امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا اہتمام - دفاعِ اہلِ سنت |…

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھلائی کا حکم دیتے، برائی سے روکتے اور لوگوں کو جو چیز سمجھ میں نہ آتی اس کی وضاحت فرماتے۔ قیس بن ابی حازمؒ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَيۡكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ‌ لَا يَضُرُّكُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اهۡتَدَيۡتُمۡ‌ (سورۃ المائدہ: آیت نمبر 105)

ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو گمراہ ہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔

کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کو فرماتے ہوئے سنا: لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو اور اس کا غلط مفہوم لیتے ہو، ہم نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان الناس اذا راوا الظالم فلم یاخذوا علی یدیہ او شک ان یعمہم اللہ بعقاب۔

ترجمہ: جب لوگ ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ ان سب پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے۔

اور ایک روایت میں ہے۔

ان القوم اذا راوا المنکر فلم یُغَیِّروا عمَّہم اللہ بعقاب۔

ترجمہ: یقیناً جب لوگ برائی ہوتے ہوئے دیکھیں اور اس کو بدلنے کی کوشش نہ کریں تو ان سب پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے گا۔

(سنن ابی داود: صفحہ، 4338 حدیث صحیح ہے)

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا ارشاد 

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَيۡكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ‌

(سورۃ المائدہ: آیت نمبر، 105)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے منافی نہیں ہے کیونکہ محققین علماء کے نزدیک اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اگر تم جن چیزوں کے مکلف قرار دیے گئے ہو بجا لاؤ تو دوسروں کی تقصیر و کوتاہی سے تم کو نقصان نہ ہو گا۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌

(سورۃ الانعام: آیت 164)

ترجمہ: کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔

اور جب بات ایسی ہے تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ان امور میں سے ہے جس کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے، جب انسان نے یہ ذمہ داری ادا کی اور مخاطب نے اس کی بات نہ مانی تو اس پر اس کا وبال نہ ہو گا، بلکہ کرنے والے پر ہو گا۔ کیونکہ اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی۔

(عون المعبود شرح سنن ابی داود: جلد 11 صفحہ 329)

سیدنا ابوبکرؓ صحیح اور حق بات پر لوگوں کو ابھارتے۔ میمون بن مہرانؒ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سلام کرتے ہوئے کہا

السلام علیک یا خلیفۃ رسول اللہ

اے رسول اللہﷺ کے خلیفہ! آپؓ کو سلام۔

آپؓ نے فرمایا ان سب کے درمیان صرف مجھی کو سلام کیا۔

(الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع للخطیب: جلد 1 صفحہ 172، 255)

بسا اوقات سنت کو اس خوف سے چھوڑ دیتے کہ کہیں بے علم لوگ اس کو فرض و واجب نہ سمجھ بیٹھیں۔ سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو قربانی نہ کرتے ہوئے دیکھا، اس خوف سے کہ کہیں لوگ اس کو ان کی اقتداء میں واجب سمجھ کر نہ کرنے لگیں۔

(الطبرانی فی الکبیر: صفحہ، 3057 سند صحیح ہے)

آپؓ اپنے لخت جگر عبد الرحمٰن کو پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتے رہتے، ایک دن دیکھا کہ وہ اپنے پڑوسی سے جھگڑ رہے ہیں، فرمایا اپنے پڑوسی سے جھگڑو نہیں، یہ باقی رہے گا اور لوگ ختم ہو جائیں گے۔

(الزہد لابن مبارک: جلد 1 صفحہ 551)

اپنے والد کے بڑے فرمانبردار تھے۔ جب آپؓ نے رجب 12 ہجری میں عمرہ کیا تو مکہ میں چاشت کے وقت داخل ہوئے، اپنے گھر تشریف لے گئے، آپؓ کے والد سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے دروازے پر تشریف فرما تھے، ان کو نوجوان گھیرے ہوئے تھے، لوگوں نے انہیں بتایا یہ آپؓ کے بیٹے آرہے ہیں۔ انہوں نے آپؓ کے استقبال میں اٹھنا چاہا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جلدی سے اونٹنی بٹھائے بغیر اتر پڑے تا کہ والد کے ساتھ احسان و طاعت کا معاملہ کریں۔ لوگ آپؓ کو سلام کرنے آئے، حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے عتیق! یہ لوگ آئے ہوئے ہیں، ان کے ساتھ حسن صحبت کا مظاہرہ کرو۔ آپؓ نے فرمایا ابا جان! لاحول ولا قوۃ الا باللہ، میرے سر ایسی عظیم ذمہ داری ڈال دی گئی ہے جس کی مجھ میں طاقت نہیں، اللہ کی مدد کے بغیر اس کو ادا نہیں کیا جا سکتا۔

(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 258)

آپؓ نماز اور اس میں خشوع و خضوع کا انتہائی اہتمام فرماتے اور حسن عبادت کے حریص تھے، جب نماز میں کھڑے ہوتے تو کسی طرف التفات نہ کرتے۔

(فضائل الصحابۃ: للامام احمد جلد، 1 صفحہ، 254)

اہل مکہ کہتے تھے: ابن جریج نے نماز عطاء سے سیکھی اور عطاء نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے، اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے رسول اللہﷺ سے۔ اور امام عبدالرزاق کہا کرتے تھے کہ میں نے ابن جریج سے اچھی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں پایا۔

(فضائل الصحابۃ: للامام احمد: جلد 1 صفحہ 255)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز لوگوں کو پڑھائی، اس کی دونوں رکعتوں میں سورہ بقرہ پڑھی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت عمرؓ نے کہا: اے رسول اللہﷺ کے خلیفہ! آپؓ نماز سے اس وقت فارغ ہوئے جب سورج نکلنا چاہتا ہے۔ فرمایا: اگر سورج نکل بھی آتا تو کوئی بات نہیں، ہم غافلین میں سے نہ تھے۔

(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ: صفحہ 224)

یعنی اللہ کے ذکر میں مشغول تھے۔

مصائب و آلام میں لوگوں کو صبر پر ابھارتے اور جس کا کوئی عزیز مر جاتا اس سے کہتے تعزیت کے ساتھ مصیبت نہیں اور جزع و فزع میں کوئی فائدہ نہیں۔ موت اپنے پہلے سے آسان اور اپنے بعد سے مشکل ہے۔ رسول اللہﷺ کی وفات کو یاد کرو، تمہاری مصیبت چھوٹی معلوم ہو گی۔ اللہ تمہارے اجر کو بڑا کرے۔

(عیون الاخبار: جلد 3 صفحہ 49، 70)

ایک بچے کے انتقال پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو تعزیت کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپؓ کو اس کا عوض عطا کرے۔

(عیون الاخبار: جلد 3 صفحہ 42)

آپؓ لوگوں کو ظلم، بد عہدی اور مکر و فریب سے منع کرتے تھے اور فرماتے: تین چیزیں جس کے اندر ہوں گی اس کے لیے وبال جان ہوں گی: ظلم، بدعہدی اور مکرو فریب۔

(مجمع الامثال للمیدانی: جلد 2 صفحہ 450)

صفحہ 1 از 2