Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

موت کا وقت قریب آ گیا

  علی محمد الصلابی

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موت کا آغاز یوں ہوا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غسل فرمایا، یہ انتہائی سرد دن تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ پر بخار طاری ہو گیا اور پندرہ دن تک بخار میں مبتلا رہے، نماز کے لیے نہیں نکل سکتے تھے۔ سیدنا ابوبکرؓ کے حکم سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے، صحابہؓ برابر آپ کی عیادت کے لیے آتے رہتے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ برابر آپ کے ساتھ لگے رہتے۔

(اصحاب الرسول صلي الله عليه وسلم : محمد المصری: جلد 1 صفحہ 104)

جب سیدنا ابوبکرؓ کی بیماری بڑھ گئی، لوگوں نے عرض کیا: کیا آپؓ کے لیے طبیب کو نہ بلائیں؟ سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا: طبیب نے مجھے دیکھا ہے اور اس نے کہا ہے کہ یقیناً میں جو چاہتا ہوں کر گذرتا ہوں۔

(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 33)

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو، جب سے میں خلافت میں داخل ہوا ہوں میرے مال میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ اس کو میرے بعد کے خلیفہ کے حوالے کر دو۔ جب ہم نے حساب کیا تو ایک نوبی غلام تھا جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بچوں کو اٹھایا کرتا تھا اور دوسرا ایک اونٹ تھا جو سیدنا ابوبکرؓ کے باغ کو سیراب کرتا تھا۔ ہم نے ان دونوں کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، یہ دیکھ کر عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور کہنے لگے: اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنے بعد والوں کو بری طرح تھکا دیا۔

(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 265)

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، موت کے عوارض آپ کو لاحق ہو رہے تھے، سیدنا ابوبکرؓ کا سانس آپ کے سینے میں تھا، اس موقع کی مناسبت سے میں نے یہ شعر پڑھا:

لَعَمْرُکَ مَا یُغْنِی الثَّرَائُ عَنِ الْفَتٰی

إِذَا حَشْرَجَتْ یَوْمًا وَضَاقَ بِہَا الصَّدْرُ

’’تمہارے دین کی قسم! مال و دولت نوجوان کو مفید نہیں ہو سکتا جبکہ روح اٹک جائے اور سینہ تنگ ہو جائے۔‘‘

سیدنا ابوبکرؓ نے میری طرف غصہ کی حالت میں دیکھا اور فرمایا: ام المؤمنینؓ! یوں نہیں بلکہ اللہ کا فرمان سچ ہے:

وَ جَآءَتۡ سَكۡرَةُ الۡمَوۡتِ بِالۡحَـقِّ‌ ذٰلِكَ مَا كُنۡتَ مِنۡهُ تَحِيۡدُ ۞ (سورۃ ق آیت 19)

ترجمہ: اور موت کی سختی سچ مچ آنے ہی والی ہے۔ (اے انسان) یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔

پھر فرمایا: اے عائشہ! تو میرے گھر والوں میں سب سے زیادہ مجھے محبوب ہے، میں نے تجھے ایک باغ ہدیہ میں دیا تھا لیکن اس سلسلہ میں میں اپنے جی میں کھٹک محسوس کر رہا ہوں، لہٰذا تم اسے میراث میں لوٹا دو۔ پھر ام المؤمنینؓ نے اسے لوٹا دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب سے میں نے خلافت سنبھالی ہے ایک درہم و دینار بھی مسلمانوں کا نہیں کھایا ہے لیکن ہم نے ان کے بھوسی دار غلے کھائے ہیں اور موٹے کپڑے پہنے ہیں اور مسلمانوں کے لیے مال فے میں سے میرے پاس قلیل یا کثیر کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس حبشی غلام اور سینچائی کے اونٹ کے۔ ان کو الگ کر دو اور جب میری وفات ہو جائے تو اسے عمر کے پاس بھیج دینا اور میرا دامن ان سے بری کر دینا۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پیام بر پہنچا تو سیدنا عمر فاروقؓ رو پڑے اور آپؓ کے آنسو زمین پر بہنے لگے، آپؓ فرماتے جاتے: اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے! اپنے بعد کے لوگوں کو تھکا دیا۔ اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے! اپنے بعد کے لوگوں کو تھکا دیا۔ اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے! اپنے بعد کے لوگوں کو تھکا دیا۔

(الطبقات لابن سعد: جلد 3 صفحہ 146، 147، رجالہ ثقات۔)

ایک اور روایت میں ہے: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کا جب وقت آیا تو فرمایا کہ عمر نے مجھے نہیں چھوڑا یہاں تک کہ میں نے بیت المال سے چھ ہزار درہم لیے اور میرا فلاں باغ جو فلاں جگہ ہے اس کے عوض ہے۔ جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا گیا۔ یہ سن کر سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، آپؓ نے یہ چاہا کہ آپ کے بعد کوئی آپ پر انگلی نہ اٹھا سکے۔

(المنتظم لابن الجوزی: جلد 4 صفحہ 127، اصحاب الرسول: جلد 1 صفحہ 105)

آپؓ کے ان مواقف سے سرکاری مال میں آپؓ کے زہد و ورع کا پتہ چلتا ہے۔ آپ نے مسلمانوں کے مسائل میں مشغولیت اور خلافت کی ذمہ داریوں کے پیش نظر تجارت اور ذرائع آمدنی کو ترک کر دیا۔ مجبوراً بیت المال سے نفقہ لیا، جو بھوک مٹانے اور ستر پوشی کی ضرورت سے زیادہ نہ تھا اور آپؓ مسلمانوں کے لیے وہ عظیم خدمات پیش کر رہے تھے جن کی ادائیگی کے لیے خزانہ ناکافی ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود جب سیدنا ابوبکرؓ کی وفات کا وقت آیا اور آپؓ کے پاس فقط یہی زائد مال تھا، اس کو بیت المال میں لوٹانے کا حکم دیا تاکہ اپنے رب سے امن واطمینان کے ساتھ ملیں، دل اور نفس پاک ہو، تقویٰ سے سوا کوئی بوجھ نہ رہے، دونوں ہاتھ ایمان کے سوا ہر چیز سے خالی ہوں، اس میں عقلمندوں کے لیے درس و عبرت کا سامان ہے۔

(اشہر مشاہیر الاسلام: جلد 1 صفحہ 94 )

اسی طرح آپؓ نے اپنے اور اپنے بال بچوں کے اخراجات کے لیے جو مال وظیفہ کے طور پر لیا تھا اس کا عوض چکانے کے لیے وصیت فرمائی کہ ان کی مذکورہ زمین بیت المال کو دے دی جائے۔ یہ آپ کا ورع وتقویٰ تھا، آپ یہ چاہتے تھے کہ خلافت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی خالص اللہ کے لیے ہو، اس میں دنیاوی مفاد کا شائبہ نہ ہو۔

سیدنا ابوبکرؓ مسلسل پندرہ دن تک بیمار رہے۔ جب آپؓ کی زندگی کا آخری دو شنبہ آیا، ام المؤمنینؓ فرماتی ہیں: آپؓ نے مجھ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کس دن ہوئی تھی؟ میں نے عرض کیا: دو شنبہ کے دن۔ فرمایا: میری بھی یہی آرزو اللہ تعالیٰ سے ہے۔ پھر پوچھا: کتنے کپڑوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن دیا گیا تھا؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: تین یمنی سوتی چادروں میں، نہ تو اس میں قمیص تھی اور نہ عمامہ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میرے اس کپڑے کو دیکھو اس میں زعفران یا مشک لگا ہوا ہے اس کو دھو دو، اور اس کے ساتھ دو کپڑے اور شامل کر لو۔

(اصحاب الرسول: جلد 1 صفحہ 106)

سیدنا ابوبکرؓ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر عطا کیا ہے، ہم آپ کو نئے کپڑے میں کفن دیں گے۔ فرمایا: میت کی بہ نسبت زندہ شخص نئے کپڑوں کا زیادہ مستحق ہے تاکہ اپنی سترپوشی کرے۔ میت تو پیپ اور بوسیدگی کے حوالے ہے۔

(التاریخ الاسلامی: محمود شاکر: الخلفاء الراشدون: صفحہ 104)

سیدنا ابوبکرؓنے وصیت فرمائی کہ آپ کو آپ کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا غسل دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آخری کلمات یہ تھے:

تَوَفَّنِىۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِىۡ بِالصّٰلِحِيۡنَ ۞ (سورۃ يوسف آیت 101)

ترجمہ: ’’تو مجھے اس حالت میں دنیا سے اٹھانا کہ میں تیرا فرمانبردار ہوں اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کرنا۔‘‘

(الشیخان ابوبکر الصدیق: وعمر بن الخطاب بروایت البلاذری فی انساب الأشراف: تحقیق دیکھیے احسان صدقی العمد: 69)

اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکرؓ کی آرزو پوری کی۔ 22جمادی الاخریٰ 13ہجری دو شنبہ کا دن گذار کرسہ شنبہ کی رات انتقال فرمایا۔ سیدنا ابوبکرؓ کی وفات سے پورے مدینہ پر لرزہ طاری ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس غمگین شام سے بڑھ کر کسی دن مدینہ میں زیادہ رونے والے نہ پائے گئے۔

وفات کی خبر سنتے ہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے، انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھتے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آئے اور فرمایا:

’’ابوبکر! اللہ آپ پر رحم فرمائے! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب، مونس، معتمد علیہ، راز دار مشیر تھے۔ لوگوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے، سب سے بڑھ کر مخلص اور سب سے زیادہ اللہ پر یقین رکھنے والے، سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے، سب سے بڑے دیندار، سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنے والے، اسلام پر سب سے زیادہ مہربان، سب سے بہترین صحبت والے، سب سے زیادہ مناقب والے، سب سے افضل، سب سے بلند مقام کے مالک، سب سے زیادہ مقرب اور اخلاق و عادات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ اشرف، ارفع اور مکرم تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت تصدیق فرمائی جب لوگوں نے آپؓ کی تکذیب کی۔ سیدنا ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آنکھ وکان کی طرح تھے۔ اللہ نے سیدنا ابوبکرؓ کو قرآن میں صدیق قرار دیا:

وَالَّذِىۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ۞ (سورۃ الزمر آیت 33)

ترجمہ: اور جو لوگ سچی بات لے کر آئیں اور خود بھی اسے سچ مانیں وہ ہیں جو متقی ہیں

سیدنا ابوبکرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مواسات کی جبکہ لوگوں نے بخیلی کا ثبوت دیا۔ ناپسندیدہ حالات میں آپؓ ان کے ساتھ رہے، جبکہ لوگ بیٹھ گئے۔ سخت حالات میں اچھی صحبت کا ثبوت دیا۔ دو میں دوسرا، یار غار رہے، سیدنا ابوبکرؓ پر سکینت کا نزول ہوا، ہجرت میں آپؓ کے رفیق سفر رہے، اللہ کے دین اور امت میں آپؓ کے خلیفہ بنے، جب لوگوں نے ارتداد اختیار کیا آپؓ نے خلافت کا حق ادا کیا۔ آپؓ نے تو وہ کارنامہ انجام دیا جو کسی نبی کے خلیفہ نے نہیں دیا۔ آپؓ اس وقت اٹھے جب دوسرے لوگ کمزور پڑ گئے، نکلے جب لوگ بیٹھ گئے، قوی بن کر ابھرے جب لوگ کمزور ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کار کو اختیار کیا جب لوگ دنیا دار ہو گئے۔ آپؓ بالکل ویسے ہی تھے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جسم میں کمزور، اللہ کے دین میں قوی، اپنی ذات میں متواضع، اللہ کے نزدیک عظیم، لوگوں کی نگاہوں میں عظمت کے حامل، ان کے نزدیک بڑے، کسی کو آپؓ کے بارے میں کلام نہیں، کوئی آپؓ پر طعن وتشنیع کرنے والا نہیں، مخلوق کے لیے آپؓ کے پاس کوئی نازک پہلو نہیں تھا۔ کمزور وذلیل شخص آپؓ کے نزدیک قوی تھا جب تک کہ اس کا حق نہ دلا دیں، قریب و بعید سب اس میں برابر تھے۔ آپؓ کے نزدیک سب سے قریب وہ تھا جو اللہ کا سب سے زیادہ اطاعت شعار اور متقی ہو۔ حق، صداقت اور نرمی آپؓ کی شان تھی۔ آپؓ کی بات فیصلہ کن اور حتمی ہوا کرتی تھی۔ آپؓ کا حکم بردباری اور دور اندیشی پر مبنی ہوا کرتا تھا۔ آپؓ کی رائے علم و عزم کا پر تو ہوتی تھی۔ سیدنا ابوبکرؓ کے ذریعہ سے دین قائم ہوا، ایمان قوی ہوا، اللہ کا حکم غالب آیا۔ واللہ سیدنا ابوبکرؓ نے بڑی سبقت کی، اپنے بعد میں آنے والوں کو سخت تھکا دیا اور خیر کے ساتھ فوزمبین حاصل کی۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

اللہ کی قضا و قدر پر ہم راضی ہیں، اس کے حکم کو تسلیم کرتے ہیں۔ واللہ! مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکرؓ کی موت جیسی مصیبت نہیں آئی۔ سیدنا ابوبکرؓ دین کے لیے عزت و امان اور پناہ گاہ تھے۔ اللہ تعالیٰ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا دے اور ہمیں سیدنا ابوبکرؓ کے اجر سے محروم نہ کرے اور سیدنا ابوبکرؓ کے بعد ہمیں گمراہی سے محفوظ رکھے۔‘‘

لوگ خاموشی کے ساتھ سیدنا علیؓ کی یہ باتیں سنتے رہے پھر جب سیدنا علیؓ نے اپنی بات مکمل کر لی تو لوگ رو پڑے اور رونے کی آواز بلند ہوئی اور سب نے کہا: سیدنا علیؓ نے جو کچھ کہا سچ کہا۔

(التبصرۃ لابن الجوزی: جلد 1 صفحہ 477، 479 بحوالہ اصحاب الرسول: جلد 1 صفحہ 108)

اور ایک روایت میں ہے کہ جس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے انہیں چادر اڑھا دی گئی تھی، فرمایا: ’’میرے نزدیک اس چادر سے ڈھکے ہوئے شخص سے بڑھ کر کوئی نہیں جس کے نامہ اعمال کے ساتھ مجھے اللہ سے ملاقات کرنا زیادہ محبوب ہو۔‘‘

(تاریخ الاسلام للذہبی: عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 120)

وفات کے وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر تریسٹھ (63) سال تھی۔ اس پر تمام روایات متفق ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر برابر تھی۔ سیدنا ابوبکرؓ کو آپ کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے غسل دیا، جس کی آپؓ نے وصیت فرمائی تھی۔

(الطبقات لابن سعد: جلد 3 صفحہ 203، 204 وإسنادہ صحیح)

سیدنا ابوبکرؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ سیدنا ابوبکرؓ کا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے برابر رکھا گیا

(تاریخ الاسلام للذہبی: عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 120)

اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور سیدنا ابوبکرؓ کی قبر میں عمر، عثمان، طلحہ اور آپؓ کے بیٹے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم اترے اور آپؓ کی لحد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر سے چپکا کے رکھا گیا۔

(اصحاب الرسول: جلد 1 صفحہ 106)

اس طرح چہار دانگ عالم میں اللہ کے دین کی نشر و اشاعت کی خاطر عظیم جہاد کرتے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ انسانی تہذیب و تمدن اس بطل جلیل کی مقروض رہے گی جس نے وفات نبوی کے بعد دعوت نبوت کا پرچم اٹھایا اور آپﷺ کے لگائے ہوئے پودے کی حفاظت کی، عدل و حریت کے بیج کی نگہبانی کی اور اسے شہداء کے پاکیزہ خون سے سیراب کیا، جس سے ہر طرح کے ثمرات امت کو وافر مقدار میں ملے اور تاریخ میں علوم و ثقافت اور فکر میں عظیم تقدم حاصل ہوا۔ انسانی تہذیب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی مقروض رہے گی کیونکہ آپؓ کے جہاد اور صبر عظیم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی حفاظت فرمائی اور اسلام کو اقوام و امم اور مختلف ممالک میں عظیم فتوحات کے ذریعہ سے پھیلا دیا، جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

میں اس کتاب کو ابوعبداللہ محمد عبداللہ قحطانی اَندلسی کے ان اشعار پر ختم کرتا ہوں:

قُلْ اِنَّ خَیْرَ الْاَنْبِیَائِ مُحَمَّدٌ

وَأجلُّ مَنْ یَّمْشِی علی الکُثبانِ

’’کہو! انبیاء میں سب سے بہتر اور روئے زمین پر چلنے والوں میں سب سے عظیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘

وأجلُّ صَحْبِ الرُّسْل صَحْبُ مُحَمَّدٍ

وکان افضل صَحْبِہ العُمَرَان

’’انبیاء کے ساتھیوں میں سب سے عظیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں اور صحابہ میں سب سے افضل ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔‘‘

رَجُلانِ قد خُلقَا لِنَصْرِ محمدٍ

بدمی ونَفْسِی ذانک الرجلان

’’ان دونوں پر میں جان و دل سے قربان جاؤں یہ دونوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت وتائید کے لیے پیدا کیے گئے تھے۔‘‘

فہما اللذان تظاہرا لنبینا

فی نصرہ وہما لہ صِہْران

’’ان دونوں نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں بھرپور حصہ لیا اور دونوں آپ کے سسر تھے۔‘‘

بنتاہُما أسنی نساء نبینا

وہما لہ بالوحی صاحبتان

’’ان دونوں کی بیٹیاں ہمارے نبی کی افضل ترین بیویوں میں سے ہیں اور ان دونوں کے نبی کی بیویاں ہونے پر وحی شاہد ہے۔‘‘

أبواہُما أسْنی صحابۃِ احمد

یا حبَّذا الابوان والبِنتان

’’ان دونوں کے والد صحابہ کرام میں سب سے افضل ہیں، کیا خوب دونوں باپ ہیں اور کیا خوب دونوں بیٹیاں ہیں۔‘‘

وہما وزیراہ اللذان ہما ہما

لفضائل الاعمال مُستَبِقان

’’یہ دونوں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر ہیں، جن کا مقام مت پوچھیے، فضائل اعمال میں دونوں سبقت لے جانے والے ہیں۔‘‘

وہما لاحمد نظرہ وسمعہ

وبقربہ فی القبر مُضْطَجِعان

’’یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان اور آنکھ کی حیثیت رکھتے ہیں اور قبر میں بھی آپ کے قریب لیٹے ہوئے ہیں۔‘‘

کانا علی الاسلام اشفق اہلہ

وہما لدین محمد جَبَلان

’’دونوں اسلام پر سب سے زیادہ شفیق ومہربان تھے اور دین محمدی کے لیے وہ پہاڑ تھے۔‘‘

اصفاہما اقواہما اخشاہما

اتقاہما فی السر والإعلان

’’ان دونوں میں سب سے باصفا، قوی ترین اور ظاہر و باطن میں سب سے بڑھ کر خشیت وتقویٰ کے پیکر۔‘‘

أسناہما أزکاہما أعلاہما

أوفاہما فی الوزن والرُّجحان

’’اور ان دونوں میں سب سے افضل، پاک باز، بلند ترین، میزان میں سب سے بھاری۔‘‘

صدیق احمد صاحب الغار الذی

ہو فی المغارۃ والنبی اثنان

’’احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے والے یار غار ہیں جب وہ اور نبی دونوں غار میں تھے۔‘‘

اعنی ابا بکر الذی لم یختلف

من شرعنا فی فضلہ رجلان

’’یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ جن کی فضیلت و بزرگی میں ہماری شریعت میں کسی کو اختلاف نہیں۔‘‘

ہو شیخ اصحاب النبی وخیرہم

وامامہم حقا بلا بطلان

’’وہ صحابہ کے شیخ، امام اور حقیقت میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘

وابو المطہر ۃ التی تَنْزِیہُہَا

قد جائنا فی النور والفرقان

’’آپ عائشہ طاہرہ کے والد ہیں جن کی پاکی وصفائی قرآن کی سورہ نور میں بیان ہوئی ہے۔‘‘

(نونیۃ القحطانی: صفحہ 21، 22 )