Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سابعا عراقی فوج اور اہل کوفہ کا اضطراب

  علی محمد الصلابی

خوارج کے نکل جانے سے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی فوج کمزور ہوگئی تھی، نیز جمل، صفین اور نہروان جیسی جنگوں کے باعث اہلِ عراق جنگ سے اکتا چکے تھے اور متنفر ہو چکے تھے، بالخصوص مقامِ صفین میں اہل شام سے جنگ، ان سے یہ جنگ معمولی جنگ نہیں تھی، صفین کا یہ خوں ریز معرکہ ان کے ذہنوں سے اوجھل نہیں ہوا تھا، اس میں مقصد بھی حاصل نہیں ہوا اور بہت سارے بچے یتیم ہو گئے، بہت ساری عورتیں بیوہ ہو گئیں، اگر صلح نہ ہو جاتی یا اس تحکیم کا معاملہ نہ ہوتا جس کا امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہؓ کے بہت سارے ساتھیوں نے استقبال کیا تھا تو یہ معرکہ عالم اسلام کے لیے اتنی بڑی مصیبت ہوتا جس کے برے نتائج کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے دوبارہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام پر لشکر کشی سے کترانا کچھ لوگوں کو زیادہ پسند تھا اگرچہ وہ جانتے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر ہیں۔

(خلافۃ علی بن أبی طالب: عبدالحمید علی: صفحہ 345)

جن مشکلات کے باعث امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے خیمے میں کمزوری آئی ان میں سے یہ چیز بھی تھی کہ خوارج سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے برأت کا اظہار اور انھیں کافر قرار دیتے تھے، رد عمل کے طور پر ایسا فرقہ وجود میں آ گیا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تعظیم میں غلو کرنے لگا اور انھیں مقام الوہیت تک پہنچا دیا۔

(نظام الخلافۃ فی الفکر الإسلامی مصطفی حلمی: صفحہ 15، 16)

ان کے مقاصد برے تھے کہ دین کو تباہ و برباد کرنے کے لیے مسلمانوں میں غلط عقائد داخل کر دیں اور صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فوج کو نہیں بلکہ پورے مسلمانوں کو کمزور کر دیں۔

(خلافۃ علی بن ابی طالب: عبدالحمید علی: صفحہ 35)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوری مستعدی اور قوت سے ان کا مقابلہ کیا۔

بلاشبہ خوارج کے نکل جانے اور ان کے قتل کے سبب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خیمہ کافی کمزور ہو گیا، اس کے بعد باہمی اختلافات بڑھتے رہے، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے اہواز پر مقرر گورنر خریت بن راشد (دوسری روایت کے مطابق اس کا نام حارث بن راشد) نے اپنی قوم کے ساتھ بغاوت کر دی، لوگوں کو سیدنا علیؓ کی نافرمانی کی دعوت دی، بہت سارے لوگوں نے اس کی دعوت کو قبول کر لیا، چنانچہ اس علاقے پر اس نے قبضہ کر لیا اور ٹیکس وصول کرنے لگا، اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے معقل بن قیس ریاحی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اس کی جانب فوج بھیجی جس نے اسے شکست دی اور قتل کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 27،47)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خیمے میں خراج دینے والوں کو خراج نہ دینے کا لالچ پیدا ہو گیا، اہل اہواز الگ تھلگ ہو گئے اس کے باعث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بہت ساری فوجی و مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس سلسلے میں شعبی کا یہ قول نقل کیا جاتا ہے:

’’جب سیدنا علیؓ نے اہل نہروان سے جنگ کی تو بہت سارے لوگوں نے سیدنا علیؓ کی مخالفت کی، اطراف و اکناف کے لوگ آپ سے الگ ہو گئے، بنوناجیہ نے سیدنا علیؓ کی مخالفت کی۔ ابن حضرمی بصرہ چلے آئے، اہل اہواز سیدنا علیؓ سے الگ ہوگئے، خراج دینے والوں میں نہ دینے کا لالچ پیدا ہو گیا، اور ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گورنر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو فارس سے نکال دیا۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 53)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جب خلافت کی باگ ڈور سنبھالی تو عراقی فوج میں اضطراب تھا، اہل کوفہ اپنے معاملہ میں متردد تھے، ابن درید کی ’’المجتبی‘‘ میں وارد ہے: 

’’سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کے انتقال کے بعد کھڑے ہو کر تقریر کی: اللہ کی قسم! ہم نے اہل شام سے اس لیے منہ نہیں موڑا کہ ہم شک و ندامت میں مبتلا تھے، ہم صبر و سلامتی کے ساتھ ان کی مزاحمت کرتے تھے، پھر سلامتی میں دشمنی اور صبر میں بے صبری کی ملاوٹ ہو گئی، جب تم جنگ صفین میں گئے تھے تو تمھارا دین دنیا پر مقدم تھا، آج تمھاری حالت بدل گئی ہے، تمھاری دنیا دین پر مقدم ہے، تمھارے ساتھ ہمارا جو معاملہ تھا وہی ہے، لیکن ہمارے ساتھ تمھارا معاملہ بدل چکا ہے، تم دو طرح کے مقتولین کے مابین منقسم ہو، صفین کے مقتولین جن پر تم رو رہے ہو، نہروان کے مقتولین جن کے بدلے کا تم مطالبہ کر رہے ہو، بقیہ لوگ جنگ سے کترانے والے ہیں، مقتولین پر رونے والے بغاوت کرنے والے ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایسی بات کی دعوت دی ہے جس میں نہ عزت ہے نہ انصاف، اگر تم جنگ میں موت کے لیے تیار ہو تو ان کی دعوت ہم ٹھکرا دیں اور اگر جنگ نہ کر کے زندہ رہنا چاہتے ہو تو ان کی دعوت قبول کر لیں، ہر طرف سے لوگوں کی آواز آئی: ’’جنگ سے بچو‘‘ جنگ سے بچو، جب لوگوں نے انھیں تنہا کر دیا تو سیدنا حسنؓ نے صلح کر لی۔‘‘

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 269)

مجھے اگرچہ اس تقریر کی نسبت میں شک ہے، لیکن وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور ان کے متبعین کی اس نفسیات کی تصویر کشی کرتی ہے جس کے باعث اپنے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین صلح میں سیدنا حسنؓ نے جلدی کی۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 93)

اہل عراق نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو کچھ کیا، اور جو برا اور اہانت آمیز سلوک کیا اس کا اظہار کرتے ہوئے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا:

’’اللہ کی قسم! میری رائے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میرے لیے ان لوگوں سے بہتر ہیں جو اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ میرے معاونین ہیں، انھوں نے مجھے قتل کرنا چاہا، میرے مال و اسباب کو لوٹ لیا، اللہ کی قسم میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے ایسا عہد لے لوں جس سے میں اپنی جان بچا لوں اور اپنے اہل وعیال میں امن و امان سے رہوں، یہ بہتر ہے اس سے کہ یہ لوگ مجھے قتل کر دیں، پھر میرے اہل بیت اور اہل و عیال برباد ہو جائیں، اللہ کی قسم! اگر میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کروں گا تو یہ لوگ میری گردن ان کے حوالے کر کے صلح کر لیں گے، اللہ کی قسم اگر میں باعزت ان سے صلح کر لوں یہ بہتر ہے اس سے کہ وہ مجھے بہالت قید قتل کر دیں، یا مجھ پر احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیں، تو یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بنوہاشم پر احسان ہو گا، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نیز ان کی آنے والی نسل ہمارے زندوں اور مردوں پر اس کا احسان جتاتی رہے گی۔‘‘

(الشیعۃ و اہل البیت: صفحہ 379، نقلا عن الاحتجاج للطبرسی: صفحہ 148)

نیز فرمایا:

’’میں اہلِ کوفہ کو پہچان چکا ہوں اور انھیں آزما چکا ہوں، ان میں سے جو خراب تھے وہ میرے لیے اچھے نہیں ہو جائیں گے، وہ وفادار نہیں ہیں، ان کے قول و عمل کا کوئی بھروسا نہیں ہے، یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان کے دل ہمارے ساتھ ہیں جب کہ وہ ہم سے اختلاف رکھنے والے ہیں، اور ان کی تلواریں ہمارے خلاف ہی اٹھنے والی ہیں۔‘‘

(الشیعۃ و أہل البیت: صفحہ 376، نقلا عن الاحتجاج للطبرسی: صفحہ 148)

اہلِ عراق نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے والد کو قتل کر دیا، خود ان کو قتل کرنے کی کوشش کی، ان کا مال و اسباب لوٹ لیا، اس کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان پر کوئی بھروسا نہیں کرتے تھے۔ اس چیز کو اپنی تقریر میں بیان کرتے ہوئے کہا:

’’اے اہلِ عراق! تمھاری تین غلطیاں میرے ذہن سے اوجھل نہیں ہوتیں ورنہ میں تمھاری غلطیوں کو بھول جاتا، تمھارا میرے والد کو قتل کر دینا، میری ران کی جڑ پر وار کر کے زخمی کر دینا، میرے مال و اسباب کو لوٹ لینا، دوسری روایت کے مطابق میری چادر کو میرے کندھے سے کھینچ لینا۔‘‘

(الطبقات: تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 324، اس کی سند حسن ہے۔)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: ایسا کرنے پر آپ کو کس چیز نے آمادہ کیا؟ تو جواب دیا: مجھے دنیا ناپسند تھی، مجھے یہ معلوم ہو گیا کہ کوفیوں پر جو بھی بھروسا کرے گا مغلوب ہو جائے گا، ان میں سے کوئی کسی معاملے اور رائے میں دوسرے کی موافقت نہیں کرتا، بھلائی یا برائی کی کوئی پختہ نیت ان کے پاس نہیں ہوتی، جب چاہتے ہیں اختلاف کر بیٹھتے ہیں، میرے والد نے ان کے بہت سے عظیم معاملات کو جھیلا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ میرے بعد یہ لوگ کس کے لیے اچھے ہوں گے۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 448)

 یہ بات علی الاطلاق نہیں تھی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فوج کو قوی قرار دیا جاسکتا ہے، اور اس کے کچھ دستے جنگ کے لیے تیار تھے، ان میں پیش پیش قیس بن سعد خزرجی رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دوسرے قائدین تھے۔