Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بردباری

  علی محمد الصلابی

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عیینہ بن حصن بن حذیفہؓ آئے اور اپنے بھتیجے حر بن قیسؓ (آپ صحابی ہیں، بنو فزارہ کے وفد کے ساتھ اسلام لائے، آپ کی نسبت اس طرح ہے: حر بن قیس فزاری) کے مہمان بنے۔ حضرت حر بن قیسؓ حضرت عمرؓ کے قریبی لوگوں میں سے تھے اور جیسا کہ معلوم ہے کہ آپؓ کی مجلس شوریٰ کے تمام افراد حفاظ قرآن تھے۔ خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان بہرحال عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا: اے میرے بھتیجے! کیا امیر المؤمنین تک تمہاری رسائی ہے؟ یا یوں کہا کہ امیر المؤمنین تک تمہاری رسائی ہے اس لیے میری ملاقات کے لیے اجازت مانگ لو۔ حر بن قیسؓ نے کہا: میں ابھی اجازت لیتا ہوں، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حر بن قیسؓ نے عیینہ کے لیے اجازت مانگی تو سیدنا عمرؓ نے اجازت دے دی۔ جب عیینہ حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے تو کہا: اے ابن خطاب! ذرا میری بات پر دھیان دیجیے۔ اللہ کی قسم آپؓ مجھے زیادہ وظیفہ نہیں دیتے اور عدل سے کام نہیں لیتے، سیدنا عمرؓ سخت غصے ہوئے، یہاں تک کہ اسے مارنا چاہا، لیکن حر بن قیسؓ بول اٹھے کہ امیر المؤمنین! یہ جاہل ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا ہے: 

خُذِ الۡعَفۡوَ وَاۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰهِلِيۡنَ ۞ ( سورۃ الأعراف: آیت 199)

ترجمہ: آپ درگزر کو اختیار کریں، نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے کنارہ کش ہو جائیں۔‘‘

اللہ کی قسم! جب حر بن قیسؓ نے آیت کی تلاوت کی تو عمر بن خطاب فوراً رک گئے، یقیناً وہ اللہ کی کتاب کے بہت پابند تھے۔ 

(صحیح البخاری: حدیث: 7286، 4642 )

چنانچہ جب آپؓ نے آیت کریمہ سنی تو آپؓ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور جس آدمی نے آپ کو آپ کے اخلاق کریمہ میں بخیلی اور دین داری میں ناانصافی کی تہمت لگا کر آپؓ کی شان میں گستاخی کی تھی، آپؓ نے اسے معاف کر دیا۔ یہ اس قرآنی تعلیم کی تاثیر تھی جس کا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اہتمام کرتے تھے اور اس کی حفاظت میں کھڑے ہو جاتے تھے، کون ہے ہم میں جو غصہ کے وقت خود کو قابو میں رکھتا ہو؟ خاص طور سے جب غصہ کا سبب کوئی ایسا عمل ہو جس پر اکثر لوگ ناراض ہی ہو جاتے ہوں؟ ہم ان تعلیمات سے کب آراستہ ہوں گے تاکہ قرآن کا عملی نمونہ بن سکیں؟ اور اللہ تعالیٰ کی کتاب ہدایت کے مطابق ہمارا ہر عمل ہو؟ نیز کب ہمارے اخلاق قرآنی ہوں گے؟ 

(شہید المحراب: صفحہ: 117)

ملک شام کی فتح کے موقع پر جابیہ نامی جگہ پر جب حضرت عمرؓ نے خطبہ دیا تو مال غنیمت اور اس کی تقسیم وغیرہ سے متعلق کچھ باتیں کہیں اور یہ بھی کہا: ’’ میں آپ لوگوں کو خالد بن ولیدؓ کی معزولی کا عذر بتانا چاہتا ہوں، میں نے ان سے کہا تھا کہ اس مال کو کمزور و نادار مہاجرین میں تقسیم کر دیں، لیکن انہوں نے طاقت ور، مال دار، باحیثیت اور چرب زبان لوگوں کو دے دیا، اس لیے میں نے ان کو معزول کر کے ابوعبیدہؓ کو امیر بنا دیا۔‘‘ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ مخزومیؓ کھڑے ہوئے اور کہا: اے عمر! آپ کی معذرت قابلِ قبول نہیں ہے۔ آپ نے ایسے عامل کو برطرف کیا ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عامل بنایا تھا اور اس تلوار کو نیام میں ڈالا ہے جسے رسول اللہﷺ نے بے نیام کیا تھا، اس منصب کو چھینا ہے جس پر رسول اللہﷺ نے ان کو فائز کیا تھا، آپؓ نے قطع رحمی کی ہے اور اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ حاسدانہ رویہ اپنایا ہے یہ سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’تم ان کے قریبی رشتہ دار ہو، ابھی نو عمر ہو، اس لیے اپنے چچا زاد بھائی کے لیے غصے ہو رہے ہو ۔‘‘

(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 602)

یہ ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مثالی اوصافِ حمیدہ، کہ محض توحید خالص، ایمان باللہ اور فکر آخرت کی وجہ سے آپؓ ان صفات سے متصف رہے۔ علماء اور محققین نے آپؓ کے ذاتی اوصاف پر تفصیلی بحث کی ہے، جن میں چند اہم اوصاف یہ ہیں کہ آپؓ مذہبی غیرت، بہادری، پختہ ایمان، عدل پروری، علم دوستی، فنی مہارت، طویل تجربہ، رعب و دبدبہ، شخصی قوت، فراست و ذہانت، دور اندیشی، احسان و کرم، قدوۂ حسنہ، رحمت و شفقت، عزیمت، دین کے لیے سختی اور ورع و تقویٰ جیسی اعلیٰ صفات کے مالک تھے۔ محققین وسیرت نگاروں نے حضرت عمر بن خطابؓ کی قائدانہ صلاحیتوں اور خوبیوں کو ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپؓ اپنے اوپر تنقید و تبصرہ کی قوت برداشت، لوگوں کو متحرک و فعال بنانے اور عمل کے مواقع فراہم کرنے کی قدرت، شورائیت کے ذریعہ سے قرار دادوں کو طے کرنے میں مشارکت، ناگہانی حالات میں لوگوں کے رجحانات کا رخ موڑنے کی پوری مہارت اور اپنے عمال و حکام کی سخت نگرانی جیسے اعلیٰ قائدانہ صفات سے متصف تھے موقع بہ موقع قارئین کرام ان شاء اللہ آپؓ کی ان صفات حمیدہ کو ملاحظہ کریں گے۔ یہاں تمام اوصاف کا حصر مقصود نہیں ہے۔ لہٰذا تکرار سے بچنے کی غرض سے اتنے پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔