فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت عقلی اور اس کا رد - ردِ…

فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت عقلی اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 6

فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت عقلی اور اس کا ردّ

رافضی کا کلام کہ ’’اس کے نزدیک افعالِ اختیاریہ پر عقل کی دلالت ہے۔‘‘ اور اس کا رد۔

[شبہ]:شیعہ مصنف رقم طراز ہے:’’ اور یہ کہ اس سے معقول اور منقول میں مخالفت لازم آتی ہے۔ معقول کی یوں کہ یہ بات گزر چکی ہے اور سب جانتے ہیں کہ ہمارے افعال ہماری جانب منسوب کیے جاتے، اور ہمارے ارادہ کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔ چنانچہ جب ہم دائیں جانب حرکت کرنا چاہتے ہیں تو وہ بائیں جانب واقع نہیں ہوتی اور اگر بائیں جانب حرکت کرنا مقصود ہوتو دائیں طرف حرکت نہیں کرتے، یہ ایسی مسلمہ حقیقت ہے کہ اس میں کسی شک و ریب کی گنجائش نہیں ۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب ]: اس کا جواب بھی کئی طرح سے ہے:

اوّل:....بلاشبہ جمہور اہل سنت یہی عقیدہ رکھتے ہیں ۔ ہمارے افعال کی نسبت ہماری طرف کی جاتی ہے، اور ہم ہی ان کے فاعل ہیں اور ان کو عالم وجود میں لاتے ہیں ۔ اس میں اختلاف ان لوگوں کا ہے جو ان افعال کو بندہ کا فعل نہیں مانتے۔ اور یہ کہ بندے کی قدرت کی اس میں کوئی تاثیرا؍اثر نہیں اور نہ بندے نے اس فعل کو وجود دیا ہے۔ یہ اہل اثبات متکلمین کی ایک جماعت کا قول ہے۔جبکہ جمہور اہل سنت کا یہ عقیدہ نہیں ۔ قرآن و حدیث کی نصوص کثیرہ سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوتی ہے۔ اللہ اور رسول نے بندہ کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ وہ فعل و عمل کرتا ہے۔

دو م:....یہ کہا جائے کہ منکرین تقدیر علم ضروری کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں یہ امر محتاج غور و فکر ہے کہ بندہپہلے فاعل اور ارادہ کنندہ نہ تھا بعد میں اس وصف سے بہرہ ور ہوا۔ بنابریں اس کا ایک امر حادث ہونا اظہر من الشمس ہے، اب دو ہی صورتیں ہیں :

۱۔اس کا کوئی محدث ہوگا۔ ۲۔دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی اس کا محدث نہیں ۔

بصورت ثانی حوادث کا ظہور بلا کسی محدث کے لازم آتا ہے۔ بصورت اول وہ محدث یا تو بندہ خود ہوگا، یا ذات باری تعالیٰ۔یا دونوں کے علاوہ کوئی ہو گا۔ اگر بندہ کو محدث قرار دیا جائے تو پھر اس کا اور بھی کوئی محدث ہوگا، جس کا نتیجہ تسلسل کی صورت میں رونما ہوگا، جو کہ بالاتفاق باطل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بندہ عدم سے وجود میں آیاہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ ایسے حوادث کا قیام ممکن نہیں جن کا نقطۂ آغاز معلوم نہ ہو۔ اور اگر اس کا محدث غیر اللہ ہے تو اس میں بھی وہی قول ہے جو بندے میں ہے۔ تب پھر یہ بات متعین ہو گئی کہ وہ رب ہے جو خالق ہو۔ کیونکہ بندہ فاعل ومرید ہے اور وہ مطلوب ہے۔

مندرجہ بالا بیان سے یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ بندے کا مرید و فاعل ہونا ذات باری تعالیٰ کا رہین منت ہے، اسی لیے اہل سنت کہتے ہیں کہ:’’ بندہ فاعل ہے اور اللہ نے اسے فاعل بنایا ہے، بندہ صاحب ارادہ ہے اور اللہ نے اسے صاحب ارادہ بنایاہے۔اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِِنَّ ہٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًاo وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ

(الانسان: ۲۹۔ ۳۰)

’’یقیناً یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف (جانے والا) راستہ اختیار کرلے۔ اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿لِمَنْ شَآئَ مِنْکُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَo وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِِلَّا اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَo

(التکویر: ۲۸۔ ۲۹)

’’اس کے لیے جو تم میں سے چاہے کہ سیدھا چلے ۔ اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے ، جو سب جہانوں کا رب ہے۔‘‘

ان آیات میں رب تعالیٰ نے بندے کی مشیئت کو ثابت کیا ہے اور اس مشیئت کو ایسا بنایا ہے کہ وہ رب تعالیٰ کی مشیئت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ چنانچہ جنابِ ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں :

﴿رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ﴾ (ابراہیم: ۳۰)

’’اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی۔‘

اور فرمایا:

﴿فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْٓ اِلَیْہِمْ﴾ (ابراہیم: ۳۷)

’’سو کچھ لوگوں کے دل ایسے کر دے کہ ان کی طرف مائل رہیں ۔‘‘

اور جنابِ ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام فرماتے ہیں :

﴿رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمِیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ﴾ (البقرۃ: ۱۲۸)

’’اے ہمارے رب! اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماں بردار بنا۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَ جَعَلْنٰہُمْ اَئِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا﴾ (الانبیاء: ۷۳)

’’اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَ جَعَلْنٰہُمْ اَئِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ﴾ (القصص: ۳۱)

’’اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے۔‘‘

غرض کتاب و سنت میں اس کی متعدد مثالیں ہیں ۔

انسانی ارادہ اور مشیت ایزدی :

سابق الذکر بیانات اس حقیقت کے آئینہ دار ہیں کہ بندے کا ارادہ ومشئیت اپنی جگہ پر درست ہے مگر مشیت ایزدی کے بغیر وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ اور یہ دونوں باتیں برحق ہیں ۔

جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ بندے کو نہ کوئی اختیار حاصل ہے اور نہ مشیئت، یا اسے کوئی قدرت حاصل نہیں ، یا بندے نے وہ فعل نہیں کیا یا اس کی قدرت کا اس فعل میں کوئی اثر نہیں اور اس نے اپنے تصرفات کو حادث نہیں کیا۔ تو اس نے ضرورت اولیٰ کے موجب کا انکار کیا۔اور جو یہ کہتا ہے کہ بندہ کا ارادہ اور فعل بغیر کسی ایسے سبب کے حادث ہوا ہے جو اس کے حدوث کو مقتضی ہو اور اسے بندے نے حادث کیا ہے اور اس فعل کے اِحداث کے وقت اس کا حال ویسا ہی تھا جیسا کہ اس کے اِحداث سے قبل تھا بلکہ وہ دو میں سے ایک زمانہ کو احداث کے ساتھ بغیر کسی ایسے سبب کے خاص کرتا ہے جو اس کی تخصیص کو مقتضی ہو، اور یہ کہ بندہ فاعل، ایجاد کنندہ اور ارادہ کنندہ بن گیا جبکہ وہ پہلے نہ تھا بغیر کسی چیز کے جس نے اسے فاعل محدث بنایا ہو، تو اس نے بغیر کسی فاعل کے حوادث کے حدوث کاعقیدہ اختیار کیا۔

جو لوگ کہتے ہیں :ارادہ کی کوئی علت نہیں ہوتی؛ تو ان کایہ قول بے حقیقت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ارادہ ایک حادث چیز ہے۔ لہٰذا اس کے لیے ایک محدث کا وجود از بس ناگزیر ہے۔

صفحہ 1 از 6