مجاعہ کی بیٹی سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی شادی اور سیدنا…

مجاعہ کی بیٹی سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی شادی اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اور صدیق اكبر رضی اللہ عنہ کے مابین خط کتابت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

صلح ہو جانے کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے مجاعہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے کر دے۔ مجاعہ نے کہا: ٹھہریے، آپؓ اپنی اور میری پیٹھ خلیفہ سے تڑوا دیں گے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے شخص تو اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کر دے۔ مجاعہ نے اپنی بیٹی کی شادی سیدنا خالدؓ سے کر دی۔

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 110)

ادھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سلمہ بن وقش کو سیدنا خالدؓ کے پاس یہ فرمان دے کر روانہ کیا کہ بنو حنیفہ کے بالغوں کو قتل کر دو۔ جب فرمان پہنچا تو آپؓ ان سے مصالحت کر چکے تھے۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد و پیمان کو ان کے ساتھ پورا کیا۔

(الکامل: جلد 2 صفحہ 38)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یمامہ کی خبروں کے برابر منتظر رہتے اور آپؓ کو سيدنا خالدؓ کے خبر رساں کا انتظار رہتا تھا۔ ایک روز آپؓ شام کے وقت مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت کے ساتھ حرہ کی طرف نکلے، وہاں حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے فرستادہ سيدنا ابو خیثمہ نجاریؓ سے ملاقات ہو گئی، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو ان سے دریافت کیا:

پیچھے کیا خبریں ہیں؟

عرض کیا: خیر ہے اے خلیفہ رسول! اللہ تعالیٰ نے ہمیں یمامہ پر فتح نصیب فرمائی ہے اور لیجئے یہ سیدنا خالدؓ کا خط ہے۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فوراً سجدہ شکر بجا لائے اور فرمایا: مجھ سے معرکہ کی کیفیت بیان کرو، کیسے ہوا؟

سیدنا ابو خیثمہؓ نے معرکہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کیا کیا، کس طرح فوج کی صف بندی کی اور کون کون سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہوئے۔ اور بتلایا کہ ہمیں اعراب کی طرف سے انہزام کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے ہمیں ایسی چیز کا عادی بنا دیا جس کو ہم اچھی طرح نہیں جانتے تھے۔

(حروب الردۃ: شوقی ابو خلیل: صفحہ 97)

جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی شادی کی خبر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو پہنچی تو انہیں خط لکھا:

اے سیدہ ام خالدؓ کے بیٹے! تمہیں عورتوں سے شادی کی سوجھی ہے اور ابھی تمہارے صحن میں ایک ہزار دو سو مسلمانوں کا خون خشک نہیں ہوا ہے، اور پھر مجاعہ نے تمہیں فریب دے کر مصالحت کر لی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر مکمل قدرت عطا کر دی تھی۔

(حروب الردۃ: ضفحہ 97 بحوالہ الاکتفاء: جلد 2 صفحہ 14)

مجاعہ سے مصالحت اور اس کی بیٹی سے شادی کی وجہ سے خلیفہ رسول اللہﷺ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ عتاب سیدنا خالدؓ کو پہنچا تو آپؓ نے جوابی خط حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ روانہ فرمایا، جس کے اندر اپنے مؤقف کی طرف سے دفاع کیا۔ وضوح حجت اور قوت کلام جس کا امتیازی نشان تھا۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 233)

فرماتے ہیں: 

امابعد! دین کی قسم، میں نے اس وقت تک شادی نہیں کی جب تک خوشی مکمل نہ ہو گئی اور استقرار حاصل نہ ہو گیا۔ میں نے ایسے شخص کی بیٹی سے شادی کی ہے کہ اگر میں مدینہ سے پیغام بھیجتا تو وہ انکار نہ کرتا۔ معاف کیجیے، میں نے اپنے مقام سے پیغام دینے کو ترجیح دی۔ اگر آپؓ کو یہ رشتہ دینی یا دنیاوی اعتبار سے ناپسند ہو تو میں آپؓ کی مرضی پوری کرنے کے لیے تیار ہوں۔ رہا مسئلہ مسلم مقتولین کی تعزیت کا، تو اگر کسی کا حزن و غم کسی زندہ کو باقی رکھ سکتا یا مردہ کو لوٹا سکتا تو میرا حزن و غم زندہ کو باقی رکھتا اور مردہ کو لوٹا دیتا۔ میں نے اس طرح حملہ کیا کہ زندگی سے مایوس ہو گیا اور موت کا یقین ہوگیا۔ اور رہا مسئلہ مجاعہ کی فریب دہی کا، تو میں نے اپنی رائے میں غلطی نہیں کی لیکن مجھے علم غیب نہیں ہے، جو کچھ کیا اللہ نے مسلمانوں کے حق میں خیر کیا، انہیں زمین کا وارث بنایا اور انجام کار متقیوں کے لیے ہے۔

(حروب الردۃ: شوقی ابوخلیل صفحہ 98 بحوالہ الاکتفاء: جلد 2 صفحہ 15)

جب یہ خط سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو موصول ہوا تو آپؓ نرم پڑے اور قریش کی ایک جماعت نے جس میں حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بھی تھے سیدنا خالدؓ کی طرف سے معذرت پیش کی۔

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے خلیفہ رسول! سيدنا خالد رضی اللہ عنہ کو جبن و خیانت سے متصف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آپؓ تو شہادت کی طلب میں کود پڑے اور اس سلسلہ میں معذور قرار پائے اور ڈٹے رہے یہاں تک کہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور بنو حنیفہ سے مصالحت کسی دباؤ سے نہیں بلکہ برضا و رغبت کی اور اس مصالحت میں آپؓ کی رائے نے خطا نہ کی کیونکہ انہیں قلعہ میں عورتیں مرد دکھائی دئیے۔ 

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم سچ کہتے ہو۔ سیدنا خالدؓ کے عذر سے متعلق حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے خط کی بہ نسبت تمہارا کلام زیادہ مناسب ہے۔

(حروب الردۃ: صفحہ 98)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم سچ کہتے ہو۔ خالد کے عذر سے متعلق خالد کے خط کی بہ نسبت تمہارا کلام زیادہ مناسب ہے۔

(حروب الردۃ: صفحہ 98)

حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے خط کے بعض نکات جن کے ذریعہ سے آپؓ نے اپنے مؤقف کا دفاع کیا:

آپؓ نے فتح و انتصار اور استقرار و اطمینان کے بعد ہی شادی کی۔

آپؓ نے ایسے شخص سے سسرالی رشتہ قائم کیا جو اپنی قوم کے زعماء و اشراف میں سے تھا۔

آپؓ کو اس رشتہ میں ادنیٰ سی مشقت بھی نہیں اٹھانا پڑی۔

اس شادی میں دینی یا دنیاوی کوئی قباحت نہیں تھی۔

مسلم مقتولین پر حزن و غم کی وجہ سے شادی سے باز رہنا کوئی مفید عمل نہیں کیونکہ حزن و غم نہ زندہ کو باقی رکھ سکتا ہے اور نہ ہی مردہ کو لوٹا سکتا ہے۔

آپؓ جہاد پر کسی چیز کو مقدم نہیں رکھتے تھے۔ اس سلسلہ میں ابتلاء و آزمائش سے دو چار ہوئے، موت اور ان کے درمیان کوئی مانع نہ رہا۔

صفحہ 1 از 3