موت کا وقت قریب آ گیا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

موت کا وقت قریب آ گیا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موت کا آغاز یوں ہوا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غسل فرمایا، یہ انتہائی سرد دن تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ پر بخار طاری ہو گیا اور پندرہ دن تک بخار میں مبتلا رہے، نماز کے لیے نہیں نکل سکتے تھے۔ سیدنا ابوبکرؓ کے حکم سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے، صحابہؓ برابر آپ کی عیادت کے لیے آتے رہتے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ برابر آپ کے ساتھ لگے رہتے۔

(اصحاب الرسول صلي الله عليه وسلم : محمد المصری: جلد 1 صفحہ 104)

جب سیدنا ابوبکرؓ کی بیماری بڑھ گئی، لوگوں نے عرض کیا: کیا آپؓ کے لیے طبیب کو نہ بلائیں؟ سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا: طبیب نے مجھے دیکھا ہے اور اس نے کہا ہے کہ یقیناً میں جو چاہتا ہوں کر گذرتا ہوں۔

(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 33)

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو، جب سے میں خلافت میں داخل ہوا ہوں میرے مال میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ اس کو میرے بعد کے خلیفہ کے حوالے کر دو۔ جب ہم نے حساب کیا تو ایک نوبی غلام تھا جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بچوں کو اٹھایا کرتا تھا اور دوسرا ایک اونٹ تھا جو سیدنا ابوبکرؓ کے باغ کو سیراب کرتا تھا۔ ہم نے ان دونوں کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، یہ دیکھ کر عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور کہنے لگے: اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنے بعد والوں کو بری طرح تھکا دیا۔

(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 265)

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، موت کے عوارض آپ کو لاحق ہو رہے تھے، سیدنا ابوبکرؓ کا سانس آپ کے سینے میں تھا، اس موقع کی مناسبت سے میں نے یہ شعر پڑھا:

لَعَمْرُکَ مَا یُغْنِی الثَّرَائُ عَنِ الْفَتٰی

إِذَا حَشْرَجَتْ یَوْمًا وَضَاقَ بِہَا الصَّدْرُ

’’تمہارے دین کی قسم! مال و دولت نوجوان کو مفید نہیں ہو سکتا جبکہ روح اٹک جائے اور سینہ تنگ ہو جائے۔‘‘

سیدنا ابوبکرؓ نے میری طرف غصہ کی حالت میں دیکھا اور فرمایا: ام المؤمنینؓ! یوں نہیں بلکہ اللہ کا فرمان سچ ہے:

وَ جَآءَتۡ سَكۡرَةُ الۡمَوۡتِ بِالۡحَـقِّ‌ ذٰلِكَ مَا كُنۡتَ مِنۡهُ تَحِيۡدُ ۞ (سورۃ ق آیت 19)

ترجمہ: اور موت کی سختی سچ مچ آنے ہی والی ہے۔ (اے انسان) یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔

پھر فرمایا: اے عائشہ! تو میرے گھر والوں میں سب سے زیادہ مجھے محبوب ہے، میں نے تجھے ایک باغ ہدیہ میں دیا تھا لیکن اس سلسلہ میں میں اپنے جی میں کھٹک محسوس کر رہا ہوں، لہٰذا تم اسے میراث میں لوٹا دو۔ پھر ام المؤمنینؓ نے اسے لوٹا دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب سے میں نے خلافت سنبھالی ہے ایک درہم و دینار بھی مسلمانوں کا نہیں کھایا ہے لیکن ہم نے ان کے بھوسی دار غلے کھائے ہیں اور موٹے کپڑے پہنے ہیں اور مسلمانوں کے لیے مال فے میں سے میرے پاس قلیل یا کثیر کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس حبشی غلام اور سینچائی کے اونٹ کے۔ ان کو الگ کر دو اور جب میری وفات ہو جائے تو اسے عمر کے پاس بھیج دینا اور میرا دامن ان سے بری کر دینا۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پیام بر پہنچا تو سیدنا عمر فاروقؓ رو پڑے اور آپؓ کے آنسو زمین پر بہنے لگے، آپؓ فرماتے جاتے: اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے! اپنے بعد کے لوگوں کو تھکا دیا۔ اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے! اپنے بعد کے لوگوں کو تھکا دیا۔ اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے! اپنے بعد کے لوگوں کو تھکا دیا۔

(الطبقات لابن سعد: جلد 3 صفحہ 146، 147، رجالہ ثقات۔)

ایک اور روایت میں ہے: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کا جب وقت آیا تو فرمایا کہ عمر نے مجھے نہیں چھوڑا یہاں تک کہ میں نے بیت المال سے چھ ہزار درہم لیے اور میرا فلاں باغ جو فلاں جگہ ہے اس کے عوض ہے۔ جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا گیا۔ یہ سن کر سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، آپؓ نے یہ چاہا کہ آپ کے بعد کوئی آپ پر انگلی نہ اٹھا سکے۔

(المنتظم لابن الجوزی: جلد 4 صفحہ 127، اصحاب الرسول: جلد 1 صفحہ 105)

آپؓ کے ان مواقف سے سرکاری مال میں آپؓ کے زہد و ورع کا پتہ چلتا ہے۔ آپ نے مسلمانوں کے مسائل میں مشغولیت اور خلافت کی ذمہ داریوں کے پیش نظر تجارت اور ذرائع آمدنی کو ترک کر دیا۔ مجبوراً بیت المال سے نفقہ لیا، جو بھوک مٹانے اور ستر پوشی کی ضرورت سے زیادہ نہ تھا اور آپؓ مسلمانوں کے لیے وہ عظیم خدمات پیش کر رہے تھے جن کی ادائیگی کے لیے خزانہ ناکافی ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود جب سیدنا ابوبکرؓ کی وفات کا وقت آیا اور آپؓ کے پاس فقط یہی زائد مال تھا، اس کو بیت المال میں لوٹانے کا حکم دیا تاکہ اپنے رب سے امن واطمینان کے ساتھ ملیں، دل اور نفس پاک ہو، تقویٰ سے سوا کوئی بوجھ نہ رہے، دونوں ہاتھ ایمان کے سوا ہر چیز سے خالی ہوں، اس میں عقلمندوں کے لیے درس و عبرت کا سامان ہے۔

(اشہر مشاہیر الاسلام: جلد 1 صفحہ 94 )

اسی طرح آپؓ نے اپنے اور اپنے بال بچوں کے اخراجات کے لیے جو مال وظیفہ کے طور پر لیا تھا اس کا عوض چکانے کے لیے وصیت فرمائی کہ ان کی مذکورہ زمین بیت المال کو دے دی جائے۔ یہ آپ کا ورع وتقویٰ تھا، آپ یہ چاہتے تھے کہ خلافت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی خالص اللہ کے لیے ہو، اس میں دنیاوی مفاد کا شائبہ نہ ہو۔

صفحہ 1 از 3