Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھلائی کا حکم دیتے، برائی سے روکتے اور لوگوں کو جو چیز سمجھ میں نہ آتی اس کی وضاحت فرماتے۔ قیس بن ابی حازمؒ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَيۡكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ‌ لَا يَضُرُّكُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اهۡتَدَيۡتُمۡ‌ (سورۃ المائدہ: آیت نمبر 105)

ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو گمراہ ہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔

کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کو فرماتے ہوئے سنا: لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو اور اس کا غلط مفہوم لیتے ہو، ہم نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان الناس اذا راوا الظالم فلم یاخذوا علی یدیہ او شک ان یعمہم اللہ بعقاب۔

ترجمہ: جب لوگ ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ ان سب پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے۔

اور ایک روایت میں ہے۔

ان القوم اذا راوا المنکر فلم یُغَیِّروا عمَّہم اللہ بعقاب۔

ترجمہ: یقیناً جب لوگ برائی ہوتے ہوئے دیکھیں اور اس کو بدلنے کی کوشش نہ کریں تو ان سب پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے گا۔

(سنن ابی داود: صفحہ، 4338 حدیث صحیح ہے)

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا ارشاد 

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَيۡكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ‌

(سورۃ المائدہ: آیت نمبر، 105)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے منافی نہیں ہے کیونکہ محققین علماء کے نزدیک اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اگر تم جن چیزوں کے مکلف قرار دیے گئے ہو بجا لاؤ تو دوسروں کی تقصیر و کوتاہی سے تم کو نقصان نہ ہو گا۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌

(سورۃ الانعام: آیت 164)

ترجمہ: کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔

اور جب بات ایسی ہے تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ان امور میں سے ہے جس کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے، جب انسان نے یہ ذمہ داری ادا کی اور مخاطب نے اس کی بات نہ مانی تو اس پر اس کا وبال نہ ہو گا، بلکہ کرنے والے پر ہو گا۔ کیونکہ اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی۔

(عون المعبود شرح سنن ابی داود: جلد 11 صفحہ 329)

سیدنا ابوبکرؓ صحیح اور حق بات پر لوگوں کو ابھارتے۔ میمون بن مہرانؒ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سلام کرتے ہوئے کہا

السلام علیک یا خلیفۃ رسول اللہ

اے رسول اللہﷺ کے خلیفہ! آپؓ کو سلام۔

آپؓ نے فرمایا ان سب کے درمیان صرف مجھی کو سلام کیا۔

(الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع للخطیب: جلد 1 صفحہ 172، 255)

بسا اوقات سنت کو اس خوف سے چھوڑ دیتے کہ کہیں بے علم لوگ اس کو فرض و واجب نہ سمجھ بیٹھیں۔ سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو قربانی نہ کرتے ہوئے دیکھا، اس خوف سے کہ کہیں لوگ اس کو ان کی اقتداء میں واجب سمجھ کر نہ کرنے لگیں۔

(الطبرانی فی الکبیر: صفحہ، 3057 سند صحیح ہے)

آپؓ اپنے لخت جگر عبد الرحمٰن کو پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتے رہتے، ایک دن دیکھا کہ وہ اپنے پڑوسی سے جھگڑ رہے ہیں، فرمایا اپنے پڑوسی سے جھگڑو نہیں، یہ باقی رہے گا اور لوگ ختم ہو جائیں گے۔

(الزہد لابن مبارک: جلد 1 صفحہ 551)

اپنے والد کے بڑے فرمانبردار تھے۔ جب آپؓ نے رجب 12 ہجری میں عمرہ کیا تو مکہ میں چاشت کے وقت داخل ہوئے، اپنے گھر تشریف لے گئے، آپؓ کے والد سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے دروازے پر تشریف فرما تھے، ان کو نوجوان گھیرے ہوئے تھے، لوگوں نے انہیں بتایا یہ آپؓ کے بیٹے آرہے ہیں۔ انہوں نے آپؓ کے استقبال میں اٹھنا چاہا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جلدی سے اونٹنی بٹھائے بغیر اتر پڑے تا کہ والد کے ساتھ احسان و طاعت کا معاملہ کریں۔ لوگ آپؓ کو سلام کرنے آئے، حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے عتیق! یہ لوگ آئے ہوئے ہیں، ان کے ساتھ حسن صحبت کا مظاہرہ کرو۔ آپؓ نے فرمایا ابا جان! لاحول ولا قوۃ الا باللہ، میرے سر ایسی عظیم ذمہ داری ڈال دی گئی ہے جس کی مجھ میں طاقت نہیں، اللہ کی مدد کے بغیر اس کو ادا نہیں کیا جا سکتا۔

(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 258)

آپؓ نماز اور اس میں خشوع و خضوع کا انتہائی اہتمام فرماتے اور حسن عبادت کے حریص تھے، جب نماز میں کھڑے ہوتے تو کسی طرف التفات نہ کرتے۔

(فضائل الصحابۃ: للامام احمد جلد، 1 صفحہ، 254)

اہل مکہ کہتے تھے: ابن جریج نے نماز عطاء سے سیکھی اور عطاء نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے، اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے رسول اللہﷺ سے۔ اور امام عبدالرزاق کہا کرتے تھے کہ میں نے ابن جریج سے اچھی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں پایا۔

(فضائل الصحابۃ: للامام احمد: جلد 1 صفحہ 255)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز لوگوں کو پڑھائی، اس کی دونوں رکعتوں میں سورہ بقرہ پڑھی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت عمرؓ نے کہا: اے رسول اللہﷺ کے خلیفہ! آپؓ نماز سے اس وقت فارغ ہوئے جب سورج نکلنا چاہتا ہے۔ فرمایا: اگر سورج نکل بھی آتا تو کوئی بات نہیں، ہم غافلین میں سے نہ تھے۔

(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ: صفحہ 224)

یعنی اللہ کے ذکر میں مشغول تھے۔

مصائب و آلام میں لوگوں کو صبر پر ابھارتے اور جس کا کوئی عزیز مر جاتا اس سے کہتے تعزیت کے ساتھ مصیبت نہیں اور جزع و فزع میں کوئی فائدہ نہیں۔ موت اپنے پہلے سے آسان اور اپنے بعد سے مشکل ہے۔ رسول اللہﷺ کی وفات کو یاد کرو، تمہاری مصیبت چھوٹی معلوم ہو گی۔ اللہ تمہارے اجر کو بڑا کرے۔

(عیون الاخبار: جلد 3 صفحہ 49، 70)

ایک بچے کے انتقال پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو تعزیت کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپؓ کو اس کا عوض عطا کرے۔

(عیون الاخبار: جلد 3 صفحہ 42)

آپؓ لوگوں کو ظلم، بد عہدی اور مکر و فریب سے منع کرتے تھے اور فرماتے: تین چیزیں جس کے اندر ہوں گی اس کے لیے وبال جان ہوں گی: ظلم، بدعہدی اور مکرو فریب۔

(مجمع الامثال للمیدانی: جلد 2 صفحہ 450)

آپؓ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے اور اللہ کی یاد دلاتے اور آپؓ کے مواعظ و نصائح میں سے یہ ہے تاریکیاں پانچ ہیں، اور ان تاریکیوں کو دور کرنے والے چراغ بھی پانچ ہیں دنیا کی محبت تاریکی ہے، اس کے لیے چراغ تقویٰ ہے۔ گناہ تاریکی ہے اس کے لیے چراغ توبہ ہے۔ قبر تاریکی ہے اس کے لیے چراغ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ آخرت تاریکی ہے اس کے لیے چراغ عمل صالح ہے۔ پل صراط تاریکی ہے اس کے لیے چراغ یقین ہے۔

(فرائد الکلام للخلفاء الکرام، قاسم عاشور: صفحہ 29)

سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ جمعہ کے ذریعہ سے لوگوں کو سچائی، حیا اور آخرت کی تیاری پر ابھارتے اور غرور سے منع کرتے۔ اوسط بن اسماعیل رحمہ اللہ سے روایت ہے میں نے رسول اللہﷺ کی وفات کے ایک سال بعد سیدنا ابوبکرؓ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپؓ نے فرمایا جہاں میں آج کھڑا ہوں رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے۔ یہ کہہ کر حضرت ابوبکرؓ رونے لگے، آپؓ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں، آنسوؤں کی وجہ سے بات نہ کر سکے۔ پھر فرمایا لوگو! اللہ سے عافیت طلب کرو، یقین کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی خیر نہیں دی گئی ہے۔ سچائی کو لازم پکڑو، وہ نیکی کے ساتھ ہے، ان دونوں کا انجام جنت ہے۔ جھوٹ سے دور رہو، وہ برائی کے ساتھ ہے اور ان دونوں کا انجام جہنم ہے۔ آپس میں تعلقات منقطع نہ کرو، رشتے نہ توڑو، آپس میں بغض و دشمنی نہ رکھو، حسد نہ کرو۔ اللہ کے بندو! بھائی بھائی ہو جاؤ۔

(صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الصدیق: صفحہ 179)

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سیدنا ابوبکرؓ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت! اللہ عزوجل سے حیا کرو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب میں قضائے حاجت کے لیے جاتا ہوں تو اللہ سے حیا کرتے ہوئے اپنے آپ کو کپڑے سے ڈھانپ لیتا ہوں۔

(صحیح التوثیق فی سیرۃ و حیاۃ الصدیق: صفحہ 182)

سیدنا عبداللہ بن حکیمؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا

اما بعد! میں تمہیں اللہ سے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں اور تم اللہ کی اس قدر ثنا بیان کرو جس کا وہ اہل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام اور ان کے اہل بیت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا

إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ

(سورۃ الانبیاء: آیت نمبر 90)

ترجمہ: یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ و طمع اور ڈر اور خوف سے پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔

فرمایا: اللہ کے بندو! اس حقیقت کو جانو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے عوض تمہاری جانوں کو رہن پر لیا۔

ہے اور اس پر تم سے عہد و پیمان لے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قلیل فانی شے (دنیا) کو کثیر باقی رہنے والی شے (آخرت) کے عوض خرید لیا ہے۔ یہ اللہ کی کتاب تمہارے درمیان ہے، اس کے عجائبات ختم ہونے والے نہیں، اس کی روشنی بجھنے والی نہیں۔ لہٰذا اللہ کے فرمان کی تصدیق کرو، اس کی کتاب کی نصیحت قبول کرو، تاریکی کے دن (قیامت) کے لیے اس سے روشنی حاصل کرو، اس نے تم کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور کراماً کاتبین کو تمہارے ساتھ لگا دیا ہے، تم جو کچھ کرتے ہو ان کا اس کو علم ہے۔ پھر فرمایا: اللہ کے بندو! یاد رکھو، تم موت کے سایہ میں صبح و شام کرتے ہو، اس کا علم تم سے پوشیدہ رکھا گیا ہے، اگر تم سے یہ ہو سکے کہ جب موت آئے تو تم اللہ کے لیے کام کر رہے ہو تو کرو۔ اور اللہ کی مدد کے بغیر ایسا نہیں کر سکتے۔ لہٰذا فرصت کا جو وقت ملا ہے اس میں آگے بڑھو، قبل ازیں کہ تمہاری زندگی ختم ہو جائے، پھر تم اپنے برے اعمال کی طرف لوٹا دیے جاؤ۔ کچھ لوگوں نے اپنی زندگیاں دوسروں کے لیے وقف کیں اور اپنے آپ کو بھول گئے، میں تمہیں ان کے نقش قدم پر چلنے سے منع کرتا ہوں۔ جلدی کرو جلدی کرو، پھر آگے بڑھو آگے بڑھو۔ تمہارے پیچھے سے بڑی تیزی سے تمہارا تعاقب ہو رہا ہے۔ کہاں گئے بھائی و دوست جنہیں تم پہچانتے ہو؟ وہ اپنے کیے کو پہنچ گئے، انہوں نے ماضی میں جو کچھ کیا اس میں شقاوت و سعادت کے ساتھ داخل ہو گئے۔ وہ جابر و ظالم لوگ کہاں گئے جنہوں نے شہر بسائے، اس کے چہار جانب فصیلیں تعمیر کیں۔ آج وہ خود چٹانوں اور کنوؤں کے نیچے جا چکے۔ حسین چہرے والے، اپنی جوانی پر ریجھنے والے کہاں ہیں؟ ملوک وسلاطین کہاں گئے؟ اور کہاں گئے وہ لوگ جو جنگوں میں غلبہ و قوت حاصل کرتے تھے؟ دنیا نے ان کو ذلیل کر دیا اور وہ قبر کی تاریکیوں میں جا پڑے۔ اس بات میں کوئی خیر نہیں جس سے مقصود اللہ کی رضا نہ ہو، اس مال میں کوئی خیر نہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ نہ ہو، اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جس کی جہالت اس کی بردباری پر غالب ہو، اور اس شخص میں بھی کوئی خیر نہیں جو اللہ کے بارے میں ملامت گروں کی ملامت کا خوف کھائے۔

یقین جانو! اللہ اور مخلوق کے درمیان کوئی نسب و رشتہ نہیں جس کی وجہ سے کسی کو خیر عطا کرے اور برائی سے بچائے، اس کا معیار صرف اللہ کی اطاعت اور اس کے حکم کی اتباع ہے۔ وہ خیر خیر نہیں جس کے بعد جہنم ہو اور وہ شر شر نہیں جس کے بعد جنت ہو۔ اور جان لو! جو کچھ تم نے اللہ کے لیے کیا تو تم نے اپنے رب کی اطاعت کی اور اپنے حق کی حفاظت کی۔

میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر حال میں اللہ سے تقویٰ اختیار کرو، اور اللہ کی شایان شان اس کی ثنا بیان کرو، اس سے استغفار کرو، وہ مغفرت فرمانے والا ہے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے اور تمہارے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 7 صفحہ 144 اسنادہ حسن لغیرہ، صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الصدیق: صفحہ 181)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ معاشرہ کی سدھار و اصلاح کا اس طرح اہتمام فرماتے تھے، مسلمانوں کو وعظ و نصیحت کرتے، ان کو خیر پر ابھارتے، بھلائی کا حکم دیتے، برائی سے روکنے تھے۔ یہاں چند نمونوں پر اکتفا کیا گیا ہے ورنہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی سیرت اس سے بھری پڑی ہے۔