فصل:....[حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قول سے باطل استدلال]…

فصل:....[حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قول سے باطل استدلال]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

فصل:....[حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قول سے باطل استدلال]

[اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:اول :’’ابوبکر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ: بسا اوقات میرااور شیطان کا سامنا ہوتا ہے، اگر میں سیدھا رہوں تو میری مدد کیجیے ؛اور اگر ٹیڑھا ہو جاؤں تو مجھے سیدھا کیجیے۔ خلیفہ و امام کا اصلی کام رعیت کی تکمیل ہے بنا بریں وہ ان سے اپنے کمال کا مطالبہ کیوں کر کرسکتا ہے؟‘‘

[جواب]: ہم کہتے ہیں :اس کا جواب کئی طرح سے ہے :

[پہلا جواب]: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں :’’مجھے ایک شیطان کا سامنا ہوتا ہے اور وہ غصہ ہے،

جب میں اس میں گرفتار ہو جاؤں تو مجھ سے اجتناب کرنا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ میں تم سے خندہ پیشانی سے پیش نہ آسکوں ۔ اورحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’جب تک میں اللہ کا مطیع رہوں ، میری اطاعت کرتے رہو، جب اللہ کی نافرمانی کرنے لگوں تو میری اطاعت تم پر واجب نہیں ۔‘‘[سیرۃ ابن ہشام(ص:۶۷۱)۔ ]

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق کا یہ قول لائق صد مدح و ستائش ہے۔ ہم آگے چل کر اس کی تفصیل بیان کریں گے۔

[دوسرا جواب ]:آپ رضی اللہ عنہ نے جس شیطان کا ذکر کیا ہے کہ وہ مجھے مغلوب کردیتا ہے ؛ اس سے مراد وہ شیطان ہے جوغصہ کے وقت لاحق ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں وہ غصہ کی حالت میں اپنی رعایا کیساتھ کوئی زیادتی نہ کربیٹھیں ۔ پس آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ غصہ کی حالت میں ان سے دور رہیں ۔

آپ کا یہ فعل تو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل مطابق ہے۔ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ جب قاضی پر غصہ طاری ہو تو وہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ صادر نہ کرے۔‘‘[البخاری، کتاب الاحکام‘ باب ھل یقضی القاضی اویفتی و ھو غضبان (:۷۱۵۸)،مسلم، کتاب الأقضیۃ۔ باب کراھۃ قضاء القاضی و ھو غضبان(ح:۱۷۱۷)۔]

سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے غصہ کے وقت دو افراد کے مابین فیصلہ کرنے سے منع کیا۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی مراد بھی یہی تھی۔ اسی لیے اس حالت میں رعایا کو متنبہ رہنے کا حکم دیا۔ اور سمجھایا کہ وہ غصہ کی حالت میں کسی فیصلہ کی طلب نہ کریں ؛ اورنہ ہی اس حالت میں کوئی مقدمہ لے کر آئیں ۔یہ بات سراسراللہ تعالیٰ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر مبنی ہے۔

[تیسرا جواب ]: غصہ سب بنی نوع انسان کو لاحق ہوتا ہے ۔ حتی کہ خودسید البشر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’یا اللہ! میں ایک بشر ہوں ؛ اور مجھے بھی اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے دوسرے انسانوں کو؛ اور میں آپ سے عہد لیتا ہوں جس کے خلاف آپ نہیں کریں گے ؛ میں جس مؤمن کو ایذا دوں ‘ یا برا کہوں یا ماروں ؛ تو آپ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنادیں ‘اور قیامت کے دن اسے اپنی نزدیک ہونے کاسبب بنادیں ۔‘‘[البخاری ‘۸؍۷۷؛ کتاب الدعوات۔مسلم۔ کتاب البر والصلۃ‘‘ (ح:۹۱؍۲۶۰۱،۲۶۰۳)۔]

صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:

’’ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو ناراض کیا، جس کے نتیجہ میں آپ نے ان پر لعنت بھیجی اور سخت سست الفاظ کہے۔ جب وہ باہر نکلے تو میں نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان دونوں کو کوئی خیر نہ ملی۔آپ نے فرمایا: ’’ کیوں ۔‘‘ میں نے عرض کیا:’’اس لیے کہ آپ نے ان پر لعنت کی اور انہیں برا بھلا کہا۔‘‘تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا تمہیں معلوم نہیں میں نے اپنے پروردگار سے جو شرط رکھی ہے۔میں نے یہ دعا کی ہے : ’’ [اے اللہ ! ] میں بھی ایک آدمی ہوں ‘ جس مسلمان پر بھی میں لعنت کروں یا اسے برا بھلا کہوں تو تو اسے پاک کردے ‘ اور اجر عطا فرما۔‘‘[صحیح مسلم، کتاب البر و الصلۃ،باب من لعنہ النبی رضی اللّٰہ عنہم (حدیث:۲۶۰۰)۔]

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں نے اپنے پروردگار سے شرط رکھی ہے کہ میں بھی ایک آدمی ہوں ‘ ایسے خوش ہوتا ہوں ‘ جیسے کوئی بھی آدمی خوش ہوتا ہے‘ اور غصہ بھی ہوتا ہوں ‘ جیسے کوئی بھی انسان غصہ ہوتا ہے۔ پس اپنی امت میں سے جس کسی پر میں بددعا کروں ؛ اوروہ اس کا مستحق نہ ہو تو اس بد دعا کو طہارت کو پاکیزگی اور قربت کا ذریعہ بنادے ۔‘‘[صحیح مسلم، کتاب البر و الصلۃ،باب من لعنہ النبی رضی اللّٰہ عنہم ۔]

حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول ہیں اور ان کے غصہ کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے۔

[اعراف:154]

جب غصہ کا واقع ہونا انبیاء کرام علیہم السلام میں عیب نہیں سمجھا جاتاتو امامت میں کیسے عیب ہوسکتا ہے؟ جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی نرمی اور بردباری میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مشابہ قراردیا تھا۔جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دینی امور میں ان کی سختی کے لحاظ سے حضرت موسیٰ اور حضرت نوح علیہماالسلام کے مشابہ قرار دیا تھا۔ جب یہ سختی امامت کے منافی نہیں تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی سختی امامت کے منافی کیونکر ہوسکتی ہے۔

چوتھی بات:....اس اجتناب کے حکم سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی غرض یہ تھی کہ ان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے ۔ تواب بتائیں کہ کامل کون ہوا؟ وہ جو اپنی نافرمانی کرنے والے پر غیض و غضب کا اظہار کرے ‘ اس سے بر سر پیکار جنگ ہو اور قتال بالسیف کرے ؟[یا پھر وہ انسان جو اپنی نافرمانی کرنے والے کو آرام سے سمجھا دے کہ مجھ سے دور رہو تاکہ غصہ میں کسی تکلیف کا ارتکاب نہ ہوجائے ]۔

صفحہ 1 از 4