Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مجاعہ کی بیٹی سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی شادی اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اور صدیق اكبر رضی اللہ عنہ کے مابین خط کتابت

  علی محمد الصلابی

صلح ہو جانے کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے مجاعہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے کر دے۔ مجاعہ نے کہا: ٹھہریے، آپؓ اپنی اور میری پیٹھ خلیفہ سے تڑوا دیں گے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے شخص تو اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کر دے۔ مجاعہ نے اپنی بیٹی کی شادی سیدنا خالدؓ سے کر دی۔

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 110)

ادھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سلمہ بن وقش کو سیدنا خالدؓ کے پاس یہ فرمان دے کر روانہ کیا کہ بنو حنیفہ کے بالغوں کو قتل کر دو۔ جب فرمان پہنچا تو آپؓ ان سے مصالحت کر چکے تھے۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد و پیمان کو ان کے ساتھ پورا کیا۔

(الکامل: جلد 2 صفحہ 38)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یمامہ کی خبروں کے برابر منتظر رہتے اور آپؓ کو سيدنا خالدؓ کے خبر رساں کا انتظار رہتا تھا۔ ایک روز آپؓ شام کے وقت مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت کے ساتھ حرہ کی طرف نکلے، وہاں حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے فرستادہ سيدنا ابو خیثمہ نجاریؓ سے ملاقات ہو گئی، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو ان سے دریافت کیا:

پیچھے کیا خبریں ہیں؟

عرض کیا: خیر ہے اے خلیفہ رسول! اللہ تعالیٰ نے ہمیں یمامہ پر فتح نصیب فرمائی ہے اور لیجئے یہ سیدنا خالدؓ کا خط ہے۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فوراً سجدہ شکر بجا لائے اور فرمایا: مجھ سے معرکہ کی کیفیت بیان کرو، کیسے ہوا؟

سیدنا ابو خیثمہؓ نے معرکہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کیا کیا، کس طرح فوج کی صف بندی کی اور کون کون سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہوئے۔ اور بتلایا کہ ہمیں اعراب کی طرف سے انہزام کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے ہمیں ایسی چیز کا عادی بنا دیا جس کو ہم اچھی طرح نہیں جانتے تھے۔

(حروب الردۃ: شوقی ابو خلیل: صفحہ 97)

جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی شادی کی خبر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو پہنچی تو انہیں خط لکھا:

اے سیدہ ام خالدؓ کے بیٹے! تمہیں عورتوں سے شادی کی سوجھی ہے اور ابھی تمہارے صحن میں ایک ہزار دو سو مسلمانوں کا خون خشک نہیں ہوا ہے، اور پھر مجاعہ نے تمہیں فریب دے کر مصالحت کر لی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر مکمل قدرت عطا کر دی تھی۔

(حروب الردۃ: ضفحہ 97 بحوالہ الاکتفاء: جلد 2 صفحہ 14)

مجاعہ سے مصالحت اور اس کی بیٹی سے شادی کی وجہ سے خلیفہ رسول اللہﷺ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ عتاب سیدنا خالدؓ کو پہنچا تو آپؓ نے جوابی خط حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ روانہ فرمایا، جس کے اندر اپنے مؤقف کی طرف سے دفاع کیا۔ وضوح حجت اور قوت کلام جس کا امتیازی نشان تھا۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 233)

فرماتے ہیں: 

امابعد! دین کی قسم، میں نے اس وقت تک شادی نہیں کی جب تک خوشی مکمل نہ ہو گئی اور استقرار حاصل نہ ہو گیا۔ میں نے ایسے شخص کی بیٹی سے شادی کی ہے کہ اگر میں مدینہ سے پیغام بھیجتا تو وہ انکار نہ کرتا۔ معاف کیجیے، میں نے اپنے مقام سے پیغام دینے کو ترجیح دی۔ اگر آپؓ کو یہ رشتہ دینی یا دنیاوی اعتبار سے ناپسند ہو تو میں آپؓ کی مرضی پوری کرنے کے لیے تیار ہوں۔ رہا مسئلہ مسلم مقتولین کی تعزیت کا، تو اگر کسی کا حزن و غم کسی زندہ کو باقی رکھ سکتا یا مردہ کو لوٹا سکتا تو میرا حزن و غم زندہ کو باقی رکھتا اور مردہ کو لوٹا دیتا۔ میں نے اس طرح حملہ کیا کہ زندگی سے مایوس ہو گیا اور موت کا یقین ہوگیا۔ اور رہا مسئلہ مجاعہ کی فریب دہی کا، تو میں نے اپنی رائے میں غلطی نہیں کی لیکن مجھے علم غیب نہیں ہے، جو کچھ کیا اللہ نے مسلمانوں کے حق میں خیر کیا، انہیں زمین کا وارث بنایا اور انجام کار متقیوں کے لیے ہے۔

(حروب الردۃ: شوقی ابوخلیل صفحہ 98 بحوالہ الاکتفاء: جلد 2 صفحہ 15)

جب یہ خط سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو موصول ہوا تو آپؓ نرم پڑے اور قریش کی ایک جماعت نے جس میں حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بھی تھے سیدنا خالدؓ کی طرف سے معذرت پیش کی۔

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے خلیفہ رسول! سيدنا خالد رضی اللہ عنہ کو جبن و خیانت سے متصف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آپؓ تو شہادت کی طلب میں کود پڑے اور اس سلسلہ میں معذور قرار پائے اور ڈٹے رہے یہاں تک کہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور بنو حنیفہ سے مصالحت کسی دباؤ سے نہیں بلکہ برضا و رغبت کی اور اس مصالحت میں آپؓ کی رائے نے خطا نہ کی کیونکہ انہیں قلعہ میں عورتیں مرد دکھائی دئیے۔ 

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم سچ کہتے ہو۔ سیدنا خالدؓ کے عذر سے متعلق حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے خط کی بہ نسبت تمہارا کلام زیادہ مناسب ہے۔

(حروب الردۃ: صفحہ 98)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم سچ کہتے ہو۔ خالد کے عذر سے متعلق خالد کے خط کی بہ نسبت تمہارا کلام زیادہ مناسب ہے۔

(حروب الردۃ: صفحہ 98)

حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے خط کے بعض نکات جن کے ذریعہ سے آپؓ نے اپنے مؤقف کا دفاع کیا:

آپؓ نے فتح و انتصار اور استقرار و اطمینان کے بعد ہی شادی کی۔

آپؓ نے ایسے شخص سے سسرالی رشتہ قائم کیا جو اپنی قوم کے زعماء و اشراف میں سے تھا۔

آپؓ کو اس رشتہ میں ادنیٰ سی مشقت بھی نہیں اٹھانا پڑی۔

اس شادی میں دینی یا دنیاوی کوئی قباحت نہیں تھی۔

مسلم مقتولین پر حزن و غم کی وجہ سے شادی سے باز رہنا کوئی مفید عمل نہیں کیونکہ حزن و غم نہ زندہ کو باقی رکھ سکتا ہے اور نہ ہی مردہ کو لوٹا سکتا ہے۔

آپؓ جہاد پر کسی چیز کو مقدم نہیں رکھتے تھے۔ اس سلسلہ میں ابتلاء و آزمائش سے دو چار ہوئے، موت اور ان کے درمیان کوئی مانع نہ رہا۔

مجاعہ سے مصالحت کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے خیر ثابت کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی اگرچہ مجاعہ نے آپؓ کو اپنی قوم کی صحیح صورت حال سے مطلع نہ کیا لیکن آپؓ انسان تھے، غیب نہیں جانتے تھے۔ بہرحال انجام کار مسلمانوں کے ہی حق میں رہا۔ کیونکہ وہ بنو حنیفہ کی زمین کے مالک بنے اور بنو حنیفہ کے بقیہ لوگ بغیر کسی مزاحمت کے دائرہ اسلام میں واپس آ گئے۔ اس صورتِ حال میں مجاعہ کی بیٹی سے آپؓ کا نکاح کرنا ایک طبعی امر تھا۔ اس سلسلہ میں سيدنا خالدؓ پر کوئی حرف ملامت نہیں اور یہ کہنا صحیح نہیں کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو مجاعہ کی قومی غیرت بھا گئی، اسی لیے اس سے رشتہ قائم کرنا پسند کیا اور یہ چاہا کہ دینی تعلق کو خاندانی اور نسبی تعلق سے قوت پہنچائیں۔

(عبقریۃ خالد: (العبقریات الاسلامیۃ) صفحہ 922)

جیسا کہ عقاد کا کہنا ہے۔ اس لیے کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کبھی بھی دینی تعلقات پر دوسرے تعلقات کو مقدم نہیں کر سکتے تھے اور نہ لوگوں کے ساتھ تعامل میں دینی رابطہ کے ساتھ دوسرے رابطے جمع کر سکتے تھے۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 235)

حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی طرف سے اعتذار کے سلسلہ میں محمد حسین ہیکل کا اسلوب ناقابل قبول ہے کیونکہ یہ اسلامی احکام کے منافی ہے۔ ہیکل کا کہنا ہے: جشن فتح میں (جس کا قیام سیدنا خالدؓ کے حق میں ضروری تھا) بنت مجاعہ کی کیا حیثیت۔ یہ اس عبقری فاتح کے قدموں پر نچھاور ہونے والی قربانیوں میں کچھ اضافہ نہیں کر سکتی جس نے سر زمین یمامہ کو خون سے سیراب کر دیا، امید کہ اس سے اس کی نجاست پاک ہو جائے۔

(الصدیق ابوبکر: صفحہ 157)

یہاں پر ہیکل صاحب نے صحابی جلیل سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو ایکلیز، ہیکٹر، اغا ممنون جیسے بت پرست قائدین جنگ کی طرح تصور کر رکھا ہے، جو اس وقت تک قتال نہیں کر تے جب تک ان کو شہرت نہ ملے، انگلیوں سے ان کی طرف اشارہ نہ کیا جائے، بوسوں کی بارش کے ذریعہ سے ان کی آؤ بھگت نہ کی جائے کیونکہ یہ لوگ قیادت و وجاہت کے حصول اور نام و نمود کے لیے قتال کرتے تھے۔ یا ہیکل صاحب نے سیدنا خالدؓ کو اصنام عرب میں شمار کر رکھا ہے جن کے تقرب کے لیے جانوروں کے خون بہائے جاتے ہیں، یا نیل کی دیوی تصور کر رکھا ہے، جس کے بارے میں قدیم مصریوں کا عقیدہ تھا کہ جب تک اس کے اندر مصر کی حسینہ کو بھینٹ کے طور پر نہ ڈال دیا جاتا اس میں طغیانی نہیں آتی تھی۔ حاشا وکلا، اول و آخر حضرت خالد رضی اللہ عنہ اس طرح کی روح اور نفسیات سے پاک تھے۔

آپؓ مرد مومن اور موحد تھے۔ آپؓ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے قتال کرتے تھے۔ مخلوق میں سے کسی سے جزاء و شکر کے متمنی نہ تھے۔

اسی طرح جنرل اکرم کا زعم بھی باطل ہے چنانچہ یہ صاحب حروب ارتداد میں سیدنا خالدؓ کی شادی سے متعلق قصص و حکایات کی بنیاد پر اٹھنے والے اعتراضات اور ملامت کی تعلیل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان کی جسمانی قوت و لیاقت کی وجہ سے جزیرہ نمائے عرب کی حسیناؤں کے سلسلہ میں انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

(سیف اللہ خالد بن الولید: ترجمہ العمید الرکن صبحی الجابی: صفحہ 20)

جنرل صاحب کی اس بات سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ رقص و سرود کی محفلوں کے رسیا ہو گئے تھے یا ملکہ حسن و جمال پر فریفتہ تھے حالانکہ آپؓ کو جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ کوئی چیز راس نہ آتی تھی لیکن ان باطل توجیہات کا کیا کہا جائے جو حالات و ظروف اور مبادی و شواہد سے دور ہو کر امور کی تفسیر کرتی ہیں۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 236)

حضرت خالد رضی اللہ عنہ اللہ کے دین کی خاطر لڑتے تھے اور اسی ہی سے اجر و ثواب کی امید رکھتے تھے، معرکہ میں بذات خود حصہ لیتے ۔ آپؓ کے سلسلہ میں بتایا گیا ہے کہ آپؓ بلی کی بردباری اور شیر کی اچھل کود سے متصف تھے۔

(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 108)

کسی موقع پر بھی آپؓ اپنے لشکر سے پیچھے نہیں رہتے تھے۔ بلکہ لوگ آپؓ کو ہر معرکہ میں اپنے سامنے پاتے چنانچہ معرکہ بزاخہ میں آپؓ قتال کے جوہر دکھاتے اور اپنے گھوڑے کو آگے بڑھاتے جاتے تھے۔ لوگ آپؓ سے کہتے: اللہ، اللہ! آپؓ ہمارے امیر ہیں، آپؓ کے لیے مناسب نہیں کہ اس قدر پیش قدمی کریں۔ آپؓ جواب دیتے ہیں: واللہ میں جانتا ہوں جو آپؓ لوگ کہہ رہے ہیں لیکن یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا کہ مجھے مسلمانوں کی شکست کا خطرہ ہو اور میں صبر کروں۔

(سیدنا خالد بن الولیدؓ: صادق عرجون صفحہ 144)

اور معرکہ یمامہ میں جب گھمسان کی جنگ شروع ہوئی، بنو حنیفہ کے اندر مقتولین کی کثرت کے باوجود سختی آئی، آپؓ میدان میں مبارزت کے لیے اتر پڑے اور صف کے سامنے مبارزت کی دعوت دی اور مسلمانوں کو ان کے شعار یا محمداہ کے ذریعہ سے پکارا۔ جو بھی آپؓ کے مقابلہ میں بڑھتا اس کو قتل کر دیتے اور جو سامنے آتا اسے ختم کر دیتے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 329)

آپؓ کو ہمیشہ فتح و نصرت کی رغبت کے ساتھ شہادت کی تلاش میں رہتے۔ آئیے ہم سيدنا خالد رضی اللہ عنہ کی زبانی ان کے ایک مقابلہ اور مبارزت کی روداد سنتے ہیں، جو یمامہ کی جنگ میں باغ کے اندر ان کے اور مسیلمہ کے ایک فوجی کے درمیان واقع ہوئی فرماتے ہیں:

بنو حنیفہ کے ایک شخص نے مجھے گلے سے لگایا جبکہ ہم دونوں گھوڑے پر سوار تھے۔ ہم دونوں اپنے گھوڑوں پر سے گر پڑے، پھر زمین پر ہم دونوں نے معانقہ کیا، میں نے اس کو خنجر سے مارا، اس نے مجھ پر خنجر سے وار کیا، اس طرح مجھ کو سات زخم آئے، میں نے اس کو ضرب کاری لگائی جس کی وجہ سے وہ میرے ہاتھ میں ڈھیلا ہو گیا اور میں زخم کی وجہ سے حرکت نہیں کر سکتا تھا، کافی خون نکل چکا تھا۔ لیکن الحمدللہ وہ موت میں مجھ سے سبقت لے گیا۔

(سیدنا خالد بن الولیدؓ: صادق عرجون صفحہ،180)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے بنو حنیفہ کی قوت اور بہادری کی شہادت دیتے ہوئے فرمایا:

میں بیس بڑے معرکوں میں شریک رہا لیکن یمامہ کے روز بنو حنیفہ سے بڑھ کر کسی کو تلوار چلانے والا اور تلوار کی مار پر صبر کرنے والا اور ثابت قدم نہیں پایا، زخم کی وجہ سے مجھ میں حرکت نہ تھی۔ میں دشمن کے درمیان گھس گیا، یہاں تک کہ زندگی سے مایوس ہو گیا اور مجھے موت کا یقین ہو گیا۔

(حضرت خالد بن الولیدؓ: صادق عرجون صفحہ 180)