہمیں طبری، تاریخِ اسلام ندوی اور نجیب آبادی وغیرہ میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے اختلاف یا بیعت نہ کرنے کا کہیں تذکرہ نہیں ملا۔ جس کا معنیٰ یہ ہے کہ 33 ہزار بیعت کرنے والے مہاجرین و انصار اور قریش کے ساتھ آپؓ نے بھی بیعت کی اور برضا و رغبت کی۔

سوال نمبر 373: اگر عشرہ مبشرہ میں سے کوئی بیعتِ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے کنارہ کش رہا تو اس کی بشارت برقرار رہے گی؟

جواب: کوئی صحابیؓ بھی بیعتِ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کنارہ کش نہ رہا سب نے کر لی۔

سوال نمبر 374: اگر رہے گی تو کیوں منکرِ خلافتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مستحقِ سزا سمجھا جائے؟

جواب: منکرِ خلافت کوئی نہ تھا تو قطعی اجماعِ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین قائم ہو گیا۔ اب اس کا منکر کافر ہو گا۔ فرمانِ الہٰی ہے: 

وَ يَتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصۡلِهٖ جَهَنَّمَ‌ (سورۃ النساء: آیت 115) 

ترجمہ: جو مؤمنوں کی راہ چھوڑ کر اور راستے چلا ہم اسے جانے دیں گے جدھر وہ ہو جاتا ہے پھر اسے دوزخ میں داخل کریں گے۔

سوال نمبر 375: اگر بشارت نہیں رہے گی تو تمام عشرہ مبشرہ کی بیعت ثابت کیجیئے؟ 

جواب: عشرہ مبشرہ سمیت تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بیعت کی ثبوت ملاحظہ ہو:

1: یہ فرمانے کے بعد سب سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے بعد حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور حضرت بشیر بن سعد انصاریؓ نے بیعت کی پھر تو یہ کیفیت پیدا ہوئی کہ چاروں طرف سے لوگ بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے۔ یہ خبر باہر پہنچی اور لوگ سنتے ہی دوڑ پڑے۔ غرض تمام مہاجرین و انصار نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بلا اختلاف متفقہ طور پر بیعت کر لی۔ (مہاجرین میں سب عشرہ مبشرہ داخل ہیں۔) انصار میں سے صرف حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اور مہاجرین میں سے ان لوگوں نے جو تجہیز و تکفین کے کام میں مصروف تھے اس وقت سقیفہ بنو ساعدہ میں بیعت نہیں کی حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے تھوڑی دیر بعد اسی روز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے یہ باتیں سن کر فوراً شکایت واپس لے لی اور اگلے روز مسجدِ نبوی میں مجمع عام کے روبرو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ (تاریخ الاسلام از اکبر شاہ: جلد، 1 صفحہ، 238، 239)

2: تاریخِ طبری: جلد، 3 صفحہ، 222، 223 کے جملے یہ ہیں:

فاقبل الناس من کل جانب یبالعون ابابکر

ترجمہ: لوگ ہر طرف سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت کرنے آ گئے۔

3: وتتابع القوم علی البیعۃ و بایع سعد

ترجمہ: بیعتِ سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر قوم ٹوٹ پڑی اور سیدنا سعد بن عبادہؓ نے بھی بیعت کی۔ 

4: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شخصیت ہر جماعت میں ایسی محترم تھی کہ اس انتخاب پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا تھا چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے ساتھ مسلمان بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے۔ اس کے دوسرے دن مسجدِ نبوی میں عام بیعت ہوئی ربیع الاوّل 12 ہجری میں حضرت ابوبکر رضی اللہ مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے۔ (تاریخِ اسلام ندوی: جلد، 1 صفحہ، 109)

مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: امام طبری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعدؓ نے بھی تھوڑی دیر کے بعد اسی دن سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی۔ (سیرت المصطفیٰ: جلد، 2 صفحہ، 366)

اور البدایہ والنہایہ جلد 5 صفحہ 247 پر ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سیدنا سعدؓ سے پوچھا: تو جانتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے امرِ خلافت کے قریش والی ہیں ان کے نیک نیکوں کے اور برے بروں کے تابع ہیں تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو نے سچ کہا ہم وزیر ہیں اور تم امیر و حاکم ہو۔

5: سقیفہ بنو ساعدہ والی مجلس چونکہ اچانک درپیش آئی تھی۔ اس میں حضرت زبیرؓ اور حضرت علیؓ شریک نہ ہو سکے تھے ان کو دوستانہ شکایت تھی کہ ہمیں شریکِ مشورہ کیوں نہ کیا گیا تو کچھ دیر تو انہوں نے توقف کیا پھر جب حضرت علی المرتضیٰؓ کو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پوری صورتِ حال اور اختلاف کے اندیشہ سے ذمہ داری اٹھانے کی بات بتائی تو وہ مطمئن ہو گئے اور انہوں نے کہا: ہم صرف اس لیے ناخوش ہوئے تھے کہ مشورہ میں شریک نہ کیے گئے، ورنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہی ہم امامت کا سب سے زیادہ حقدار سمجھتے ہیں کیونکہ وہ غار کے ساتھی ہیں ہم ان کی شرافت اور سب سے افضلیت کو پہچانتے ہیں رسولِ خداﷺ‏ نے اپنی زندگی میں ہی ان کو لوگوں کا امام نماز بنا دیا ہے۔ (تاریخ الخلفاء: صفحہ 59)

6: شیعہ کی سب سے مستند کتاب کافی کتاب الروضہ میں ہے:

امام باقر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ‏ کے بعد سوا تین آدمیوں کے سب مرتد ہو گئے۔ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) میں نے کہا تین کون ہیں فرمایا: سیدنا مقداد بن اسود، سیدنا ابوذر غفاری، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہم اللہ کی ان پر رحمتیں اور برکتیں ہوں کچھ دیر کے بعد لوگوں کو پہچان ہوئی۔ امام باقرؒ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن پر چکی گھومی اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت سے انکار کیا۔ یہاں تک کہ جب امیر المؤمنین (سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ) کو لے آئے تو آپ نے بیعت کی (پھر انہوں نے بیعت کی۔) ان تاریخی اور سنی و شیعہ روایات سے معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بیعت کی۔ عشرہ مبشرہ، حضرت سعدؓ، حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت ابوذرؓ، حضرت سلمانؓ، حضرت مقدادؓ سبھی نے کی۔ 

اب شیعوں کو چاہیے کہ وہ اپنے امام کی پیروی کریں اور اختلاف چھوڑ دیں اور حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو امامِ اوّل مان لیں۔

سوال نمبر 376: حدیث کل طویل احمق الا العمر سے حضرت ابوبکر صدیقؓ مستثنیٰ کیوں نہیں؟

جواب: یہ حدیث نہیں کسی کا مقولہ ہے قضیہ مہملہ ہے محصوہر کلیہ نہیں تو استثناء کی ضرورت نہیں۔

سوال نمبر 377: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ کوئی شخص پُل صراط پار نہ کر سکے گا جب تک حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اس کو راہداری نہ دیں کیا راوی حدیث کو بھی ملے گا؟

جواب: جی ہاں! یقیناً ملے گا کیونکہ اسی حدیث کے جواب میں سیدنا علی المرتضیٰؓ نے خوش ہو کر فرمایا اے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کیا تجھے میں خوشخبری نہ سناؤں؟ 

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یکتب الجواز الا لمن احب ابابکر (ابن السمان ریاض النظرہ: جلد، 1 صفحہ، 184)

ترجمہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے پُل صراط کی راہداری صرف اسے لکھی ہوئی ملے گی جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہو۔ 

حدیث اگر صحیح ہے تو شیعہ اصول پر بھی حضرت ابوبکر صدیقؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دوست و مؤمن ثابت ہوئے یقیناً راہداری پا کر جنت میں جائیں گے۔ دوست کا دشمن دشمن ہوتا ہے شیعہ اسی اصول پر راہداری سے محروم اور دوزخ میں جائیں گے۔

سوال نمبر 378: کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دعویٰ کیا کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہوں؟

جواب: مسلمانوں کے خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شیعوں کی طرح خود ستائی نہیں کرتے تھے انہوں نے خلیفہ منتخب ہو کر بھی پہلے خطبہ میں اس کی نفی کی۔ کیونکہ وہ ارشادِ قرانی فَلَا تُزَكُّوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ‌ (تم اپنی پاکی خود بیان نہ کرو) پر عامل تھے۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کی فضیلت میں بہت کچھ بیان کیا اور فرمایا۔ مگر افضلیت پر بھی کوئی نص نہیں فرمائی۔ اہلِ سنت کی روایات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی شیخین رضی اللہ عنہما کی افضلیت میں بہت کچھ کہا روایات گزر چکی ہیں۔ مگر اپنے کو ان سے افضل نہیں بتایا مسئلہ افضلیت دراصل کسی بزرگ کے خود اپنے دعویٰ پر مبنی نہیں مگر اپنے کو ان سے افضل نہیں بتایا مسئلہ افضلیت دراصل کسی بزرگ کے خود اپنے دعویٰ پر مبنی نہیں۔ بلکہ ظاہر قرآن، احادیثِ نبوی، اجماعِ امت اور حضرت علی المرتضیٰؓ جیسے قاضی کے فیصلہ پر مبنی ہے۔ اور ہم تحفہ امامیہ میں سوال 4 میں مدلل بحث کر چکے ہیں۔ 

اور کمال اسی میں ہے کہ افضل خود کو افضل نہ جتلائے بلکہ معمولی مسلمان جانے، مگر خدا و رسولﷺ‏ اور اصحابِ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و امت ان کو افضل کہیں۔ ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ، رفیقِ غار، صاحبِ پیغمبرﷺ‏ بتائیں۔ مصلیٰ پر امام نماز بنائیں۔ لوگوں کو ان کی پیروی کا ان سے مسئلہ پوچھنے کا حکم دیں اور سب لوگ ان کو افضل اتقیٰ، ایمان کی روح، قلب کی لذت، عمل کی مسرت، آنکھوں کا نور، دل کا سرور اور واجب المحبت جانیں اور اس میں کوئی کمال نہیں کہ اپنے اعلیٰ اور افضل ہونے کا جگہ جگہ اعلان کریں۔ کارنامے جتلائیں مگر 10 (دس) آدمی بھی اسے قبول نہ کریں پھر اپنے حب دار ہی دشمن بن جائیں اور سارے آئمہ تقیہ کی زندگی بسر کریں۔

سوال نمبر 379: اگر کہا تو کوئی ان کا ایسا قول نقل کر دیجیے؟ 

جواب: ہمیں یہ نقل پسند تو نہیں تاہم مؤرخین نے لکھا ہے کہ بیعت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی تسلی کے لیے یوں فرمایا: کہ اس امر (خلافت) کا مجھ سے زیادہ کون مستحق ہے کیا میں وہ نہیں ہوں جس نے سب سے پہلے نماز پڑھی کیا میں ایسا نہیں کہ سب سے پہلے مسلمان ہوا کیا میں ایسا نہیں ہوں؟ تو انہوں نے چند واقعات اور فضائل بیان کے جو نبی کریمﷺ‏ کے ساتھ گزارے تھے۔ 

(طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 29 اردو تاریخ الخلفاء: صفحہ، 59 ریاض النضرہ: جلد، 1 صفحہ، 161)

سوال نمبر 380: اگر نہیں کیا تو پھر آپ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہونے کا دعویٰ کیوں کرتے ہیں؟

جواب: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ان فیصلوں کی وجہ سے کرتے ہیں: 

1: لوگوں نے جب آپؓ سے کہا آپ ہم پر کسی کو خلیفہ کیوں نہیں بنا دیتے۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے کہا نبی کریمﷺ‏ نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا بس میں کیوں خلیفہ بناؤں لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ لوگوں کے ساتھ خیر کا ہو گا تو میرے بعد لوگوں کو کسی بہتر آدمی پر متفق اور مجتمع کر دے گا۔ 

کما جمعھم بعد نبیھم علی خیرھم اخرجہ البیہقی و اسنادہ جید (سیرۃ المصطفیٰ: جلد، 3 صفحہ، 370 ریاض النضرہ: جلد، 1 صفحہ، 161)

ترجمہ: جیسے کہ ان کے نبی کے بعد ان کے سب سے بہتر فرد پر ان کو جمع کر دیا تھا۔

2: بروایتِ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا کہ حضورﷺ‏ کے بعد امرِ خلافت میں ہم نے غور کیا تو یہ دیکھا کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو نماز میں آگے کر دیا تو ہم اپنی دنیا کے لیے اس پر راضی ہو گئے جس پر رسول اللہﷺ دین کے لیے راضی تھے ہم نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو آگے کر دیا اور بالاتفاق خلیفہ مان لیا۔ (طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 31)

3: بروایت محمد بن حنفیہؒ بخاری میں ہے کہ میں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابا! حضور اکرمﷺ‏ کے بعد سب لوگوں سے بہتر کون ہے؟ فرمایا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں نے پوچھا: پھر کون؟ فرمایا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور میں فکر میں پڑ گیا کہ پھر سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا نام لیں گے تو خود کہہ دیا پھر آپ ہیں؟ فرمانے لگے میں ایک مسلمان آدمی ہوں۔

4: احمد وغیرہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

خیر ھذہ الامۃ بعد نبیھا ابوبکر و عمر

ترجمہ: اس امت کے سب سے بہتر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ (پھر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ 

امام ذہبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حضرت علیؓ سے متواتر مروی ہے۔ اللہ رافضہ کو تباہ کرے کتنے بڑے جاہل ہیں۔

5: مجھے جو شخص بھی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے افضل کہے گا میں اسے جھوٹے کی سزا کوڑے لگاؤں گا۔ (تاریخ الخلفاءس: صفحہ، 42)

سوال نمبر 382: کشف المحجوب میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی زبان پکڑے کھینچ رہے ہیں اور فرماتے ہیں جس خرابی سے میں دو چار ہوا ہوں اسی کی وجہ سے ہوا ہوں۔ وہ خرابی کیا تھی؟

جواب: یہ بات موجبِ اعتراض نہیں بلکہ کاملین کی خشیتِ الہٰی کا پتہ دیتی ہے کہ وہ اپنے خدا کے ڈر میں اپنے اعضاء و جوارح کو قصوروار بتاتے ہیں۔ حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ کی دعاؤں کا مجموعہ (صحیفہ کاملہ) ایسی باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

ذنوبی بلاءی فما حیلتی اذا کنت فی الحشر حمالھا

ترجمہ: میرے گناہ میری مصیبت ہیں میں کیا تدبیر کروں گا جب حشر میں ان کو اٹھا کہ لاؤں گا۔

اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو خدا کے آگے ایسی کسر نفسی گڑگڑاہٹ اور تضرع نصیب فرمائے۔ واضح رہے ان کاملین کے متعلق ہمارا عقیدہ راست بازی اور گناہوں سے حفاظت کا ہے مگر وہ خود ایسا اعتقاد اپنے حق میں نہ رکھ سکتے تھے کیونکہ یہ خوف و خشیتِ الہٰی کے برعکس خود ستائی اور تکبر کی بات بن جاتی ہے۔

سوال نمبر 383: منہاج السنہ میں ہے کہ حضرت سعدؓ بیعتِ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے منکر رہے۔ کیوں؟

جواب: یہ حضرت سعد بن عبادہؓ انصاری اور بنو خزرج کے سردار ہیں۔ عشرہ میں سے نہیں ہیں۔ عشرہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ قریشی مہاجر ہیں جن کی بیعت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسلّم ہے۔ سیدنا ابنِ عبادہؓ خود خواہش مند تھے مگر قوم نے بھی ساتھ نہ دیا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت ہو گئی تو کچھ دیر علیحدہ رہے مگر پھر بیعت کر لی جیسے حوالہ جات سوال نمبر 375 میں گزر چکے۔ اور مسبوط سرخسی جلد سوم میں بھی بیعت کرنا لکھا ہے یہی صحیح ہے۔ ان کے پُرعظمت مقام کا تقاضا ہے۔ جو کچھ مؤرخین نے اس کے خلاف لکھا وہ سب غلط ہے کیونکہ لوط بن یحییٰ دروغ گو رافضی ہے۔ طبری میں اس کے بہت ہفوات مذکور ہیں۔ ملاحظہ ہو (طبری: جلد، 3 صفحہ، 222)

سوال نمبر 384: جس طریقے سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو خلیفہ بنایا گیا کیا وہ مبنی برخیر ہے؟

جواب: ہم بارہا کتابوں میں لکھ چکے ہیں کہ سقیفہ بنو ساعدہ جو سیدنا سعد بن عبادہؓ کے مکان کا چبوترہ تھا۔ میں انصار نے اجتماع کیا تھا۔ حضرت ابوبکر و حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہم کو تو ایمرجنسی حالات کے تحت مجبوراً جانا پڑا۔ طبری سے ملاخطہ ہو:

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو (انصار کے اجتماع کی) خبر ملی تو حضور اکرمﷺ کے مکان پر آئے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بلایا۔ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اسی مکان پر تھے اور حضرت علیؓ بن ابی طالب کفنِ پیغمبرﷺ کی تیاری میں تھے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا کہ میری طرف نکل کر آو۔ حضرت صدیقِ اکبرؓ نے قاصد کو یہ جواب دے کہ بھیجا: اِنِّی مُشْتَغلٌ میں تدفین کے بندوبست میں مشغول ہوں۔ پھر حضرت عمر فاروقؓ نے کہلا بھیجا کہ ایک واقعہ درپیش آ چکا ہے آپؓ کا ہونا ضروری ہے۔ تب حضرت ابوبکرؓ نکلے تو سیدنا عمر فاروقؓ نے کہا کہ آپؓ کو پتہ نہیں کہ سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار جمع ہیں وہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں۔ الخ

اب یہ دونوں گئے اور راستے میں سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بھی مل گئے، عاصم بن عدی اور عویم بن ساعدی سامنے سے ملے تو کہنے لگے تم واپس جاؤ تمہارا مقصد پورا نہ ہو سکے گا یہ کہنے لگے ہم کچھ نہیں کریں گے۔ جاتے ہی حضرت صدیقِ اکبرؓ نے اسلام کی آمد و برکت اور انصار کی فضیلت ایسے بیان کی اور الائمۃ من قریش سنایا کہ انصار آپؓ کی طرف متوجہ ہو گئے ایک آواز منا امیر و منکم امیر کی بھی آئی مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتی۔ پھر سیدنا بشیر بن سعدؓ انصاری نے مہاجرین کی تائید کی تو میدان صاف ہو گیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما میں سے جسے چاہو خلیفہ بنا لو تو ان دونوں نے فرمایا: خدا کی قسم ہم آپؓ کے مقابل خلیفہ نہیں بن سکتے۔ آپؓ سب مہاجرین سے افضل ہیں۔ ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ ہیں۔ نماز میں رسول اللہﷺ کے خلیفہ ہیں اور نماز سب دینِ اسلام سے افضل عمل ہے تو آپؓ سے کون بڑھ سکتا ہے یا آپؓ پر خلیفہ ہو سکتا ہے؟ ہاتھ بڑھائیے ہم بیعت کریں گے۔ یہ بڑھے ہی تھے کہ حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ انصاری نے بیعت کر لی، پھر سیدنا عمر اور سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما کے بعد قبیلہ اوس نے، اسلم نے، اور قبیلہ خزرج سب نے بیعت کر لی۔ پھر جوں جوں مہاجرین کو پتہ چلتا گیا آ کر بیعت کرتے رہے صرف تدفین میں مشغول افراد نے دوسرے دن بیعت کی۔ (انتہیٰ مختصر بلفظہٖ طبری: صفحہ، 219 تا 222)

اب انصاف سے سوچیے اس میں کیا خرابی کی بات ہوئی کس حکمت اور دانش سے انصار کا پروگرام ختم ہوا پھر واقعی فضائل کی بناء پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت ہوئی۔ ورنہ ان کا اپنا ارادہ اور پروگرام کوئی نہ تھا صرف اختلاف سے بچنے کی خاطر یہ ذمہ داری اٹھائی۔ اگر نہ اٹھاتے یا مہاجرین یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مشورہ کر کے لیٹ آتے تو انصار کا خلیفہ ہو جاتا گو مہاجرین للّٰہیت سے جھک بھی جاتے تو باقی عرب اطاعت نہ کرتے تو اختلاف اور انتشار برقرار رہتا۔

سوال نمبر 385: اگر خیر ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیوں کہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت بلا سوچے ناگہانی طور پر واقع ہوئی تھی تو اللہ نے اس کے شر سے بچا لیا آئندہ اگر کوئی اس طرح کرے تو اسے قتل کر دینا؟

جواب: ایمرجنسی حالات و حادثات کسی ضابطے کے تحت نہیں آتے۔ انصار کے اجتماع اور پروگرام کے پیشِ نظر سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہ تھا مگر یہ سوال تب اٹھایا جاتا کہ غیر مستحق خلیفہ بن جاتا۔ جب فوری سوچ اور حکمتِ عملی سے انتخاب بھی مستحق ترین کا ہوا اور ہنگامہ و نقصان مسئلہ کی نزاکت و اہمیت کے باوجود کچھ نہ ہوا، جبکہ آج ترقی یافتہ دور میں صدارت تو کیا معمولی ممبری کے انتخابات میں کتنے حادثات اور دشمنیاں پیدا ہو جاتی ہیں تو اس معاملہ کے خیر بن جانے میں کوئی شبہ نہیں پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہاں یہ بھی فرمایا ہے: کہ تم میں سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا کون ہے؟ جس کی طرف (سفر کرنے کے لیے) اونٹوں کی گردنیں کاٹی جائیں۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 29 بروایت ابنِ عباسؓ)

تو حضرت عمر فاروقؓ کا یہ فرمانا بجا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے قبیلہ کو جمع کر کے فوری بیعت لے لے اور وہ اہل بھی نہ ہو لوگ بھی متفق نہ ہو تو وہ تفریق بین المسلمین پیدا کرنے کی وجہ سے مستحقِ قتل ہے۔

سوال نمبر 386: اگر حضرت ابوبکرؓ کی حکومت آئینی اور جمہوری تھی تو اسے فلته کیوں کہا؟

جواب: لغت میں فلتۃ کا معنیٰ بغیر غور و فکر کا کام ہے خرج الرجل فلتۃ مرد اچانک نکل گیا وحدث الامر فلتۃ اچانک واقعہ ہو گیا۔ (مصباح اللغات: صفحہ، 644)

یہ ابتدائے واقعہ کے لحاظ سے فرمایا ہے کہ مہاجرین کا یا سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر اور سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہم کا یہاں آتے وقت بھی کوئی ارادہ نہ تھا کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی بیعت کریں جیسے راستے میں دو انصاری صاحبوں کے جواب میں کہا تھا کہ ہم کچھ نہیں کریں گے۔ بلکہ تاریخ تو ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کبھی اس کی تمنا نہ کی نہ خدا سے دعا کی۔ اقتدار و خلافت کرنے کا کبھی ان کے ذہن میں تصور بھی نہ آیا تھا۔ موسیٰ بن عقبہ کی مغازی اور مستدرک حاکم سے تصحیح شدہ روایت ملاحظہ ہو: حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خطبہ دیا تو فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں امارات کا کبھی ایک دن رات بھی امیدوار نہ تھا۔ نہ شوقین تھا، نہ خدا سے کبھی اعلانیہ یا پوشیدہ مانگی تھی لیکن میں نے تو فتنے کے ڈر سے قبول کی۔ الخ (تاریخ الخلفاء: صفحہ، 58)

ہاں جب بیعت شروع ہو گئی اور مہاجرین و انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین سب نے کی جن دو مہاجروں نے شریکِ مشورہ نہ ہونے کے رنج میں بروقت تاخیر کی دو ایک دن بعد انہوں نے کر لی پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیعت واپس بھی کی مگر کسی نے قبول نہ کی۔ جیسے کنز العمال جلد، 3 صفحہ، 140 پر روایت ہے: 

اے لوگوں میں تمہاری بیعت واپس کرتا ہوں تم جس کی چاہو بیعت کر لو۔ ہر دفعہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو جاتے اور فرماتے اللہ کی قسم تیری بیعت واپس نہ لیں گے نہ خلافت سے معزولی چاہیں گے کون ہے جو آپؓ کو پیچھے کرے جبکہ رسول اللہﷺ نے تجھے آگے کیا ہے۔ ریاض النضرۃ جلد، 1 صفحہ، 229 پر مستقل یہ باب ہے پھر 5 حدیثیں بالا مضمون کی ذکر کی ہیں۔

ان حقائق اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اتفاق کی روشنی میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے جمہوری یا آئینی ہونے میں کسی عقل مند اور مؤمن باللہ والرسول کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا ہے۔

سوال نمبر 387: اگر حکومت سازی کا یہ طریقہ اچھا ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے قتل کا حکم کیوں دیا؟

جواب: بس یار اس قے کو بار بار مت چاٹو۔ آپ کو حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کا احسان مند ہونا چاہیے۔ کہ خلافت انصار رضی اللہ عنہم سے لے کر مہاجرین رضی اللہ عنہم کو پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو پہنچائی۔ اگر یہ حضرات بروقت مداخلت نہ کرتے تو حضرت علی المرتضیٰ و حضرت حسن رضی اللہ عنہما کو کبھی خلافت نہ ملتی اب کیا ہوا اگر انہوں نے قوم کی رضا سے اس دیگ سے اپنا مقدر حصہ اوّلاً کھا لیا اور پھر سب دیگ حضرت علی المرتضیٰؓ کے گھر آئی اور وہیں پر ختم ہوئی۔

غور فرمائیے اگر مسئلہ امامت شیعہ کے ہاں اتنا اہم ہے کہ کلمہ کا جزو ہے منکر کافر ہے اور تمام اصحابِؓ رسولﷺ معاذ اللہ گردن زونی ہیں تو سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اپنی سیاسی بصیرت اور بیدار مغزی سے کام لینا چاہیے تھا۔ بعد از وفات اس کا اعلان کرتے ہیں اور لوگوں سے بیعت لیتے جیسے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی تدفین سے پہلے یہ سب کام کر لیے تھے۔ (جلاء العیون) آخر تکفینِ پیغمبرﷺ اس میں رکاوٹ تو نہ تھی جب ایسا نہ کیا تو انصار کو اپنے انتخاب و اجتماع کا موقع مل گیا تو قاصد کو آپؓ کے پاس آنا چاہیے تھا مگر وہ تو سب سے افضل اور ہر دلعزیز سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کے پاس آیا تھا جو اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تعلیمِ نبوی اور پیغمبرانہ برتاؤ کی وجہ سے حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو ہی افضل، مستحقِ خلافت اور مشکل قضیئے نپٹانے والا جانتے تھے۔ پھر جب صورتِ حال کا جائزہ لینے حضرت صدیقِ اکبرؓ حضورﷺ کے مکان سے ہی حضرت علیؓ کے پاس سے چلے۔ جیسے طبری جلد، 3 صفحہ، 219 کی صراحت گزر چکی۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ساتھ ہو جاتے یا اپنا نمائندہ بھیج دیتے یا اتنا ہی کہلا بھیجتے ذرا صبر کرو میں بھی آ رہا ہوں۔ یہ سب مواقع کھو دئیے اور انصار سیدنا صدیقِ اکبرؓ پر ہی متفق ہو گئے تو اگلے دن جب حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ بیعت واپس کرنا چاہتے تھے تو اقالہ منظور کر لیتے اور خود بیعت لیتے مگر سب تاریخیں متفق ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ کی معذرت اور اچانک صورتِ حال کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے قبول کیا۔ مشورہ میں عدمِ شرکت کی شکایت کو نظر انداز کیا اور بیعت کر کے مسلمانوں کے ساتھ متفق و متحد ہو گئے۔ اب صدیوں بعد ایک نادان دوست فرقہ غصب امامت کا فرضی راگ الاپ رہا ہے کتابیں لکھ رہے ہیں ہزاروں روپے کی فیسوں پر مناظرے ہوتے ہیں تمام مؤمنین صحابہؓ رسول پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے مسلمانوں میں فرقہ ورایت اور منافرت کا بت بچوایا جا رہا ہے کیا آج کوئی عقل مند مصنف اسلام اور مسلمانوں کا ہمدرد ان حرکات کو پسند یا مفید اسلام سمجھ سکتا ہے:

اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت

سوال نمبر 388: حضرت رسالت مآبﷺ کے سارے وعدے کس نے پورے کیے؟

جواب: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیے ریاض النضرہ جلد 1 صفحہ 167 پر باب ہے ذکر وفاہ بعدات رسول اللہﷺ اس بات کا ذکر کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے رسول اللہﷺ کے وعدوں کو پورا فرمایا پھر دو واقعات ذکر کیے ہیں۔

سوال نمبر 389: جناب ختمئی مرتبت (نبی کریمﷺ) کے قرضے کون پورے کرتا رہا؟

جواب: جو حکومت سے متعلقہ قرض تھے وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پورے کیے۔ خانگی ضرورت کے قرضے دکان داروں کو کوئی بھی ادا کر سکتا ہے اس کا خلافت سے تعلق نہیں۔

سوال نمبر 390: حضور اکرمﷺ‏ نے تبرکاتِ خاص کس کے حوالے کیے؟

جواب: سب سے بڑا تبرک مسجدِ نبوی کا مصلیٰ اور منبرِ پیغمبرﷺ تھا وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہی حوالے کیا۔ حوالہ کی حاجت نہیں۔ تمام نظام مالیات بھی آپؓ کے حصے میں آیا اور بطورِ خلیفہ اس کی آپؓ نے شرعی تقسیم کی کیونکہ سیدنا جعفر صادقؒ کی حدیث ہے: انفال (مالِ غنیمت یا فَے) وہ مال ہے جس پر مسلمانوں نے نہ گھوڑے دوڑائے نہ سواریاں چلائیں یا جو کافروں میں بطورِ صلح دے دیا یا انہوں نے بخشش کر دیا اور ہر بنجر زمین اور وادیوں کے پیٹ رسول اللہﷺ کے قبضے میں ہوں گے اور آپﷺ‏ کے بعد خلیفہ و امام کے قبضے و تصرف میں ہوں گے وہ جہاں چاہے خرچ کرے۔ (اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 539)

اسی اصول پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس ترکہ پیغمبرﷺ میں آپﷺ‏ کے حکم کے مطابق وراثت نہیں چلائی بلکہ فدک، اموال بنو نضیر، صدقات اہلِ مدینہ خمس وغیرہ کو حسبِ شرح و صوابدید مساکین و مستحقین پر خرچ کیا۔ حوالہ جات گزر چکے۔ شیعوں کو بھی اس سے اختلاف نہیں پروپیگنڈا محض فرضی ہے۔

ہاں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ نے حضور اقدسﷺ کا خچر، ہتھیار اور کپڑے لیے۔ یہ نہلانے والے رشتہ دار لے سکتے ہیں۔ ان تبرکات کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں۔

سوال نمبر 391: کیا کتبِ اہلِ سنت میں ایسی مرفوع صحیح حدیث موجود ہے؟ جس میں حضورﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے خلیفہ یا وصی کے الفاظ سے حاکم ہونے کا امت کو حکم فرمایا ہو۔

جواب: خلافت پر دلیل ایسے ہر قسم کے الفاظ کی حدیثیں ہیں جو تحفہ امامیہ سوال 13 میں صفحہ 279 تا 287 مذکور ہیں۔

مطلوبہ احادیث یہ ہیں: 1: ابو قاسم بغوی اپنی سند حسن کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کو میں نے فرماتے سنا:

یکون خلفی اثنا عشرۃ خلیفۃ ابوبکر لا یلبث الا قلیلا صدر ھذا الحدیث مجمع علی صحته و ورد من طرق عدۃ (تاریخ الخلفاء: صفحہ، 52)

ترجمہ: میرے بعد 12 خلیفے ہوں گے (پہلے خلیفے) سیدنا ابوبکر صدیقؓ تھوڑی زندگی خلافت کریں گے۔ اس حدیث کا شروع حصہ بالاجماع صحیح ہے اس کی کئی سندیں ہیں۔

2: ابنِ عساکر سیدنا ابنِ عباسؓ سے راوی ہے کہ حضور اکرمﷺ‏ سے ایک عورت مسئلہ پوچھنے آئی آپﷺ نے فرمایا۔ پھر آنا۔ کہنے لگی اے اللہ کے رسولﷺ اگر پھر آؤں اور آپﷺ‏ کو نہ پاؤں یعنی آپﷺ‏ وفات پا جائیں تو فرمایا اگر تو آئے اور مجھے نہ پائے۔

فاتی ابا بکر فانه الخلیفۃ من بعدی

ترجمہ: تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آنا کیونکہ وہی میرا میرے بعد خلیفہ ہو گا۔ (ایضاً)

3: مسلم اور بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے مجھے مرض موت میں فرمایا اپنے باپ اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک نوشتہ لکھ دوں کیونکہ مجھے فکر ہے کہ کوئی آرزو کرنے والا آرزو کرے اور کہنے والا کہنے لگے میں زیادہ (خلافت کا) حق دار ہوں۔

ویابی اللہ والمؤمنون اِلا ابابکر

ترجمہ: خدا اور ایمان والے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سوا اور کسی کو خلیفہ نہیں مانتے۔

4: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا اگر رسول اللہﷺ خلیفہ نامزد کرتے تو کسے کرتے؟ تو فرمایا حضرت صدیقِ اکبرؓ کو پھر حضرت عمر فاروقؓ کو (صحیحین) ان جیسی احادیث میں رسول اللہﷺ نے سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اشارات تو کر دیئے اور مصلیٰ کی امامت بھی دے دی۔ آخری وصایا کفن، دفن، غسل، نماز وغیرہ کے متعلق ارشاد فرما کر وصی بھی بنا دیا۔ (ملاحظہ ہو جلاء العیون: صفحہ، 75 حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 695) مگر مجمع عام بلا کر باقاعدہ خلیفہ ہونے کا اعلان نہ فرمایا تاکہ مسلمانوں کا حق انتخاب زائل نہ ہو اور نامزدگی یا نص کے بجائے شوریٰ تا قیامت اصولِ عام قرار پائے اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ نامزد خلیفہ اپنے آپ کو لوگوں کی باز پُرس سے پاک سمجھے گا۔ تو لوگوں کو شکایت ہو گی جب اپنا منتخب شدہ ہو گا تو لوگ شکایت کا ازالہ کر سکیں گے۔ پھر شارع کی طرف سے مقرر شدہ خلیفہ کی نافرمانی خدائی عذاب کو دعوت دیتی چنانچہ اس کی وجہ مسندِ بزار کی اس حدیث میں مذکور ہے۔

حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں: لوگوں نے کہا یا رسول اللہﷺ کیا آپ ہم پر خلیفہ مقرر نہیں کرتے تو آپﷺ نے فرمایا اگر میں تم پر مقرر کر جاؤں اور تم میرے خلیفہ کی نافرمانی کرو تو تم پر عذاب نازل ہو گا۔(اخرجہ الحاکم فی المستدک، تاریخ الخلفاء، سیرت المصطفیٰ: جلد، 3 صفحہ، 374)

سوال نمبر 392: جنازۂ رسولﷺ چھوڑ کر تدبیر حکومت کیوں ضروری ہوا؟

جواب: جنازہ کسی نے نہیں چھوڑا۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے سلیم بن قیس ہلالی روایت کرتے ہیں کہ 10 آدمی مہاجرینؓ کے اور 10 آدمی انصارؓ کے حجرہ مبارک میں داخل ہو کر نماز پڑھتے تھے پھر نکلتے تھے حتیٰ کہ مہاجرین و انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک نہ بچا جس نے جنازہ نہ پڑھا ہو۔

(احتجاجِ طبرسی: صفحہ، 45 مطبوعہ ایران 1302ھ)

تھوڑی دیر کے لیے اختلاف رفع کرنے اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گئے تھے پھر واپس آ گئے تدفین سے قبل انتخاب کی حکمت یہ تھی کہ رسول اللہﷺ کے بعد ایسی شخصیت ضرور چاہیے تھی جو دین کا بندوبست کرے اختلافات کو نمٹائے۔ دشمنوں، منافقوں کو شرارت کرنے سے روکے۔ لہٰذا خلیفہ کا انتخاب تدفین سے قبل ضروری ہوا۔ شیعہ اصول بھی یہی ہے اور یہی وجہ شرح مواقف صفحہ 729 پر لکھی ہے جسے شیعہ بدیانتی سے بھیانک انداز میں پیش کیا کرتے ہیں۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عذر واضح تھا کہ انہوں نے بیعت میں جلدی مسلمانوں کی بڑی مصلحت جان کر کی۔ تاخیر میں جھگڑا اور اختلاف پڑتا تھا حتیٰ کہ تدفین بھی بیعت کے بعد کی۔ کیونکہ یہ اہم کام تھا تاکہ حضور اکرمﷺ کے دفن، کفن، غسل، نماز وغیرہ میں اختلاف ہو تو خلیفہ فیصلہ کر سکے۔ (شرح مسلم نووی: جلد، 2 صفحہ، 91)

سوال نمبر 393، 394: امکانِ سازش و حملہ کی صورت میں مرکز کی حفاظت ضروری ہے یا نہیں؟ یثرب کو خالی چھوڑ جانا حرصِ اقتدا کی ترکیب ہے یا حفاظتِ حکومتِ اسلامیہ؟

جواب: آپ کی بددیانتی اور مسلم دشمنی پر آفرین ہے۔ یہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے روم پر روانگی پر طعن ہے۔ جب رسول اللہﷺ بیمار تھے اور لشکر نہ نکل سکا تو آپ شیخین سمیت سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ملعون بناتے رہے۔ (معاذ اللہ) اب جب خلیفۃ الرسول نے نامساعد حالات میں تاکیداتِ نبویﷺ کی وجہ سے بھیج دیا اور وہ کامیابی سے فاتح و منصور لوٹے تو آپ غصّہ سے اس لشکر پر لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَيۡظِكُمۡ حضرت اسامہؓ کے لشکر کے روانگی ہی مرکز کی حفاظت اور سازشوں کی کمی کا باعث بنی۔ مورخین کا بیان ہے: چالیس دن کے بعد یہ مہم اپنا کام پورا کر کے فاتحانہ مدینہ واپس آئی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شہر سے نکل کر اس کا استقبال کیا۔ اس کا اثر نہایت اچھا پڑا اس سے ایک طرف بیرونی طاقتوں کے دلوں پر خوف بیٹھ گیا۔ دوسری طرف انقلاب کرنے والوں کو اس کا یقین ہو گیا کہ مسلمانوں کی قوت کافی ہے۔ چونکہ مالِ غنیمت بھی خوب ہاتھ آ گیا تھا۔ لہٰذا آئندہ سرکشوں کو درست کرنے اور ملک کے امن و امان کو بحال کرنے میں اس مالِ غنیمت سے مسلمانوں کو بڑی امداد ملی اور فوجی دستوں کی روانگی میں سامانِ سفر کی تیاریاں زیادہ تکلیف دہ نہیں ہو سکیں۔ (تاریخ الاسلام: جلد، 1 صفحہ، 110 ندوی و اکبر آبادی: جلد، 1 صفحہ، 232)

سوال نمبر 395: اشادِ خداوندی ہے: وہ وقت قریب ہے کہ تم لوگ حاکم بن جاؤ گے ارضِ خدا پر فساد برپا کرو گے اور اپنے رشتے منقطع کر لو گے ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے کانوں کو بہرا کر دیا ہے اور آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔ کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دورِ آغاز فساد فی الارض اور انقطاع الارحام سے نہ ہوا؟

جواب: مرتدوں، منافقوں، اعلانیہ یا بتقیہ نبوت کے دعویداروں ذکوٰۃ کے منکروں پر اللہ کی لعنت ہو۔ ان سے جنگ عین شرعی جہاد ہے جس کی پیشن گوئی اور لڑنے والے خلیفہ کی حقانیت قران نے بیان کر دی ہے۔

اے ایمان والو جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا۔ (تو خدا کا کچھ نقصان نہیں) خدا عنقریب ایسے لوگوں کو لائے گا جن کو وہ دوست رکھتا ہے اور اس کو وہ دوست رکھتے ہیں۔ مؤمنوں کے لیے وہ رحم دل ہیں اور کافروں کے لیے سخت راہِ خدا میں جہاد کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ یہ فضل خدا کا ہے جس کو چاہے وہ عطا فرمائے اور خدائے تعالیٰ صاحبِ وسعت و علم ہے۔ (ترجمہ مقبول: صفحہ، 139 پارہ، 6 رکوع، 12)

سنی شیعہ تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ بعد از پیغمبرﷺ‏ فتنہ ارتداد ہوا تھا۔ ان سے جنگ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور آپؓ کے لشکر نے کی۔ جس کے ا ایک سپاہی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔یہی لشکر اس فضلیت کا مصداق ہے اور خلافتِ صدیقی پر زبردست برہان ہے۔

آیت بالا بے موقع نقل کر کے سائل۔ جو مرتدوں، منافقوں، منکرینِ زکوٰۃ کا حامی اور ایجنٹ ہے۔ نے ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ ہم تو جواب آن غزل کچھ نہیں دیتے مگر سبائیت کی دوسری شاخ خارجی اور ناصبی اوپر والی آیت جنگِ جمل و صفین اور نہروان کے ستر ہزار مقتولوں کے متعلق پڑھ کر حضرت علی المرتضیٰؓ پر معاذ اللہ فتویٰ لگایا کرتے ہیں۔ حقائق کی روشنی میں درست جواب ہمیں بھی سمجھا دیجیے تاکہ دشمن کے دانت کھٹے کر سکیں۔ هَلۡ عِنۡدَكُمۡ مِّنۡ عِلۡمٍ فَتُخۡرِجُوۡهُ لَـنَا (سورۃ الأنعام: آیت 148)